تعبیر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹرافیز شاید زندگی میں آگے نہیں بڑھا سکتیں۔ یہ بات شاید ابوعبیدہ کو بہت دیر سے پتا لگی تھی۔ اسے کرکٹ بہت پسند تھی جنون تھا کرکٹ کا جو رگوں میں خون بن کے دوڑتا تھا۔ وہ اسکول کے فوراً بعد کرکٹ گراونڈ دوڑ کے جاتا تھا۔ ہر کوئی اس کی بیٹنگ کا دلدادہ تھا مگر آج اس کی زندگی کا سب سے بڑا دن تھا وہ خوش تھا کیونکہ انڈر سکسٹین کی ٹیم کا ٹرائل دینے جانا تھا اس کی ٹیم میں موجود ہر کھلاڑی کو لگتا تھا کہ وہ پاس ہو جائے گا۔

مگر شاید کسی کو اس کی خوشی سے مسئلہ تھا وہ تو اپنی دھن میں مگن آگے جا رہا تھا اور وہاں گھڑیال کی سوئیاں بہت تیزی سے چل رہی تھی شاید کچھ ادھورا تھا کوئی ایک کردار جو اس فریم میں نہ تھا مگر ابوعبیدہ کی زندگی کی تصویر کا اہم حصہ تھا اس کا باپ عبدالرحمان۔ باپ کا نام سن کر ایک مضبوط شخص کا عکس بنتا ہے جو محبت اور پیار میں ہلکے سے رعب کو شامل کر کے اپنی اولاد کو خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں پر ابوعبید کو باپ تو مل گیا مگر اس کے جذبات احساسات کہیں دفن ہو گے احساس ذمہ داری کے لفظ سے جیسے وہ نابلد تھا۔

اصولاً تو عبدالرحمنٰ کو ابوعبیدہ کی خواہشیں پوری کرنی چاہیے تھیں مگر یہاں حساب الٹا تھا۔ وہ جب سے پیدا ہوا اس نے صرف دھکے کھائے ڈانٹیں کھائیں۔ اس کی ماں کو روز مارتا تھا۔ ابوعبیدہ کے لیے باپ لفظ جیسے گالی بن گیا تھا۔ ابوعبیدہ کے سر پر تو جیسے قیامت ٹوٹ پڑی تھی اس کا واحد پیار کرنے والا رشتہ بھی منوں مٹی تلے سو گیا۔ رو رو کر اس کی آنکھیں سوج گئیں آنسو خشک ہو گے حلق تک سوکھ گیا مگر عبدالرحمنٰ اس جذبات سے عاری شخص کے کان پر گویا جوں تک نہ رینگی۔

اس دن اس نے فیصلہ کر لیا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ خود کمائے گا اور اپنی ضروریات پوری کرے گا اور کبھی بھی خود کو دوسرا عبدالرحمنٰ نہیں بننے دے گا اپنے خوابوں کو پورا کرے گا اور آج وہ دن تھا جب اس کے خواب پورا کا دن تھا۔ اس گاؤں کا لڑکا پردیس جائے گا۔ کل اس کی قسمت بدلنے کو تھی مگر کل کس نے دیکھا ہے۔ اس کے باپ کو اس کا کرکٹ کھیلنا کھٹکتا تھا وہ چاہتا تھا کہ ابوعبیدہ صرف کمائے۔ ابوعبیدہ کبھی باپ کی نافرمانی نہیں کرتا تھا وہ چاہتا تھا کہ اس کا باپ اب تو ٹھیک ہو جائے۔

اس کا دل تھا کہ وہ اس گلے لگے سینے پر سر رکھ کے سوئے۔ وہ اسٹیڈیم کی طرف قدم اٹھائے جا رہا تھا ابھی وہ دروازے تک پہنچا ہی تھا کہ کسی نے اسے گردن سے پکڑ کر پیچھے کیا اس نے مڑ کر دیکھا تو عبدالرحمنٰ تھا۔ ”تمھیں ہزار دفعہ کہا ہے ناں کہ کرکٹ کو چھوڑ دو وہ ہمارے تمھارے لیے نہیں ہے تم کون سا امیرزادے ہو یہ صرف امیرزادوں کا کھیل ہے۔“ ”بابا مجھے جانے دیں یہ میری منزل کی پہلی سیڑھی ہے اس سفر کا پہلا قدم ہے میرے خوابوں کی طرف“ ۔ ”کوئی ضرورت نہیں گھر بیٹھے رہو غربت میں تخلیقی کام نہیں ہوتا پہلے پیٹ بھرو پھر خواب دیکھو“ ۔

وہ سر جھکائے گاؤں کے تالاب کے کنارے بیٹھا پانی میں پتھر پھینکتا جا رہا تھا۔ ”ابوعبیدہ تم یہاں کیا کر رہے ہو تمھارا تو ٹرائل تھا ناں“ اس کے دوست حسن نے اس سے سوال کیا۔ اس نے چہرہ گھمایا کیا کچھ نہ تھا اس کی آنکھوں میں مایوسی بے بسی ٹوٹے خوابوں کی کرچیاں جو اس کی روح کو زخمی کر رہی تھیں۔ ”ہم اس گاؤں میں پیدا ہوئے گاؤں میں جیے ہیں اور گاؤں میں ہی مر جائیں گے ہمیں لارڈز کے میدانوں میں بلا لہرانے کے خواب کو بھلانا پڑے گا اسی میں ہماری بہتری ہے“ ۔ ابوعبیدہ نے رنج اور غصے کے ملے جلے جذمات میں کہا۔ ”غم نہ کرو وہ رب ہے ناں اس نے کچھ بہترین سوچ رکھا ہوگا“ حسن نے جیسے اسے دلاسا دیا۔ ”بے شک وہ رب رحیم ہے اس نے بہترین سوچ رکھا ہے میرے لیے“ ابوعبیدہ وہاں سے اٹھا اس کی آنکھوں میں اک عزم تھا کچھ کر دینے کا عزم۔

وہ روز اٹھتا صبح اخبار دینے جاتا اپنے ابو کے لیے ناشتہ بناتا اسکول کے بجائے اکیڈمی جاتا پریکٹس کرتا وہ ہر روز لگن کے ساتھ جاتا محنت کرتا۔ اس طرح کرتے کرتے اسے تین سال ہو گئے ہر سال ٹرائل آتے وہ اپنے ابو کی طرف دیکھتا ان کا سر ہنوز نفی میں ہلتا۔ اس سال انڈر نائنٹین کے لیے ٹرائلز آ رہے تھے وہ اللہ سے دعا کرتا کہ میرے ابو کا دل موم کر دے۔ ایک دن سہ پہر کے وقت عبدالرحمنٰ ذرا ٹہلنے کو باہر گیا ہرے ہرے کھیت اس کی طبعیت پر خوش گوار اثر ڈال رہے تھے۔ بارش شروع ہو چکی تھی اس کا ارادہ ذرا سڑک تک آگے جانے کا تھا اور وہ سڑک کی طرف چل پڑا اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ فیصلہ ان دونوں باپ بیٹے کی زندگی تبدیل کر کے رکھ دے گا۔

سڑک پر جاتے ہی کچھ دور جاتے ہی سامنے سے ایک سیاہ رنگ کی اکارڈ تیز رفتار سے سڑک پر بل کھاتی آ رہی تھی شاید اس گاڑی کے بریک فیل ہو گئے تھے اور پھر اس نے سامنے سے آتے عبدالرحمنٰ کو کچل دیا۔ ابوعبیدہ کو جب پتا چلا وہ دوڑا دوڑا آیا وہاں اسے پتا لگا کہ ایکسیڈنٹ کے باعث اس کے باپ کی ٹانگیں ناکارہ ہو چکی تھیں۔ وہ آ کر باپ کے پلنگ کے پاس بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ چند برس قبل یہ شخص کتنا طاقت ور تھا اس کی ماں کو کس بے دردی سے مارا کرتا تھا آج وہ اس بستر پر اس طرح پڑا ہے کہ کچھ کرنے کے قابل نہیں۔

بے شک وہ عدل کرنے والا ہے۔ اللہ کی لکھی قسمت کی کتاب میں ایک باب مکافات عمل کا بھی ہے اور دنیا میں موجود ہر شخص کو یہ باب پڑھنا پڑتا ہے۔ یوں سوچتے سوچتے وہ سو گیا اور اس کی آنکھ اپنے والد کی آواز کے ساتھ کھلی جو بہت کمزور لہجے میں اس کو پکار رہے تھے۔ ”ابوعبیدہ“ یہ سن کر ابوعبیدہ کی آنکھیں نم ہو گئیں انھوں نے اسے پہلی بار اسے اس کے نام سے بلایا تھا ورنہ اس سے پہلے وہ اسے ابے کہہ کر مخاطب کرتے تھے۔

”جی بابا“ ابوعبیدہ نے ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا ”مجھے معاف کر دو بیٹا مجھے معاف کر دو میں نے تمھیں اور تمھاری امی کو بہت تکلیف پہنچائی ہے ناجائز ایذا دی ہے میں اس کا ازالہ تو نہیں کر سکتا گزرے وقت کو واپس تو نہیں لا سکتا بس معافی مانگ سکتا ہوں میرے یہ ہاتھ تمھارے آگے ہیں مجھے معاف کردو بیٹا“ ۔ ”نہیں بابا آپ میرے ساتھ ہیں کافی ہے باقی اللہ بہتر کرے گا۔“ ۔ ”بیٹا تمھیں کرکٹ کھیلنا تھی ناں جاؤ کھیل لو اللہ تمھارا حامی و ناصر ہو“ ۔ اور ابوعبیدہ کو اپنے خوابوں کے دروازے کی چابی مل گئی۔ اس نے اپنے دوست حسن کو جو کہ اس کا پڑوسی بھی تھا کو اپنے ابو کا خیال رکھنے کا کہا اور وہ اپنے خوابوں کے دیس کی طرف چل پڑا۔

لارڈز کے گراونڈ میں برطانیہ کے ساتھ جاری ٹیسٹ میچ کا نتیجہ اس آخری بال پر منحصر تھا۔ تین میچ کی اس ٹیسٹ میچ سریز میں پاکستان اور انگلینڈ دونوں ایک ایک میچ جیت چکے تھے اگر پاکستان اس آخری بال پہ پانچ رنز بنانے میں کامیاب ہو گیا تو میچ اور سریز دونوں جیت جاتا۔ اسڑائیک ابوعبیدہ کے پاس تھی۔ وہ سوچ رہا تھا مجھ کسی بھی طرح یہ میچ جتوانا ہے۔ مجھے گمنام نہیں رہنا۔ تاریخ کے صفحات میں سنہری حروف اپنا نام درج کرانا ہے۔

مجھے بھی جاوید میانداد کی طرح آخری بال پر چھکا لگا کر ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں ہمیشہ امر ہو جانا ہے۔ مارک وڈ گیند کروانے کے لیے آ رہا تھا اس کے ہر بڑھتے قدم کے ساتھ ابوعبیدہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوتی جا رہی تھی۔ مارک وڈ نے گیند پھنکی اور اس نے سیدھا کورز کے اوپر کھیل دیا گیند سیدھا اوپر گئی اور ایکسڑا کورز کے فیلڈر کو آتا دیکھ کر اس کا سانس حلق میں ہی اٹک گیا اور جیسے جیسے بال نیچے آتا جا رہا تھا اس کی اضطرابی کیفیت بڑھتی جا رہی تھی اور پھر گیند فیلڈر کے سر کے اوپر سے گزر کے چھکے کی طرف چلی گئی۔ لارڈرز کی ہسڑی بکس میں اس کا نام درج ہو چکا تھا۔ اس کا ماضی اس کے ذہن میں گھوم گیا کس طرح وہ مایوس ہوا کس طرح وہ ٹیم میں آیا اور آج کا دن۔ وہ سجدے میں گر گیا بے شک اللہ نے کچھ بہترین ہی سوچ رکھا ہوتا ہے۔

Latest posts by احمد رضا خان کھوسو (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
احمد رضا خان کھوسو کی دیگر تحریریں

Leave a Reply