ماسٹر شریف اوچوی صاحب کے ایک نالائق شاگرد کی یادداشتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یادش بخیر۔ امتداد مدت ہجراں۔ ہنگام کہنہ سالی۔ اگر ہم سے پوچھا جائے کہ ہمارے سب سے پیارے استاد کون ہیں؟ تو ہم فوراً کہیں گے کہ ماسٹر چوہدری محمد شریف اوچوی صاحب۔ اب پوچھئے کہ ان میں ایسی کیا خاص بات تھی؟ ہم کچھ سوچیں گے لیکن کچھ کہہ نہ پاویں گے کیونکہ ایک شاگرد اپنے استاد کی شخصیت میں وہ سب کچھ دیکھ لیتا ہے جو شاید استاد بھی اپنے متعلق نہ جانتا ہو۔ ہمارے لئے یہ بڑے افتخار اور اعزاز کی بات ہے کہ ہم نے سکول کے زمانہ طالب علمی میں جناب شریف اوچوی صاحب کے آگے زانوئے تلمذ تہ کیا۔

نوے کی دہائی کے وسط میں درجہ ششم کی ہماری جماعت گورنمنٹ ہائی سکول اوچ شریف کی مرکزی عمارت کے عقب میں قائم شیڈ نما اوپن ائر کمرے میں لگتی تھی۔ اس کے بالمقابل مرکزی بلڈنگ کے کمروں میں ہفتم، ہشتم اور نہم کی کلاسیں لگتی تھیں۔ اکثر و بیشتر جب شور و غل سے ہماری کلاس آسمان سر پر اٹھا لیتی تو سامنے کلاس روم سے شریف صاحب اپنے جاہ و جلال کے ساتھ مولا بخش ہاتھ میں لہراتے برآمد ہوتے اور ہماری کلاس میں آ کر زور سے ڈنڈا ڈیسک پر مارتے تو پوری کلاس کو سونپ سونگھ جاتا۔

غصہ بھری ان کی ایک ”ہکل“ سے ہی پوری کلاس سہم جاتی۔ کلاس میں سب سے پہلے وہ مانیٹر کی گوشمالی کرتے پھر پیریڈ میں دیر سے آنے والے استاد کی شان میں ”ناگفتنی“ کہتے ہوئے مانیٹر کو سٹاف روم سے استاد کو بلانے بھیجتے اور ہم طلبہ کو سختی سے ”بندے دا پتر“ بننے کی تلقین کر کے مولا بخش لہراتے چلے جاتے۔ شریف صاحب کی ایک خاص بات یہ تھی کہ گالیاں سرائیکی زبان میں نوازتے کہ وہ زبان غیر سے شرح آرزو کے قائل نہ تھے۔

لیکن شریف اوچوی صاحب سے ہمارا پہلا ”تعارف“ ایسے ہی ماحول میں ذرا ”وکھرے“ انداز سے ہوا۔ وہ ششم ہی کی کلاس تھی۔ پیریڈ خالی تھا تو وہ کلاس میں آ کر بیٹھ گئے اور اپنے مخصوص انداز میں لیکچر دینا شروع کر دیا۔ ”حسب معمول“ ہم پچھلے ڈیسک پر براجمان ”اوباسیاں“ لے رہے تھے کہ اچانک ہمارے کانوں میں اسحاق جوئیہ صاحب کی آواز گونجی۔ وہ ہمیں ہی یاد کر رہے تھے۔ اضطراب اسیری کے مارے، ہم نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ شریف صاحب سے اجازت لئے بغیر ہی کئی ڈیسکوں کو پھلانگتے باہر نکل کر اسحاق صاحب کے پاس جا پہنچے۔ انجمن تحفظ حقوق اساتذہ کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے ایک پریس ریلیز ہمیں دیتے ہوئے چھٹی کے بعد نسیم صاحب تک پہنچانے کی تاکید کی تھی۔ پریس ریلیز کا رقعہ ہاتھ میں دبائے فرحاں و شاداں اپنے کمرہ جماعت کی طرف لوٹے اور پہلے کی طرح ہی ڈیسک پھلانگ کر اپنی نشست پر جا بیٹھے۔

ہمیں معلوم نہ تھا کہ شریف صاحب ہمارے پیچھے کلاس سے ہمارا ”حدود اربعہ“ جان کر غصے سے لال پیلے ہوئے بیٹھے ہیں۔ ”اوئے نسیم صاحب دا بدخوردارا! ایڈے مر“ ان کی سرخ سرخ آنکھیں ہم پر مرکوز تھیں۔ ہم فرط خجلت سے حلق بریدہ، کانپتی ٹانگوں اور لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ انہوں نے پہلے ہمارے والد صاحب سے اپنے ذاتی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ان کو سلام پہنچانے کو کہا اور بعد ازاں ڈسپلن اور کمرہ جماعت سے باہر جانے کے آداب کے حوالے سے ایک مختصر ”خطبے“ کے بعد انہوں نے ہمیں ہاتھ آگے کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ ہم نے لرزتے ہاتھ آگے کیے ۔ انہوں نے میز پر رکھا ڈنڈا اٹھایا اور ذوق خدنگ کے ساتھ ہمارے ہاتھوں کو برنگ آتش خس پوش کیا۔ جوشش اشک کے ساتھ یہ ان سے ہمارے تعلق کی ابتدا تھی۔

چرخ ہفت میں، یہ مذکورہ بالا ”وقوعے“ کے کچھ عرصہ بعد کی بازآفرینی ہے۔ ہمیں نہم درجے میں پہنچے ہوئے ابھی بمشکل ڈیڑھ ماہ ہی گزرا ہو گا کہ ہمارے معزز اساتذہ کرام کو جانے کیا سوجھی کہ اے اور بی سیکشن کو تقسیم کر کے سیکشن سی کا ڈول ڈال دیا۔ سیکشن سی کا قیام عمل میں آ چکا تو ہم نے خود کو بستہ الف کے جغادریوں اور نابغوں کے درمیان پایا۔ ہمارے علاوہ باقی سب وہ ”طائران خوش معاش“ تھے جنہوں نے ساتویں اور آٹھویں جماعت سے بار بار عشق فرمایا ہوا تھا اور اب نہم جماعت سے کئی کئی سال سے حق وفاداری نباہ رہے تھے۔ ہم ان سے بے طرح مرعوب ہو گئے کہ جتنا ان کا تجربہ تھا، اتنی ہماری عمر نہ تھی۔ ان ببر شیروں کے بیچ ہماری اوقات محض ایک بلونگڑے سے زیادہ نہ تھی۔

اپنی تقصیر سے ہم قطعی لاعلم تھے کہ کیونکر ہمیں سیکشن سی کے خونیں اکھاڑے میں پھینکا گیا۔ پہلے دن جماعت میں ایک مختصر سی بے ضابطہ تعارفی تقریب ہوئی جس کی صدارت ”کوفی عنان“ نے کی جو سکول کے قدیمی طالب ”الم“ تھے۔ پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی ہوں یا نہ ہوں البتہ سکول کے در و دیوار اور جونیئرز کے دل ان کے فلک شگاف جناتی قہقہوں سے ضرور لرز کر رہ جاتے تھے۔ موصوف حسب روایت و معمول مسلسل تین سال سے نہم جماعت کی سولی پر ہنسی خوشی لٹکے ہوئے تھے۔

”کوفی عنان“ موصوف کا اصل نام نہیں تھا بلکہ اس گروہ بے علمی کے کسی بھی رکن کا اصل نام اساتذہ اور ہم جماعت تو کیا خود والدین کو بھی یاد نہ رہا ہو گا۔ کچھ معروف خطابات جو ہمیں یاد ہیں، وہ اس طرح تھے : جنرل ضیاء الحق، رنگی، بول بالا، سوداگر، منکا، جھاما، فوکر، ملنگی، سردارا، نیتن یاہو، گلابو، کنڈولی، کلنٹن، شادا، تھتھا سریلا، کوفی عنان، دھتورا، سلاٹا اور ایک نسوانی نقوش والے کا نام بابرہ تھا۔ زیادہ تر نام شریف اوچوی صاحب کے ذہن کی اختراع تھے جو انہوں نے طالب علم کے مزاج، تعلیمی مہارت اور خاندانی و زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے وضع کیے تھے۔ گالیاں بھی سرائیکی زبان میں نوازتے کہ وہ زبان غیر سے شرح آرزو کے قائل نہ تھے۔

ان دنوں ہم جوج ماجوج کی مانند ساری رات سد نصابی چاٹتے گزار دیتے تاکہ صبح جماعت میں تشدد ناحق سے بچ سکیں مگر بے سود۔ عموماً ہوتا یہ کہ انگریزی کے سبق کے لیکچر کے بعد شریف صاحب ہمیشہ اپنے تدریسی تجربے کی بنیاد پر کسی ”طالب الم“ سے استفسار فرماتے ”کچھ سمجھے؟“ انکار کی صورت میں اسے فوراً سے پیشتر فرش پر لمبا ”پا“ دیا جاتا۔ اگر بالفرض ہم جیسے کسی ”خورشید خاوری“ نے کہہ دیا کہ ”جی سمجھ گیا“ تو اسے دعوت دی جاتی کہ ذرا تختۂ سیاہ پر عملی طور پر اپنے ہم نصابوں کو بھی سمجھاؤ۔ بس یہیں موت پڑ جاتی تھی۔

اس سی سیکشن کا ایک دور رس فائدہ تو یہ ہوا کہ ہم میں پامردی کی خوابیدہ صلاحیت پیدا ہو گئی۔ اب ہم ہر ایک سے سینگ لڑا لیتے تھے۔ بدناموں میں شامل کر ہی دیے گئے تھے تو بد ہونے میں کیا قباحت ہونی تھی۔ اس کی ابتدا ہم نے ”جنرل ضیاء الحق“ سے کی جو غضب کا بھینگا تھا۔ اکثر اسے اس بات پر مار پڑتی کہ پڑھائی کے دوران استاد کی بجائے نظر کھڑکی سے باہر کیوں رکھتا ہے۔

خیر ہم چونکہ ”جنرل ضیاء الحق“ کی عقبی نشست پر براجمان تھے تو اس کی تازہ تازہ ٹنڈ پر روشنائی کی دوات خالی کرنے کو جی بے طرح للچایا۔ نتائج کی پرواہ کیے بغیر جو کرنا تھا کر گزرے۔ مینتھول کی ٹھنڈک ”جنرل“ کے رگ و پے میں دوڑ گئی مگر روشنائی کی دھاریں جب اس کے چہرے پر رینگیں تو وہ بھوکے شیر کی طرح پلٹا اور لوک دانش میں گندھی فصیح و بلیغ قسم کی طویل و عریض گالی دے کر ہم سے پوچھا۔ ہم نے لاعلمی کا اظہار سر کو نفی میں ہلا کر کیا لیکن جنرل ضیاء الحق ”آپریشن فیئر پلے“ کی عیاری و مہم جویانہ مہارت کے ساتھ ہم پر پل پڑا۔

”بلڈی سویلین“ کے طور پر خاک چاٹنے میں ہم نے بالکل دیر نہ لگائی۔ ابھی فاتح اور مفتوح میں پنجہ آزمائی جاری تھی کہ شریف اوچوی صاحب نے نزول اجلال فرمایا اور جنرل ضیاء الحق کے پنجہ استبداد سے ہمیں رہائی دلائی۔ ملازمت سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور بھٹو صاحب کے ”عاشق“ ہونے کے باعث وہ ویسے بھی مرد مومن مرد حق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی شکل اور کرتوتوں سے خار کھاتے تھے۔

غرض کہ شریف کی شخصیت حسن و خوبی اور علم و بے تکلفی کے گل ہائے رنگا رنگ کا حسین گلدستہ تھی۔ ان کا خاص وصف جو ان کو دیگر ہم عصر اساتذہ سے ممتاز کرتا تھا وہ ان کی اصول پسندی اور کھرا پن تھا۔ اس سلسلے میں وہ اپنے بھائی اور سکول کے ہیڈ ماسٹر حنیف انجم صاحب کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ طلبہ کے ساتھ ساتھ سکول کے دیگر سٹاف کی بھی ان کے رعب و دبدبے سے جان جاتی تھی۔ درس و تدریس کی عرق ریزی میں انہوں نے اس زمین زاد جیسے ہزاروں بے ہنگم پتھروں کو تراش کر ہیروں میں تبدیل کیا۔ اللہ پاک ان کے درجات بلند فرمائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply