توہین رسالت کے ملزم کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے ملزم فیصل کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی سیلفی پر سوشل میڈیا پر بحث

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ رات سے سوشل میڈیا پر پشاور پولیس کے ایلیٹ سکواڈ کی ایک وائرل سیلفی زیرِ گردش ہے۔ تصویر ایک پولیس وین کی ہے جس میں سات پولیس اہلکاروں کے بیچ سفید لباس اور سر پر سفید ٹوپی پہنے نوجوان کیمرے کو دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔

نوجوان کے اردگرد پولیس اہلکار کچھ اس انداز میں بیٹھے تصویر کے لیے پوز کر رہے ہیں جیسے آپ کا کوئی عزیز، رشتہ دار یا دوست کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دے کر آئے تو آپ اس کے ساتھ چپک چپک کر سیلفیاں بناتے ہیں۔۔۔ یہ بھی کچھ ویسی ہی تصویر تھی۔

مگر فرق صرف یہ ہے کہ اس سیلفی میں سفید لباس میں ملبوس نوجوان کوئی اور نہیں فیصل عرف خالد ہیں جنھوں نے گذشتہ ہفتے پشاور میں توہین رسالت کے مقدمے میں نامزد ایک ملزم طاہر احمد نسیم کو کمرہ عدالت میں جج کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ مذکورہ سیلفی ملزم فیصل عرف خالد کو عدالت لے جاتے یا واپس لاتے ہوئے پولیس کی بکتر بند گاڑی میں لی گئی ہے۔

سوشل میڈیا پر چند صارفین کو یہ تصویر دیکھ کر سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہینِ رسالت کے شبہے میں 28 گولیاں مارنے والے پولیس کانسٹیبل ممتاز قادری کی وہ تصاویر یاد آ رہی ہیں جن میں عدالت پیشی کے موقعے پر کوئی ان پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں نچاور کر رہا تھا تو کوئی ان کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈال رہا تھا تو کوئی اُن کا ماتھا چوم رہا تھا۔

ممتاز

شاید آنے والے دنوں میں ویسے مناظر پھر سے دیکھنے کو ملیں جن کی پہلی جھلک یہ سیلفی اور سوشل میڈیا پر وائرل فیصل عرف خالد کی اس سے ملتی جلتی چند دیگر تصاویر کو دیکھ کر ملی ہے۔

سوشل میڈیا صارفین پولیس کے ساتھ فیصل کی اس تصویر پر اپنی اپنی آرا کا اظہار کر رہے ہیں، آئیے اس کے متعلق کیے جانے والے چند تبصروں پر نظر دوڑاتے ہیں۔

بختاور فیصل کہتی ہیں ’اگر کسی قاتل کی اس طرح سے حوصلہ افزائی کی جائے گی تو کون مذہب کے نام پر قتل نہیں کرنا چاہے گا؟‘

سماجی کارکن اور معلمہ ندا کرمانی کہتی ہیں ’یہ پولیس افسران ریاست میں پیدا ہونے والے تضادات کو واضح کرتے ہیں، ایک طرف ان سے قاتل جیسا برتاؤ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف اس ذہنیت کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے جو اس قتل کا باعث بنی۔‘

وفاقی وزیر شیرین مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری کہتی ہیں ’کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان میں کبھی بھی کچھ نہیں بدلے گا۔ قاتل ممتاز قادری کے بعد، ہم ابھی مزید انتظار کر رہے ہیں۔ ان افراد کا کام ’سکیورٹی‘ اور امن و امان برقرار رکھنا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ وہ کسی اور ہی چیز پر ایمان رکھتے ہیں۔‘

کئی صارفین وزیرِ اعظم عمران خان کو ٹیگ کرتے یہ بھی پوچھتے نظر آئے کہ ’اچھا یہ ہیں وہ پولیس ریفارمز جن کا آپ بہت ذکر کرتے تھے؟‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں ایسا تو ہونا تھا کیونکہ خود وزیرِ اعظم کے نزدیک اسامہ بن لادن ’شہید‘ ہیں۔

عدنان صدیقی نامی صارف کہتے ہیں ’ماورائے عدالت قتل کرنے والے کے ساتھ سیلفیاں لیتے پولیس اہلکار۔ جناب کیا ایک ریاست اور اس کے اہلکاروں کا ایسا برتاؤ جائز ہے؟یہ انتہائی تشویشناک رجحان ہے جو مستقبل میں کسی بھی وزیر، گورنر کی جان لے سکتا ہے۔ براہ کرم درست سگنل بھیجنے کے لیے کارروائی کریں۔‘

رافع نامی صارف کہتے ہیں ’نا جانے کب کوئی ممتاز قادری ایک اور سلمان تاثیر شہید کر دے گا اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے۔‘

توصیف نامی صارف کہتے ہیں ’اگر امن و امان کے رکھوالے کسی (مبینہ) قاتل کی ایسے حوصلہ افزائی کر رہے ہیں تو پھر یہ بات عیاں ہے کہ ہم بحیثیت قوم برباد ہو چکے ہیں۔‘

ناصر احمد کہتے ہیں ’ممتاز قادری کے بعد پاکستان کا ایک اور (مبینہ) قاتل ہیرو ’غازی خالد‘۔۔ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں ’دنیا میں کوئی اور قوم ایک قاتل کی اتنی حمایت نہیں کرتی ہو گی۔‘

بگارتھم نامی صارف اس تصویر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’اس سے آگے مستقبل آج سے بھی زیادہ تاریک ہو گا۔‘

کئی صارفین ان پولیس اہلکاروں کے خلاف ایکشن اور ان کی برطرفی کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔

ایسے ہی ایک صارف ڈیک ڈار نامی بھی اس بات پر سیخ پا ہیں کہ ایک خاتون پولیس اہلکار کو تو صرف ایک ٹک ٹاک ویڈیو بنانے پر نوکری سے نکال دیا گیا، لیکن ان پولیس اہلکاروں کے خلاف اب تک کوئی ایکشن کیوں نہیں لیا گیا؟‘

صحافی اور مصنف محمد تقی بھی اُسی واقعے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ شہزادے ترقیاں پائیں گے اور وہ ٹک ٹاک والی کانسٹیبل پولیس نوکری سے نکال دی گئی۔‘

بیشتر صارفین یہ بھی کہتے نظر آئے کہ اب تو سمجھ جائیے ’کورٹ روم تک اسلحہ کیسے پہنچا ہو گا۔‘

جہاں کئی صارفین اس سیلفی اور پولیس کے کردار پر تنقید کرتے اور یہ کہتے نظر آئے کہ ایک قاتل کی حوصلہ افزائی کرنا بند کیجیے، وہیں کئی صارفین توہین رسالت کے ملزم کو قتل کرنے والے فیصل عرف خالد کے ساتھ پولیس کی تصویر دیکھ کر خاصے خوش ہیں اور انھیں دنیا کا واحد قیدی قرار دے رہے ہیں جن کے ساتھ پولیس بھی سیلفی لینے پر فخر محسوس کرتی ہے۔

ایسے ہی ایک صارف ابراہیم محمد کہتے ہیں ’اللہ نے رسول اللہ کے عاشقوں کے لیے ہر عام و خاص کے دل محبت، احترام اور ادب سے بھر دیے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خالد کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکار ان کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے فخر محسوس کررہے ہیں۔‘

اے ایس عوان کہتے ہیں ’14 سالہ بچے کو اللہ نے کیا شان دی ہے، کیا عالم، کیا وکیل، کیا پولیس ہر ایک ان کو دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں، ملنے کے لیے بے تاب ہیں، ساتھ سیلفی کھینچنے کے لیے بے تاب ہیں۔‘

کچھ لوگ پولیس اہلکاروں کے خلاف ایکشن کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کئی ملزم فیصل عرف خالد کی رہائی کا۔۔۔ خیر جمال خان نے اس ساری صورتحال کو اس مصرعے میں سمویا ہے ’یہ دیس ہے اندھے لوگوں کا اے چاند یہاں نا نکلا کر۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15385 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp