دہلی فسادات پر اقلیتی کمیشن کی رپورٹ: سنہ 1931 کے کانپور فسادات سے سنہ 2020 کے دہلی فسادات تک، 89 برسوں میں کچھ نہیں بدلا؟


مسلم نوجوان

فساد کرنے والوں کے نرغے میں ایک مسلمان دہلی فسادات کا جہرہ بن گئی

انھوں نے کہا کہ دہلی پولیس کے رویے پہلے ہی جانبدارانہ رہے ہیں۔ ’ایک جانب اگر دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی میں وہ طلبہ کے خلاف زیادہ قوت کا استعمال کرتی ہے وہیں جے این یو میں وہ خاموش تماشائی بنی رہتی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ وہاں تشدد کرنے والے کس مکتبۂ فکر سے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اب جبکہ رپورٹ سامنے آئی ہے تو مرکزی حکومت کو چاہیے کہ وہ اس میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرے کیونکہ دہلی پولیس ان کے دائرہ اختیار میں آتی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اس طرح کی رپورٹس پہلے بھی آتی رہی ہیں، چاہے وہ بھیونڈی کے فسادات ہوں یا پھر احمد آباد کے فسادات، لیکن ان کا خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا ہے۔

ابھے کمار نے بتایا کہ ’اس کے دونوں پہلو ہیں۔ منفی پہلو یہ ہے کہ رپورٹس کو دبا دیا جاتا ہے، اس پر کوئی عمل نہیں ہوتا ہے، حکومت ان پر زیادہ توجہ نہیں دیتی ہے۔‘

ایک پولیس افسر وبھوتی نارائن رائے نے بھی اپنی کتاب میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ کس طرح سے کمیشن کی رپورٹس دبی رہ جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر رپورٹس پر عمل بھی کیا جاتا ہے تو پولیس کے بڑے افسران کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی ہے اور اگر کچھ ہوتا بھی ہے تو نچلی سطح کے پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہوتا ہے۔‘

’اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ (دیسی) میڈیا کے تمام پراپیگنڈے کے باوجود بھی غریب مظلوم کی جانب سے حقائق کو کم از کم منظر عام پر رکھ دیا گیا ہے۔ اور تاریخ میں یہ بات درج ہو گئی ہے کہ کیا حقیقت ہے اور کیا فسانہ ہے۔ میں تو یہی کہوں کا کہ اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لیں اور جو ناانصافیاں ہوئی ہین اس کا تدارک کیا جائے۔‘

انھوں نے فسادات کے دوران دہلی حکومت اور بطور خاص اروند کیجریوال کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ’ہمیں پتا ہے کہ جب دہلی کے فسادات ہوئے تو کیجریوال صاحب کو انتخابات میں سیکولر جماعت کی زبردست حمایت ملی تھی اور لوگوں کا خیال تھا کہ فسادات کے دوران وہ بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آئیں گے لیکن وہ وہاں خاموش رہے اور انھیں لگا کہ زیادہ بولنے سے ان کا ووٹ بینک ختم ہو جائے گا۔‘

مجمع

آگے کا راستہ

رپورٹ میں چند باتوں کی جانب اقلیتی کمیشن کی توجہ مبذول کی گئی تو کچھ سفارشات دہلی اور مرکزی حکومت سے کی گئی ہیں۔

ڈاکٹر ظفرالاسلام خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے رپورٹ حکومت کو اور مختلف اداروں کو بھیج دی ہے اور اب فیصلہ انھیں کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ متاثرین کو انصاف ملے، معاوضہ ملے اور ہرجانے ادا کیے جائیں اور مستقبل میں ایسا نہ ہو پائے اس حوالے سے اقدام کیے جائیں۔

معاوضے کے متعلق انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس میں بہت فرق دیکھا گیا ہے۔ ’جو سرکاری افراد ہلاک ہوئے ہیں ان کے لیے تو ایک کروڑ روپے ہرجانے کا اعلان ہوا لیکن عام عوام کی موت پر ان کے اہلخانہ کو محض دس لاکھ دیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔‘

عبدالرحمان کہتے ہیں کہ انھوں نے کانگریس کے دور میں قائم کردہ ’سچر کمیٹی‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں یہ سفارش کی گئی تھی کہ نہ صرف پولیس متنوع ہو بلکہ ہندوستان کی مختلف برادریوں کی خاطر خواہ نمائندگی بھی ہو تاکہ اس قسم کے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔

پولیس کی گشت

اس کے متعلق ریسرچ سکالر ابھے کمار کا کہنا تھا کہ اس رپورٹ میں پولیس، انتظامیہ اور سیاسی رہنماؤں پر انگلی اٹھائی گئی ہے۔ ’میرے خیال سے متاثرین کو انصاف ملنا چاہیے جن لیڈروں نے اشتعال انگیزی کی ہے ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے اور پولیس ریفارم کی ضرورت ہے جو کہ ایک لمبی بات ہے کہ پولیس کو کس طرح جمہوری طور پر ذمہ دار بنایا جائے۔‘

’پرکاش سنگھ صاحب جیسے لوگ جو پولیس میں اصلاح کی بات کرتے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پولیس میں جو محروم اور محکوم طبقہ ہے اس کی نمائندگی بہت زیادہ نہیں ہے۔ میں نے جو مطالعہ کیا ہے اس میں یہ پایا ہے کہ محکمہ پولیس میں مسلمانوں کی مناسب نمائندگی نہیں ہے۔‘

اشوک سوائیں کی طرح ابھے کمار نے بھی نئی حکومت یعنی بی جے پی کی حکومت پر اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لینے کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے یہاں تک کہا کہ گذشتہ دنوں یہ خبر آئی تھی کہ اس سے قبل فسادات پر جو تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹس پیش کی گئی تھی اس میں سے وزارت داخلہ کی ویب سائٹ سے 13 رپورٹس کو ہٹا لیا گیا ہے۔

’جب میں نے اس بابت چھان بین کی تو پتا چلا کہ دسمبر 2018 میں انڈین میڈیا میں یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ سنہ 1961 کے بعد سے فرقہ وارانہ فسادات سے متعلق 13 تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹس غائب ہیں اور سینٹرل انفارمیشن کمیشن نے اس سلسلے میں سیکریٹری داخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ ان رپورٹس کے لیے ایک عہدہ دار کو تعینات کرے۔ اس کے بعد سے اس کے متعلق زیادہ معلومات نہیں ہیں۔‘

اشوک سوائیں اور ابھے کمار کا کہنا ہے کہ اس کے لیے سیکولر فورسز کے ساتھ آنے اور مستقل جدوجہد کی ضرورت ہے یعنی ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں۔

معروف تاریخ داں ہربنس مکھیا نے مجھے ایک انٹرویو کے دوران بتایا کہ انڈیا میں تمام تر تاریخی شواہد کی بنیاد پر ’پہلا فساد مغل بادشاہ اورنگزیب کی وفات کے بعد اٹھارویں صدی کی دوسری دہائی میں نظر آتا ہے اور وہ بھی مودی جی کے گجرات میں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ریاستوں کے درمیان خواہ کتنی ہی معرکہ آرائیاں کیوں نہ ہوئی ہوں لیکن سماجی سطح پر امن و امان قائم تھا۔

پروفیسر مکھیا نے کہا کہ ’ہم آج تاریخ کے اس مقام پر آ گئے ہیں کہ جہاں ہر سال 500 سے زیادہ فرقہ وارانہ فساد ہو رہے ہیں جبکہ پوری اٹھارویں صدی میں صرف پانچ ایسے فسادات کے شواہد ملتے ہیں جو تاریخی اعتبار سے اس کی تعریف پر پورے اترتے ہیں۔‘

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp