جان لیوس سے مفتی کفایت اللہ تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

28 اگست 1963 ایک ایسا دن تھا جس نے ہماری نسل کا معانی متعین کیا۔ اس روز واشنگٹن میں ابراہم لنکن کی یادگار کے سائے میں دس لاکھ سفید اور رنگ دار امریکی شہری پرامن مارچ کرتے ہوئے جمع ہوئے تھے۔ وہ رنگ کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس احتجاج کی قیادت 34 سالہ ڈاکٹر مارٹن لوتھر کنگ کر رہے تھے اور چھ رکنی رہنما کمیٹی کے سب سے کم عمر رکن جان لیوس 23 برس کے تھے۔ جان لیوس کا 17 جولائی 2020 کو 80 برس کی عمر میں انتقال ہوا ہے۔ یہ سطریں اس حرارت بھرے دل اور مدبر دماغ کو خراج عقیدت کی معمولی کوشش ہیں۔ ستاون برس پہلے کی اس شام لوتھر کنگ نے اپنی شہرہ آفاق تقریر I have a dream ارزاں کی تھی۔ یہ تقریر حالیہ انسانی تاریخ کی عظیم ترین تقریروں میں شمار ہوتی ہے۔ 19 نومبر 1863 کو ابراہم لنکن کا گیٹس برگ خطاب، 10 مئی 1940 کو ہاؤس آف کامنز میں ونسٹن چرچل کی تقریر جس میں اس نے کہا تھا کہ اس کے پاس قوم کو دینے کے لئے خون، پسینے، مشقت اور آنسوؤں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ 27 برس کی قید سے رہائی کے بعد 11 فروری 1990 کو نیلسن مینڈیلا کا خطاب جس نے جنوبی افریقہ میں نسل پرست تشدد کو دفن کر دیا۔ خود ہمارے برصغیر میں دو تقریریں۔ ایک تقریر پنڈت جواہر لال نہرو نے 22 جنوری 1947 کو دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پر بحث سمیٹتے ہوئے کی جس میں شہری آزادی اور مساوات کا تعلق واضح کیا۔ اور ایک تقریر قائد اعظم محمد علی جناح نے 11 اگست 1947 کو پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں کی جس میں بابائے قوم نے عقیدے کی بنیاد پر کسی امتیاز کے بغیر ریاست کا کردار بیان کیا۔

ہماری نسل کو بیسویں اور اکیسویں صدی کا دوراہا نصیب ہوا۔ روح فرسا سانحے بھی دیکھے اور ہمارے حصے میں عظیم الشان کامیابیاں بھی آئیں۔ ہمارے عہد کی سب سے بڑی کامیابی روح انسانی کے اخلاقی موقف کی جبر، ناانصافی، استحصال اور امتیاز کے خلاف مسلسل پیش رفت ہے۔ ہمیں برٹرینڈ رسل، سارتر، ناؤم چامسکی، سخاروف، ایڈروڈ سعید، ویکلاف ہیول، حنا آرڈنٹ اور ماریو بنگے جیسے متحرک فلسفی دماغ نصیب ہوئے۔ ہم نے قومی آزادیوں کا خواب پورا ہوتے دیکھا۔ ہم نے صنفی مساوات کی بحث کو ضمیر انسانی کا حصہ بنتے دیکھا۔ ہم نے جمہوریت کے شجر پر برگ و بار آتے دیکھے۔ اور ہم نے تفرقے، نفرت اور زورآوری کی پیش قدمی کو بار بار ناکامی سے دوچار ہوتے دیکھا۔ امکان کی وادیوں میں تاحد نظر فروغ پاتے منظر کا یہ سفر ختم نہیں ہوا۔ ہم سب شیکسپیئر کے لفظوں میں کچھ دیر کو اپنے مکالمے ادا کرنے سٹیج پر آتے ہیں۔ ہماری زندگیاں اپنے مکالمے کی لغت اور معنی سے متعین ہوں گی۔

جان لیوس کی طرف چلتے ہیں۔ 1963 کی اس شام لوتھر کنگ سے پہلے جان لیوس کو تقریر کرنا تھی۔ الباما کی دور افتادہ جنوبی ریاست سے آنے والا جان لیوس کم عمر طالب علم تھا، آواز میں ارتعاش تھا اور ناتجربہ کاری کی گھبراہٹ بھی لیکن جان لیوس کے ایقان میں کوئی لرزش نہیں تھی۔ مارچ 1965 میں سیلما سے مونٹگمری کی طرف آزادی مارچ کی قیادت کرتے ہوئے جان لیوس ایڈمنڈ پیٹس پل پر پہنچے تو الباما پولیس نے ان پر حملہ کر دیا۔ جان لیوس کے سر کی ہڈی بری طرح مجروح ہوئی اور وہ سڑک پر بے ہوش پڑے رہے لیکن ان کی جان بچ گئی۔ وہ باقی عمر اپنی کھوپڑی پر اس نشان کے ساتھ زندہ رہے۔ جان لیوس 1986 میں پہلی بار امریکی کانگریس کے رکن منتخب ہوئے اور پھر سولہ مرتبہ مسلسل ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ایوان نمائندگان کا انتخاب جیتا۔ امریکی کانگریس میں ان کی تقریریں اخلاقی قدروں پر استوار سیاسی مکالمے کا شاندار نمونہ ہوتی تھیں۔ انہیں 2010 میں باراک اوباما حکومت نے صدارتی میڈل آف فریڈم سے نوازا لیکن ان کا اصل اعزاز تو شاید یہ تھا کہ 2009 میں 44 برس بعد الباما پولیس کے اس سفید فام اہل کار نے ان سے باقاعدہ معافی مانگی جس نے مارچ 1965 میں الیکٹرک لاٹھی سے ان کے سر پر ضربیں لگائی تھیں۔

دسمبر 2019 میں کینسر کے مرض کی اطلاع دیتے ہوئے جان لیوس نے کہا تھا، میں عمر بھر آزادی، مساوات اور انسانی حقوق کے لئے لڑتا رہا ہوں۔ اس دفعہ مجھے کچھ اور طرح کی لڑائی کا سامنا ہے۔ 17 جولائی کو ان کے انتقال پر ٹرمپ حکومت نے امریکی پرچم سرنگوں کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا جسد خاکی آبائی قصبے سے سرکاری اعزاز کے ساتھ واشنگٹن لایا گیا۔ جان لیوس کی جد وجہد اکارت نہیں ہوئی کیونکہ ان کی وفات کے صرف سات روز بعد امریکی کانگریس میں ایک تیس سالہ ہسپانوی خاتون رکن کانگریس الیگزنڈریا کورتے نے نسلی اور صنفی تعصب کے خلاف ایسی گونجدار تقریر کی ہے کہ نسل پرست سیاست کی بنیاد ہلا کے رکھ دی۔ یہی حقیقی سیاست کا منصب ہے۔ یہ مشعل ایک ہاتھ سے دوسرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے۔

ادھر وطن عزیز میں 29 جولائی کو پشاور کی ایک عدالت میں جج کی موجودگی میں ملزم کو قتل کر دیا گیا۔ نوجوان قاتل نے گرفتاری کے بعد قتل کا مذہبی جواز بیان کیا ہے۔ اس معاملے کی تفصیلات سے قطع نظر بنیادی سوال یہ ہے کہ ایک شخص نے قانون کو ہاتھ میں لیتے ہوئے ریاستی عملداری کو غصب کیا ہے۔ کوئی ذمہ دار شہری ایسے اقدام کی حمایت نہیں کر سکتا۔ تاہم مانسہرہ سے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور سابق صوبائی رکن اسمبلی مفتی کفایت اللہ نے سوشل میڈیا پر قاتل کی ایسی مدح سرائی کی ہے جس سے کئی دوسرے کم عمر اور تاثر پذیر ذہنوں کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ کمرہ عدالت میں ہونے والے اس قتل پر حکومت اور اپوزیشن خاموش ہیں۔ مولانا فضل الرحمن جیسا فہیم سیاست دان انصاف کی پامالی پر منقار زیر پر ہے۔ سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز پروپیگنڈا جاری ہے۔ تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عادل حلیم نے بھی قاتل کو سراہنے کی نیم دلانہ کوشش کی ہے۔ قومیں اپنی اخلاقی توانائی کے سہارے ترقی کرتی ہیں اور ہماری اجتماعی کشتی کا اخلاقی بادبان چیتھڑوں کی صورت لٹک رہا ہے اور میرا صحافی دوست میڈیا منڈی کو اطلاع دیتا ہے کہ “قربانی کے جانور تیار رہیں”۔ برادر، میڈیا منڈی تو مقتل میں بدل چکی۔ شاید اب سامری کے بچھڑے کی باری ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *