خیر پور میں طالب علم محفوظ ہے نہ لاہور میں بلی کا بچہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گزشتہ مضمون میں ہم نے سوال اٹھایا تھا کہ پرندے کیوں نہیں آتے ہماری مدد کو، اور کنکر کیوں نہیں برساتے۔ اس مضمون میں حتی الوسع اس کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ پرندے جب آتے ہیں تو وہ کنکر باطل پہ برساتے ہیں۔ اور یہ شاید ہمارے حق میں اچھا ہے کہ پرندے نہیں آتے کیونکہ باطل کے پیروکار تو ہم ہیں۔ جھوٹ کے پھیلانے والے تو ہم ہیں۔ اور اگر پرندے آگئے، انہوں نے کنکر برسا دیے تو شاید ہم نیست ونابود ہو جائیں۔ ہمارے بڑے بڑے لشکر شاید تباہ و برباد ہو جائیں۔ اور ہم جن کو اہل باطل کہتے ہیں ان میں ساری عادات حق پرستوں کی سی ہیں۔

دنیا کی کون سی ایسی برائی ہے جو ہم میں موجود نہیں۔ پورنوگررافی میں ہم آگے، جھوٹ، چوری، ڈکیتی، زنا، قتل، دھوکہ دہی، فریب، ملاوٹ، ڈاکہ زنی، دونمبری غرض کہ کون سی ایسی اخلاقی برائی ہے جو ہم میں موجود نہیں۔ ہم بکرے کو دنیے کی کھال پہنا کر بیچ دیتے ہیں۔ ہم ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی مہنگائی کا باعث بنتے ہیں۔ ہم خواجہ سراوں کو گن پوائنٹ پہ ننگا کرنے والی قوم۔ ایسا کرنے والے یہ نہیں سمجھتے کہ شاید اس سے وہ خواجہ سراء ننگے نہیں بلکہ وہ خود ننگے ہو گئے ہیں۔ ہمارا مسئلہ شاید اقتصادیات کا نہیں اخلاقیات کا ہے۔ ہمارا مسئلہ معاشیات کا نہیں انصاف کا ہے۔ ہمارا مسئلہ بھوک نہیں جہالت ہے۔ ہمارا مسئلہ شاید تن پہ کپڑا نہ ہونے کا نہیں بلکہ بھیجے میں دماغ کا نا ہونا ہے۔

گزشتہ کالم میں ہم نے سارنگ نامی جنسی بھیڑئیے کا ذکر کیا تھا، خیرپور کے معصوم بچوں کا رونا رویا تو اس کے دو دن بعد ہی بلی کا ایک چھوٹا سا معصوم بلونگڑا ہوس کے ماروں کی ہوس کا شکار بن گیا۔ سوچتا ہوں میں کس کس کا رونا روؤں۔ جانوروں کا یا معصوم بچوں کا۔ کسی بلی کا یا گاؤں دیہات مین معمول کے طور پر ریپ کی جانے والی کتیا یا گدھی کا، قصور کی معصوم زینب کا یا سیالکوٹ میں قتل ہونے والے بچے کا یا ڈیرہ اسمیعل خان کی اس معصوم گڑیا کا جسے ہوس کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا گیا تھا اور اس کی لاش دس دن بعد کھیتوں سے ملی۔ میں زیادتی کے شکار انسانوں کا رونا روؤں یا ہوس کے شکار ہونے والے مظلوم جانوروں کا۔ ہمارے گاؤں دیہاتوں میں اج بھی گدھیوں اور کتوں کو جنسی ہوس کا شدید نشانہ بنایا جاتا ہے اور شاید معمول کی بات ہے اور شاید کچھ بدبخت اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔

ہم نے ذکر کیا تھا کہ صرف اولاد کو پیدا کر دینا ہی کافی نہین ہوتا بلکہ ان کی تربیت کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ خبر کے مطابق ہوس کا شکار مظلوم بلونگڑا تکلیف کے باعث نہ بیٹھ سکتا، اور نہ ہی اٹھ سکتا تھا حتی کہ چلنے پھرنے اور سونے سے بھی قاصر تھا۔ سوچتا ہوں کہ اس ظالم انسان کہ جس نے اپنے کزنز اور دوستوں جیسے دیگر بھیڑیوں کے ساتھ مل کر اس معصوم بلی کا جو حشر کیا، کیا انہیں ترس نہ آیا؟ سوچتا ہوں کہ اگر اس پر کسی انسان کو ترس نہیں آیا تو پیدا کرنے والے کو تو ضرور آیا ہو گا۔ اس بلونگڑے کی گھٹی گھٹی چیخوں کی آواز حشر تک تو گئی ہو گی۔ اس معصوم کی آواز اگر کسی کے کانوں میں نہیں پڑی تو آسمان تک تو ضرور گئی ہو گی۔ اور جس کی کوئی نہیں سنتا اس کی آسمان والا سنتا ہے۔

خدارا اولاد کو پیدا کر دینا ہی سب کچھ نہیں ہوتا، ان کی تربیت کی ذمہ داری بھی والدین پر عائد ہوتی ہے۔ اور اگر آپ گندی اولادوں کی تربیت نہیں کر سکتے تو خدارا جانوروں کو ان کے شر سے محفوظ رکھین وگرنہ وہ وقت شاید دور نہیں کہ پرندے تو آئیں گے ضرور مگر ہماری نصرت کو نہیں بلکہ ہم پہ کنکر برسانے۔

سوچتا ہوں ماؤں نے ایسی اولادوں کو جنم دیتے ہی مار کیوں نہ ڈالا۔ ان درندوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ مجھے خدا کی اس تقسیم سے بھی اختلاف ہے کہ ظالم ظلم کر کے بھی آزاد پھرتا رہے اور مظلوم ظلم سہہ کر بھی آہین بھرتا رہے۔ سانحہ ساہیوال کے قاتلوں کا کیا بنا؟ وہ پاگل صلاح الدین کے قاتلوں کا کیا بناجو یہ ہی پوچھتا رہ گیا کہ ”اک گل پچھاں، مارو گے تے نہیں“ اور اسے مار دیا گیا۔ غرض کہ سینکڑوں واقعات ایسے ہین جن کو بیان کرنے سے زبان قصر اور قلم میں اتنی سکت نہیں۔

بچہ بلوغت کے اغاز میں بہت سی جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیوں سے گزرتا ہے۔ اس کے ذہن میں مختلف سوالات جنم لیتے ہین۔ جن کا وہ جواب چاہتا ہے۔ وہ گھر والوں سے بات کرنا چاہتا ہے مگر اسے اتنا اعتماد نہیں دیا جاتا، مجبوراً وہ عمر میں بڑے اہنے دوستوں اور کزنز سے معلومات حاصل کرتا ہے۔ اور جواب میں نامکمل اور غلط معلومات حاصل کرلیتا ہے اور جو حاصل نہین کرپاتا اس کے غلط یا صحیح جواب خود ہی فرض کر لیتا ہے۔ اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

ہم کب سمجھیں گے کہ جنسی تعلیم دینا گناہ نہیں، اس کے بارے بات کرنا گناہ نہیں۔ خدارا اپنے بچوں کو اتنا اعتماد ضرور دیں کہ وہ آپ سے ہر سوال کر سکیں۔ وہ آپ سے اس بارے بھی بات کر سکیں۔ پندرہ سال کا نوجوان درست راہنمائی اور والدین کی تربیت نا ہونے کی وجہ سے کیسا گھناؤنا جرم کر بیٹھا۔ ابھی اس کی عمر ہی کیا تھی؟ ابھی تو شاید صحیح سے اس کی مسیں بھی نہ پھوٹی تھیں۔

سوچتا ہوں درندگی کے اس ناچ میں ہم سب شاید برابر کے شریک ہیں۔ مجرم وہ والدین بھی ہیں جنہوں نے ایسی اولاد کو پالا اور ان کی تربیت نہ کر سکے۔ مجرم وہ بھی ہیں جو سڑک پہ کھڑے ہو کر راہ چلتی خواتین کو گھورتے اور آوازے کستے ہیں۔ مجرم وہ بھی ہیں جو دفتر میں خواتین ساتھی کا استحصال کرتے ہیں، اس جرم میں برابر کے شریک وہ اساتذہ بھی ہیں جو دفتر میں بلا کر خواتین طالبات کا استحصال کرتے ہیں۔ جرم میں حصہ دار وہ بھی ہیں جو فحش لطیفوں پر قہقہے تو لگاتے ہیں مگر اولاد کی جنسی حوالے سے تعلیم نہیں دے سکتے۔

سوچتا ہوں کہ شاید وہ بلی ہی بے حیا تھی، آوارہ گرد تھی، سارا قصور اسی کا تھا کہ اس نے جینز پہن کر اپنے مالک کو لبھایا ہو گا۔ کہ ہم ایسے ہر واقعے کے بعد شاید زیادتی کی شکار فی میل کا ہی قصور نکالتے ہیں کہ شاید اس نے ہی کچھ کیا ہو گا ورنہ مرد تو بہت ہی نیک ہے اور اس نے تو کبھی کچھ ایسا کیا ہی نہیں۔ بڑی ہی بے حیا اور آوارہ گرد بلی تھی شاید۔ تو کیا اب جانوروں کو برقع پہنایا جائے؟ اگر اس نے جینز نہ پہنی ہوتی تو شاید بچ جاتی۔

اس معصوم بلونگڑے نے نازوانداز دکھا کر شاید اپنی طرف راغب کیا ہو گا۔ پانچ سالہ بچی نے بھی شاید کسی درندے کو بہکایا ہو گا۔ درندگی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے اور جب قومیں ایسی اخلاقی برائیوں میں ملوث ہو جائیں تب پرندے نصرت کو نہیں آیا کرتے بلکہ کنکر برسانے آیا کرتے ہیں، تب عذاب آیا کرتے ہیں، تب بلائیں اترا کرتی ہیں، تب وباے یں نازل ہوا کرتی ہیں، تب خدا کا قہر برسا کرتا ہے۔ ہم کیوں بھول جاتے ہیں کہ جس کا نام غفور رحیم ہے اس کا نام قہار بھی ہے اور جبار بھی ہے، وہ چاہے تو پہاڑوں کو آپس میں پٹخ کر رکھ دے اور چاہے تو بستیوں کی بستیاں الٹ دے۔ ”ان ربک لشدید“ اور اس رب کی پکڑ بھی بڑی سخت ہے۔

سوچتا ہوں کیا ہم واقعی اشرف المخلوقات ہیں؟ اس بے زبان کو کیسے صبر دوں؟ کس کو قصور وار ٹھہراوں؟ شاید اپنے اپ کو؟ لیکن چھوڑو ہمیں کیا آؤ ہم فرقہ فرقہ کھیلیں۔ او ہم گستاخ گستاخ کھیلیں۔ آؤ ہم کافر کافر کھیلیں، آؤ ہم غازی بنیں، آؤ ہم خواب میں حکم پاکر ماورائے عدالت قتل کریں۔

پائے وہ معصوم سا بلونگڑا نجانے کتنے مان سے گود میں کھیلتا ہو گا۔ نجانے کتنی حسینائیں اس کی پیاری پیاری آنکھوں کو حسرت سے دیکھتی ہوں گی ۔ اس کے نرم و ملائم بالوں پہ ہاتھ پھیرتی ہوں گی ۔ بھوک کی ماری بلی شاید خوراک کے لالچ میں آئی ہو گی۔ وہ بلی تو شاید resist بھی نہ کر پائی ہو گی۔ ہائے وہ معصوم بلی تو دھڑلے سے مالک کی گود میں آجایا کرتی تھی۔ اسے تو مان تھا کہ اسے بہلایا جائے گا، اسے کھلایا پلایا جائے گا۔ مگر وہ کیا جانتی تھی ہر کوئی انسان نہیں ہوتا کچھ درندوں سے بڑھ کر درندے بھی ہوتے ہیں جو نوچ کھاتے ہیں اور ہوس کا ناچ نچاتے ہیں۔ یاد رکھئے یہ بلی نہیں مری بلکہ ہماری غیرت مری ہے۔

احباب اپنے بچوں کی حفاظت کریں، اپنے قربانی کے جانوروں کی حفاظت کریں، اپنی زندہ اور مردہ خواتین کی بھی حفاظت کریں کہ یہاں درندے پھر رہے ہیں۔ ہماری دیواریں تو جنسی کمزوری کے اشتہارات سے بھری ہوتی ہیں لیکن ہمارے لوگ تو اپنی ہوس کو قابو نہیں کر سکتے۔

سوچتا ہوں کہ ہم کس قدر بے حیا لوگ ہیں۔ ہمارے آبا و اجداد نے کیا کارہائے نمایاں سرانجام دیے تھے اور ہمارے کرتوت سرجھکانے کے قابل ہیں اور شاید بیان نہیں کیے جا سکتے۔ اور ہم صرف انہی کارناموں کو آج فخر سے بیان کرتے ہین جب کہ خود کچھ کرنے کے قابل نہیں ہیں۔

سوچتا ہوں کہ اس معصوم بلونگڑے کا کیا بنے گا؟ وہی جو آج تک لیاقت علی خان کیس کا بنا؟ وہی جو آج تک سانحہ سولہ دسمبر کا بنا، وہی جو آج تک بے نظیر قتل کیس کا بنا؟ ان پر تو شاید جے آئی ٹی ٹیمیں بن گئی تھیں مگر اس پر کیا بنے گا؟ اس مظلوم کے کیس کی ایف ائی آر کروانے بھی کوئی جائے گا تو سب سے پہلے پولیس والا ہنسے گا۔ ”پاگل ای اوئے“ کا نعرہ لگا کر اسے تھانے سے بھگا دیا جائے گا اور اگر بالفرض محال کیس رجسٹرڈ بھی ہو گیا تو کیا بنے گا؟

کیا اس معصوم بلونگڑے کو کوئی وکیل ملے گا؟ کیا ہو گا؟ شاید وہی جو سانحہ ساہیوال کے قاتلوں کا بنا؟ یہاں آج تک وزراء اعظم کے قاتلوں تک کاپتا نہیں چل سکا۔ یہاں رات کے اندھیرے میں اقتدار پر شب خون مارنے والوں کا کچھ نہیں بن سکا تو اس معصوم سی جان کی کیا اہمیت باقی رہ جاتی ہے۔ ریاست کو شاید نیب گردی سے ہی فرصت نہیں۔ اداروں کو ابھی صحافیوں کو اغواء کرنے سے فرصت ملے تو اس کیس کا کچھ بنے۔ شاید اس کیس کا بھی کچھ نہیں بنے گا اور پھر کہیں کسی اور دن ایسا ہی کوئی اور درندہ کسی اور جگہ میں کسی اور جانور یا انسان کسی اور بلی، مرغی، گدھی، کتیا یا کسی اور جانور کو اپنی ہوس کا نشانہ بنائے گا۔ اور اگر ہمارے یہی حالات رہے تو پرندے آئیں گے ضرور مگر ہماری نصرت کو نہیں بلکہ ہم پہ کنکر برسانے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *