جدید ٹیکنالوجی اور ہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے زرخیز زمین، معدنیات، سازگار موسم، سمندر، پہاڑ، صحرا، جغرافیائی حیثیت اور قدرتی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ پاکستان کتنا خوش قسمت ملک ہے جس کے پاس یہ تمام وسائل موجود ہیں مگر ہم کتنے بدقسمت ہیں کہ ترقی کے لئے دستیاب تمام تر وسائل ہونے کے باوجود ترقی نہیں کرسکے۔ اس کے برعکس یورپی یونین کی کچھ ریاستوں کے علاوہ دنیا میں بہت سے ایسے ممالک ہیں جن کے پاس قدرتی وسائل کی اتنی فراوانی نہیں ہے۔

مگر ان میں سے بیشتر ممالک کا شمار یا تو ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے یا اس کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ گزشتہ ستر سالوں سے جو کھلواڑ اس ملک کے ساتھ ہورہا ہے اس سے یہ بات تو Establish ہوچکی ہے کہ کوئی معجزہ یا انقلاب ہی پاکستانی عوام کی حالت کو بہتر کر سکتا ہے، کیونکہ عوام تو سب کچھ اوپر والے پر ڈال سو رہی ہے۔ حالت تو یہ ہے کہ جس انداز سے ہم نے غیرملکی کمپنیوں کو ملک کے اندر جگہ دے کر ملکی معیشت کو تباہ کیا گیا ہے اس کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔

پتہ نہیں کیوں ہم ایسے کام کرتے ہیں جس سے ہماری جگ ہنسائی ہو۔ اگرچہ دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کی ایجادات میں ہمارا کوئی کردار نہیں تاہم ان کے مثبت استعمال سے ملکی نظام کو بہتر کیا جاسکتا ہے مگر نہیں ریاست سبھی ستون اس بات پر بضد ہیں کہ ہمیں اپنی انا اور ذاتیات ملکی ترقی سے زیادہ عزیز ہے۔ دنیا میں نت نئی ایجادات ہوتی ہیں، فلم، ٹیلی ویژن، تھیٹر، ڈرامہ اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے انٹرٹینمنٹ کے ساتھ عوام کو Educate کیا جاتا ہے جبکہ یہاں جب بھی کوئی ادارے کا سربراہ بنتا ہے وہ اپنی انا اور ذاتیات کو لے کر سب کچھ تہس نہس کرنے پر تلا ہوتا ہے۔

ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 76.38 ملین افراد موبائل استعمال کرتے ہیں اور جنوری 2020 کے اعداد و شمار کے مطابق 35 فیصد لوگ انٹرنیٹ کا استعمال کرتے ہیں، 37 ملین سے زائد افراد سوشل میڈیا پر سرگرم ہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس سال 2.4 ملین افراد کا اضافہ ہوا ہے۔ موبائل فون بنانے سے لے کر سروسز فراہم کرنے میں غیر ملکی کمپنیوں کی اجارہ داری ہے اور ہم اپنے محدود فوائد کی خاطر آنکھیں بند کرکے ہونے دیتے ہیں۔

سابقہ ریکارڈ کے مطابق واحد پاکستانی کمپنی ( یوفون ) سب سے کم تقریباً 14 فی صد شیئر کی مالک ہے۔ جبکہ پی ٹی اے سپریم کورٹ آف پاکستان کے احکامات اور اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود غیر ملکی کمپنیوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کا موقف ہے کہ ملک میں دہشتگردی جیسے جرائم کے علاوہ دیگر جرائم میں غیر تصدیق شدہ موبائل سم استعمال ہو رہی ہیں۔ غالباً چند ماہ قبل اعلیٰ عدالت نے پی ٹی اے کو ہدایت کی غیر ملکی کمپنیاں بغیر تصدیق شدہ سم کارڈ جاری کررہی ہیں۔

لہذا انہیں اس بات کا پابند کیا جائے، اس کے علاوہ یہ بات بھی گردش کررہی ہے کہ تمام موبائل صارفین کو اپنی سم کی تصدیق پھر سے کروانی ہوگی تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ جس شخص کے نام پر سم رجسٹرڈ ہے وہی اسے استعمال کر رہا ہے۔ اب اس معاملے پر ذرا سا دھیان دیا جائے تو معلوم ہوگا کہ موبائل کمپنیاں مارکیٹ میں شیئر بڑھانے کے چکر میں ڈسٹریبوشن نیٹ ورک کو ماہانہ ٹارگٹ دیتی ہیں اور اسے پورا کرنے کے لئے ہر طرح کا دباؤ ڈالتی ہیں۔

کاروباری طریقہ کار کے مطابق ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک اور کمپنی کے مابین ہونے والے معاہدے کے مطابق ایک کسی کمپنی کی فرنچائزر مقررہ حدود میں صارف یا ریٹیلر تک موبائل کارڈ، ایزی لوڈ یا سم کارڈ بروقت فراہم کرنے کا پابند ہوتا ہے اور اس کے عوض مخصوص آمدن حاصل کرتا ہے۔ لیکن کمپنی کی خواہشات کو پورا کرنے یا ”مال“ بنانے کے چکر میں یہ لوگ نہ صرف مفت سم بانٹ رہے ہوتے ہیں بلکہ اس میں موجود بیلنس کی آفر بھی دیتے ہیں۔

جبکہ پی ٹی اے کی جانب سے مقرر کردہ سم کارڈ کی قیمت مقرر ہے۔ لیکن ماہانہ ٹارگٹ پورا کرنے اور بونس کے لالچ کی وجہ سے ”وضع کردہ کا نظام“ کہیں پیچھے رہ جاتا ہے اور یوں جرائم پیشہ افراد کسی دوسرے فرد کے نام پر سم کارڈ رجسٹرڈ کروا کر اپنا دھندا کرتے ہیں۔ یوں بل واسطہ یا بلا واسطہ موبائل کمپنیاں ان گھناؤنے جرائم میں شریک جرم گنا جاسکتا ہے۔ اب ہمارے ہاں ایسے فیصلے کرتے وقت مرض کا علاج کرنے کی بجائے مریض ہی مارنے کو بہتر حل تصور کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں کام کرنے والی موبائل کمپنیوں کے انتظامی امور اور طریقہ کار کو کنٹرول کرنے کے لیے پی ٹی اے کل وقتی ادارہ کے علاوہ دیگر ادارے بھی معاونت کے لیے موجود ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں اداروں کے مابین کوارڈینیشن موجود نہیں۔ اس سار ے معاملے میں برائی کی جڑ کہاں ہے؟ سوچنے کی بات یہ ہے کہ موبائل کمپنیاں ڈسٹریبیوشن نیٹ ورک میں ”ٹارگٹ“ کس فارمولے کے تحت مقرر کرتی ہیں؟ کیا پی ٹی اے کے پاس اس کا وضع کردہ کوئی فارمولہ ہے یا ضرورت ایجاد کی ماں کے مصداق ہر کمپنی مقابلے کی دوڑ میں سبقت لے جانے کے چکر میں خود کار نظام کے تحت ٹارگٹ مقرر کرتی ہیں اور پھر اسے پورا کروانے کے لیے اس سے جڑے افراد پر دباؤ بڑھاتی ہیں یوں ایسے افراد کو اپنے مخصوص عزائم کو پورا کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔

جدید دور میں جب گوگل دنیا کے دوسرے کونے میں بیٹھ کر آپ ہر ایک چیز سے واقف ہے وہیں، اسے جانچنا کتنا مشکل کام ہے۔ میرا خیال ہے کہ یہاں پی ٹی اے یا دیگر اداروں کو مداخلت کرنے کی ضرورت ہے، بظاہر یہاں کسی ایس او پیز کو فالو نہیں کیا جاتا اور ہر کمپنی بے لگام گھوڑے کی طرح کام کررہی ہے اور چونکہ پی ٹی اے یا دیگر اداروں کی جانب سے چیک اینڈ بیلنس کا نظام نہیں ہے لہذا یہ کمپنیاں اپنے ڈسٹریبوشن نیٹ ورک پر دباؤ بڑھاتی ہیں اوراس چکر میں غیرقانونی دھندے فروغ پاتے ہیں اور اس کا نقصان معاشرے کے دیگر افراد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *