دہلی فسادات پر اقلیتی کمیشن کی رپورٹ: سنہ 1931 کے کانپور فسادات سے سنہ 2020 کے دہلی فسادات تک، 89 برسوں میں کچھ نہیں بدلا؟


دہلی فسادات کی رپورٹ کی

رواں سال دہلی میں ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کی رپورٹ 16 جولائی کو پیش کی گئی

دہلی فسادات کی رپورٹ میں ہے کیا؟

دہلی اقلیتی کمیشن کی دہلی فسادات پر 134 صفحات پر مشتمل شائع رپورٹ بی بی سی کے پاس ہے جو کہ متاثرین سے ملاقات اور بات چیت کے بعد تیار کی گئی ہے۔

دہلی کے سرکردہ تعلیمی اور تحقیقی ادارے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے تاریخ میں اقلیتی امور پر پی ایچ ڈی کرنے والے ریسرچ سکالر ابھے کمار نے رپورٹ کے بارے میں بتایا کہ ’فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے چیئرمین ایم آر شمشاد صاحب نے رپورٹ میں جو کہا ہے ان میں تین چار اہم باتیں یہ ہیں کہ اس میں پولیس کا کردار ہے۔ یعنی پولیس نے متاثرین کی ایف آئی آر کو درج کرنے میں پس و پیش سے کام لیا ہے۔ ان فسادات میں جو متاثر ہوئے ہیں انھی کو ان فسادات کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، اور جو لوگ فسادات کرانے والے تھے انھیں بری بھی کیا گیا ہے، ان پر کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے اور پولیس بھی ان کو بچا رہی ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’شہریت کے قانون کے خلاف جو مظاہرہ کر رہے تھے اور جو فسادات کی زد میں تھے انھی کو فسادی قرار دیا گیا۔ پولیس نے انھی لوگوں کا نام چارج شیٹ میں ڈالا ہے اور میڈیا والے انھی کے پیچھے پڑے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ کوئی پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے قبل ہاشم پورہ فسادات یا پھر سکھ مخالف فسادات کے معاملے میں عدالت نے پولیس کے کردار کو جانبدارانہ قرار دیا تھا اور سزائیں بھی سنائی تھیں۔

رپورٹ کی اہم بات کا ذکر کرتے ہوئے ابھے کمار نے کہا کہ اس میں فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے چند اہم سفارشات بھی کی ہیں جس میں ہائی کورٹ کے کسی ریٹائرڈ یا موجودہ جج کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی آزاد انکوائری کیمٹی کے قیام کی بات کی گئی ہے۔ اس میں سول سوسائٹی کے رکن کے ساتھ ریٹائرڈ پولیس افسر کی شمولیت کی بات بھی کہی گئی جن کا عہدہ ڈی آئی جی سے کم نہ ہو۔

ابھے کمار نے بتایا کہ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ پولیس کے کردار کو سامنے لایا جا سکے اور جنھوں نے اشتعال انگیزی اور نفرت انگیزی کی ہے ان کے خلاف بھی کارروائی ہو۔

ابھے کمار نے رپورٹ میں لفظ ’پوگروم‘ یعنی نسل کشی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کے فسادات کو دو فرقوں کے مابین لڑائی کے طور پر دکھایا جا رہا ہے جو کہ درست نہیں ہے کیونکہ اس میں ایک فرقے کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

’میرے خیال سے شہریت کے متنازع بل کے خلاف جو سیکولر طاقتیں کھڑی ہوئی تھیں ان کا دباؤ حکومت پر بڑھتا جا رہا تھا اور حکومت نے بات چیت کے بجائے تشدد کا راستہ اختیار کیا اور طاقت کا استعمال کیا اور دہلی کا جو فساد ہے اس کے تار کہیں نہ کہیں اس معاملے سے جڑے ہوئے ہیں۔‘

رپورٹ کے متعلق بات کرتے ہوئے ظفر الاسلام خان نے بتایا کہ انھوں نے متاثرہ علاقے میں پوسٹر لگوائے اور اعلان کرایا کہ جو متاثرین ہیں وہ باہر آئیں اور اپنی شکایات ہم تک پہنچائیں۔

اس ضمن میں انھیں 400 سے زیادہ شکایات موصول ہوئیں۔ انھوں نے کہا کہ پولیس نے بھی انھیں تقریباً 500 ایف آئی آر کی کاپیاں دیں لیکن انھوں نے مکمل طور پر تعاون نہیں کیا ہر چند کہ اقلیتی امور کے کمیشن کی جانب سے اس قسم کے مطالبے پر عمل کرنے کے وہ پابند ہیں۔

دہلی فسادات تصویر

شمال مشرقی دہلی میں ہونے والے فسادات میں سرکاری اعدادوشمار کے مطابق 53 افراد ہلاک ہوئے، رپورٹ میں ان کے نام اور عمریں درج ہے

بی بی سی کو جو رپورٹ ملی ہے اس میں لوگوں کے شواہد ہیں، املاک کے نقصانات کی تفاصیل ہیں، مساجد، مدارس اور مزاروں کو پہنچنے والے نقصانات کا ذکر ہے۔ میڈیا کوریج کے حوالہ جات ہیں۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کے چیئرمین اور سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آن ریکارڈ ایم آر شمشاد نے رپورٹ کے پیش لفظ میں متاثرین میں سے ایک کی بات نقل کرتے ہوئے لکھا کہ ’دہلی پولیس کی جانب سے چارج شیٹ داخل کیے جانے سے بہت پہلے جب ہم مصطفیٰ آباد کے فساد سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے تھے تو ہم نے ایک معمر مسلم شخص سے فسادات کے بعد حالات کے بارے میں بات کی تو انھوں نے دو اشعار سنا دیے جس یہاں نقل کیا جا رہا ہے:

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا (امیر قزلباش)

اور

شہر طلب کرے اگر تم سے علاج تیرگی

صاحب اختیار ہو آگ لگا دیا کرو (پیرزادہ قاسم)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فسادات شمال مشرقی دہلی کے شیو وہار، کھجوری خاص، چاند باغ، گوکل پوری، موج پور، قراول نگر، جعفرہ آباد، مصطفی آباد، اشوک نگر، بھاگیرہ وہار، بھجن پورہ اور کردم پوری علاقوں میں ہوئے۔

رپورٹ میں سنہ 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر کہا گیا ہے کہ شمال مشرقی دہلی میں ہندوؤں کی آبادی 15 لاکھ 29 ہزار 337 یعنی 22۔68 فیصد ہے جبکہ مسلمانوں کی آبادی چھ لاکھ 57 ہزار 585 یعنی 34۔29 فیصد ہے۔

باقی مسیحی آبادی نو ہزار 123 ہے، سکھ 17 ہزار 424 ہیں، بدھ مذہب کے پیروکار دو ہزار 388 ہیں جبکہ جین مذہب کے ماننے والے 24 ہزار ہیں اور ان سب کا تناسب ایک فیصد یا اس سے کم ہے۔

خیال رہے کہ شمال مشرقی دہلی کے فسادات سے قبل دہلی میں اسمبلی انتخابات تھے اور ووٹ کو پولرائز کرنے کے لیے بی جے پی کے بہت سے اراکین نے اشتعال انگیز تقاریر کی تھیں جس کا ذکر رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

مسلم خواتین کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا

ان فسادات کے دوران بہت سے مسلمان گھرانوں کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا

رپورٹ کی ایگزیکٹو تلخیص میں کہا گیا ہے کہ جنوری اور فروری میں دائیں بازو کے ہندو گروپس اور ان کے حامیوں کی جانب سے سی اے اے کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کو واضح طور پر دھمکانے کی کوششیں ہوئی ہیں اور کھلے ‏عام دو گولی مارنے کے واقعات ہوئے ہیں۔

30 جنوری کو دہلی پولیس کے سامنے رام بھکت گوپال نے جامعہ یونیورسٹی کے باہر گولی چلائی اور یکم فروری کو مسٹر کپل گجر شاہین باغ میں جاری مظاہرے کے مقام پر گھس آئے اور گولی چلائی۔ ان واقعات کے بعد 23 فروری کو موج پور میں کپل مشرا کی اشتعال انگیز تقریر اور جعفر آباد میں جاری مظاہرے کو طاقت کے زور پر ہٹانے کی دھمکی کے بعد شمال مشرقی دہلی میں فسادات پھوٹ پڑے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’یہ فسادات میں منصوبہ بندی کے تحت، منظم اور ٹارگٹڈ حملے ہوئے۔ حملہ آور ’ہر ہر مودی‘، ’مودی جی کاٹ دو ان ملّوں (مسلمانوں) کو‘، آج تمہیں آزادی دیں گے’ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔

شواہد میں بتایا گیا ہے حملہ آور ہجوم میں بہت سے لوگ باہر کے تھے۔ مسلمانوں کے گھروں کو لوٹا گیا اور انھیں نذر آتش کر دیا گیا۔ لوگوں کی باتوں سے لگتا ہے کہ یہ فساد فوری اشتعال کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ منصوبہ کے تحت اور منظم تھا۔

دہلی فسادات

رپورٹ میں مذہبی مقامات یعنی مساجد، مدارس اور مزاروں کی بات کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ان کے نام بھی شائع کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر تقریبا دو درجن مذہبی مقامات کو نشانہ بنایا گیا اور ان میں توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کی گئی، قرآن کی بے حرمتی کی گئی اور ان کے جلے اوراق بھی دستیاب ہوئے۔

اس رپورٹ میں یہ کہا گیا کہ فسادات کے بعد بڑی تعداد میں مسلمان اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور جو ریلیف کیمپ میں رہ رہے تھے وہ بھی کورونا وبا کی وجہ سے نافذ لاک ڈاؤن کے سبب کیمپ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

خواتین کو نشانہ بنانے کی بات بھی اس رپورٹ میں کی گئی ہے کہ کس طرح ہجوم نے مختلف خواتین کے برقعے اور حجاب کو کھینچا۔ خواتین نے بتایا ہے کہ کس طرح مظاہرے کے مقام پر انھیں پولیس نے اور حملہ آوروں نے لاٹھیوں سے پیٹا اور ان پر تیزاب سے حملے ہوئے اور انھیں جنسی تشدد کی دھمکی دی گئی۔

رپورٹ میں یہ درج ہے کہ فلم ’غدر‘ کے مکالمے بھی سنے گئے کہ ’آج کتنی سکینائیں اٹھا لی جائیں گی۔‘ خواتین کے ساتھ زیادتیوں کی اخباروں میں شائع رپورٹس کو بھی اس میں شامل کیا گیا ہے۔

پولیس اور بھیڑ

پولیس کا کردار

اس میں پولیس کے کردار پر سوال اٹھایا گیا ہے کہ ان کے سامنے واقعات رونما ہوتے رہے اور انھوں اسے روکنے کے لیے کارروائی نہیں کی یا انھیں بعض علاقون سے بار بار بلایا گیا لیکن وہ وہاں نہیں پہنچی۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شواہد میں بتایا گیا ہے کہ پولیس نے کارروائی نہ کرنے کی وجہ بھی یہ کہتے ہوئے نہیں بتائی کہ انھیں اس کا حکم نہیں ہے۔

رپورٹ میں ہندی روز نامے ’دینک بھاسکر‘ کی ایک رپورٹ کو نقل کیا گیا ہے جس میں ایک سینٹرل ریزرو پولیس کا جوان کہتا ہے کہ ’ایسی لاچاری میں ہم کیا کریں۔ ہمیں نہیں پتا کہ ہمیں یہاں کیوں تعینات کیا گیا ہے۔ ہمیں کچھ بھی کرنے کا حکم نہیں ہے۔ اگر ہمیں حکم ہوتا تو ان فسادی لڑکوں کو ہم دس منٹ میں سیدھا کر کے گھر بھیج دیتے۔‘

رپورٹ اور پولیس کے کردار پر ہم نے مہاراشٹر کیڈر کے مستعفی آئی پی ایس عبدالرحمان سے فون پر بات کی تو انھوں نے کہا ’اس رپورٹ کی اکیڈمک ویلو ہے، اس کی قانونی اہمیت نہیں ہے۔ اگر یہ کمیشن آف انکوائری ایکٹ کے تحت ہوتی تو اس کی کچھ اہمیت ہوتی تاہم حکومت اس پر بھی عمل کرنے کی پابند نہیں تھی۔‘

یہ بات ڈاکٹر ظفرالاسلام نے کہی کہ ہم نے اپنی رپورٹ میں جو مشورے دیے ہیں اس میں کمیشن آف لا کے تحت ایک تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کی بات کی گئی ہے۔ اب حکومت اسے مانے یا نہ مانے یا اس میں سے کتنی بات مانے یہ حکومت پر منحصر ہے۔

سویڈن میں ’پیس اینڈ کنفلکٹ ریسرچ‘ کے شعبے میں پروفیسر اشوک سوائیں نے کہا کہ ’موجودہ بی جے پی حکومت کو دیکھتے ہوئے اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ اس پر کوئی عمل ہو گا یا اسے سنجیدگی سے لیا جائے گا۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ یہ رپورٹ اکثریتی برادری میں ان کے حامیوں کے درمیان ان کے کریڈینشیلز کو بڑھاتی ہے۔

اس کے متعلق ظفرالاسلام خان کا کہنا تھا کہ رپورٹ کو عالمی سطح پر مثبت انداز میں لیا گیا اور اگر رپورٹ نہ بھی آتی تو ان کے حلقے میں تو اس طرح کی باتیں ہوتی ہی رہتیں کہ ’دیکھو سبق سکھا دیا۔‘ یہی سبق سکھانے کی بات دوسرے لوگوں نے بھی کہی ہے اور نعروں سے بھی یہ بات واضح ہوتی ہے۔

پولیس کے کردار پر بات کرتے ہوئے آئی پی ایس عبدالرحمان نے کہا کہ ’پولیس کو اپنا فرض نبھانا چاہیے تھا۔ اسے بھیڑ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا۔ پولیس کو پتا ہے کہ مرکز میں کس کی حکومت ہے لیکن اسے انڈیا کے آئین یا پولیس مینوئل کے تحت کام کرنا چاہیے تھا نہ کہ کسی کہ جانبداری کا مظاہر کرنا چاہیے تھا۔‘

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp