مطیع اللہ جان کا اغوا اور اس سے ملنے والے اسباق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کلوز سرکٹ کیمرہ ریکارڈنگ کو ریورس کر کے دیکھنے کی کوشش کرنے لگا تو کسی نے آواز لگائی، اسے مت چھیٹریے، ان ثبوتوں کو پولیس ہی ہاتھ لگائے تو بہتر ہے۔

عرض کیا جناب! پولیس سے پہلے ہمیں ان کیمروں میں سے وہ فوٹیج نکالنا ہو گی، جس میں ممکنہ طور پر اغوا کار اپنی کارروائی کرتے دیکھے جا سکیں۔ یہ فوٹیج ٹی وی پر آ گئی تو شاید مطیع اللہ جان کی جان بچ جائے۔ یہ اکیس جولائی 2020ء کی دوپہر اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس ون تھری میں گرلز ماڈل سکول جونئیر سیکشن کی پرنسپل کے کمرے کا منظر تھا۔

 کمرے میں سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی اہلیہ کنیز صغری، بھائی شاہد عباسی ایڈووکیٹ اور ان کی بھتیجی ناز اکبر ایڈووکیٹ پریشانی کے عالم میں بیٹھے پولیس کا انتظار کر رہے تھے۔ مطیع اللہ جان کی اہلیہ کی طرف سے فون پر ان کے اغوا کی اطلاع ملی تو پارلیمینٹ ہاؤس اسلام آباد سے جیو نیوز کی آمنہ عامر اور نوشین یوسف بھی میرے ہمراہ یہاں پہنچی تھیں۔ اس دوران دفتر کو اطلاع دینے کے ساتھ ساتھ ٹویٹر پر بھی اس افسوسناک واقعہ کا اعلان کر دیا تھا۔

یہ اسکول، جس گلی میں ہے، اس میں داخلے کے وقت میری نظر اردگرد کے گھروں پر تھی کہ شاید کہیں کسی نے کلوز سرکٹ کیمرہ لگا رکھا ہو۔ اسکول میں داخل ہوا تو مرکزی دروازے کے گیٹ کے سامنے دیوار پر کلوز سرکٹ کیمرہ دیکھ کر امید پیدا ہوئی۔  آمنہ عامر اور نوشین یوسف مطیع اللہ جان کی اہلیہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہیں دلاسہ دینے میں مصروف ہوئیں تو میری توجہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو حاصل کرنے پر مرکوز ہو گئی۔ اس دوران ٹیلی فون کالز کا ایک سیلاب تھا، جو رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔

اپنے تئیں سی سی ٹی وی کے سسٹم سے فوٹیج نکالنے کی ناکام کوشش کی تو ہماری بھتیجی ناز اکبر ایڈووکیٹ آگے بڑھی۔ ذہین ناز اکبر کمپیوٹر سسٹمز کو سمجھتی تھی مگر شاید وہ بھی سی سی ٹی وی کے اس سسٹم سے آشنا نہیں تھی۔ فوری طور پر آئی ٹی و ٹیلی کام ایکسپرٹ محمد عثمان بٹ سے رابطہ کیا تو وہ راولپنڈی میں تھے۔ وہ ٹیلی فون پر فوٹیج نکالنے کے لیے ہدایات دینے پر آمادہ ہو گئے ۔ میں نے فون ناز اکبر کو پکڑایا تو تھوڑی دیر میں سارا مسئلہ حل ہو گیا۔

 ناز اکبر نے فوری سسٹم کو سمجھ کر ویڈیو تلاش کی اور یوں چند لمحوں میں ہم نے مطیع اللہ جان کی جھلک اسکرین پر دیکھ لی۔ ویڈیو سے پتا چل گیا کہ مطیع اللہ جان کو پولیس کی وردیوں  اور سادہ کپٹروں میں ملبوس نامعلوم لوگ زبردستی تشدد کرتے ہوئے لے گئے تھے، تاہم اس دوران وہ بھی مزاحمت کرتا رہا۔

جس وقت میں فوٹیج نکالنے میں مصروف تھا، اسی وقت سینئر صحافی عمر چیمہ، صحافی وحید مراد کے ہمراہ اسکول پہنچ گئے۔ ہماری طرح وہ دونوں بھی پریشان تھے لیکن عمر چیمہ اس لیے بھی زیادہ اداس نظر آ رہا تھا کیونکہ وہ خود ماضی میں ایسی صورتحال سے گزر چکا تھا اور اس درد سے بخوبی آشنا تھا۔

مطیع کی اہلیہ اس مشکل وقت میں بھی کمال کا ضبط دکھا رہی تھیں۔ تھوڑی دیر اور گزری تو وائس آف امریکا کی عائشہ تنظیم، اسد طور اور کچھ اور چہرے بھی اسکول میں پہنچ چکے تھے۔ فوٹیج حاصل کرنے کے بعد یہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ انگریزی میں کہتے ہیں کہ ایک تصویر ایک ہزار الفاظ سے بہتر ہے۔

جو جو وہ ویڈیو دیکھتا، اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگتا کہ کس طرح ایک نہتے صحافی کو پولیس کی وردی اور سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد نے اغوا کیا۔ اس جبری گمشدگی کی خبر دنیا بھر میں پھیل گئی۔ اپوزیشن کے مرکزی رہنماؤں نے ہی نہیں بلکہ حکومتی وزرا نے بھی کھل کر اس باہمت صحافی کے حق میں آواز بلند کرنا شروع کر دی۔

اس واقعے کے بعد اسلام آباد پولیس کے آئی جی عامر ذوالفقار تو کہیں غائب ہو گئے لیکن اہم موڑ اس وقت آیا، جب جیو نیوز کے صحافتی ایاز اکبر یوسفزئی نے اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی وقار الدین سید کے حوالے سے خبر دی کہ مطیع اللہ کو اٹھانے میں اسلام آباد پولیس کا کوئی کردار نہیں۔ وردی میں ملبوس اہلکار ان کے ہیں، نہ گاڑیاں۔ پولیس کے اس افسر نے بروقت بیان دیا، جس سے یہ بات واضح ہو گئی کہ اس معاملے میں سویلین حکومت کا کوئی سویلین ادارہ ملوث نہیں۔

اسلام آباد پولیس کی وردیاں استعمال کرنے کا یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں پولیس کا ایک انسپکٹر یہ انکشاف کر چکا ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بال کھینچنے کے واقعے میں بھی نامعلوم افراد ملوث تھے، جنہوں نے اسلام آباد پولیس کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔

افراتفری میں مجھے فون پر سینیٹ کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیرمین سینیٹر مصطفیٰ نواز نے رابطہ کیا اور بتایا کہ ان کی کمیٹی نے اس معاملے کا نوٹس لے کر آئی جی اسلام آباد پولیس کوطلب کر لیا ہے۔

جس دوران ہم سب اسکول میں مصروف تھے، اسی دوران مطیع اللہ جان کو ایک نامعلوم مقام پر پہنچایا جا چکا تھا۔ انہیں جسمانی ایذا دی جا رہی تھی اور ان کے بچوں کا نام لے کر واضح طور پر کہا جا رہا تھا کہ وہ کچھ باتیں کرنے سے گریز کریں۔

ادھر مطیع اغوا کاروں کے چنگل میں تھا تو اس کا بیٹا عبدالرزاق جونیر بین الاقوامی، مقامی اور سوشل میڈیا پر دھاڑیں مار رہا تھا۔ ترکی میں بیٹھا ہمارا دوست عبدالشکور خان پریشان تھا کہ مطیع کے بیٹے کے بیانات کے باعث اس کے والد کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔

شام کو مجھے ہمارے ساتھی ایاز اکبر کی طرف سے پیغام ملا کہ مطیع کو آج رات چھوڑ دیا جائے گا، ہوا بھی وہی۔ مطیع اللہ کے بھائی شاہد عباسی ایڈووکیٹ نے فتح جنگ، کوہاٹ روڈ سے ایک سرکاری چیک پوسٹ سے اسے وصول کیا اور چند لمحوں میں وہ اسی سڑک کے ایک ریسٹورنٹ پر ہمارے ساتھ بیٹھ کر چائے پی رہا تھا۔

مطیع کے اغوا سے کم و بیش دو ہفتے قبل ہی مجھے اس ملک کے ایک سینئر سیاستدان نے یہ کہتے ہوئے محتاط رہنے کی ہدایت کی تھی کہ اسلام آباد سےکچھ صحافیوں کو اٹھایا جا رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مطیع اللہ کے اغوا کار اسے لمبے عرصے کے لیے لے گئے تھے تاہم جب کیمروں میں ان کی شکلیں واضع ہوئیں اور پوری قوم کی طرف سے یکساں طور پر اس واقعے کی مذمت کی گئی تو وہ مطیع کو چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

مطیع اللہ جان کے ساتھ پیش آنے والے واقعے میں دو سبق چھپے ہیں۔ اول یہ کہ جب تک پولیس کو آزاد ادارہ نہ بنایا گیا، ایسے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ یہ قاعدہ بنایا جانا چاہیے کہ جونہی کسی کی گمشدگی یا اغوا کا کوئی واقعہ رونما ہو، سیف سٹی کیمروں کی ویڈیوز میڈیا میں جاری کر دی جائیں اور اگر کیمرے خراب ہونے کا ڈرامہ کیا جائے تو آئی جی پولیس سے باز پرس ہو۔ سیف سٹی کیمروں کی رسائی صرف اور صرف پولیس کو دی جائے، کوئی دوسرا ادارہ اس پر اجارہ داری قائم نہ کرے۔ اگر یہ رسائی کسی انٹیلی جینس ادارے کو بھی دینا مقصود ہو تو کم ازکم اسے فوٹیج ڈیلیٹ کرنے کا اختیار ہرگز نہ دیا جائے۔

پولیس کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ اس کی وردیوں کا غلط استعمال ہو نہ کوئی شخص یا ادارہ اس کی گاڑیوں کی نقل بنا سکے۔ اس کے لیے ایک جاندار طریقہ کار وضع ہونا چاہیے۔

دوسرا اور سب سے اہم سبق یہ ہے کہ جس طرح مطیع اللہ جان کی آزادی کے لیے مزاحمت کی گئی ہے، اسی طرح میڈیا کی آزادی کے لیے ہمیں کھل کر مزاحمت کرنا ہو گی۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک سے لوگ ایسے ہی اغوا ہوتے رہیں گے اور کوئی جمہوری حکومت کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔

بشکریہ: ڈوچے ویلے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply