مذہب اور مذہبی سیاسی جماعتیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس بات کا فیصلہ اسلامی و ریاستی قوانین کے ماہر کریں گے کہ عدالت کے روبرو قتل جیسا اقدام اٹھانا ٹھیک ہے یا نہیں۔ ۔ ۔

لیکن ہمارے ہاں چلن ہی الگ ہے کہ قرآن و سنت کی روشنی میں طریقہ ہائے زندگی کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا مشکل نہیں بھی تو خود کو اس میں ڈھالنا کافی صبر طلب کام ہے، سو عوام کو سمجھانے اور اپنی طرف مائل رکھنے کے لیے مذہبی رہنماؤں کو دین رحمت کی تفہیم کے لیے سہارا لینا پڑتا ہے شاعری کا، اور شعراء نے بھی عشقیہ، ہجویہ اور رزمیہ شاعری میں وہ جھنڈے گاڑے ہیں کہ انداز بیاں پرجوش اور اشتعال انگیز نہیں بھی ہو تو بھی خون کھولتا اٹھتا ہے، اور ایسی شاعری کی تفہیم ہمارے مذہبی علماء مذہب کی تشریح کے لیے کرتے ہیں، جن کی کہی ہر بات ان کے معتقدین کے لیے حکم کا درجہ رکھتی ہے اور علماء ان کے شوق پیروی کو مہمیز کرنے کے لیے عربی، اردو، فارسی اور پنجابی کے اشعار کی اسلام کے ساتھ وہ گرہیں باندھتے ہیں جو شاید شاعر کے ذہن میں کبھی جگہ نہ بنا پاتیں۔

گو کہ مذہبی رہنماؤں کی فراست یا علم کے حوالہ سے شک و شبہ ذہن میں رکھنا مناسب معلوم نہیں ہوتا لیکن افسوس ہے کہ علماء اسلام جو مذہبی معاملات کو نہ صرف جانتے ہیں بلکہ سلجھانے کی سکت بھی رکھتے ہیں لیکن دنیاوی معاملات کی خرابی کے خوف نے ان کی زبان جکڑ رکھی ہے۔ علماء کرام سے گلہ اس لیے بھی ہے کہ نہ صرف ذاتی حیثیت میں یہ اصلاح معاشرہ کی طاقت رکھتے ہیں بلکہ ان کی سربراہی میں یا معاونت سے تشکیل دی گئیں سیاسی جماعتوں نے بھی نظام مساوات کے نفاذ کا بیڑہ اٹھا رکھا ہے لیکن

جماعت اسلامی خود کو ملک کی سب سے منظم اور بڑی مذہبی سیاسی جماعت کہلوانے کی ہمیشہ سے کوشش میں ہے، لیکن جب بھی ضرورت پڑی تو مذہبی نظریات و تفریق کے مسائل میں اس جماعت نے خاموشی کے سوا کچھ نہیں کیا۔

جمیعت علمائے اسلام کے متعدد گروہ ہیں جو مذہب کے نام پر سیاست میں ہیں اور خود کو ایک ایک دو دو قومی و صوبائی نشستوں کے عوض حکومتی جماعتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں لیکن تفرقہ ختم کرنے میں ایک آنے کا کام ان کے کریڈٹ پر نہیں۔

پاکستان عوامی تحریک المعروف منہاج القرآن ایک مختلف نظریہ ضرور رکھتی ہے لیکن بطور مذہبی سیاسی جماعت مشکل وقت میں کبھی عوام کو سہارا دینے یا اصلاح معاشرہ کی کوشش نہیں کر پائی، انفرادی حیثیت میں البتہ ڈاکٹر طاہرالقادری کتابیں لکھنے کا ورلڈ ریکارڈ رکھتے ہیں۔

تحریک لبیک پاکستان کے بانیان میں قوم کو متحد کرنے سے قبل ہی پھوٹ پڑ گئی، اور وہ مسلمانان پاکستان کی بجائے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے مصروف ہیں۔

مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنماؤں کا موقف جاننے کے لیے عوام کو عیدین، محرم یا ربیع الاول کا انتظار کرنا پڑتا ہے۔

ملی مسلم لیگ کے قیام کا مقصد ابھی تک وضاحت کا محتاج ہے۔ البتہ 2018 کے الیکشن میں ایک خاص سیاسی جماعت کے ووٹ بینک کی تقسیم کے لیے اس کا عمدہ استعمال کیا گیا۔

مجلس وحدت المسلمین، متحد مجلس عمل، اور دیگر مذہبی جماعتیں بھی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں بیٹھ کر خلافت امہ کا دعوی کرتے رہنے کو ہی اسلام کی خدمت سمجھتے ہیں۔

ایک بات جو گزشتہ سات دہائیوں کی سیاست سے سمجھ میں آئی وہ یہ ہے کہ اندرونی مذہبی اور نظریاتی خلفشار کو کم کرنے کی کوشش کرتے ان جماعتوں کی جان جاتی ہے البتہ کشمیر کی آزادی، افغانستان میں روسیوں کے خلاف جہاد، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا، شام، عراق، ایران میں اتحادی افواج کے خلاف لڑائی پر بیان داغنے وہاں پہنچ کر جہاد میں حصہ لینے کی ترغیب کو یہ عین ایمان سمجھتے ہیں۔

کیونکہ پاکستان میں عوام کا مذہبی اور نظریاتی اختلاف ان کی دکانداری کے لیے فائدہ مند ہے اور یہاں مداخلت کرتے ہوئے قرآن و سنت کی روشنی میں اتحاد کا درس دینا ان کے سیاسی مفاد میں نہیں ہے۔ ۔ ۔ شاید عوام ان کی بات پر بھڑک اٹھے اور ان کے خواب انقلاب میں بہہ جائیں اس ڈر سے بات کو دلیل کی بجائے علامہ اقبال کی شاعری سے منسوب کرنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔

اور چونکہ کشمیر کی آزادی، افغانستان میں روسیوں کے خلاف جہاد، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا، شام، عراق، ایران میں اتحادی افواج کے خلاف لڑائی پر بیان داغنے وہاں پہنچ کر جہاد میں حصہ لینے کی بات پر فوری اور عوامی رد عمل کا خوف نہیں ہے۔ ۔ ۔ اس لیے کھل کر تقریریں کرتے اور نعرے لگاتے ہیں۔

مذہبی سیاسی جماعتوں کی اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشش اس ایک بات سے واضح ہے کہ سب جماعتیں مل کر بھی قومی اسمبلی میں موجودہ سودی معاشی نظام کو تبدیل کرنے کے لیے ایک متبادل پالیسی جمع نہیں کروا پائی ہیں۔ وہاں بھی ان کی دلیل اشعار اور جذبات بھڑکانے والی تقریریں ہیں۔

اس کے علاوہ بھی ملک کے مختلف حصوں میں چھوٹے بڑے مذہبی سیاسی گروپس موجود ہیں اور خود کو اسلام کا محافظ سمجھتے ہیں لیکن آج تک ایک بھی مذہبی سیاسی جماعت کو ملک کے اندر مذہبی تناؤ کو کم کرنے کے لیے عوام کو اتفاق یا اتحاد بین المسلمین یا بین المذاہب کا درس دیتے نہیں سنا گیا۔ البتہ اتحاد ان کے نظریات کو قبول کرنے سے ممکن ہے یہ سبھی کا دعوی ہے۔

لیکن اس دور پرآشوب میں جب انسان اور انسانیت کو سر بازار قتل و رسوا کیا جا رہا ہے۔ علماء کی طرف سے ایک اعلان ایک وعدہ ایک نظر ثانی شدہ بیانیہ اور ایک مقصد کا عوام کے لیے بطور رہنمائی جاری ہونا از بس ضروری ہے کہ آئندہ مذہب، ایمان، عشق خدا، عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور نظام مساوات کی تفہیم قرآن و سنت کی روشنی میں بیان ہو گی۔ ۔ ۔ نہ کہ شاعروں کی رزمیہ، ہجویہ، یا عشقیہ شاعری کی زبانی۔

دین رحمت در سایۂ شمشیر و شعر

Latest posts by محمد نور الامین، فیصل آباد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
محمد نور الامین، فیصل آباد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *