بچے کی تربیت کا آغاز کب ہوتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماں بننے کے آغاز کے ساتھ ہی بچے کی ذہنی اور روحانی تربیت کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس لئے یہ وقت بہت اہم ہے۔ اس وقت کو عام طور پر تربیت کے سلسلے میں نظرانداز کیا جاتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ تربیت کا آغاز پیدائش کے بعد یا بچے کے سکول داخلے کے ساتھ ہوتا ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ ماں بننے کا آغاز اور تربیت ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔

دوران حمل جو کہ کم از کم سات ماہ کا وقت ہے
درج ذیل واقعات رونما ہوتے ہیں
1۔ والدین کی عادتیں اسی دوران بچے میں پیدا ہو جاتی ہیں۔
2۔ دوران حمل ماں کے جذبات و احساسات اور سوچ کا اثر بچے پر ہوتا ہے۔

3۔ اسی دوران ماں باپ کا رویہ بچوں میں ٹرانسفر ہوتا ہے۔ پیدائش کے بعد والدین کا جسمانی رویہ بچوں میں ٹرانسفر ہوتا۔ اس لئے کہ وہ ان کی جسمانی حرکات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔ مشاہدہ بہت بڑا استاد ہے اس لئے اپنے بچوں کو اچھا مشاہدہ دیں۔

کیا کرنا چاہیے
1۔ اس دوران ماں اور باپ کا آپس میں تعلق کا اچھا رہنا بہت ضروری ہے۔
2۔ شوہر کو بیوی کا اس لحاظ سے خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے
کہ وہ غیر معمولی تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔
اس دوران چڑ چڑاپن پیدا ہونا فطری عمل ہے
جس کو مرد اکثر نہیں سمجھتے

اور اگر مشترکہ خاندانی نظام ہے تو ان مراحل سے گزری اکثر خواتین جن میں ساس اورشوہر کی باقی رشتہ دار بالخصوص بہنیں اپنی مثالیں دے کر غیر ضروری پریشانی پیدا کرتیں ہیں۔ اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر کیس ایک جیسا نہیں ہوتا ہے۔ ہر چیز کو میرٹ پر لیا جائے۔ جس طرح ہر انسان مختلف جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے ساتھ پیدا ہوتا ہے بالکل اسی طرح ہر ماں کو اپنے ہونے والے بچے کے لئے مختلف طریقوں سے ڈیل کرنا ہوتا ہے اس لئے موازنہ کرنا مناسب نہیں۔ اگر ڈاکٹر سے رابطہ رکھنا ضروری ہے تو سستی ہرگز نہیں کرنی چاہئیں۔ آج کل کی مائیں پرانی ماؤں کی طرح سخت جان ہرگز نہیں نہ ان میں اتنی قوت مدافعت ہے کہ انہیں کی طرح رہ کر یہ وقت گزاریں۔ اکثر یہ سننے کو ملتا ہے۔

یعنی عورتوں سے، ہم نے بچے پیدا کیے، کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوا،
اب یہ لڑکیاں خوامخواہ کا مسئلہ بناتی ہیں۔
4۔ اس دوران ماں کا اچھی خوراک لینا بہت ضروری ہے۔
5۔ اس دوران ضروری ہے کہ سوچ مثبت اور تعمیری ہو اور زندگی لڑائی جھگڑے سے پاک ہونی چاہیے۔
فائدہ کیا ہوگا
1۔ آنے والے بچے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے۔
2۔ ماں کی ذہنی جسمانی صحت اچھی ہوگی تو بچہ بھی صحت مند پیدا ہو گا۔
3۔ اچھی خوراک سے بچے کی قبل از وقت پیدائش صحت اچھی رہے گی۔

یاد رکھیں، اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ دوران حمل میں اپنے کمروں میں خوشگوار موڈ رکھنے والی چیزیں زیادہ سے زیادہ رکھیں۔ ایسا کرنے سے آنے والے بچے پر خوش گوار اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سلسلے میں اسرائیلی ماؤں کی مثال بھی دی جاتی ہے کہ اس دوران وہ مینٹل میتھ زیادہ کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کے ہاتھ میں پوری دنیا کا معاشی نظام غلام بنا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کی ذہنی و دماغی استعداد بڑھانے والی خوراک استعمال کرتی ہیں، جس سے ذہنی طور پر مستعد بچے پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستان اس وقت آبادی کے لحاظ سے پانچویں بڑا ملک ہے، اسرائیلی ماؤں کی طرح ہماری ساری مائیں اس طرح کی آئیڈیل خوراک تو نہیں لے سکتیں اور تعلیمی معیار کم ہونے یا نہ ہونے سے ماؤں کو اتنی آگاہی بھی نہیں ہوتی مگر جہاں تک ممکن ہو اس بات کا اہتمام کرنا چاہیے۔ سورہ الرحمن کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ اس کی آڈیو ترجمہ کے ساتھ اگر ماں سنتی رہے تو بچے کی قوت مدافعت یا Immune system بہتر ہوگا اور برین سیلز بہتر بنیں گے۔ اسی طرح سورہ مریم کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ماؤں کے سننے سے بچوں کی روحانی تربیت ہوتی ہے۔

آخری بات، ایک ایپ ہے، بے بی سنٹر Baby Center) ماؤں کے لیے یہ بڑی اہم ہے بالخصوص پہلے بچے کے وقت، چونکہ اس وقت ماں کو کوئی تجربہ نہیں ہوتا کہ کیا کرنا ہے؟ اس سے فائدہ ضرور اٹھائے

اس میں پہلے دن کی Pregnancy سے پیدائش کے ایک سال تک کے

تمام مراحل بڑی تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں جن ماؤں کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت ہے وہ اس سے فائدہ ضرور اٹھائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply