سشانت سنگھ کی خودکشی پر مہیش بھٹ کے نئے انکشافات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بھارت کے تیزی سے ابھرتے ہوئے فلم سٹار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد اقربا پروری (نیپوٹزم) پر ایک بحث شروع ہوگئی ہے۔ نوجوانوں کا الزام ہے کہ بالی ووڈ میں نیپوٹزم کا شکار ہونے والے اداکار سشانت سنگھ راجپوت نے خودکشی کی ہے۔ جب سے سشانت سنگھ کی موت ہوئی ہے لفظ نیپوٹزم کو کافی مقبولیت ملی ہے اس سے قبل نیپوٹزم سے لوگ اتنے واقف نہیں تھے۔ لفظ نیپوٹزم سے لوگوں کی اکثریت ابھی بھی ناواقف ہے۔ انگریزی زبان میں ”نیپوٹزم“ کی تشریح کیمبرج یونیورسٹی کی لغت کے مطابق کچھ یوں ہے کہ ”کوئی ایسی حرکت یا سرگرمی، جس میں اپنی طاقت کا ناجائز استعمال یا خاندانی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کوئی فائدہ حاصل کیا جائے“ ۔

اردو زبان میں نیپوٹزم سے مراد ”اقربا پروری“ ہے۔ اردو زبان میں اقربا پروری سے مراد اپنوں کو نوازنا ہے یا ایسے افراد کو فائدہ پہنچانا جن سے آپ کا کسی بھی طرح سے کوئی تعلق ہو۔ بھارتی فلم انڈسٹری میں نیپوٹزم یا اقرباء پروری کا بہت زور ہے۔ اس انڈسٹری میں وہی لوگ چلتے رہتے ہیں جن کا انڈسٹری میں بول بالا ہو۔ اگر کوئی ایسا شخص انڈسٹری میں ابھر کر سامنے آ جائے اور اس کا انڈسٹری میں کسی سے کوئی خاص تعلق یا رشتہ بھی نہ ہوتوابھرتا ہوا اداکار یا انڈسٹری کی کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا مخصوص گروہ کے نشانے پرآ جاتا ہے، مخصوص گروہ اس کے خلاف متحرک ہوجاتا ہے اور جب تک انڈسٹری کے باہر سے آنے والے کو دوبارہ باہر نہ بھیج دے، آرام سے نہیں بیٹھتا۔ کچھ اسی طرح کی صورتحال سشانت سنگھ کے ساتھ بھی پیش آئی جو اس کی موت کی وجہ بنی ہے۔

اداکار شیکھر سمن نے سشانت سنگھ راجپوت کو انصاف دلانے کے لئے جسٹس فار سشانت فارم کی شروعات کی ہے۔ سشانت سنگھ راجپوت کے والد سے ملنے کے بعد پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ یہ خود کشی نہیں قتل ہے۔ سشانت کے گلے کے نشان ان کی خودکشی نوٹ نہ چھوڑنا کے ساتھ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یہ جانچ کا موضوع کیوں نہیں جبکہ سشانت سنگھ نے اپنی موت سے قبل ایک ماہ میں 50 سم کارڈ کیوں بدلے تھے۔ شیکھر سمن کے اس سوال نے بھارت کی پولیس کے لئے ایک لئے ایک نیا وبال پیدا کر دیا ہے کیونکہ پچاس سم کارڈ تبدیل کرنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کوئی سشانت سنگھ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر یہ شک کیا گیا تھا کہ شاید سشانت کو کسی نے قتل کیا ہو، لیکن بعد ازاں پوسٹ مارٹم رپورٹس میں بھی اس کی خودکشی کی تصدیق ہوئی تاہم اس کے باوجود ممبئی پولیس خودکشی کی وجوہات جاننے کے لیے تفتیش جاری رکھے ہوئی ہے جس کے تحت اب تک 3 درجن سے زائد شخصیات کے بیانات ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ پولیس مزید 2 ہفتوں تک اہم شخصیات کے بیانات ریکارڈ کرکے معاملے کو حل کردے گی اور اب تک اطلاعات کے مطابق پولیس کو ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے تصدیق ہو کہ کسی نے سازش کے تحت انہیں خودکشی پر مجبور کیا ہو۔

اب تک سشانت سنگھ راجپوت کے والدین، سابق مینیجرز، ملازمین، قریبی دوستو، ان کی آخری فلم دل بیچارہ کے ہدایت کار مکیش چھابڑا، ان کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی سمیت 3 درجن سے زائد افراد نے پولیس کے سامنے اپنے بیانات ریکارڈ کروادیے ہیں۔ پولیس کو فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی نے 6 جولائی کو اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے کئی انکشاف کیے تھے اور بتایا تھا کہ وہ اداکار کے ساتھ فلم کرنا چاہتے تھے مگر اداکار نے دوسرے پروڈکشن ہاؤسز سے معاہدے کر رکھے تھے، جس وجہ سے وہ ایک ساتھ فلم نہیں کر سکے۔

اور اب معروف فلم ساز مہیش بھٹ نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔ اخبار انڈیا ٹوڈے کے مطابق مہیش بھٹ بیان ریکارڈ کروانے کے لیے اپنی قانونی ٹیم کے ہمراہ تھانے پہنچے اور بیان ریکارڈ کروایا۔ رپورٹ کے مطابق مہیش بھٹ نے پولیس کو بتایا کہ انہوں نے سشانت سنگھ راجپوت سے صرف 2 بار ہی ملاقات کی تھی، جس میں سے پہلی ملاقات 2018 اور دوسری و آخری ملاقات فروری 2020 میں ہوئی تھی۔ مہیش بھٹ کے مطابق فروری 2020 میں وہ سشانت سنگھ راجپوت کے فلیٹ پر گئے تھے، کیوں کہ اداکار کی طبیعت خراب تھی اور اس دوران ان کے درمیان مہیش بھٹ کی آنے والی کتاب اور ایک یوٹیوب چینل کھولنے سے متعلق باتیں ہوئیں۔

فلم ساز کے مطابق ان کے اور سشانت سنگھ راجپوت کے درمیان کسی طرح کی کوئی فلمی بات نہیں ہوئی۔ مہیش بھٹ نے پولیس کے سامنے انکشاف کیا کہ سشانت سنگھ راجپوت ان کی آنے والی فلم سڑک 2 میں کردار ادا کرنا چاہتے تھے، تاہم انہوں نے اس سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کہ سشانت سنگھ کو کاسٹ کیا جائے یا نہیں؟ فلم ساز کے مطابق انہوں نے سڑک 2 کے مرکزی کردار کے لیے سشانت سنگھ راجپوت کو کاسٹ نہیں کیا تھا، کیوں کہ مذکورہ فلم پہلی فلم کے ہیرو سنجے دت کے ساتھ ہی بنائی جانی تھی۔

حال ہی میں میڈیا میں مہیش بھٹ کے حوالے سے اس وقت مختلف قیاس آرائیاں شروع ہوئی تھیں جب ان کی سشانت سنگھ راجپوت کی سابق گرل فرینڈ ریا چکربورتی کے ساتھ خوشگوار موڈ میں کھینچی گئی تصاویر وائرل ہوئی تھیں۔ ریا چکربورتی اور مہیش بھٹ کی پرانی تصاویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر فلم ساز پر الزامات کی بارش کردی گئی، تاہم پولیس کے سامنے انہوں نے ریا چکربورتی کے ساتھ تصاویر پر کوئی وضاحت نہیں کی اور نہ ہی پولیس نے ان سے اس حوالے سے کوئی سوال کیا۔

دوسری جانب فلم ساز کرن جوہر کے پروڈکشن ہاؤس دھرما کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) اپوروا مہتا نے بھی اپنا بیان ریکارڈ کروادیا۔ انڈیا ٹوڈے نے اپنی ایک اور خبر میں بتایا کہ کرن جوہر کے پروڈکشن ہاؤس کے سی ای او بھی صبح کے وقت بیان ریکارڈ کروانے پہنچے۔ اپوروا مہتا نے بھی پولیس کو سشانت سنگھ راجپوت اور اپنے پروڈکشن ہاؤس کے درمیان روابط کے حوالے سے آگاہ کیا۔ میڈیا میں چہ مگوئیاں ہیں کہ سشانت سنگھ راجپوت کی خودکشی کا سبب جاننے کے لیے جاری پولیس تفتیش کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، کیوں کہ اب تک پولیس کو کوئی خاص شواہد نہیں ملے جن سے پتہ لگایا جاسکے کہ اداکار کو سازش کے تحت خودکشی کرنے پر مجبور کیا گیا ہو۔

سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بعد سے فلمی دنیا میں ہنگامہ برپا ہے۔ بالی ووڈ میں اقربا پروری کا بڑا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پر کئی شائقین سلمان خان، کرن جوہر سمیت دیگر افراد کو برا بھلا کہتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اداکار شیکھر سمن نے سشانت سنگھ راجپوت کی موت پر اپنا ردعمل ظاہرکرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ فلم انڈسٹری کے تمام شیر بننے والے بزدل سشانت سنگھ راجپوت کے مداحوں کے قہر سے چوہے بن کربل میں گھس گئے ہیں۔ مکھوٹے گر گئے ہیں، دھوکے باز لوگ بے نقاب ہوگئے ہیں۔ بہار اور بھارت خاموش نہیں بیٹھنے والے جب تک قصورواروں کو سزا نہیں دی جاتی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply