ہم اور ہمارے کام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چونکہ میں دو دہائیوں سے دوحہ قطر میں مقیم ہوں اور اسی دوران قطر کے علاوہ چند دیگر ممالک کی سیر کا بھی موقع مل چکا ہے تو جب بھی تعطیلات گرما کے لئے پاکستان جانا ہوتا ہے تو اکثر یار دوستوں سے پاکستان میں پھیلے کچرے، کرپشن، نظام پر تنقید کرتا ہوں۔ تو ایک ہی جواب ہر سال ملتا ہے کہ مراد صاحب یہ پاکستان ہے کوئی قطر نہیں ہے۔ ہر سال ہی یہ جواب سن کر بڑا دکھ محسوس ہوتا ہے یقین جانیے ایک جواب نہیں ہے بلکہ ایک مکمل رویہ ہے جو من حیث القوم ہم نے اپنا رکھا ہے۔

قطر کی مثال میں اس لئے دیتا ہوں کہ اس ملک میں سیاست، معیشت، انفراسٹکچر، سپورٹس، کلچر اور روایتوں میں تبدیلی کا چشم دید گواہ ہوں۔ مقامی لوگوں کے رویوں، قانون کی پاسداری اور بلا تعصب اطلاق میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ اداروں کی بہتری اور عوام الناس کی بہبود دیکھتے ہی دیکھتے قطر حکومت کا نہ صرف مطمح نظر ٹھہرا بلکہ عملی اطلاق نظر بھی آیا۔ آپ کسی ہسپتال میں چلے جائیں، سپورٹس سنٹر، حکومتی ادارے، پارکس یا کارنش پر لوگوں کے مثبت رویے آپ کو حیران وششدر کر دیں گے۔

بلکہ ایک بات میں اکثر اپنے دوستوں سے کرتا ہوں کہ اگر صرف تیس سال قبل مرنے والا کوئی قطری اگر پھر سے زندہ ہو جائے تو وہ اس ملک کی ترقی دیکھ کر حیرانی کے عالم میں ہی اس عالم فانی سے دوبارہ رخصت ہو جائے۔ اس لئے پاکستان میں جا کر اپنے دوستوں سے میرا ایک ہی موقف ہوتا ہے کہ ہم جو ہر مسئلہ اور اس مسئلہ کا ہر ممکنہ حل حکومت وقت پر ڈال دیتے ہیں کبھی سوچا ہے کہ ہم اس ملک کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔

ایک بار کیا ہوا کہ میں ایک دوست سے ملنے کے لئے گیا ہوا تھا۔ حال احوال کے بعد وہی پاکستانیوں کا من پسند موضوع یعنی سیاسی صورت حال کی طرف چل نکلے، ایسے میں میرا بیٹا اسماعیل جو کہ اس وقت کوئی پانچ چھ سال کا ہوگا اس کے ہاتھ میں چاکلیٹ کا ریپر تھا اور ہم سے پوچھنے آیا کہ بابا میں نے ریپر کو فولڈ تو کر دیا ہے مگر مجھے کوئی ڈسٹ بن نہیں مل رہی تو میں اسے کہاں پھینکو۔ ابھی اسماعیل کی بات مکمل بھی نہیں ہوئی تھی کہ میرے میزباننے کہا کہ بیٹا تم پاکستان میں ہو کہیں بھی پھینک دو۔

یہ ہے وہ رویہ جو ہر پاکستانی اپنائے ہوئے ہے اور سارا دن بیٹھ کرحکومت اور اس حکومتی اداروں کی ناکامی اور کرپشن کی مثالیں دیتے رہتے ہیں۔ کبھی ہم نے غور کیا کہ ہم پاکستان کے لئے کیا کر رہے ہیں بلکہ ہم آنے والی نسل کو کیا دے رہے ہیں۔ ارے یار اور کچھ نہیں تو یہی سوچ لو کہ کتا بھی بیٹھنے سے قبل اپنی ہی دم سے وہ جگہ صاف کر لیتا ہے جہاں اس نے بیٹھنا ہوتا ہے۔ اتنے سالوں میں جن رویوں سے میرا سامنا رہا وہ میں چاہتا ہوں کہ اپنے قارئین تک بھی پہنچاؤں، ہو سکتا ہے کہ میرے اس کالم سے فرد واحد میں بھی یہ شعور بیدار ہو گیا کہ کم از کم ہم اپنے اردگرد اور اپنے گھر کے باہر اپنے ہی ایریا کو روزانہ کی بنیادوں پر صاف ستھرا رکھیں گے تو یقین جانیے میرا ملک بھی ویسا ہی ہو جائے گا جیسا کہ باہر سے آنے والے تارکین مثالیں پیش کرتے ہیں۔ وہ رویے کیا ہیں؟

مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں کلاس میں لیکچر کے لئے داخل ہوا تو سبھی بچے اپنی اپنی نشستوں پر براجمان تھے ماسوا ایک بچے کے، میں نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا کیا مسئلہ ہے تو کہنے لگا کہ سر میری کرسی پہ گرد ہے اس لئے میں سویپر کو بلانے کے لئے جانا چاہتا ہوں تاکہ وہ اسے صاف کردے۔ میں نے اپنی جیب سے ٹشو نکالا اور اسے کہا کہ بیٹا تم خود صاف کرلو یہ کون سا مشکل کام ہے۔ بچے نے بڑے ہی متکبرانہ لہجہ میں جواب دیا کہ نہیں سر میرے بابا کہتے ہیں کہ صفائی کرنا سویپر کا کام ہوتا ہے۔ ہمارا نہیں۔ اس بچے کے جواب میں مجھے کافی سنجیدہ کر دیا، خیر اسی دوران دیگر بچوں میں سے کسی ایک نے مجھے سنجیدہ دیکھتے ہوئے اس کی کرسی صاف کر دی تاکہ میری سنجیدگی ختم ہو سکے۔ اگر آپ اس واقعہ پر غور کریں تو دونوں بچوں کے رویوں میں ان کا خاندانی پس منظر جھلک رہا تھا۔ یہ صرف ایک کلاس کی بات نہیں ہے بلکہ میں نے مشاہدہ کیا کہ پاکستان میں ایسے رویے آپ کو ہر روز اور ہر جگہ دیکھنے کو ملیں گے۔

میں نے ایک کئی بار لوگوں کو بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل اور بغیر سیٹ بیلٹ کے گاڑی چلاتے ہوئے، ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسی ٹریفک کے نظام اور حکومت کو گالیاں نکالتے دیکھا ہے۔ میری طرح آپ نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ بہت سے لوگ پان کی پچکاری سے گلی محلہ، ہسپتال اور سڑکوں کو رنگ ریز کرنے اور سگریٹ کی ڈبیا اور باقی ماندہ سگریٹ کو انگوٹھے اور انگلیوں مین پھنسا کر دور سے دور پھینکتے ہوئے۔ لندن، سوئٹرزلینڈ اور پیرس کی صفائی کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ہوگا۔

اپنی مکان کی تعمیر کے وقت پورے محلہ کو گرد آلود کر کے ترقی یافتی ملکوں کے تعمیراتی کاموں میں ڈسپلن کا بھی تذکرہ کرتے ہوئے سنا اور دیکھا ہوگا۔ گھر کا چولھا جلانے کے لئے درختوں سے بے دردی سے کاٹ کر سنگا پور کی ہریالی کا ذکر بھی انہیں لوگوں سے سنا ہوگا۔ میں نے کئی ماں باپ کو اپنے ہی بچے کو سٹڈی نہ کرنے پہ چیختے ہوئے کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ خامشی ایک عبادت ہے۔ میں نے یہ بھی مشاہدہ کیا ہے کہ سکول میں بچے کے ماں باپ استاد کے سامنے ہی اپنے بچے کو مارتے ہوئے کہتے ہیں کہ خبردار اگر تم نے اپنے بھائی کو مارا تو۔

میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ نماز میں کہیں کوئی رکعت چھوٹ نہ جائے اپنی گلی کو عین سڑک کے درمیان پارک کرکے حقوق العباد پر لیکچر دیتے ہوئے بھی سناہے۔ اور تو اور شادی بیاہ کی رسومات پہ بے دریغ پیسہ ضائع کرنے کے بعد اسلام میں سادگی کی کئی مثالیں دیتے ہوئے بھی لوگوں کو دیکھا ہے۔ ایسی ہی کئی مثالیں روزانہ کی بنیادوں پہ آپ سب کے ارد گرد ضرور ہوں گی، لیکن کیا ہے کہ ہم صرف یہ دیکھتے ہیں کہ لوگ کیا کر رہے ہیں اس بات کا احساس نہیں کرتے کہ ہم لوگوں کے لئے کیا کر رہے ہیں۔

خیر چھوڑیں ان پندونصائح کو بس آپ اسب سے ایک استدعا ہے کہ خدا را پاکستان کو معرض وجود میں آئے ہوئے سات دہائیاں گزر چکی ہیں اب تو اس کے وجود کو موجود خیال کرتے ہوئے اس کے وجود میں رہنے کی سعی میں مخلص ہو کر پاکستانیت کا ساتھ دیں۔ یہ کہنا چھوڑ دیں کہ عمران، زرداری، نواز، پولیس، فوج، ادارے، استاد اور قانون نافذ کرنے والے کیا کر رہے ہیں۔ بلکہ اس سوچ کو تعمیر کرنا ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *