سٹینلے والپرٹ کی کتاب “جناح آف پاکستان” پر پابندی کیوں لگی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


جنرل ضیاء الحق، آمر صدر کے دورحکومت میں محمد علی جناح کی اب تک کی سب سے مستند سمجھی جانے والی سوانح عمری 1984 میں جناح اوف پاکستان کے نام سے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، امریکہ سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے مصنف معروف امریکی اسکالر پروفیسر اسٹینلے والپرٹ تھے۔ پروفیسروالپرٹ ہندوستان کی تاریخ پر دسترس رکھنے والے ماہرین میں نمایاں حیثیت رکھتے تھے۔ پروفیسر والپرٹ نے جناح کے علاوہ گاندھی، جواہر لعل نہرو اور ذولفقار علی بھٹو کی سوانح حیات تحریر کر چکے ہیں۔

جب جناح اوف پاکستان کی 500 کاپیاں مزید اشاعت اور فروخت کے لیے پاکستان پہنچی تو کتاب کی پاکستان کے اندر چھپائی اور فروخت کی اجازت حاصل کرنے کے لئے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے دو کاپیز وزارت اطلاعات و نشریات کو بھیجیں کیونکہ ضیاءالحق نے سینسرشپ کی سخت پابندیاں عائد کر رکھی تھیں اورحکومت کی اجازت کے بغیر فروخت ممکن نہیں تھی۔

لیکن ہوا یہ کہ کتاب کے دو پیراگراف قائد کی کھانے پینے کی عادات اور پسند نا پسند کے بارے میں تھے ان پر انفارمیشن منسٹری نے اعتراض کرکے اشاعت کی اجازت دینے سے انکار کر دیا اور صرف یہی نہیں باقی 498 کاپیز کو آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے اسٹور روم سے بھی اٹھوالیا گیا۔ حکومت نے پروفیسر والپرٹ سے بھی رابطہ کر کے کہا کہ اگر کتاب سے اعتراض شدہ حصہ نکال دیا جائے تو حکومت کتاب کو پاکستانی یونیورسٹیز کے نصاب کا حصہ بنا دے گی جس سے پروفیسروالپرٹ کو خاصا مالی منافع حاصل ہو گا۔ جس پر مصنف نے جواب دیا کہ وہ بطوراسکالراصولوں پر سمجھوتہ نہیں کر سکتے لہذا کتاب میں کسی قسم کی تنسیخ یا ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ بات خود پروفیسر نے 26 دسمبر 2001 کو آغا خان یونیورسٹی میں طلبہ سے خطاب کے دوران بتائی۔

صرف پروفیسر والپرٹ ہی نہیں بلکہ جناح کی بیٹی دینا جناح سے بھی رابطہ کرکہ یہ کہا گیا کہ وہ اس بات کی علانیہ تردید کریں کہ جناح نے کبھی پورک کھایا اور شراب پی تھی۔ لیکن دینا نے جب مطالبے پر عمل کرنے سے انکار کر دیا تو انھیں دھمکی دی گئی کہ اگر انہوں نے یہ بات مشتہر کی کہ ان سے حکومت پاکستان نے رابطہ کیا تھا توان کی ذاتی زندگی پبلک کرکے بدنام کیا جائے گا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دینا جناح کو ایک بار کے سوا کبھی سرکاری طور پر پاکستان مدعو نہیں کیا گیا۔

پروفیسرصاحب کے انکار کے بعد جناح اوف پاکستان پر 1989 تک مکمل پابندی عائد رہی اورآخرکاربے نظیر بھٹو کی حکومت میں اس کتاب کو اشاعت اور فروخت کی اجازت ملی۔ اس کتاب کا اردو ترجمہ بھی ہو چکا ہے جسے تنویر انجم نے کیا ہے۔

صفحہ نمبر 78 اور 79 پر موجود وہ دو پیراگراف جن کی وجہ سے کتاب پر پابندی لگی۔ پہلا پیرا کچھ یوں ہے۔

1923 میں لیجیسلیٹیواسمبلی کے الیکشن کے دوران ایک دن قائد اعظم کی بیگم ان کے آفس میں ہیم ساسجز بنا کر لے کر آئیں اور کہا ”دیکھو جے میں تمھارے لیے لنچ میں ہیم ساسجزلائی ہوں“ ۔ قائد اعظم نے حیرانی سے رتی کو دیکھا اور کہا کہ ”تمھیں معلوم ہے کہ میں مسلم سیٹ سے الیکشن میں کھڑا ہوں، جب مسلم ووٹرز کو معلوم ہو گا کہ میں ہیم کھا رہا ہوں تو کیا میں الیکشن جیت سکتا ہوں“ رتی دکھی ہو کر آفس سے واپس لوٹ گئیں۔

دوسرا پیرا گراف کچھ یوں ہے۔

جناح اپنے سیکریٹری چھاگلہ کے ساتھ ایک کیفے میں بیٹھے تھے جہاں انھوں نے کافی اور پورک سینڈوچز منگوائے ہوئے تھے۔ اتنے میں ایک مسلمان بزرگ اوران کا کوئی دس برس کا غالباً پوتا قائد کے پاس ملاقات کے لیے آئے۔ گفتگوکے دوران بچے نے ایک سینڈوچ اٹھا کر کھانا شروع کر دیا۔ جب وہ دونوں وہاں سے چلے گئے تو قائڈ اعظم چھاگلہ پر غصہ ہوئے کہ ”چھاگلہ، تم نے لڑکے کو روکا کیوں نہیں؟“ چھاگلہ نے جواب دیا کہ ”مجھے فیصلہ کرنے میں شدید مشکل ہو رہی تھی اور میرے ذہن میں ایک ہی سوال اٹھا کہ میں جناح کو الیکشن ہارنے دوں یا لڑکے کو گناہ سے بچا لوں لہذا میں نے جناح کے حق میں فیصلہ کیا۔“

ان دو پیرا گراف پر لوگوں کا بنیادی اعتراض یہ ہے کہ یہ دونوں واقعات قائداعظم کے اسسٹنٹ سی ایم چھاگلہ نے اپنی سوانح عمری ”روزز ان دسمبر“ میں تحریر کیے ہیں جن سے جناح کے تعلقات 1928 کی نہرو رپورٹ پر اختلافات کے دوستانہ نہیں رہے تھے اور تقسیم کے بعد چھاگلہ نے انڈیا میں ہی رہنے کا فیصلہ کیا تھا اور بعد میں بمبئی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی رہے

اس حوالے سے معروف کالم نگار ارد شیر کاوس جی 30 دسمبر 2001 میں ڈان اخبار کے آرٹیکل میں کتاب کے دفاع میں لکھتے ہیں کہ ”ہمیں ایک امریکن پروفیسر کا انتظار کرنا پڑا جناح کی جامع اور معتبر سوانح عمری ترتیب دینے کے لیے، جس کو کسی نے یہ کام نہیں سونپا تھا بلکہ اس نے خود یہ ذمہ داری اٹھائی اور چالیس صفحات پر مشتمل نوٹس اور ببلوگرافی ان کی تحقیقی محنت کا ثبوت ہے۔“

ارد شیر کاوس جی کا اشارہ پاکستانی حکومت کی درخواست پر تحریر کردہ سوانح حیات ”جناح : پاکستان کے خالق“ کی طرف تھا جس کے مصنف نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے اسکالر ہیکٹر بولائتھو تھے۔ یہ کتاب پہلی بار 1954 میں شائع ہوئی تھی۔

اس کتاب کے حوالے سے سب سے دلچسپ پہلو اکبر ایس احمد اپنی کتاب ”جناح، پاکستان اینڈ اسلامک آئیڈنٹیٹی“ میں بیان کرتے ہیں کہ ضیاء کے دور کے وزیرتعلیم وزیرجوگیزئی نے اکبر احمد کو بتایا کہ، ضیاء الحق نے جس کتاب پر پابندی عائد کی وہی کتاب صدرصاحب نے اعتراض شدہ حصوں پر مشتمل صفحات پر نشان لگا کرمہمانوں میں تقسیم کیں تاکہ قائد اعظم کے مقابلے میں ضیاء خود کو متقی پرہیز گارثابت کر کے سیاسی فائدہ حاصل کیا جاسکے۔

یہ تھی اس کتاب کی کہانی جس کے 400 صفحات جناح کی تعریف پر مشتمل ہیں وہ صرف دو پیراگراف کی وجہ سے طویل عرصے تک ایک ڈکٹیٹر کی وجہ سے ممنوع رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *