جان لیوا عارضے میں روح پرور معالجے کا تکمیلی احوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد بلال کے رخصت ہوجانے کے بعد سر شام جب ہم جانے والے تھے تو باجی گریس آ گئیں، گوری، دبلی اور سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھوں والی۔ چلتی پھرتی سی۔ آئی۔ اے۔

چند دن قبل اسی وجود ناتواں نے مریض کے لیے اس کے بچپن کے ایک دوست جو وہاں طالب علم تھا اور اس کی بیوی کا کینیڈا سے آنا جانا، ہوٹل میں قیام کے اخراجات دے کر انہیں تین دن کے لیے مریض کی دل جوئی کی غرض سے بلایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اپنے محبت کرنے والے قریب ہوں گے تو مریض کو سرجری کے بعدPost Operative Depression  سے جلد نجات مل جائے گی۔

باجی گریس کا کام مریضوں کے لیے بیرونی وسائل کو یکجا کرنا ہے۔ امریکہ کی چنیدہ سماجی انجمنوں سے گمنام ڈونر گھرانوں سے ان کے گہرے روابط ہیں۔ خود نہیں کہتیں مگر ان کو سونپے گئے کام جتنی جلدی نتیجہ خیز ثابت ہوتے ہیں، اس سے لگتا ہے کہ یہ ہسپتال کی زلفی بخاری ہیں۔

مریض کا ہاتھ تھام کر پوچھنے لگیں۔ اتنی سی بیماری میں اتنا دل کیوں چھوٹا کرلیا ہے کہ زندگی سے مایوس ہوگئے ہو۔ شکیرہ سے ملنا ہے کہ محمد حدید لبنان والوں سے۔ تمہارے ہم وطن زین ملک کی پارٹنر ماڈل جی جی حدید کی ریمپ واک دیکھنی ہے۔ کوئی ایونٹ فارمولا ون، کین ٹکی ڈربی، دیکھنا ہے کہ کسی کنسرٹ میں جانا ہے۔ پوپ کے علاوہ تم کو کسی سے بھی ملا سکتی ہوں۔ صدر ٹرمپ کا مت کہنا۔ ملاقات ہو جائے گی مگر اس سے مل کر تمہاری مایوسی میں اضافے کا الزام مجھ پر آ جائے گا۔ ایوانکا سے یوں نہیں ملائوں گی کہ آئی ایم نوٹ اے ہوم بریکر۔ چھوٹے بچے ہیں، تمہاری وجہ سے اپنے میاں کوشنر کو چھوڑ دیا تو تاریخ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔

مریض نے سوچنے کے لیے وقت مانگا۔ انٹرنیٹ کھنگالا۔ دوستوں کے باہم مشورے ہوئے۔ رفقائے تقریب کا انتخاب کیا گیا اور باجی گریس کو بتادیا گیا کہ ایک راک بینڈ، فلاں مہینے کی تاریخ کو نیویارک کے میڈیسن اسکوائر میں پرفارم کرے گا۔ وہ کنسرٹ دیکھنا ہے۔ اس بینڈ کے دو سال کے لیے ٹکٹ دستیاب نہیں۔

باجی گریس کو فرمائش پوری کرنے دس دن لگے۔ پہلی قطار کے چار ٹکٹ۔ گھر سے مریض کو لانے لے جانے کے لیے ایک عدد لیموزین۔ آرٹسٹ گیٹ سے داخلہ۔ یہ سب اس لفنگے بینڈ کی کرٹسی کی وجہ سے ممکن ہوا۔ معذرت خواہ تھی کہ بینڈ کے گروپ کے ممبران سے ہجوم کی وجہ سے ملاقات ممکن نہیں۔ انہیں تم سے بیک اسٹیج ملنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر چونکہ اس طرح کے لوگ ڈرگ کا استعمال کرتے ہیں۔ بہت موڈ سوئنگ کا شکار ہوتے ہیں۔ لہذا ان سے تمہاری سرجری کی وجہ سے دور رہا جائے تو بہتر ہوگا۔ ایک نمبر بھی دیا گیا کہ گھر سے نکلتے وقت اس نمبر پر فون کرلیں تاکہ بینڈ کی اپنی سیکورٹی آپ کے داخلے اور خروج کا باحفاظت اہتمام کر سکے۔ کسی دھکم پیل کا سامنا نہ ہو۔

ایک اور مرتبہ ہسپتال کلائون آئے۔ اب کی دفعہ ان کے بستے میں کچھ تصاویر تھیں۔ ہم نے مدعو کیا کہ پاکستان آئیں۔ کن سیپٹ فوٹو گرافی (Concept Photography) کے بہت مواقع ہیں۔ اب کی دفعہ ان کے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں۔ ہم ان کی تصویر لگاتے ہیں۔ یہ پن وہیل پراجیکٹ سے جڑی ہیں۔ بلا کی خوش مزاج اور نفس مطمئنہ تھیں۔ پن وہیل وہ پھرکنی جیسا پنکھا ہے جو ان کے ہاتھ میں۔ ہمارے عزیز کا معاملہ کچھ یوں تھا کہ انہیں بچوں کے ونگ کے ساتھ رکھا گیا تھا۔

یہ ستائیس برس کے اس نوجوان کے پاس کیوں آئی تھیں سن لیں۔ یہ مادر مہرباں ایک پراجیکٹ سے وابستہ ہیں۔ مختلف افراد سے کھلونے اور ٹافیاں جمع کرتے ہیں۔ بچوں میں بانٹ کر خوش ہوتی ہیں، ان کا تعلق ہسپتالوں سے ہے۔ ویسے اس لمبی گوری انگلش بولنے والی این جی او کے دائرہ کار میں اور ادارے بھی آتے ہیں۔ بظاہر اس تقسیم شیرینی کا معالجے سے براہ راست کوئی تعلق نہیں۔

 یہ ہمارے جیسے پتھر دل اور بے شعور معاشرے میں تو درست مانا جائے مگر ان کے پاس ایک توجیہ اور ایک داستان دل افروز تھی۔ یہ تو یاد ہے نا کہ بیماری کے اس حملے میں مریض نے اپنی زندگی سے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

ہمیں کہنے لگیں بچوں کے وارڈ کے ساتھ مریض کو کمرہ دینے کا مطلب یہ ہے کہ اسپیشل توجہ۔ ہم نے پوچھا کہ بچوں کے ذہن پر Goodies کی اس ٹرالی کو دیکھ کر کوئی خوش گوار اثر ہوتا ہے کہ نہیں۔ کہنے لگیں کلر اور تحائف بچوں کو بہت محظوظ کرتے ہیں۔ ہمارے ہسپتال میں Health -Care Play Specialist کے والنٹئیرز کی بہت بڑی تعداد رجسٹرڈ ہے۔ زیادہ تر اسکول کالج جامعات کے طالب علم ہیں۔ ہسپتال میں اس بات کا بہت دھیان رکھا جاتا ہے کہ معالجے، ہسپتال کے قیام اور بچوں پر بیماری کے حوالے سےanxiety  کا جو حملہ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے ان کا ذہن کسی بھی واقعے کی حدود اس وجہ سے متعین کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا یہ ہے کہ بچوں کے دماغ کو موصول ہونے والی انفارمیشن، اس کے بارے میں ان کے تاثرات اور ان کی زندگی کے تجربات کا کوئی تال میل نہیں ہوتا۔ یوں ان کا احساس تناسب اور معالجے کا شعور ناپختہ ہوتا ہے۔ بالخصوص اس عرصہ بیماری میں عارضے کی شدت اور ہسپتال کے پے در پے دوروں سے وہ بہت کنفیوز ہوتے ہیں۔

اس وجہ سے وہ بہت بڑے trauma کا شکار ہوسکتے ہیں۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوتا کہ ان کا علاج ایک عرصہ قیام میں مکمل نہیں ہوتا۔ ان کی اس نقطے سے ہٹانے کے لیے ہسپتال کا بہت بڑا متوازی مگر بے حد مربوط اور ماہرین نفسیات کی زیر نگرانی پروگرام والنٹیرز اور بیرونی نیٹ ورک کی امداد ورہنمائی کے ذریعے چل رہا ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں کہانیاں سنانے والے، آرٹسٹ، موسیقار، جادوگر ، سیر پر باہر لے جانے والے، جانے کون کون آتا ہے۔ مجھے بھی اس پروگرام سے جڑا سمجھیں۔ میں نے اور میاں نے اچھی نوکری کی۔ خوبصورت زندگی گزاری۔ اپنا گھر ہے۔ ہفتے کے تین دن میں یہاں سے دور ایک قصبے سے اپنی کار میں ان کھلونوں اور ٹافیوں کے تھیلے بھر کر لاتی ہوں۔ یہ میری معمولی سی کمیونٹی سروس ہے

مریض سے کہنے لگی سات برس پہلے تمہارے جیسا ایک بچہ آیا تھا۔ کچھ چھوٹا۔ بیس برس کا۔ ماں کسی دور کے قصبے سے جو چھوڑ کر گئی تو علاج کے اختتام تک مڑ کر نہیں لوٹی۔۔ یہ اس کے پہلے میاں کی اولاد تھا۔ اس کے دوسرے میاں سے چھوٹے بچے تھے۔ غریب لوگ تھے۔ آنا جانا ممکن نہ تھا۔ جس دن اس کی ٹانگ کاٹنی تھی وہ بہت مشکل دن تھا۔ مجھے اس کے پاس رہنا پڑا۔ بے چارے نے خود ہی فیصلہ کیا۔ دو سال رہا۔ آیا تھا تو بہت دل گرفتہ تھا۔ مریض کا گال تھپتا کر کہنے لگی ایسے ہی جیسے ہمارا یہ دوست ہے۔ لیٹا لیٹا پڑھتا رہتا تھا۔ یہیں سے امتحان دیے۔ ہم نے مدد بھی بہت کی۔

رخصت ہوکر جانے لگا۔ تو بہت مسرور تھا۔ ہم ایسے مریضوں کے لیے چھوٹی سی پارٹی کرتے ہیں۔ تو کہنے لگا کہ میں واپس آئوں گا۔ میں دو ٹانگوں پر آیا تھا تم نے میری آدھی ٹانگ رکھ لی ہے۔ ہم ڈر گئے کہ یا اللہ کہیں ہم سے کوئی بھول چوک تو نہیں ہوئی۔ ہم پر ہرجانے کا دعوی ہی نہ کردے۔ مجھے پتہ ہی نہ تھا کہ اس نے کیا واردات کی ہے۔ یہاں سے سیدھا میڈیکل کالج گیا اور بچوں کا ڈاکٹر بن کر اب ہماری برانچ میں ڈاکٹر ہے۔

مریض کو کہنے لگی میرے چندا زندگی سب کو اسٹرابیری نہیں دیتی۔ ایک شخص نے بہت اونے پونے داموں بہت مشکل سے زمین خریدی۔ کچھ اگتا ہی نہ تھا۔ ہر جگہ سانپ ہی نکلتے تھے۔ اس نے سوچا جو نقصان ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔ اس کو منافع میں بدلوں۔ اس نے Snake Farming شروع کردی۔ بہت کامیاب رہا۔ زندگی تمہیں لیموں پکڑائے تو آئس کریم کی بجائے لیمونیڈ بنایا کرو۔ جیسا اس لڑکے نے کیا۔ وہ تو چپ چاپ سا تھا۔ تمہارے تو یہاں بہت دوست بن گئے ہیں۔ یہ تمہارا زندگی کا سرمایہ ہے۔ یہ ہی وہ Bend in the road جس کا اشارہ تمہارے سرجن صاحب نے کیا تھا۔

میں نے گریس سے بات کی ہے وہ تمہارے ہسپتال مینجمینٹ میں ایم بی اے کے لیے کوشش کرسکتی ہے۔ معالجے کے بعد بھی رابطے میں رہنا۔

 سرجن صاحب کو مریض نے بہت عمدہ سا نام والا پرس کا تحفہ دیا۔ آج مریض کی سال بھر معالجے کے بعد رخصت تھی۔ لے نہیں رہے تھے۔ مریض کی بات سن کر اشک بار ہوگئے۔ مریض نے کہا میں تو اپنے مسیحا کو اپنے زخم دیکھ کر یاد کرلوں گا۔ میرا مسیحا مجھے کیوں کر یاد کرپائے گا۔ اس کی قیمت کچھ نہیں مگر میری دعائیں اور محبت اس میں گولڈ کارڈ بن کر اڑسی ہوئی ہیں۔ ہم نے بتایا تھا نا کہ یہودیوں کی اولڈ منی والا مالدار اور اثر و رسوخ والا گھرانا ہے۔ مریض سے پوچھا کہ تمہاری ہمشیرہ اور اس کے دو بچے لینے نہیں آئے۔ چھٹی کتنے بجے ہے۔ تین بجے کا سن کر کہنے لگے میں پانچ منٹ کو آئوں گا سامنے کے بلاک میں ایک لیکچر ہے۔ اس لیے مشکل نہیں۔ آئے تو تحائف کی ایک ٹرالی ساتھ لائے تھے۔

بچوں کے کھلونوں کی کثرت تھی۔ کہنے لگے سب سے زیادہ اثر ان دو معصوم بچوں نے لیا ہوگا۔ انہوں نے تمہیں ہنستا کھیلتا دیکھا ہے۔ گھر کے دیگر افراد کے لیے بھی تحائف تھے۔ کہنے لگے دنیا میں کوئی بھی ڈاکٹر تمہیں دیکھے اپنی رپورٹس مجھے ای میل یا واٹس اپ کردینا۔ آج بھی مریض جرمنی میں ہو کہ پاکستان۔ ان کو بھیجی گئی رپورٹ کا نتیجہ سب سے پہلے اور تفصیلاً آتا ہے۔ سب مفت میں۔ ایک آدھ دن کی دیر ہو تو معذرت بھی ہوتی ہے۔ عفافہ نے بتایا کہ سرجن صاحب کی سیکرٹری مجھے ساتھ لے گئی تھی، وہ خود یہ چیزیں خرید کے لائی ہے۔

اس کے عین تقابل میں پاکستان کے ایک بہت بڑے فائیو اسٹار بظاہر عوامی ہسپتال میں ایک ڈاکٹر نے صرف یہ بتانے کے آٹھ ہزار روپے لے لیے کہ ہسپتال نے مجھے فائل غلط بھیجی ہے۔ یہ کیس دوسرے ڈاکٹر صاحب کے شعبے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں۔ آپ نیا اپائنٹمنٹ لیں۔ یہ سب مسلمان ہیں۔ وہ پشتینی رئیس، دنیا میں اپنے شعبے میں ممتاز حیثیت کا حامل سرجن ظالم ایک یہودی ہے۔ ہمارے حساب سے جہنم کا ایندھن۔

ہم یہ احوال یہاں روکتے ہیں۔

مریض رو بہ صحت ہے۔ آپ سے دعا کی درخواست ہے۔ ان کو دیکھ کر اپنا ملک اس کے ادارے اور ان سے وابستہ افراد بھی ایسے اچھے ہوجائیں، یہ ہماری دلی تمنا ہے۔ آپ اپنے نظریات اور دین پر ثابت قدم رہیں مگر اپنے علاوہ کسی کو برا مت سمجھیں۔ حکمت مومن کی میراث ہے ، صدق و امانت داری ہمارے نبیﷺ کے اوصاف حمیدہ ہیں۔ ان کو اپنائیں۔ ہم ان لوگوں میں حکمت، دانائی، صدق اور رواداری اور اعلیٰ انسانی اقدار کی بہتات دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے روحانی استاد شیخ احمد دیدات مرحوم کی یہ بات جو ان کے کسی پروگرام میں بھی کہی گئی تھی اور ہمیں خود بھی بتائی تھی وہ بہت یاد آتی ہے کہ

They are live people on dead path and we are dead people on the live path

(وہ ایک مردہ شاہراہ پر رواں دواں زندہ لوگ ہیں اور ہم ایک جیتی جاگتی شاہراہ پر مردہ قوم۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 30 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *