ضیا کے نظریات کی قربانی کب ہو گی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری الہامی کتاب میں جہاں خدائے ذولجلال نے اپنی امت کے لئے دنبے کو اتارا، تو وہیں ہماری آزمائش کے لئے ایک شیطان کو بھی ہم پر مسلط کر دیا۔ ہم سینکڑوں سالوں سے روایتی عید کے تابع ہوکر آسمان تک چوپایوں کی صدائیں بلند کر رہے ہیں اور سال کے ایک روز کفارہ ادا کرکے باقی ایام ایک غائبانہ اطمینان کا مظاہرہ کرتے ہیں لیکن اس سکے کا دوسرا رخ دیکھنے سے قاصر ہیں کیونکر ہمارے ہاتھوں میں بندوق تھمادی گئی ہے تاکہ نہ ہی یہ ریاستی سکہ اچھال سکیں اور نہ ہی اس سکے کا رخ بدل سکیں۔

قارئین یہ بات جانتے ہیں کہ اس خطے کے تمام انسانوں کے گلے میں رسی ڈال کر سن 1977 کے مارشل لا میں جانوروں کی طرح خریدا گیا اور بندوقوں سے ہانکتے ہوئے ہم کو خوف، لالچ اور حسد اور دو قومی نظریہ بصورت خوراک ہمارے حلق میں اٹکا دیا گیا جس کو نہ ہی ہم نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔ تمام خطہ اب ایک قربان گاہ معلوم ہوتا ہے جس میں ہم کو کھلا پلا کر پالا جا رہا ہے اور جونہی کوئی یہ خوف و لالچ یا دو قومی نظریہ قے کی صورت میں اگلنے لگتا ہے اس چوپائے کو اٹھا کر قربان کر دیا جاتا ہے۔

اس سال عید پر بلوچستان سے کچھ تصاویر موصول ہوئیں جن کی منظرکشی کچھ یوں ہے کہ ایک خوبرو جوان کو تصویر میں پیوست کر دیا گیا، نہ وہ ہنستا ہے اور نہ وہ کچھ بول رہا ہے، تصویر کے سامنے نئے جوتے اور کپڑے رکھے گئے ہیں، ماں تصویر میں پیوست جوان کو بیٹا کہہ کر مخاطب کررہی ہے کہ کیا کپڑے اسے پسند ہیں؟ کہیں یہ جوتا اسے تنگ تو نہیں۔ ۔ ۔ البتہ یہ رنگین تصویر کسی قبر کے کتبے جتنی وحشت دلاتی ہے۔ ۔ ۔ سارا دن ماں پوچھتے گزار دیتی ہے لیکن وہ اس طرف دھیان نہیں کرتی کہ اس کا بیٹا سچ اگلنے کی وجہ سے قربان کر دیا گیا ہے۔

یہ صورت حال بس ایک شہر یا صوبے کی نہیں، بلکہ مکمل خطے کی ہے۔ ہر ایک اسی خطرے سے دوچار ہے۔ ہمارے شناختی کارڈ دراصل ہمارے گلے میں باندھی گئی گھنٹی ہے جو جونہی اپنی شناخت طلب کرنا چاہے گی اسی وقت اس کی گردن مع گھنٹی اتار پھینکی جائے گی۔ گزشتہ تینتالیس سالوں سے ہم پابجولاں چلتے آرہے ہیں۔ ہماری چراگاہوں سے ان گنت چرواہے بنام جانور اٹھالئے گئے اور ضیا نامی شیطان کی بھینٹ قربان کیے جاچکے۔ یہ ایک حتمی سچ ہے کہ آزادی سے بڑی کوئی عید نہیں ہے۔ آپ، میں اور اس خطے کا ہر فرد ماسوائے جانور کچھ نہیں ہے۔ جس کی عمر دن بہ دن بڑھتی جارہی ہے اور ہماری طبیعت روز بہ روز بگڑتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں سچ، خوف اور دو قومی نظریہ قے کی صورت میں اگل جائے گا اور یوں ہم بھی قربان کردیے جائیں گے۔

عالمی شہرت یافتہ مورخ آئن ٹالبوٹ اپنی کتاب ”پاکستان نیو ہسٹری“ میں لکھتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے افغان جہاد کے لیے امریکی ڈالروں اور سعودی ریالوں سے اسی ہزار مجاہدین تیار کیے، ہزاروں ”نرسریاں“ قائم کیں یہی مجاہدین آج القاعدہ، داعش اور طالبان کے نام سے پاکستان کی سلامتی کے درپے ہیں اور پاک فوج ان سے برسرپیکار ہے۔ ضیاء الحق نے باقاعدہ منصوبہ بندی کرکے قائداعظم اور علامہ اقبال کے فکری بیانیے کو تبدیل کیا اور ”سیاسی اسلام“ کے نام پر جس بیانیے کو مستحکم بنایا آج وہی بیانیہ ستر ہزار معصوم شہریوں کا قاتل بن چکا ہے اور قتل و غارت گری کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔

عیدالاضحی کے دن تو الہی نے ابراہیم کے بیٹے کی جان بخشی کردی لیکن یہ آزمائش اب ہم پر مسلط کردی گئی کہ ہماری اولادیں ہر روز کسی نا کسی طور سے قربان کی جارہی ہیں، کہیں ان کے خواب قربان کردیے جاتے ہیں، کہیں ان کے مستقبل کی رگیں کاٹ دی جاتی ہیں، کہیں ان کے گلے پر غداری کا طوق باندھ کر سمندر برد کر دیا جاتا ہے تو کہیں ان کو دور کسی اندھیرے میں پھینک دیا جاتا ہے۔ مائیں اپنے دوپٹے کے پلو میں پتھر باندھے گھومتی ہیں، وہی پلو جس سے وہ اپنے بچوں کو پیسے نکال کر دیا کرتی تھیں۔

عیدالضیا ہر دن، ہر وقت منانے کے لئے ضیا کی قربانی لازم ہے۔ اس کے نظریات و جبر پر چھری پھیرنا لازم ہے۔ تاکہ جب بھی یہ نام لیا جائے تو عید یعنی خوشی کے طور پر ایک فتح کے نام پر لیا جائے کہ قربان گاہ پر ایک آخری قربانی دی گئی جس کے بعد کسی بیٹے کسی بھائی کسی فرد کی قربانی اب ناممکن ہے۔ ہر سوگوار بہن، ہر آنسو پونچھتی ماں کا یہی سوال ہے کہ آخر عیدالضیا کب منائی جائے گی؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *