پاک فوج سے محبت کی لازوال داستان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بات حقیقت ہے کہ جنگیں افواج نہیں قومیں لڑا کرتی ہیں۔ پاکستان کے قیام کی بات ہو یا 1948 کے معرکے کی پاکستان کی غیور عوام نے پاک فوج کا ہمیشہ ساتھ دیا۔ 1965 کی جنگ میں لاہور اور سیالکوٹ کے محاذ پر خصوصی طور پر فوج کے ساتھ ساتھ شہریوں کی خدمات قابل قدر ہیں۔ 1971 کی جنگ میں عوام نے فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ 1999 کی کارگل کی جنگ میں ہم نے دیکھا کہ لوگوں نے دل کھول پاک فوج کی حمایت کی۔ 2005 کے زلزلے میں بھی عوام کی خدمات قابل فخر ہیں۔

صاحب استطاعت لوگوں نے خیمے اور خوراک کے پیکٹ بڑی تعداد میں متاثرہ لوگوں تک پہنچائے۔ حالیہ دہشت گردی کی جنگ میں بھی ہمارے محب وطن قبائلی عوام کی خدمات اور قربانیاں سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ جنوری 2014 میں وطن عزیز پر اپنی جان قربان کرکے مادر علمی اور سینکڑوں طالب علموں کی زندگیاں بچانے والے ایک طالب علم اعتزاز حسن نے شجاعت اور قربانی کی عظیم مثال قائم کی اور تعلیم دشمن دہشت گردوں کو پیغام دیا کہ وہ قوم کے بچوں سے لڑنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مسلح افواج اور عوام کے درمیان محبت کا رشتہ اگرچہ ہر دور کی ضرورت رہا ہے مگر پاکستان کے موجودہ حالات میں تو اس رشتے کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ پاکستان کی سا لمیت کے مخالف تمام عناصر، تمام قوتیں محبت کے اس رشتے کو کمزور کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ مودی سرکار نت نئے طریقوں سے پاکستان میں قیام امن کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس کی تازہ مثال کراچی میں سٹاک ایکسچینج پر ہونے والا دہشت گردوں کا ناکام حملہ ہے۔ ملک دشن عناصر اور سوشل میڈیا کے ضمیر فروش سازشی ٹولے بھی اس میں پیش پیش ہیں۔ ان حالات میں ایسے لوگ لائق صد تحسین ہیں جنہوں نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے عوام اپنے وطن کی محافظ مسلح افواج سے بے پناہ پیار کرتے ہیں اور ہر قدم پر ان کی پشت پر ہیں، اس سلسلے میں ایک بڑی مثال لاہور کے غازی میاں اعجاز احمد مرحوم کی ہے جن کا پاک فوج کے ساتھ رشتہ ان کی وفات تک اتنا مضبوط رہا کہ انہیں ایک فوجی کی حیثیت سے یا د کیا جاتا ہے۔

پاک فوج کے ترجمان رسالہ ”ہلال“ میں کرنل خواجہ وحید نے جب میاں اعجاز کی پاک فوج کے لئے محبت، جانثاری اور عملی تعاون کا تذکرہ کیا تو جی ایچ کیو راولپنڈی سے خاص طور پر 27 مارچ 1979 کو میاں اعجاز احمد کی محبت کے حوالے سے اعترافی خط لکھا گیا۔ اور ان کی خدمات کو سراہا گیا۔ میاں اعجاز احمد کے لئے پاک فوج کا یہ ابتدائی جذبہ ایک خاص پس منظر رکھتا ہے عوامی حلقوں کی طرف سے پاک فوج کے لئے محبت کے اظہار کا آغاز یوں ہوا کہ 1971 کی پاکستان بھارت جنگ سے پہلے کے رمضان المبارک میں میاں اعجاز احمد اپنی خاندانی حب الوطنی کے پس منظر میں ایک دن اٹھے، افطاری کا سامان خریدا اور راوی پارآرمی کی ایک یونٹ ”ساتھ ساتھ“ کے پاس جاکر اپنی خواہش کا اظہار کیا۔

عام طور پر آرمی کی طرف سے اس طرح کی دعوت قبول نہیں کی جاتی، لیکن یہ میاں اعجاز احمد کا جذبہ حب الوطنی تھا اور ان کے دلی خلوص، ان کی آنکھوں کی چمک اور ان کے چہرے کی رونق سے کچھ ایسا منظر ابھرا کہ رجمنٹ کے انچارج کمانڈنگ افسر نے اجازت دے دی کہ جوان میاں صاحب کے ساتھ افطاری کر لیں۔ بس وہ دن اور عمر عزیز کا آخری دن میاں اعجاز احمد اس رجمنٹ کا عزیز حصہ بن کر ر ہ گئے، پہلی افطاری کے تعلق کے بعد پاک بھارت جنگ چھڑ گئی تو میاں صاحب ہر قدم پر پاک وطن کے جانثاروں کے ساتھ ساتھ تھے یہ رجمنٹ دشمن سے نبردآزما تھی، اور میاں صاحب گویا عوام کی علامت بن کررہ گئے تھے جو دشمن سے نبردآزما اور فوجیوں کے حوصلے بلند کرنے کا باعث تھی، اس جنگ میں میاں صاحب اگلے مورچوں کی طر ف رواں دواں رہتے۔

ا ن کی آنکھوں میں غازیوں کا وطن کی حفاظت کے لئے پر جوش انداز میں جھپٹنا اور شہیدوں کا جان نثار کرنا گویا سب کچھ محفوظ ر ہا اور وہ اس کا اکثر ذکر کرتے رہے۔ میاں صاحب نے جنگ کے دوران اگلے مورچوں میں رہ کر اپنی رجمنٹ کا حصہ بن کر دکھایا اور ضرورت پڑی تو فائر کا جواب بھی بھرپور انداز میں اور ایک مجاہد غازی کی حیثیت سے دیا۔ اور قرون اولی کے مجاہدین کی یاد تازہ کر دی۔ آج کل مغربی طاقتیں مسلمانوں کو جذبہ جہاد سے دور کرنے کے لئے بے شمار کوششیں کر رہے ہیں۔ مگر ہماری بہادر قوم اپنے اسلاف کی گرانقدر خدمات کو رائیگاں نہیں جانے دے گی اور آنے والے دنوں میں بھی جرات اور بہادری کی ایسی داستانیں رقم کرے گی جن پر آنے والے لوگ فخر کر سکیں گے۔

اس جنگ کے بعد جب حالات نارمل ہوئے اور رجمنٹ کینٹ ایریا میں آ گئی تو کچھ عرصہ بعد کمانڈنگ افسر نے میاں صاحب کو باضابطہ یونٹ کے وزٹ کے لئے دعوت دی اور میاں صاحب نے دعوت قبول کرتے ہوئے ً یونٹ کارخ کیا، اب میاں صاحب کاخلوص یونٹ کے ہر افسر اور ہر جوان پر واضح تھا۔ چنانچہ باہمی محبت کے روح پرور مناظر سامنے آئے، اس وزٹ میں میاں صاحب کو پہلی آفیشل شیلڈ سے بھی نوازا گیا۔ اس پہلے وزٹ کے بعد تو پھرایسا باہمی رشتہ استوار ہوا کہ مذکورہ یونٹ برف پوش پہاڑوں پر یاکسی ریگستان میں بھی ہو میاں صاحب اپنی جان اور صحت کی پرواہ کیے بغیر وہاں پہنچے۔ اور یونٹ کی تقریبات اور بڑے کھانوں میں حصہ لیا۔ میاں اعجاز ا حمد کی آرٹلری سے بے لوث محبت، وابستگی اور خدمت کے باعث 1981 میں آرٹلری ڈائریکٹو ریٹ نے ان کو ”فرینڈ آف آرٹلر ی ”کے اعزاز سے نوازا۔ اور ایک یاد گار ی شیلڈ بھی دی۔ میاں اعجاز احمد نے انتہائی سادہ زندگی بسر کی اور آنے والی نسلوں کے لئے پاک فوج سے اخو ت اور محبت کا ایک بیج بوگئے۔ اور 29 دسمبر 2012 کو مختصر علالت کے بعد لاہورمیں وہ اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ اللہ تعالی میاں اعجاز احمد کو جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
امجد حسین امجد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *