اسلام آباد، مرغزار چڑیا گھر: پنجرے میں آگ لگانے کے سبب شیروں کا جوڑا ہلاک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلام آباد کے چڑیا گھر میں شیروں کے ایک جوڑے کے پنجرے میں آگ لگا کر انہیں باہر نکالنے کی کوشش کی گئی۔ آگ کی وجہ سے شیر اور شیرنی زخمی ہوئے اور پھیپھڑوں میں دھواں بھر جانے کی وجہ سے ان کی حالت خراب ہو گئی۔ منتقلی کے دوران شیرنی ہلاک ہو گئی جبکہ شیر نے دو دن بعد دم توڑ دیا۔ ان دونوں کے علاوہ کئی دوسرے جانور بھی منتقلی کے اس عمل کے دوران ہلاک ہوئے ہیں۔ ملکی اور عالمی میڈیا سے اس خبر کی مختصر ٹائم لائن درج ذیل ہے۔

7 جولائی 2016۔
ہاتھی کاون ذہنی بیماری کا شکار ہے، ماہرین۔
ماہرین کے مطابق 32 سالہ یہ ایشیائی ہاتھی’ذہنی بیماری‘ کا شکار ہے اور اگر اسے بہتر اور قدرتی رہائش گاہ فراہم نہیں کی جاتی تو اس کا مستقبل انتہائی مخدوش ہے، بھلے اس کا ساتھ دینے کے لیے کوئی ہتھنی پہنچ بھی جائے، جس کا کہ طویل عرصے سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کاون کے علاج کے لیے عالمی سطح پر آواز اٹھائی جا رہی ہے۔ ان خبروں کے بعد کہ اسلام آباد کے چڑیا گھر میں رکھے گئے اس ہاتھی کو زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا ہے، اب تک دو لاکھ سے زائد افراد ایک آن لائن پٹیشن پر دستخط کر چکے ہیں۔ چڑیا گھر انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کاون کسی ذہنی بیماری کا شکار نہیں ہے بلکہ اسے محض ایک جیون ساتھی کی ضرورت ہے۔

21 مئی 2020۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے مرغزار چڑیا گھر میں رکھے گئے تمام جانوروں کو 60 روز کے اندر محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے اسلام آباد کے مرغزار چڑیا گھر کی حالت زار پر تحریری فیصلہ میں حکم دیا ہے کہ ‘چیئرمین وائلڈ لائف کی سربراہی میں بورڈ قائم کیا جائے جو جانوروں کی منتقلی کی نگرانی کرے۔’

عدالت نے قرار دیا کہ مرغزار چڑیا گھر میں جانوروں کو رکھنے لیے سہولیات کا فقدان ہے جس کے باعث جانور اذیت اور درد میں مبتلا رہتے ہیں جو کہ وائلڈ لائف آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے۔
عدالتی حکم کے مطابق چڑیا گھر کے تمام جانوروں کو بیرون یا اندرون ملک پناہ گاہوں میں منتقل کیا جائے، اس سلسلے میں وزارت موسمیاتی تبدیلی اور اسلام آباد انتظامیہ وائلڈ لائف بورڈ کے ساتھ مل کر کام کیا جائے

8 جولائی 2020۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے چڑیا گھر کیس پر عملدرآمد نہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے 11جولائی تک وزارت موسمیاتی تبدیلی اور وائلڈ لائف بورڈ مینجمینٹ کی انتظامیہ کو طلب کر لیا ہے عدالت نے چڑیا گھر کے ہاتھی کو آزاد نہ کرنے پر فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے عدالت نے قرار دیا ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود چڑیا گھر میں قید ہاتھی کاون اور جانوروں کو رہا نہیں کیا گیاعدالت نے وزیر موسمیاتی تبدیلی اور وائلڈ لائف بورڈ ممبران سے حلف نامے طلب کرلیے ہیں اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیوں نا وزیر موسمیاتی تبدیلی اور وائلڈ لائف بورڈ ممبران کے خلاف توہین عدالت کی کاروائی کی جائے؟ ہاتھی کاون اور جانوروں کو رہا نہ کرکے توہین عدالت کی گئی وائلڈ لائف بورڈ ممبران اور وزیر موسمیاتی تبدیلی جانوروں پر ظلم کرنے کے مرتکب پائے گئے ہیں فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وائلڈ لائف بورڈ ممبران نے جان بوجھ کر کاون اور جانوروں کو رہا کرنے کے حکم میں رکاوٹ ڈالی اسلام آباد ہائیکورٹ نے چڑیا گھر فیصلے پر عملدرآمد کیس کی سماعت 11 جولائی تک ملتوی کردی ہے ۔

18 جولائی 2020۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مرغزار چڑیا گھر کے ہاتھی کاون کو عدالتی حکم پر کمبوڈیا منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وزیراعظم کےمشیر برائے موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اسلام آبادکے چڑیا گھر مرغزار کے کاون ہاتھی کو عدالتی حکم پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کاون کو کمبوڈیاکی پناگاہ میں منتقل کیاجارہا ہے، کاون کو کمبوڈیا بھجوانا ہمارے لیے اداس کر دینے والا فیصلہ ہے مگر اُس کی صحت کی وجہ سے یہ قدم اٹھا رہے ہیں۔
مشیر برائے موسمیاتی تبدیلی کا مزید کہنا تھا کہ ہاتھی کوریٹائرکرکےکمبوڈیا بھیجاجارہا ہے، اسلام آباد چڑیا گھر کے پنجروں میں موجود جانوروں کو بھی عدالتی حکم کی روشنی میں آزاد کردیا جائے گا۔

عدالتی استفسار پر سیکریٹری ماحوالیات نے بتایا کہ ’مگر مچھ کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا‘۔ چیف جسسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ حکومتِ پاکستان جانوروں کے حقوق کے معاملے میں دنیا پر فوقیت لے رہی ہے،انسان کی طاقت کمزور کو قید کرنا نہیں، اس کی حفاظت کرنا ہے۔

30 جولائی 2020۔
چیئرمین وائلڈلائف مینجمنٹ بورڈ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے حکم پر شیرنی اور دیگرجانوروں کی منتقلی کی جا رہی تھی، کہ شیرنی ہلاک ہوگئی۔چیئرمین وائلدلائف منیجمنٹ کے مطابق شیرنی سفری سٹریس اور حبس کے باعث ہلاک ہوئی۔ شیرنی کبھی اپنے پنجرے سے نہیں نکلی تھی۔

30 جولائی 2020۔
واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آ گئی۔
سوشل میڈیا پر اس منتقلی کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شیروں کو منتقل کرنے کے لیے ان کے پنجرے کے اندر آگ لگا دی گئی ہے۔ چند اہلکار انہیں لمبے ڈنڈوں سے مار مار کر باہر نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس دوران شیروں کے جوڑے کو زخم بھی آئے اور وہ پھیپھڑوں میں دھواں بھر جانے کے باعث بیمار بھی ہو گئے۔ لاہور منتقلی کے دوران شیرنی ہلاک ہو گئی جبکہ شیر کی ہلاکت دو دن بعد ہوئی۔ منتقلی کے اس عمل کے دوران تین نیل گائیں، ایک شتر مرغ اور کئی نایاب پرندے بھی ہلاک ہو گئے ہیں۔

30 جولائی 2020۔
راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کے صدر شکیل احمد کی درخواست پر تھانہ کوہسار میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں اس واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف اینیمل ایکٹ 1990 کے تحت کارروائی کا کہا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply