پروفیسر شکیل الرحمان : زندگی کی حسین لہروں سے کھیلنے والا مسافر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


آورد بہ اضطرابم اول بہ وجود
جز حیرتم از حیات، چیزی نفزود
رفتیم، بہ اکراہ، ندانیم چہ بود
زین آمدن و بودن ورفتن مقصود

(میں اضطراب کی لہروں کے ساتھ اس فانی دنیا میں آیا۔ یہاں حیرتوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ اور جب یہاں سے لے جایا گیا تو یہ بھی معلوم نہ ہو سکا کہ یہاں آنے کا مقصد کیا تھا۔ )

۔ عمر خیام

عمر خیام، ان کے نام پر مے خانے بھی بنے۔ سر مستی و عشق کا اظہار بھی ہوا۔ بانسری نے روح کو صدا دی اور اور روح خیام کی رباعیات کو لے کر فضا میں پرواز کر گیی، نغمے چاروں طرف پھیل گئے۔ وہ بھی روح کا مصور تھا۔ محبت کو صدائیں دیتا تھا۔ عشق کے نغمے گاتا تھا۔ اور اور وقت کے سخت پتھروں سے جمالیات کی موسیقی پیدا کرتا تھا۔ وائس چانسلر، پھر مرکزی وزیر اور جمالیات کی دولت، اسے پتہ تھا کہ اس دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے۔

اضطراب اور تجسس کے درمیان ناسترو دومس کی تیسری آنکھ اس وقت کھلی، جب وہ داستانوں سے محبت کرنے لگا۔ قصہ مہر افروز و دلبر، نو طرز مرصع، عجائب القصص، فسانۂ عجائب، بوستان خیال، داستان امیر حمزہ، طلسم ہوش ربا اس کے لئے آرام گاہیں تھیں۔ باغ و بہار، آرائش محفل، مذہب عشق کا سودایی۔ اس کی صبح عمر خیام سے ہوتی۔ پھر وہ طنبورہ سنبھالتا اور سعدی شیرازی، خلیل جبران، رسول حمزہ ٹوف اور حافظ کی تلاش میں نکل جاتا۔ شکیل الرحمن کی کتابوں سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی دنیا کیسی تھی۔

ان کے خیالوں کا سمندر کیسا تھا۔ ان کی کچھ کتابوں کے نام ہیں۔ رگ وید اور اپنشد کی روشنی میں، قرآن حکیم، جمالیات کا سر چشمہ، رقص بتان آزری، محمد قلی قطب شاہ کی جمالیات، نیے فرہاد، مرزا غالب کا داستانی مزاج، مرزا غالب اور مغل جمالیات، میر تقی میر کی جمالیات، منٹو کی جمالیات، اقبال روشنی کی جمالیات، کبیر کے نغموں پر گفتگو، ہندوستان کا نظام جمال، ہندوستانی جمالیات، بابا کا ہمزاد، فراق کی جمالیات، غالب کی جمالیات، بدھ جمالیات سے جمالیات غالب تک، داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوش ربا، کلاسیکی مثنویوں کی جمالیات، بارہ ماسے کی جمالیات، امیر خسرو کی جمالیات، جمالیاتی لیجنڈ اختر الیمان، آشرم ( ان کے جمالیاتی تصور کا کولاز ) ۔

وہ زندگی بھر وادی جمالیات میں رہے۔ جمالیات کی تلاش میں نکلتے ہوئے وہ ایک لوک کہانی کا ذکر کرتے ہیں۔ قدیم یونانی کہانی کے ’نارکی سس‘ کو سبھی جانتے ہیں۔ خوب صورت نوجوان، ہر صبح تالاب میں اپنا چہرہ دیکھتا۔ اس طرح دیکھتے دیکھتے خود پر عاشق ہوگیا۔ ایک صبح ایسا ہوا کہ تالاب میں اپنے چہرے کے حسن کو دیکھتے دیکھتے اور بھی پاس آ گیا۔ گرا اور تالاب میں ڈوب گیا۔ اسی مقام پر ایک خوب صورت پھول پیدا ہوگیا۔ ہم اسی پھول کو نرگس یا نارکی سس کہتے ہیں۔

آسکر وائلد نے اس اساطیری کہانی کے اختتام کا ایک دوسرا ہی رخ پیدا کر دیا ہے جس سے کہانی اور معنی خیز بن گئی ہے۔ وہ کہتا ہے جب ’نارکی سس‘ مرگیا تو جنگلوں کی پریاں اس مقام پر آئیں پانی چکھا، تالاب کا میٹھا پانی نمکین آنسوؤں میں تبدیل ہوگیا تھا۔ پریوں نے تالاب کے پانی سے پوچھا ”تم کیوں رو رہے ہو؟“ تالاب کے پانی نے جواب دیا ”میں نارکی سس کے لیے رو رہا ہوں“ پریوں نے کہا ”واقعی تمہارے لیے یہ بہت المناک حادثہ ہے۔ پانی نے چند لمحے سوچا پھر کہا“ میں یقیناً نارکی سس کے لیے رو رہا ہوں لیکن مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ وہ بہت خوب صورت تھا ”۔ میں تو اس لیے رو رہا ہوں کہ جب بھی صبح سویرے میرے پاس بیٹھتا اور مجھ میں جھانکتا تو میں خود اپنا حسن اس کی آنکھوں میں دیکھا کرتا تھا“ ۔

آنسو بھی، مسکراہٹ بھی، حسن بھی تخیل بھی، رازداری بھی، فطرت کے مناظر بھی۔ یونانی اساطیر یا قدیم یونانی مذہب سے وابستہ افسانے بھی، دیوتاؤں، سورماؤں اور نایکوں کے قصے بھی، شکیل الرحمان کے ادبی خزانے میں کیا نہیں ہے۔ ابتدا میں کائنات تھی۔ دیوتاؤں کا جنم ہوا۔ دیوتاؤں کے جنم کے ساتھ اساطیری داستانیں خوشبو کی طرح پھیلتی چلی گیں۔

ان داستانوں کو ہاتھ بڑھا کر بابا سایین نے اپنی مٹھیوں میں جکڑ لیا تھا۔ وہ ساری زندگی ان داستانوں کا تعاقب کرتے رہے۔ خوب لکھا، اتنا کہ ان کی تحریریں ان کو زندہ رکھنے کے لئے کافی ہیں۔ وہ خود کو بھی بابا سایین کے نام سے یاد کرتے تھے۔ وہ ایسے بابا ساییں تھے جو جمالیات کے ثمر اور درخت کے سایے میں کھڑا اساطیری خوشبوؤں کے پھول چن رہا ہے۔

بابا سائیں بھی چلے گئے۔ لیکن بابا سائیں صرف ایک نام نہیں تھے، ایک ایسے قدآور درخت کی طرح تھے جس کی شاخیں (ادبی تحریر) آج بھی ان کی موجودگی کا پتہ دیتی ہیں۔ وسیع تر تناظر میں اگر ان کے افکا رو نظریات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ ان کا طرز اسلوب سب سے جدا سب سے مختلف تھا۔ سیاسی وسماجی بحران سے پیدا شدہ اس غیر شائستہ معاشرہ پر ان کی گہری نظر تھی جہاں صحرائی و وحشی ثقافتیں سر نکال رہی تھیں۔

جدید شہری نظام تبدیل ہوچکا تھا۔ مغربی نظریات، عقیدہ اور اخلاقی اقدار کو متاثر کر رہے تھے۔ اس ماحول میں تنقید کا ایک نیا افق روشن ہوا۔ بابا سائیں نے جمالیات کا سہارا لیا۔ اور جمالیات کے ذریعہ کائنات کے اسرار، انسانی زندگی اور روح کی آزادی کے اظہار سے ایسے گزرے کہ پھر پیچھے مڑ کر دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ ایک نہ ختم ہونے والی کھوج کے وسیع وعریض سمندر میں باطنی وخارجی جمالیاتی تجزیے سے وہ تصوف اور فلسفہ کی نئی نئی تعریفیں، تشریحیں اور تفسیریں بیان کرتے چلے گئے۔ جمالیاتی انکشافات سے فنون لطیفہ کی روح تک رسائی کو آسان بنایا۔ اور حقیقت یہ کہ ان سے پہلے کی تنقید میں نہ یہ گوشے سامنے آئے تھے، اور نہ ہی تخلیقی شہ پاروں کو اس انداز سے دیکھا اور پرکھا گیا تھا۔

انتقال سے ایک ہفتہ قبل شکیل الرحمن کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ ایک تاریخی اور ناقابل فراموش لمحہ تھا لیکن ایسا لمحہ جہاں آنکھیں نم تھیں، انسان گم تھا، کمرے کی خاموش فضا میں درد بھری موسیقی کا نزول تھا اوروقت ساکت، ہمارے ساتھ اردو کے ایک بڑے ادیب نند کشور وکرم صاحب۔ اور مشتاق احمد نوری بھی بھی تھے۔ وقت ایک بے رحم اور سفاک کہانی لکھنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔ ہم بے بسی اور لاچاری کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے تھے۔

میں 1985میں دلی آیا۔ اس زمانے میں مشہور ادیبہ بلقیس ظفیر الحسن کے گھر اکثر آناجانا ہوتا تھا۔ وہاں کئی موقعوں پر پروفیسر شکیل الرحمن کو دیکھنے اور گفتگو کرنے کا موقع ملا۔ وہ زندہ دل انسان تھے۔ یہ سیاسی اور ادبی سطح پر ان کے عروج کے دن تھے، وہ بے تکان، مسلسل لکھ رہے تھے۔ اور میں یہ بھی کہوں گا کہ ادب کا ایک مخصوص طبقہ انہیں مسلسل نظر انداز کر رہا تھا۔ یہ مخصوص طبقہ آج بھی ہے۔ اس طبقہ کو ’بہارستان‘ کے پھول پسند نہیں۔

زبان وبیان اور مختلف سطحوں پر یہ طبقہ شروع سے ’بہارستان‘ کے ادیبوں، شاعروں کو نظرانداز کرتا رہا ہے۔ اس مخصوص طبقہ نے شاد عظیم آبادی سے لے کر کلام حیدری، جمیل مظہری، کلیم الدین احمد اور قاضی عبدالودود جیسے صاحب نظر ادیبوں کو بھی نظرانداز کیا اور یہی عمل آج بھی دہرایا جا رہا ہے۔ مگر اس مخصوص طبقہ کو شاید یہ پتہ نہیں کہ کچھ پھول خوفناک آندھیوں میں بھی زندہ رہتے ہیں اور اپنی خوشبو بکھیرتے رہتے ہیں۔ جمالیات کی خوشبو بکھیرنے والا چلا گیا، لیکن اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ ہمارے دلوں میں زندہ ہوگیا ہے۔

پروفیسر شکیل الرحمن بھی چلے گئے۔ ۔ ۔ یہ حقیقت کم المیہ ہے کہ وہ زندہ بھی کہاں تھے؟ اردو والوں نے موت سے قبل ہی انہیں فراموش کر دیا تھا۔ ۔ ۔ یہی بات جوگندر پال کے ساتھ بھی تھی۔ لمبی عمر کا ایک نقصان شاید یہ بھی ہوتا ہے۔ ۔ ۔ آپ نیم مراقبہ میں چلے جاتے ہیں۔ تو آہستہ آھستہ اپنے بھی دور ہونے لگتے ہیں۔ میں نے اس وقت بھی انھیں دیکھا تھا جب وہ مرکزی وزیر تھے اور ان کے اس پاس ایک ہجوم ہوا کرتا تھا۔ لیلی، مجنوں، ہیر، رانجھا، سسی، پنوں، عمر، ماروی، مارو، ڈھولا، سوہنی، مہینوال، سیفل ملوک، شریں، فرہاد، مومل، میندھرا، رومانی اساطیرکی شکل اختیار کر گئے۔ اب، جب وہ نہیں ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ وہ بھی کسی رومانی اساطیری داستان کے ہیرو تھے۔ ان کا مسکراتا چہرہ آج بھی یاد آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply