انور کانگو اور انڈونیشیا کا قتل عام

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تصور کیجیے کہ ایک قاتل جو قتل عام کا مرتکب ہوا ہو ۔ بے گناہوں کو اغوا، تشدد اور قتل کے بعد ان کی لاشیں ٹھکانے لگانا جس کا معمول ہو، اپنے گناہوں پر شرمندہ ہونا تو دور کی بات ان پر فخر محسوس کرے اور ان پر دوبارہ عمل پیرا ہونے کے لیے بے چین ہو۔ یہ 1965ء کا واقعہ ہے انڈونیشیا کا باشندہ انور کانگو نامی بے رحم قاتل جو بے گناہوں کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاشوں پر رقص کرکے جشن مناتا تھا۔ اس کا نشانہ زیادہ تر وہ لوگ تھے جن پر کمیونسٹ ہونے کا الزام تھا۔ انور کانگو کا انتقال 78 سال کی عمر میں نومبر 2019 میں ہوا۔ ایک دستاویزی فلم میں اداکاری کر کے اس نے شہرت اور بدنامی خوب کمائی اس فلم کا نام ”دی ایکٹ آف کلنگ“ تھا جو بعد میں آسکر ایوارڈ کے لیے بھی نامزد ہوئی۔ اس فلم میں کانگو نے اپنے جرائم کا اعتراف فخریہ انداز سے کیا ہے۔

فلم بندی کے لیے سیڑھی سے اپنی چھت پر چڑھ گیا وہاں اس نے لوگوں کو ہلاک کرنے کے لیے اپنے پسندیدہ طریقہ کار کے بارے میں بتایا۔

”گلا گھونٹ کر مارنے کے لیے ایک تار کے ٹکڑے سے بہتر کوئی چیز نہیں۔ کانگو نے بتایا کہ تشدد کر کے کسی کو ہلاک کرنا ایک مشکل اور تھکا دینے والا کام ہے۔ اس کام کے لیے میں نے ہمیشہ تار کا ٹکڑا ہی استعمال کیا۔ کیونکہ یہ بہت جلد اور بہت آسانی سے آپ کے شکار کو دوسری دنیا میں پہنچا دیتا ہے۔ عکسبندی کے بعد وہ فلمایا جانے والا منظر دیکھنے پر اصرار کیا کرتا تھا کیونکہ وہ چاہتا تھا کہ قتل کا منظر اتنا ہی بھیانک ہو جتنا اس کا جرم۔

اس نے کبھی بھی اپنے آپ کو مجرم نہیں سمجھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ وطن دشمنوں کمیونسٹوں سے اپنے ملک کو بچانے کے لیے فوج کا کام آسان کر رہا تھا جو اس کے ملک پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ فلم دیکھنے پر آپ جانیں گے کہ انور کانگو ایک سفید بالوں والا دبلا پتلا آدمی اعتراف کرتا ہے کہ ”میں نے تو صرف ایک ہزار لوگوں کو قتل کیا۔“ صرف ایک ہزار۔ یہ ایک ہزار لوگ ان لاکھوں لوگوں میں شامل تھے جنہیں انڈونیشیا کی فوج نے 1965-66 کے دوران موت کے گھاٹ اتارا۔

بدنام زمانہ جنرل سوہارتو اس فوج کی قیادت کررہا تھا۔ چھوٹے جرائم پیشہ گروہ بے رحم قاتل بنا دیے گئے اور مذہبی جنونی ایک خیالی دشمن سے اپنے دین کو بچانے میں مصروف ہو گئے۔ کانگو نے کہا کہ اس نے یہ سب کچھ بھلانے کی بہت کوشش کی اور یہ کہتے ہوئے وہ خوشی کے عالم میں ناچتے اور گانے لگا

”تھوڑی شراب اور تھوڑا سرور

جینے کے لیے بہت ہے حضور“

 فلم ” دی ایکٹ آف کلنگ“ میں آپ کو بہت سے دلخراش مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ ایک بدترین قتل عام کے مناظر جو 20 ویں صدی کے چہرے پر ایک بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس قتل عام میں امریکا کا گھناﺅنا کردار دنیا کے سامنے آیا جس نے انڈونیشیا کے عوام پر مظالم ڈھانے میں فوج کے معاون اور مدد گار کا کردار ادا کیا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مہذب دنیا یہ سب کچھ بھلا چکی ہے۔ ہمیں یہ باور کرایا جاتا ہے کہ 1960 کے عشرے میں جو حشر جنرل سوہارتو نے اپنے عوام کا کیا۔ اس سے کہیں برا حال اسٹالن نے اپنے لوگوں کا 1930 میں کیا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انڈونیشیا میں ہونے والے قتل و غارت کے بارے میں دنیا کم ہی جانتی ہے۔

1965 میں جنرل سوہارتو نے ”سیاسی صفائی“ شروع کی جس کے دوران کمیونسٹ نظریات، مذہب دشمنی اور بائیں بازو سے تعلق کے شبہے میں تقریباً 10 لاکھ لوگوں کا صفایا کردیا گیا۔ اکثر و بیشتر قاتلوں کو یہ بھی معلوم نہ ہوتا کہ یہ لوگ کون ہیں اور ہم انہیں کیوں مار رہے ہیں۔ ملک دشمن عناصر سے عوام کو تحفظ دینے کی دعویدار انٹلی جنس ایجنسیاں قاتلوں کو ملزمان کی فہرستیں پہنچاتی تھیں۔ ایک ناکام بغاوت کا جھوٹا الزام لگا کر فوج پورے انڈونیشیا میں مشتبہ لوگوں پر ٹوٹ پڑی۔ لیکن کیا لاکھوں کی تعداد میں لوگ مشتبہ ہوسکتے ہیں بالکل ہوسکتے ہیں اگر ریاستی ادارے فیصلہ کرلیں تو پوری قوم کو بھی شک کی نظر سے دیکھا جاسکتا ہے۔

فلم ” دی ایکٹ آف کلنگ“ دیکھنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انور کانگو ایک معمولی جرائم پیشہ نوجوان تھا۔ سینما کی ٹکٹیں بلیک کرنا اور اپنے علاقے میں رہائش پذیر چینی اقلیتی عوام سے بھتہ وصولی اس کا دھندہ تھا۔ فوج جنہیں اپنے اقتدار اور اختیار کے لیے خطرہ سمجھتی ہے انہیں ہمیشہ کے لیے خاموش کرنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ اپنے مقصد کے حصول کے لیے وہ انور کانگو اور اس جیسے سینکڑوں بلکہ ہزاروں نوجوانوں کو استعمال کرتی ہے کیونکہ ایسے نوجوانوں کو با آسانی حب وطن اور مقدس مذہبی فریضے کے نام پر اپنے گھناﺅنے مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ دفاع وطن کے جذبات سے سرشار یہ نا سمجھ نوجوان بے گناہوں کے قتل کو بھی جائز سمجھنے لگتے ہیں۔ اگر آپ جرائم پیشہ ہیں تو آپ کے لیے اپنے ”عقیدے اور وطن کا دفاع“ کسی کو بھی قتل کردینے کا موزوں جواز بن جاتا ہے۔ اور یہی کچھ انور کانگو نے کیا۔

انور کانگو ایک بدنام زمانہ قاتل گروہ کا سرغنہ بن گیا۔ اس گروہ نے ہزاروں لوگوں کو صرف اس شبہے میں قتل کردیا کہ ان کا تعلق بائیں بازو سے تھا۔ 50 سال گزرنے کے بعد بھی وہ شخص وہی کردار کیمرے کے سامنے دوبارہ ادا کرنے کا خواہش مند تھا ۔ اسے فخر تھا کہ فوج نے اسے قاتلوں کے گروہ کی قیادت کے لیے منتخب کیا تھا۔ فلم کے ڈائریکٹر جو شوا اوپن ہائمر نے کانگو سے اس کے پہلے قتل کے بارے میں دریافت کیا ”وہ ایک ناکام کوشش تھی“ کانگو بولا۔

انور کانگو اور اس کی فلم سے بھی زیادہ قابل مذمت وہ بیانیہ تھا جو ان بے گناہوں کو مارنے کے لیے اخذ کیا گیا تھا جس میں انہیں بد ذات، بداخلاق اور ملک دشمن قرار دیا گیا تھا۔ قتل عام کا جواز پیدا کرنے کے لیے فوج کے چھ جنرلوں پر ناکام بغاوت کا جھوٹا الزام لگاکر عبرت ناک سزائیں دے دی گئیں۔ جنرل سوہارتو نے مقبول رہنما سوئیکارنو کو معزول کرکے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرلیا۔ سوئیکارنو نے مذہب، کمیونزم اور قوم پرستی کے نعروں کو استعمال کرکے اپنی حکومت بچانے کی بہت کوشش کی۔ بالکل اسی طرح جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ عمل نعروں کی حد تک محدود ہونے کے باوجود بھی ناقابل قبول تھا۔ ان کو ختم ہونا ہی تھا اور اس کام کے لیے امریکا کی حمایت یافتہ فوج سے بہتر متبادل کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا۔

جنرل سوہارتو نے عوام میں یہ تاثر پھیلا دیا تھا کہ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگ دراصل لادینی اورشیطانی قوتوں کے آلہ کار ہیں اور اگر عوام نے ان کا محاسبہ نہ کیا تو یہ پورے ملک پر قابض ہوجائیں گے ۔ کیا آپ کو یاد نہیں کہ ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا کیا تھا اور آج کی تاریخ میں بی جے پی مسلمانوں کے ساتھ کیا کررہی ہے یا اسلامی ملکوں بشمول پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ ہونےو الی ناانصافیاں کیا مختلف نوعیت کی حامل ہیں۔ کچھ ممالک میں ریاستی ادارے اس عمل میں ملوث ہیں جبکہ دیگر ملکوں میں یہ کام جنگ کو ہر مسئلے کا حل سمجھنے والوں، قوم پرستوں اور مذہبی فرقہ پرست تنظیموں نے سنبھالا ہوا ہے۔ جنہیں ریاستی اداروں کی بھرپور پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔

یہی سب کچھ آج سے پچاس سال پہلے انڈونیشیا میں ہوتا رہا۔ یہ تمام اقدامات آمرانہ حکومتوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ حکومت کس قسم کی ہے یا اس کی قانونی حیثیت کیا ہے، یہ عرب ممالک جیسی بادشاہتیں ہو سکتی ہیں یہ انڈیا اور پاکستان جیسی جعلی جمہوریت ہوسکتی ہے اور عوام کے بنیادی حقوق غصب کرنے والی فوجی آمریت ہوسکتی ہے۔ مثلاً انڈونیشیا میں جنرل سوہارتو اور پاکستان میں جنرل ضیا کی حکومت اور اگر آج کی بات کریں تو مصر اور تھائی لینڈ میں آج بھی فوجی حکومتیں قائم ہیں۔ عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اکثر وبیشتر حکمران نیا نظام لانے کی بات کرتے ہیں۔ جنرل سوہارتو نے یہی کیا۔ لیکن یہ نیا نظام اس کے اقتدار اور اختیار میں اضافے کا موجب بن گیا جو ایک جمہوری نظام کے ہوتے ایک ناممکن سی بات لگتی ہے۔

سوہارتو کے اس نئے نظام کو فوج کی بھر پور حمایت حاصل تھی کیونکہ اس کے سب سے زیادہ فائدے فوج ہی کو حاصل ہونا تھے۔ جنرل سوہارتو کے دور حکومت میں بنیادی انسانی حقوق کی بات کرنا آ بیل مجھے مار والی بات تھی۔ یہاں تک کہ سوہارتو کے بعد بھی اگر نوجوان اپنے والدین سے ماضی کے حوالے سے کوئی سوال کرتے تو جواباً انہیں خاموشی کے علاوہ کچھ نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ فوج سوہارتو کے بعد بھی ہرجگہ قابض تھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ ایک سابق جنرل کے ظالمانہ اقدامات زیر بحث لائے جائیں۔ یہ ایک ایسا پنڈورا بکس تھا جس کے کھل جانے کے بعد لوگ فوج اس کے بیانیے اور اس کے غیر قانونی اقدامات پر سوال اٹھانا شروع کردیتے جو فوج ہرگز نہیں چاہتی تھی۔ چنانچہ فوج کے غیر قانونی اقدامات اور اس کے مظالم کو شجاعت اور بہادری کے قصے بناکر پیش کیا گیا اور سب پر لازم تھا کہ ان کو احترام کی نظر سے دیکھیں۔

انڈونیشیا کی فوج نے اپنے تقریباً 10 لاکھ مخالفین کو قتل کرنے کے علاوہ ہزاروں نوجوانوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا اور بغیر مقدمہ چلائے انہیں طویل مدت کے لیے جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ اگر مقدمہ چلے گا ثبوت دینا پڑے گا اب ثبوت کہاں سے آئے۔ لہٰذا ان نوجوانوں کو سالہاسال کے لیے حراستی مراکز میں پھینک دیا جاتا یا قتل کرکے ان کی لاشیں بہا دی جاتی تھیں۔ اگر لاش مل بھی جائے تو کون جانے کہ مرنے والا کسی خاندانی جھگڑے میں ہلاک ہوا یا پھر خود کشی کا مرتکب ہوا۔ جنرل ایوب خان کے دور حکومت حسن ناصر کی موت پر اس کے ورثا سے بھی یہی کہا گیا ۔ جنرل ضیا کے دور میں نذیر عباسی کے ساتھ بھی یہی کہانی دہرائی گئی۔

1966 میں جنرل سوہارتو نے سوئیکارنو کو مجبور کیا کہ وہ اپنے اختیارات استعمال کرکے اسے صدر نامزد کردے اور بالکل یہی جنرل مشرف نے خود اپنے لیے کیا۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں لیکن ہمارے لیے بہتر یہی ہے کہ ہم اس بارے میں مزید کوئی بات نہ کریں۔ ہم انور کانگو کو تحفظ کیسے فراہم کرتے ہیں۔ ہم اس کے لیے ایک انوکھا بیانیہ تیار کرتے ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کو اثر و رسوخ اور باعزت مقام عطا کردیتا ہے۔ یہ لوگ قانون کی دھجیاں بکھیرتے ہیں۔ آئین کو تہس نہس کر دیتے ہیں۔

”جب تک ہمارے کانگو زندہ ہیں ہمارا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا“

سفید کو سفید اور سیاہ کو سیاہ آپ ضرور کہیے لیکن اپنی ذمہ داری پر۔ کانگو زندہ۔ طاقت باقی

(ترجمہ: محمد نادر)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply