یو ٹیوب اور ہماری آزادی اظہار رائے۔ ۔ ۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ دنوں سپریم کورٹ میں دوران سماعت جسٹس قاضی امین نے اداروں سے استفسار کیا کہ کیا انھوں نے دیکھا کہ یو ٹیوب پر کیا ہو رہا ہے؟ سوشل میڈیا پر کسی کو بخشا نہیں جا رہا۔ ان کی ذاتی زندگیوں کو زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ آخر اس مسئلے کا کوئی حل تو نکالنا ہے۔

ججز کے ان ریمارکس کے بعد کچھ لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ شاید یوٹیوب پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ حالانکہ ججز کے ریمارکس میں ایسا کچھ ظاہر نہیں ہو رہا بلکہ دوسرے الفاظ میں وہ اداروں سے مخاطب ہیں کہ سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کیا جائے۔

اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں کہ یو ٹیوب اور سوشل میڈیا معاشرے کی سب سے بڑی حقیقت بن گیا ہے۔ یوٹیوب پر ماضی میں بھی ایک بار پابندی عائد کی گئی لیکن بعد ازاں یہ پابندی اٹھا لی گئی۔ دنیا کے دیگر ممالک تو بہت پہلے سے یوٹیوب سے بھرپور استفادہ کر رہے ہیں البتہ پاکستان میں یہ ابھی پھل پھول رہا ہے۔ یو ٹیوب سوشل میڈیا کا سب سے اہم ٹول ہے۔ اس کا استعمال صرف سیاسی مقاصد کے لئے ہی نہیں ہے بلکہ ایک بڑی اکثریت اسے انٹرٹینمنت کے لئے استعمال کرتی ہے۔

اس کے علاوہ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے لئے یہ تعلیم کا ذریعہ بھی ہے۔ پاکستان میں یو ٹیوب ٹیکنیکل ایجوکیشن کے لئے بھی ایک اہم ذریعہ کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ کسی بھی طرح کی سکلز سیکھنا ہوں یا حتیٰ کہ کوئی مشین چلانی ہو آپ یوٹیوب پر بآسانی اس کے متعلق ویڈیوز تلاش کرکے وہ سکلز سیکھ سکتے ہیں۔ ہر روز لاکھوں لوگ کروڑوں کی تعداد میں ویڈیوز بنا بنا کر یوٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا ٹولز پر اپلوڈ کر رہے ہیں۔

اسی طرح کروڑوں لوگ ان ویڈیوز سے استفادہ کر رہے ہیں۔ فری لانسنگ اس کی بہترین مثال ہے۔ آپ یوٹیوب پر جائیں۔ وہاں لاکھوں ویڈیوز موجود ہیں جن پر آپ کو بالکل ابتدائی سطح سے فری لانسنگ سکھائی گئی ہے۔ یہ سکلز سیکھ کر تھوڑی محنت کرکے آپ گھر بیٹھے لاکھوں روپے ماہانہ کما سکتے ہیں۔ یو ٹیوب بذات خود کمائی کا ذریعہ ہے اور پاکستان کے اندر لاکھوں لوگ یوٹیوب کے ذریعے روزانہ کی بنیاد پر پیسے کما رہے ہیں۔ پچھلے دنوں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے یو ٹیوبرز اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے ساتھ ایک ملاقات کی۔

دوران ملاقات لوگوں نے بتایا کہ کس طرح وہ یوٹیوب کے ذریعے پیسے کما رہے ہیں۔ وزیراعظم نے خوشگوار حیرت کا اظہار کیا۔ اب دنیا بہت ایڈوانس ہو چکی ہے۔ جب وزیراعظم ڈیجیٹل پاکستان کی بات کرتے ہیں تو یو ٹیوب اور سوشل میڈیا بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ آپ یو ٹیوب اور سوشل میڈیا کو ڈیجیٹلایزیشن سے الگ کرکے نہیں دیکھ سکتے۔

سوشل میڈیا استعمال کرنے والے آزادی اظہار رائے کی بات کرتے ہیں۔ کسی بھی ملک کا آئین و قانون اپنے شہری کو اظہار رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے۔ لیکن یہ حق بھی کچھ حدود و قیود کے تابع ہے۔ کچھ پابندیاں ہیں جن کے اندر رہ کر ہم اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی دیگر ادارے یا شخص کی پگڑیاں اچھالنے کا حق قطعاً نہیں دیا جا سکتا۔ یو ٹیوب اور سوشل میڈیا کو منافرت، فرقہ واریت، انبیاء کرام، قرآن مجید اور دیگر الہامی کتب کی توہین، بغیر ثبوت کسی ادارے یا شخص کے خلاف ذاتی عناد پر مبنی مہم اور مخصوص ذاتی مقاصد کے لئے قطعاً استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان میں آزادی اظہار رائے کی بات کرتے وقت دیگر ممالک کی بات کی جاتی ہے۔ ایسی بات کرنے والے لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ ان ترقی یافتہ ممالک میں سوشل میڈیا بارے عوام کو مکمل طور پر ایجوکیٹ کیا گیا ہے کہ اس کا استعمال کب اور کیسے کرنا ہے۔ ٹیکنالوجی کا کوئی بھی ذریعہ اچھا یا برا نہیں ہوتا بلکہ یہ اس کے استعمال پر منحصر ہے کہ ہم اسے استعمال کیسے کر رہے ہیں۔ اصل مسئلہ اس کو ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی آڑ میں کسی کو شتر بے مہار آزادی قطعاً نہیں دی جا سکتی کیونکہ اس طرح تو ریاست کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔

سیاسیات کے طالبعلم کے طور پر معروف فلاسفر ہیگل کی تھیوری میں پڑھ چکا ہوں۔ ہیگل کہتا ہے ”غیر مشروط آزادی معاشرے میں خوف و دہشت پیدا کرتی ہے“ ۔ ہیگل کی اس تھیوری کی تائید میں بہت سے ریسرچ پیپرز اور آرٹیکل لکھے جا چکے ہیں اور یہ تھیوری آج بھی طلباء کو پڑھائی جا رہی ہے۔ کسی کے ہاتھ میں بندوق نما قلم دے کر آپ اسے یہ آزادی نہیں دے سکتے کہ وہ جو چاہے لکھے اور جو چاہے بولے۔ اس طرح تو ریاست میں بسنے والے شہریوں کا جینا حرام ہو جائے گا اور ایک انارکی کا عالم ہو گا۔

آزادی کی کچھ حدود و قیود ہیں، ہر شہری جس کے تابع ہے۔ کسی کی عزت پر انگلی اٹھانا بہت آسان ہے لیکن جب انسان کو خود اس ساری صورتحال سے گزرنا پڑے تو پھر اسے اندازہ ہوتا ہے۔ آئین و قانون کے تابع رہ کر مفاد عامہ کے لئے بولنا اور لکھنا ہر شخص کا بنیادی حق ہے جس سے کسی کو محروم نہیں کیا جا سکتا البتہ میری آزادی رائے وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں دوسرے شہریوں کا حق شروع ہوتا ہے۔ بصورت دیگر مادر پدر آزاد معاشرہ زیادہ دیر تک اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔ یہی بات نہ صرف ماہرین کہتے ہیں بلکہ عدلیہ بھی اپنے کئی فیصلوں میں واضح طور پر کہہ چکی ہے۔

کوئی بھی ذی شعور شہری یو ٹیوب و سوشل میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ کیونکہ اسی میں سب کا مفاد ہے۔ ہم سب کی آزادی ایک دوسرے کے حقوق کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ ریمارکس میں اسی طرف اشارہ کیا ہے۔ سب سے پہلے تو پاکستان کے اندر لوگوں کو سوشل میڈیا کے اصلاحی اور تعمیری استعمال کے متعلق ایجوکیٹ کرنے کی ضرورت ہے کہ پوری دنیا کس طرح یو ٹیوب اور سوشل میڈیا سے بھرپور استفادہ کر رہی ہے۔ دوسری جانب ملک میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر منافرت، توہین آمیز اور دیگر ممنوع مواد اپلوڈ ہونے کی صورت میں فوری طور پر ملکی قوانین کے مطابق ایسے لوگوں کے خلاف مقدمات بنا کر سخت کارروائی کرے تاکہ آئندہ اس طرح کے مسائل میں کمی لائی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *