آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یوں تو فیض صاحب نے عبادت کا سودا سویرے سویرے نہیں کیا تھا مگر عصر حاضر کی سب سے بلند قامت دعا اسی مرد حر نے مانگی تھی،

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں
ہم جنہیں سوز محبت کے سوا
کوئی بت کوئی خدا یاد نہیں۔ ۔ ۔ الخ

فیض احمد فیض ایک مہذب شاعر گزرے ہیں، انہوں نے ہر شے کو تمیز کی نگاہ سے دیکھا، مقید ہوئے تو جیل کی سلاخوں کو ادب سے تھاما، صرف اخلاقی ادب ہی نہیں جیل کی سلاخیں ان کے اردو ادب سے بھی مستفید ہوئیں۔ سچ ہے کہ کم صلاحیت والوں میں اگر کوئی باصلاحیت فرد نازل ہو تو اس کی صلاحیتوں کے اعتراف میں اسے کال کوٹھڑی ضرور دکھائی جاتی رہی ہے تاکہ اس عبرت کے نشان سے عبرتوں کی لو پھوٹے اور کوئی ہم سا سامنے نہ آئے، آئے بھی تو عبرت کا بوجھ کاندھوں پر لاد کر آئے کہ ہمیں کام چہار دن کی زندگی میں اور بھی بہت ہیں۔

یہ تو فیض صاحب کا مختصر تعارف تھا، فیض صاحب کا تعارف بھی ان کی زندگی کی طرح خونچکاں ہے۔ دعائے فیض پر مختصراً بحث تو ہو نہیں سکتی، اس دعا کے ایک ایک لفظ پر بحث کے لئے علم و ہنر اور لکھنے کو دفتر چاہیے۔

سوز محبت ذاتی مفادات کی نمائندگی کرتا ہے۔ ذاتی مفاد غرض کی وہ جنس ہے جو خدا کی عبادت اور بتوں کی پرستش کرنے والے کو ایک پلیٹ فارم پر لا کھڑا کرتا ہے۔ غرض نے ہمیشہ ہی فرد کے ضمیر پر چوٹ ماری ہے۔ غرض نے اپنے حمام میں قیام کے لیے بے لباسی کی ذلیل شرط عائد کی، اس رکاوٹ کو عبور کرنے والوں نے دنیا پر اپنی رائے کا لوہا منوایا۔ غرض نے مذہب کو دیگر شعبہ ہائے زندگی کے لیے قابل استعمال بنایا، جہاں کوئی سجدہ ریز دار فنا کی چکا چوند سے بیزار نظر آیا، اس کو اسی کی زبان میں سمجھا کر اپنی غرض کا بندہ بنا لیا۔ یوں سجدہ ریز نے کبھی نہ سمجھا کہ سجدہ تو وہ کر رہا ہے مگر اس کا صلہ کہیں اور جا رہا ہے۔ اس صلے کے کہیں اور وارد ہونے نے کریڈٹ لینے کی جنگ کو جنم دیا۔

فیض نے دعا میں دعا مانگی کہ،
جن کا دیں پیروی کذب و ریا ہے ان کو
ہمت کفر ملے جرات تحقیق ملے

بھلا کذب و ریا، ہمت کفر اور جرات تحقیق کا کیا جوڑ؟ فیض صاحب کا یہی فیض انہیں کفر، غداری اور مذہب بیزاری کے اعزازات نوازتا چلا گیا، وطن عزیز میں ارزاں سبھی تمغے فیض صاحب کے سینے پر جگمگاتے رہے۔ فیض صاحب نے اس کامل دعا میں کاذبوں اور ریاکاروں کو بھی یاد رکھا، اور ان کے لیے دعا کی کہ رب کائنات انہیں ہمت کفر سے نوازے، ریاکار ہوتا بے عمل ہے مگر وہ اپنی بے عملی کو ریا کی چادر میں ڈھانپ لیتا ہے۔ ریا اس کا بھرم رکھتے ہوئے اسے دنیا کی نظروں میں باعمل پیش کرتی رہتی ہے، یہ بھی بڑی مصیبت کی بات ہے، عمل بھی نیک کرے ہے اور جزا کی جگہ سزا کا حقدار ٹھہرے ہے۔

فیض صاحب نے مصیبت زدوں کے لیے نجات کی دعا کی، بڑوں نے جب بھی دست دعا دراز کیے سبھی کو فردا فردا فیض یاب کیا۔ قبل از فیض، معلوم یا دستیاب معلومات کے مطابق کبھی کسی نے کسی کے لیے ہمت کفر اور جرات تحقیق نہیں مانگی تھی۔ کذب و ریا نے امت مسلمہ کا برا حال کیا ہے۔ یہاں تو رب العالمین اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکامات کو ذاتی پیغام اور ذاتی مطالبات کے طور پر استعمال کیا گیا، دین متین کی تشریحات کو ذاتی کاموں کے لئے جواز بنا کر بھی پیش کیا گیا، دین کی جزئیات میں صرف اللہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت لازم ہے جبکہ انہی جزئیات سے انحراف بدعت کہلاتا ہے۔

دنیا داروں کی گردنیں ناپنے سے دین داروں کے فرقوں تک کو تکفیری عمل سے گزارا گیا۔ یہی تو ہے کذب، یہی تو ریا ہے۔ کذب و ریا کے کرتا دھرتا ہمت کفر سے کام لیتے تو کم از کم ان کی دنیا ہی سنور جاتی۔

تحقیق سوال سے جنم لیتی ہے، محقق کو ہر آن سوال کا کیڑا کاٹتا رہتا ہے۔ محقق کے نزدیک نظریات کی وجہ بننے والے عوامل زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ جرات تحقیق کرتے تو خلافت، جمہوریت، سیکولر ازم، اشتراکیت، سرمایہ داری اور دیگر عالمی و معیشتی نظریات اور تصورات کی تعریفیں واضح ہوتیں۔ خلافت کے عظیم الشان مقاصد معلوم ہوتے، معلوم ہوتا کہ خلافت مسند پر براجمان ہونے کا نام نہیں ہے بلکہ مظلوم کی حمایت کا نام ہے، راشن اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے بھوکوں کی دہلیز پر پہنچانے کا نام ہے، ننگوں کو لباس اور بھوکوں کو کھانا کھلانے کا نام ہے، آخری سانسوں تک اپنا ناحق قتل معاف کرنے اور ریاستی رٹ کے نفاذ کا حکم صادر فرمائے جانے کا نام ہے۔

معلوم ہوتا کہ جمہوریت شہریوں کی رائے کو مقدم کرنے کا نام ہے۔ معلوم ہوتا کہ سیکولر ازم کوئی مذہبی پیغام نہیں بلکہ یہ تو سیاسی بندوبست کا نظریہ ہے۔ مذاہب کے احترام اور مساوی حقوق کے تحفظ کا نام ہے، معلوم ہوتا کہ اشتراکیت محض ایک نظام معیشت ہے جس کا مذہب سے لین دین ممکن نہیں۔ جیسے سرمایہ دارانہ نظام معیشت میں رہ کر مذہب پر عمل درآمد ممکن ہے بعینہ اشتراکیت میں بھی ممکن ہے، نیز یہ کہ سرمایہ دارانہ نظام معیشت سے زیادہ انسان دوست اور قرین انصاف بھی ہے۔

کذب و ریا کے اس بے ہنگم شور میں اپنے نظریات کی سربلندی کی خاطر دوسروں کے نظریات کی توہین سے اپنے نظریات کی صدا بھی فضاؤں میں گم ہو گئی۔ یہی گر اگر ہمت کفر کے پلیٹ فارم سے آزمایا جاتا تو شاید زیادہ بار آور ثابت ہوتا، کیونکہ شیر خدا حضرت علی کرم اللہ وجہ کے فرمان عالیشان کے مطابق حکومت کفر سے چلائی جا سکتی ہے مگر ظلم سے نہیں۔ اگر اشتراکیت مذہب بیزار ہے تو سرمایہ داری بھی کسی صحیفے میں نہیں اتری۔ کردار کی صفائی نیت کی صفائی کی متقاضی ہے، اگر نیت دنیا سنوارنے پر مبنی اصولوں سے پروان چڑھائی جائے گی تو کردار کی تعمیر ناممکن ہو جائے گی۔ کردار کی عمارت سترہ پیوندوں میں بھی نہیں ڈھے سکتی، ریا کی عمارت کو دنیا کا کوئی میٹیریل مضبوط کھڑا نہیں کر سکتا۔

یہ بات ہر عاقل و بالغ کو ازبر ہو جانی چاہیے کہ دوسروں کے کردار کو گندا ثابت کرنے سے اپنا کردار صاف نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں جتنے بھی لوگوں نے تاریخ میں عمدہ جگہ بنائی ہے وہ سبھی فیض صاحب کی طرح مہذب اور شائستہ تھے۔ وہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی تمیز کا مظاہرہ کرتے رہے۔

آئیے ہاتھ اٹھائیں ہم بھی
ہم جنہیں رسم دعا یاد نہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *