پیٹرا کی گم گشتہ تہذیب اور صدیوں سے انتظار کرتی کھڑکی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرنل صاحب اور ان کی بیگم کو اندیشہ تھا کہ ہمارے تنہا جانے کی صورت میں کہیں ان کی اردنی مہمان نوازی پہ کوئی حرف نہ آ جائےاور اگر ہم ان بھول بھلیوں میں کہیں بھٹک گئے تو پھر کیا ہو گا؟ ہم نے بہتیرا کہا کہ ہم نگری نگری بھٹکنے والے جوگی اور بیراگی لوگ ہیں، ہم خانہ بدوشوں کو ہمارے حال پہ چھوڑ دیجیے۔ مگر صاحب ہماری کہاں سنی گئی۔ انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بیٹی اسلام کو ہمارے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کر کے ہی دم لیا۔

اگلی صبح ائر کنڈیشنڈ بس دنیا بھر کے سیاحوں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ دو سو پینتیس کلومیٹر کا سفر یہی کچھ چار گھنٹوں میں طے ہونے کا اندازہ تھا۔

صبح کے ساڑھے دس بجنے والے تھے جب ہم پیٹرا پہنچے۔ بھورے پہاڑوں کا ایکسلسلہ نظر آتا تھا لیکن گلابوں کا شہر کہاں تھا؟

اسلام ہمارا ہاتھ پکڑ کے ایک طرف کھینچے چلی جا رہی تھیں۔ پیٹرا میں داخلے کا ٹکٹ خریدنے کے لئے ایک کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئیں تو ہم نے جلدی سے اردنی دینار ان کے ہاتھ میں تھمائے۔ بین الاقوامی سیاحوں کے لئے داخلہ فیس پچاس دینار (ستر ڈالر) کے قریب تھی۔ اسلام کھڑکی کے پیچھے بیٹھے اہلکار سے مسلسل کچھ کہہ رہی تھیں۔ عربی کا لہجہ مختلف ہونے کی وجہ سے پوری بات سمجھ میں نہیں آئی لیکن یہ اندازہ ہوا کہ رقم کے لین دین پہ کچھ مسئلہ ہے۔ کافی بحث وتکرار کے بعد ہمیں دو ٹکٹ ملے اور کھڑکی سے کچھ دور جانے کے بعد اسلام نے ہنس ہنس کے ہمیں بحث کی وجہ بتائی۔ وہ ہمیں اپنی خالہ قرار دے کے مقامی لوگوں کے ریٹ سے ٹکٹ خریدنا چاہ رہی تھیں جو بہت ہی کم تھا اور اہلکار بضد تھا کہ ہم اپنی اردنی شناخت ظاہر کریں۔ ہمیں ہنسی تو بہت آئی، تھوڑی سی شرمندگی بھی ہوئی کہ بچی نے اپنی محبت میں کچھ غلط بیانی کر دی تھی۔

جولائی کا مہینہ، سوا نیزے پہ سورج اور سنگلاخ چٹانوں کے درمیان دو کلومیٹر کی پیدل مسافت۔ “سک” کہلاتا تنگ سا راستہ اور سب سیاح ہاتھ میں پانی کی بوتلیں تھامے چلے جارہے تھے۔ کبھی چٹانوں کا سایہ مل جاتا تو تھوڑی آسودگی مل جاتی، کہیں کہیں دھوپ نیزے کی طرح چھبنے لگتی۔ چٹانوں کا رنگ گلابی مائل تھا جو دھوپ میں اور بھی شوخ ہوا جاتا تھا اور پھر ایک تنگ گھاٹی سے گزرتے ہی ایک موڑ آیا اور وہ سامنے تھا جس کو دیکھنے کی تمنا میں اتنا کشٹ کاٹا تھا، ” الخزنہ”۔

گلاب شہر یا پیٹرا کا سرا تین سو سال قبل مسیح کے دور سے جڑا ہے جب وہ سلطنت نباتین کا دارالحکومت ہوا کرتا تھا۔ نباتین وہ خانہ بدوش عرب تھے جو صحراوں، پہاڑوں اور غاروں میں رہنا پسند کرتے تھے۔ انہیں پتھروں کو تراشنے میں ملکہ حاصل تھا۔ پیٹرا کا جنم تب ہوا جب نباتین نے تجارتی سرگرمیوں سے بے تحاشا دولت کمائی اور اس علاقے کا تجارتی مرکز بن گیا۔ الخزنہ کی تعمیر پہلی صدی عیسوی میں ہوئی اور کچھ روایات میں اسے نباتین کے بادشاہ اریٹاس کا مزار بھی مانا جاتا ہے۔ دوسری صدی عیسوی کے آغاز میں رومن حکومت نے پیٹرا پہ قبضہ کیا اور اس سارے علاقے کو اپنا ایک صوبہ بنا لیا۔ چوتھی صدی عیسوی میں ایک زلزلے نے اس شہر کو تباہ کر دیا اور اسلام کی آمد کے بعد اس کا ذکر کہیں نہ رہا۔

اٹھارہ سو بارہ تک پیٹرا دنیا کی نظر سے اوجھل رہا جب ایک سیاح جان لڈوگ پیٹرا میں داخل ہوا۔ جان لڈوگ کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے تھا لیکن وہ تمام عمر دنیائے عرب میں ہی گھومتا رہا۔ لڈوگ نے وادی موسی میں پائے جانے والے ماضی میں گم شده شہر کے آثار کے متعلق بہت کچھ لکھا۔ انیس سو پچاسی میں یونیسکو نے اسے نہ صرف ثقافتی ورثہ قرار دیا بلکہ کرہ ارض پہ انسان کی ثقافتی ورثے میں اہم ترین نشانی گنا۔ دو ہزار سات میں اسے دنیا کے سات عجائبات میں شامل کر لیا گیا۔

“الخزنہ” کو دیکھنے کے لئے ہمیں اپنی گردن بہت پیچھے تک جھکانی پڑتی تھی اور اس پہ سنگتراشی اور نقاشی دیکھ کے جی چاہتا تھا کہ لے سانس بھی آہستہ، نازک ہے بہت کام….. چٹان میں کھدے قد آدم ستونوں سے مزین چالیس میٹر اونچی گلابی عمارت، مبہوت کرنے والا حسن!

عمارت کی سیڑھیاں چڑھ کے اندر داخل ہوئے تو ایک وسیع و عریض ہال نما کمرہ تھا جس میں لوگ گھوم پھر کے تصویریں بناتے تھے۔ نہ جانے یہ اپنے دور کے بادشاہ کا محل تھا یا مقبرہ ، لیکن جو بھی تھا، خوب تھا!

الخزنہ سے نکل کے پیٹرا شہر دور تک پھیلا نظر آتا ہے۔ پتھریلے راستوں پہ چلتے جائیں اور چٹانوں میں بنے غار ایسے ہی ہیں جیسے مختلف عمارتوں میں بنے چھوٹے چھوٹے مکان۔ ہم ان غاروں کو اندر سے بھی دیکھنا چاہتے تھے گو وہاں پہنچنے تک کافی مشقت درکار تھی لیکن کسے پروا تھی۔ چلتے چلتے ایک چٹان پہ لہریے دار رنگیلی لکیروں نے ہمیں اپنی طرف کھینچ لیا۔

“یہ …چلو اس کے اندر چلتے ہیں” ہم نے اس غار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسلام سے کہا،

“ چلیے خالہ”، وہ ہمیں خالہ کے درجے پہ ہمیشہ کے لئے فائز کر چکی تھی۔

غار اندر سے نہایت ٹھنڈا تھا اور باہر کی گرمی سے ایک دم ایسے لگتا تھا جیسے کوئی یک لخت ماں کی گود میں آ جائے۔ غار میں اندھیرے کی بجائے روشنی تھی جو ہمیں حیران کرتی تھی اور پھر ہماری نظر اس کھڑکی نما سوراخ پہ پڑی جو روشنی کا منبع تھا۔ چٹان میں کمرہ کھود کے بنانے کے ساتھ داخلے کا راستہ تو ہونا ہی تھا لیکن علیحدہ سے کھدی ہوئی کھڑکی، بہت ہی شاندار۔

شاید کسی چاہنے والے نے اپنی رفیق سفر کے لئے بنائی ہو جو شام ڈھلے یہاں بیٹھ کے اس کی راہ تکتی ہو اور دور سے لوٹ کے آنے والے کے قدم کھڑکی سے لہراتا آنچل دیکھ کے بے تاب ہوتے ہوں۔

“خالہ،آپ کھڑکی میں بیٹھیں میں آپ کی تصویر بناتی ہوں” ہماری محویت دیکھ کے اسلام بولیں اور ان کی تجویز نہایت شاندار تھی کہ وہ باہر جا کے کھڑکی سے جھانکتے ہوئے ہماری تصویر لیں گی۔ کھڑکی میں بیٹھے ہوئے ایک لمحے کو ایسا لگا شاید یہ جھروکہ ہمارے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ وقت کے کسی ایسے لمحے میں جب کسی نے سوچا ہو کہ کئی صدیوں بعد کوئی اس تہذیب گم گشتہ کو کھوجتا ہوا آئے گا اور اشتیاق بھری نظروں سے کھڑکی کی خوبصورتی کو سراہے گا۔ اور کون جانے کہ شاید ان زمانوں میں وہ ہم ہی ہوں جو یہاں بیٹھ کے ڈھلتی شام کا نظارا کرتے ہوں اور گھر لوٹنے والے کی راہ تکتے ہوں۔

گھر کی یاد حملہ آور ہو چکی تھی اور اداسی دل پہ اتر رہی تھی۔ سیاحوں کا المیہ یہی تو ہے ہر سفر کی خوشی کے ساتھ اداسی بھی ان کا زاد سفر ہوا کرتی ہے۔

ہم پیٹرا میں یوں گھومتے تھے جیسے کسی شہر کے مختلف علاقوں اور محلوں کی سیر کرتے ہوں۔ اگلی قابل ذکر جگہ “تھیٹر” تھی۔ گو کہ امتداد زمانہ کے ہاتھوں ٹوٹ پھوٹ چکی مگر آثار بتاتے تھے کہ رومن انداز کا اوپن ائیر تھیٹر رہ چکا ہے۔ دائرے میں بنی سنگلاخ سیڑھیاں جیسے سینما گھر کی اوپر نیچے کی نشستیں اور درمیان میں بہت کھلا میدان نما سٹیج۔ شاید یہ اس زمانے میں تعمیر ہوا ہو جب رومنز نے پیٹرا کو اپنی تحویل میں لیا۔

ہماری چشم تصور پھر قلانچیں بھرتی تھی۔ تاروں کی چھاؤں اور چاند کی فسوں کاری تلے سٹیج پہ جب رقاصہ اپنے فن کے جوہر دکھاتی ہو گی تو یہیں انہی سیڑھیوں پہ بیٹھے وہ لوگ کیسے داد دیتے ہوں گے؟ اور دن کے اجالے میں شاید کبھی زندگی اور موت کا کھیل اس میدان میں کھیلا جاتا ہو گا اور تماشبین دم سادھے دیکھتے ہوں گے کہ اس دن کا سورج کس پہ مہربان ٹھہرے گا؟

ہماری محویت دیکھتے ہوئے ایک مقامی ہمارے پاس آ کھڑا ہوا،

“آپ کھدائی سے برآمد ہونے والی چیزیں دیکھنا چاہیں گی؟”

ہم تو ویسے ہی زمانوں کی کھوج میں نکلے تھے سو کیسے انکار کرتے، یہ جانتے ہوئے بھی کہ اصلی نوادرات کہاں بیچے جا سکتے ہیں۔ اس کی زنبیل میں بہت کچھ تھا اور اسلام پھر سے بھاؤ تاؤ کرنے کو تیار تھیں۔ کسی دھات سے بنے دو اجنبی عورتوں کے مجسمے آج بھی پیٹرا کی یاد کے طور پہ ہمارے ساتھ ہیں۔ زندگی آخر ہے ہی کیا؟ چند یادیں اور کچھ تصویر بتاں!

ہم گھومتے گھومتے وقت فراموش کر چکے تھے۔ یکایک اسلام نے ہمیں بس تک پہنچنے کا وقت یاد کرایا جس کی بس کنڈیکٹر نے بار بار یاد دہانی کرائی تھی۔ کیا کرنل اور ان کی بیگم کے خدشات بجا تھے؟

وقت بہت کم تھا اور نہ پوچھیے کہ ہم نے واپسی کے دو کلومیٹر کیسے طے کیے۔ بس اتنا جان لیجیے کہ ہانپتے کانپتے جب بس میں داخل ہوئے تو سب کی خشمگیں نظروں کا مرکز تھے۔

سورج ڈھل رہا تھا اور ہم عمان واپس جا رہے تھے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply