خوابوں کو تھامے رکھنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خواب وہ بیش قیمت اثاثہ ہوتے ہیں جو آنکھوں میں امید و بیم کی سحر بن کر زندگی کو مقصد کی کرنوں سے منور کرتے ہیں اور اپنے وجود کی خو شبو سے زندگی میں جستجو کی مہک رچاتے ہیں۔ خوابوں سے خالی دل اس بے ثمر زمین کی مانند ہے جس پر لاکھ ابر برسے اس کی بانجھ مٹی کبھی شجر حیات کو بارور نہیں کر پاتی۔ یہ تو طے ہے کہ بہت سے نوجوانوں کی آنکھوں میں خوابوں کا ایک گلستاں آباد ہوتا ہے جہاں وہ باغبان کی صورت اپنے روشن مستقبل سے جڑے خوابوں کی کونپلوں کو امید کے جذبے سے سینچتے اور محبت سے انہیں پروان چڑھاتے ہیں۔

لیکن یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ خوابوں کی تعمیر کا راستہ کبھی بھی سہل نہیں ہوتا، یہ صحرا میں اس آبلہ پا مسافت کی مانند ہے جس میں جان کو پگھلانا پڑتا ہے۔ درحقیقت یہ خواب اس سوداگر کی سی ہیں جو خوابوں کی نگری کے مسافر سے سخت مشقت اور عزم مصمم کے روپ میں اپنی قیمت وصول کرتے ہیں۔ چنانچہ ہر مسافر کو یہ طے کرنا پڑتا ہے کہ چند رکاوٹوں اور ناکامیوں کو اپنی مستقل ہار سمجھ کر اپنے خوابوں کو آنکھوں میں ہی توڑ ڈالنا ہے یا مشکلات کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے ہوئے اپنے حصے کا کام جاری رکھنا ہے۔ خوابوں کو حقیقت کا روپ دینے کی سچی لگن جب بلند و بالا ہوتی ہے تو خدائی بھی ساتھ دیتی ہے اور تب جا کر کامیابی کے ستارے مقدر میں روشنی بکھیرتے ہیں اور خوابوں کی کشتی اپنی سنہری منزل کے کنارے جا لگتی ہے۔

یادوں کا صندوقچہ کھولوں تو طالبعلمی کا زمانہ ذہن کے منظر پر عیاں ہوتا ہے جب میرے خوابوں کی دنیا ہی میری منزل تک رسائی کا اولین زینہ تھی۔ میری چھوٹی سی زندگی میں میرے یہی بیش قیمت خواب مجھ میں آگے بڑھنے کا حوصلہ پیدا کرتے تھے۔ میرا شمار غیر معمولی ذہانت کے حامل طالب علموں میں تو نہیں تھا لیکن میں پڑھنے کا گہرا شغف رکھتی تھی۔ شوق سے لگن، لگن سے محنت اور محنت سے کامیابی کا راستہ نصیب ہو ہی جاتا ہے۔ میرے والد محترم نے بھی میرے شوق میں میرا بھرپور ساتھ دیا۔

ہر شفیق باپ کی طرح وہ مجھے کامیابی سے بلندی کو چھوتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔ جب یونیورسٹی میں داخلہ لیا تو محنت کا رجحان مزید بڑھنے لگا اور آنکھوں میں نئے خواب جنم لینے لگے۔ میں چاہتی تھی کہ خوب لگن سے پڑھوں اور ایک بڑا اعزاز گولڈ میڈل کے روپ میں حاصل کروں۔ بابا جان کی بھی یہی خواہش تھی اور میں انہیں یہ خوشی اور خود پر فخر محسوس کرنے کا موقع دینا چاہتی تھی۔ اس خواب کو پانے کی دھن میں میں اپنی بساط کے مطابق مزید محنت کرنے لگی۔

چار سال تک میرے ہر دن کا ایک بڑا حصہ صرف کتابوں میں گزرتا تھا۔ محنت کا صلہ بھی برابر دکھائی دینے لگا تھا۔ ہر سمیسٹر میں امتحانات میں اچھے نتائج ملتے رہے اور میرے خواب کی تعبیر کے لیے توقعات بھی بڑھنے لگیں۔ آخری دو سمیسٹر میں ریسرچ ورک پر بھی جی جان لگا کر کام کیا۔ لیکن جب آخری مرحلہ آیا تو غالباً اپنی سو فیصد کوشش دینے میں ناکام رہی۔ جب نتیجہ سامنے آیا تو معلوم ہوا کہ ایک دوست نے پوائنٹ صفر دو کی برتری سے کامیابی اپنے نام کر لی ہے اور میں دوسرے نمبر پر رہی۔ بس اک خواب ادھورا رہ گیا۔

اس وقت زندگی میں پہلی بار مجھ پر مایوسی کے سیاہ بادل شدت سے برسے تھے اور ایک مختصر عرصہ تک ہی سہی، میں نے محسوس کیا تھا کہ میں ایک ناکام انسان ہوں جو چار سال کی کڑی محنت کے باوجود اپنے خواب کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا سکی۔ یہ بات غور طلب ہے کہ کچھ دکھوں کی وضاحت الفاظ نہیں کر سکتے، بس کچھ ایسا ہی ناقابل بیان دکھ تھا۔ لیکن پھر اسی حالت میں ایک دن نظر سے چند الفاظ کا گزر ہوا جنہیں میں نے بہت سال پہلے پڑھ کر اپنی ڈائری میں محفوظ کیا تھا کہ ’زندگی سانسوں کے آنے اور جانے کا نام نہیں۔

اور نہ ہی ماہ و سال کے گزرنے کا نام زندگی ہے۔ زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ مسلسل کوشش اور وہ بھی خلوص نیت کے ساتھ۔ کیونکہ اگر کوششوں میں خلوص پیدا ہو جائے تو منزلیں خود مسافروں کا استقبال کیا کرتی ہیں۔ ’ان لفظوں نے میرے ذہن کے ہر گوشے کو اک نئے انداز سے تقویت بخشی اور میری سوچ کا زاویہ یکسر بدل کر رکھ دیا۔ میں نے طے کر لیا کہ مجھے اپنی اڑان میں کسی نامکمل حسرت کی زنجیر کو اپنے پر باندھنے کی اجازت نہیں دینی۔

بلکہ اس گرداب سے نکل کر اپنے خوابوں کا سفر پوری ہمت سے جاری رکھتے ہوئے نئے فلک کو سر کرنا ہے۔ بس اس سوچ اور نیت سے میں بھر پور اعتماد کے ساتھ اس سمت کی جانب چل پڑی جہاں میرے نئے خواب میرے منتظر تھے اور میں اگلی منزل کے لیے ایک نئے عزم کے ساتھ جدوجہد کرنے لگی۔ چند ماہ کے بعد لیکچرر شپ کے لیے مقابلے کا امتحان دیا اور کچھ عرصے کے وقفے سے ایم فل میں داخلہ بھی لیا۔ اللہ رب العزت کے فضل سے جس دن ایم فل کے کورس ورک کا آخری امتحان تھا اسی روز مجھے خبر موصول ہوئی کہ بطور لیکچرر میری تقرری ہو گئی ہے۔

دو سال پہلے ایک ادھورے خواب کی کرچیوں نے میری پلکوں کو نم کیا تھا لیکن اب یہ آنکھیں رب کریم کی اس عنایت پر خوشی اور شکر کے جذبات سے تر تھیں کہ اس ذات پاک نے ایک بڑی کامیابی سے ہم کنار کر کے میرے لیے بہتر راہ متعین کی تھی۔ اپنے مضمون میں میں بطور لیکچرر پورے لاہور میں اول رہی تھی اور پنجاب بھر میں مجھے دوسری پوزیشن حاصل ہوئی تھی۔ یہ بات میرے والد صاحب کے لیے بھی باعث مسرت تھی۔ ان کی خوشی میرے سکون قلب کی وجہ بنی اور اسی سکون سے میں نے نئے خوابوں کی جستجو کا سفر جاری رکھا۔

اس تجربے اور زندگی کے مشاہدات نے کچھ اہم اسباق مہیا کیے جنہیں میں خاص طور پر ان تمام نوجوان طالب علموں کے ساتھ بانٹنا چاہوں گی جن سے اکثر یہ شکایت سننے کو بھی ملتی ہے کہ خواب تو بہت بڑے بڑے ہیں لیکن وہ شرمندہ تعبیر نہیں ہوتے۔

خوابوں کی تکمیل جادوئی نہیں ہوتی۔ ان کی تعبیر اور تعمیر کے سفر میں منزل کے متلاشی شخص کو مشقت اور تگ و دو کرنا پڑتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اکثر لوگ محنت کے نام پر ساری زندگی بند دیواروں میں راستے تلاش کرنے میں اپنی توانائیاں ضائع کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ منزل کے حصول کے لیے غلط راستے بدلنے پڑتے ہے۔ جب درست راہیں متعین ہو جائے تو اکثر و بیشتر وہ کٹھن دکھائی دیتی ہیں جس سے انسان شش و پنج میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

لیکن یہ بات سمجھ لیں کہ تعبیروں کے سفر میں کٹھن رستوں کا آنا طے ہے۔ پریشانیوں کا ہمیں گھیر لینا بھی کوئی انوکھی بات نہیں۔ یاد رہے! خوابوں کے جزیروں میں بسنے والے مشکلات سے فرار حاصل کرنے کی بجائے ان کا سامنا کرتے ہیں اور وہ کبھی اتنے پست حوصلہ نہیں ہوتے ہیں کہ کٹھن راستوں اور تنگ گھاٹیوں کو عبور نہ کر پائیں۔ اپنی صلاحیتوں پر بھروسا کرنے والوں کو منزل پر پہنچنے سے پہلے ناچار ہو کر بیٹھنا نہیں آتا۔

ہمارا پختہ ایمان اس بات پر ہونا لازم ہے کہ ’اللہ کسی محنت کرنے والے کی محنت کو ضائع نہیں کرتا‘ ۔ یہ سوچ کہ محنت کا صلہ نہیں ملتا، ایک میتھ کے علاوہ کچھ نہیں۔ سخت محنت کے باوجود جب آپ کسی خواب کو حاصل کرنے میں ناکام رہیں تو سمجھ لیں کہ اللہ نے آپ کو آپ کی محنت کا صلہ کسی اور بہتر روپ میں دینے کا ارادہ کر رکھا ہے۔ جو لوگ کسی وقتی نا کامی سے مایوس ہو کر اپنے خوابوں کو بکھرنے دیتے ہیں، منزل ان سے کوسوں دور چلی جاتی ہے اور کامیابی ان سے روٹھ کر کنارہ کرنے لگتی ہے۔ اس لیے کامیابی حاصل کرنے کے لیے سفر کو مستقل مزاجی، ایمانداری اور مخلصی سے جاری رکھنا ضروری ہے۔

ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کامیابی باعث برکت انہیں لوگوں کے لیے ثابت ہوتی ہیں جو اپنی نیت کو اوس کی بوندوں کی طرح شفاف اور اجلا رکھتے ہیں۔ اس لیے احساس کمتری کا شکار ہو کر دوسروں کی زندگی میں جھانکنے اور ان کی کامیابیوں پر حسد کرنے کی بجائے اپنا وقت خود کو بہتر بنانے میں صرف کرنا چاہیے۔ یاد رہے عمل کے بیجوں میں اگر حسد کا زہر گھولیں گے تو ایسے شجر سے حاصل ہونے والا پھل آپ کے لیے کافی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اس لیے سوچ اور عمل کو مثبت بنا کر اپنی موجودہ نعمتوں اور صلاحیتوں پر اللہ کا شکر ادا کرنا بہتر ہے۔

آخر میں بس اتنا کہوں گی کہ خواب بہت انمول ہوتے ہیں یہ صرف پلکوں پہ سجانے والی بے وقعت آرزوئیں نہیں بلکہ زندگی کو بامقصد بنانے والے وہ نایاب موتی ہیں جو اپنی چمک سے زندگی کو حسن عطا کرتے ہیں۔ آپ اگر خواب دیکھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں تو انہیں وہ طاقت پرواز بھی فراہم کریں کہ یہ ایک آزاد پنچھی کی مانند اپنے پنکھ پھیلا کر فلک کی بلندیوں کو چھو سکیں۔ ہم نہیں جانتے کہ یہ مستقبل میں ہمارے لیے کس کامیابی کی نوید لے کر پلٹیں گے لیکن یہ بات تو طے ہے کہ آسمان انہیں لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اپنے خوابوں کو خلوص دل سے تھامے رکھتے ہیں اور منزل کو پانے کی چاہت میں خوابوں کی تعبیر کے لیے مسلسل کوشاں رہتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *