نِکا پیروں پہ نہیں کھڑا ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تیسرے بچے کی پیدائش پر خوب مٹھائیاں بٹیں۔ خواجہ سرا رات بھر ناچے، اگلے ہفتے اس نے نائی سے مسلمانی کا حلف اٹھایا، تو خوشیوں کے شادیانے بجنے لگے اور تیسرا بچہ سب کی امیدوں کا محور بن گیا۔ بنتا کیسے نہیں، پہلوٹی کا بچہ گونگا بہرا نکلا تو دوسرے سے امیدیں باندھی گئیں۔ اس کی آنکھیں بھینگی نکلیں۔ ماں سے بات کرتا تو دیکھ باپ کی طرف رہا ہوتا۔ دادا کو بشارت ہوئی کہ تیسرا بچہ قبیلے کا ”بے عیب“ وارث ہو گا۔ پہلے دونوں کی بار ضرور ماں باپ سے وظیفے میں کچھ غلطی ہوئی تھی۔ اب کی بار دادا نے حمل سے لے کر پیدائش تک مکمل نگرانی کی اور کسی قسم کا رسک نہیں لیا۔ آخر بچے کو قبیلے کا وارث بننا تھا جو روایات اور توقعات کے مطابق بے عیب ہونا چاہیے تھا۔

بچہ بے عیب بھی تھا، نہایت خوبرو اور صحت مند بھی۔ دادا کا لاڈلا، اتنے نخرے دیکھے کہ اس کے پاؤں زمین پر نا لگنے دیے۔ اکھڑ مزاج، ضدی پر بلا کا زبان دان۔ پہلے سال سے ایسی زبان کھلی کے نا گھر میں کوئی بچا اور نا باہر۔ دادا اس کی اداوں پر واری قربان جاتے اور لاڈ پیار میں اس کو خوش کرنے کو اس کے ہم عصروں پر جان بوجھ کر رعب جمائے رکھتے۔ بچے کی زبان دانی کا چرچا تو ہر سو تھا، مگر ایک مشکل آن پڑی۔ بچہ اب دو سال کا ہو گیا تھا۔ اب تک ہر ناز نخرہ اٹھانے کے باوجود بچے نے چل کے نہ دیا۔

خاندانی طبیب کو بلایا گیا۔ وہ جہان دیدہ بزرگ تھے، دادا جان سے بولے: ”نکا سردار دو سال کا ہو گیا مگر آپ اب بھی اسے ہر وقت گود میں اٹھائے پھرتے ہیں، اپنے ہم عمر بچوں میں کھیلنے نہیں دیتے، مقابلے میں کوئی بچہ آتا ہے تو آپ اسے مار بھگاتے ہیں، بچے کو لاڈ میں بگاڑ تے چلے گئے ہیں۔ جب گرنے لگتا ہے آپ سہارا دینے کو آ جاتے ہیں۔ اس نے جب کسی کی شکایت کی آپ نے الٹا لٹکا دیا۔ گھر کے نوکر چاکر اس سے دور رہنے لگے ہیں، مبادا ان کی لائن حاضری ہو جائے۔ اور تو اور اس ضدی طبعیت کے ہاتھوں اس کے اپنے بہن بھائی اس سے بات کرنا اور کھیلنا پسند نہیں کرتے۔

حضور آپ کی بے جا حفاظتی تدابیر نے نکے کو چلنے کے قابل نہیں رہنے دیا۔ مانتا ہوں آپ کو بشارت ہوئی تھی کہ پورے پانچ سال آپ نے اس کی ڈھال بننا ہے، کیوں کہ یہ آپ کی سرداری کی ضمانت ہے، مگر بچہ ہمیشہ مقابلے کی فضا میں ہی پنپتا ہے۔ ایک پھول بھی ہر وقت سائے میں رہے تو مرجھا جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں یہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو تو اسے کھلا چھوڑ دیں اور اپنا دفاع خود کرنے دیں۔ فطرت کے قوانین کسی کے لئے نہیں بدلتے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو اگلے تین سال بھی یہ گود سے نہیں اترے کا اور اس کی ناکامی کا بوجھ بھی آپ ہی کو اٹھانا پڑے گا۔”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *