سائنسی ناخواندگی اور مسلم تہذیب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


”کہہ دو، (بغور) دیکھو کہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے“
( سورہ یونس، آیت 101 )
عالم کے قلم کی روشنائی، شہید کے لہو سے زیادہ مقدس ہے۔
(ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم )

جہاں مسلمانوں کے پاس قرآن مجید جیسی عظیم کتاب موجود ہے وہاں مسلمانوں کے پاس آنحضرتﷺ کی زندگی کا نمونہ اور آپ کے مبارک الفاظ بھی محفوظ ہیں۔ جس سے صاف اور قطعی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ علم مسلمانوں کے لئے کتنا اہم ہے۔ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ جس میں ناصرف مسلمانوں کے لیے اخلاقیات، معاشیات، سیاسیات، معاشرتیات کا سبق ہے۔ مسلمانوں کو تمام تر رہنمائی اصول ایک اعجازی کتاب سے ملتی ہیں جس کا نام ”قرآن مجید“ ہے۔

یہ ایک ایسی الہامی کتاب ہے۔ جس کو جب تک مسلمانوں نے تھامے رکھا اس وقت تک دنیا پر مسلمانوں کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ دنیا پر مسلمانوں نے نا صرف سیاسی محاز پر فتوحات کا سلسلہ شروع کیا بلکہ سائنسی لحاظ سے بھی علم و معرفت میں اپنا لوہا منوایا۔ پاکستانی نوبل پرائز یافتہ سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قرآن مجید میں 700 سے زائد آیات سائنس پر مبنی ہیں اور 268 آیات مقنی ہیں۔

( پی ٹی وی کے ایک پروگرام میں پرویز ہود بھائی کو انٹرویودیتے ہوئے )

اس کے باوجود ہم نے قرآن مجید کو صرف لفظی کتاب بنا دیا ہے جس کو ایصال ثواب کی نیت سے ہم پڑھتے ہیں۔ اور یہ ہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کی آخری ایجاد کو کئی صدیاں بیت گئی۔ مسلمان اکثر یہ اصرار کرتے ہیں کہ اسلام کو سائنس سے کوئی مسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ صرف مغرب کو درپیش رہا جہاں کلیسا (چرچ) کی سائنس سے دیرینہ چپقلش جاری رہی جبکہ وہاں سائنس کو دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑا؛ جس میں مشہور سائنسدان گیلیلو کا واقعہ بطور مثال پیش کیا جاتا ہے۔ اسلام میں سائنسی تحقیق کی حوصلہ افزائی کے ثبوت میں مسلمان بہت سی قرآنی آیات بھی پیش کرتے جن میں حضور نبی کریم ﷺ پر پہلی وحی کا لفظ ”اقرا“ (معنی ”پڑھ“ ) ۔

(سورۃ العلق، آیت 1 ) سے لے کر ”اللہ کے بندوں میں حقیقتاً وہی اس سے ڈرتے جو علم رکھتے ہیں“ (سورۃالفاطر، آیت نمبر 28 ) تک شامل ہے

گرشتہ چند سال کے دوران میں نے مسلم دنیا بالخصوص عرب معاشروں کی بات کی جائے (جن میں میڈیا، تعلیمی ادارے، اور جامعات تک شامل ہیں ) وہاں میں نے سائنس مخالف تقاریر و فکر کو بہت تیزی سے پروان چڑھتے دیکھا ہے۔ مثلاً نام نہاد علما ءکرام جو کافی معروف شخصیت کی حیثیت بھی رکھتے ہیں وہ اپنے بیانات میں انتہائی مستحکم سائنسی علوم کو مسترد کر رہے ہیں اور ان کا کہنا یہ کہ صرف و صرف قرآن مجید پر غور کیا جائے، اور یہ کہ سائنس ایک مغربی سازش ہے جس کا مقصد دنیا بھر میں مادہ پرستی کا فروغ ہے جب کہ حقایق کچھ اور ہے نوبل انعام یافتہ پہلے پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام نے بتایا کہ قرآن مجید کی تقریباً ہر آٹھ میں سے ایک آیت کسی نہ کسی طور پر قدرت یا کائنات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان پر توجہ، تحقیق اور غور وفکر کرنے اور انہیں سمجھنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔

جن میں سے چند آیات یہ ہیں

”اور اس کی نشاینوں میں سے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور تمہاری زبانوں اور رنگتوں کا مختلف ہونا ہے، بے شک اس میں علم والوں کے لیے نشانیاں ہیں“ ( سورۃ الروم، آیات 22 )

”وہ (اللہ ہی ہے ) جس نے ہر چیز کو تخلیق کر کے اسے ٹھیک ٹھیک پیپائش ( بناوٹ) کے ساتھ ترتیب دیا“
(سورۃالفرقان، آیات 2 )
”کہہ دو: غور کروکہ آسمانوں اور زمین میں کیا کچھ ہے“ (سورۃیونس، آیات 101 )

سائنس کے خلا ف یہ دشمنی کی تحریک سمجھ سے بالاتر ہے جو بنیاد پرستی پر استوار ور جدیدیت کے خلاف ہے یہ سوچ بہت تشویش نا ک ہے کیونکہ یہ آج کے مسلم نوجوان پر زور دیتی ہے کہ ان کو اسلام یا سائنس میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔ مسلم نوجوان اس کاش ما کش میں ہے کہ اسلام اور سائنس میں سے کس کا انتخاب کرے؟ ایک طرف دنیا میں روز بہ روز نئی نئی ایجادات سے دنیا ایک نئی سمت کی طرف گامزن ہے اور دوسری جانب مسلم نوجوان اسلام اور سائنس کے انتخاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر معاملہ یہی ہے تو ہمیں دونوں محازوں پر ناکامی کا سامنا ہوگا۔ نوجوان نسل یا تو اسلام کے نام پر تنگ نظررویے کا شکار ہوگی اور جدید دنیا کو مسترد کر دے گی (داعشی طرز فکر) ، یا پھر وہ سائنس اور جدیدیت کو اختیار کرے گی اور مذہب کو خیر باد کہہ دے گی (سائنس کے نام پر الحاد پرستی) ۔

اس سائنسی (نا) خواندگی سے ہمیں کیا سبق ملا؟ سب سے پہلے اور اہم ترین بات یہ ہے کہ عرب اور مسلم دنیا میں موثر سائنسی خواندگی کی اشد ضرورت ہے۔ یہ ناقابل قبول ہے۔ اکثر لوگ اس بحث میں پڑنا ہی نہیں چاہتے وہ اس نقطہ نظر کے بارے میں جو سائنس کے خلاف رویوں اور بے بنیاد بیانات کو نظر انداز کر کے اگے بڑھ جانا چاہتے ہیں۔ میں اس بات سے اتفاق نہیں کرتا۔ میرا یقین اس کے برعکس ہے کہ ہمیں اسے بیانات اور دعوؤں پر کھل کر ریسرچ اور بحث کرنی چاہییں۔

جس سے عوام الناس اور طالب علموں کو مضبوط و معقول دلائل کے ذریعے قائل کرنا چاہیے کہ سائنس اور اسلام میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اسلام اور سائنس دونوں ساتھ ساتھ ہے دونوں میں اب تک کسی ایک بھی جگہ کوئی اختلاف نہیں پایا گیا۔ مسلم نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ اسلام کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے سائنس پر سنجیدہ غور اور تحقیق کریں۔ اور ان نام نہاد علما کے دعوؤں کو غلط ثابت کر دیں۔

”سائنس، مذہب کے بغیر لنگڑی ہے ؛ اور مذہب، سائنس کے بغیر اندھا ہے“
(البرٹ آئن اسٹائن)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply