ڈالر کی دہشت گردی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج امریکہ ہی وہ ملک ہے جس کے بل بوتے پر سرمایہ دارانہ نظام استوارہے اور اس معیشت سے وابستہ منتظمین کی عاقبت نااندیشی کے باعث آج پوری دنیا بحران کا شکار ہے۔ گلوبلائزیشن یعنی صنعت و تجارت کو عالمگیر نوعیت دے دیے جانے کی وجہ سے پوری دنیا کی معیشت بچوں کے کھیل میں ان سیدھی کھڑی کی گئی اینٹوں کی قطار کی مانند بن چکی ہے جس کی ایک اینٹ اگر اوندھی ہو جائے تو باقی اینٹیں بھی گرتی چلی جاتی ہیں۔

عالمگیریت کا یہ عمل نہ تو زمبابوے کے عوام نے تخلیق کیا اور نہ ہی کمبوڈیا کے حکام نے اسے پروان چڑھایا۔ کثیرالقومی کارپوریشنوں میں بڑی بڑی حکومتوں، اداروں اور دنیا کے امیر ترین افراد کا پیسہ لگا ہوا ہے جبکہ کوکاکولا بلوچستان کے ان علاقوں میں بھی دستیاب ہے جہاں کے جوہڑوں کا پانی انسان اور مویشی اکٹھے استعمال کرتے ہیں اور ہیڈ اینڈ شولڈر شیمپو کا ساشے ان علاقوں میں بھی مل جاتا ہے جہاں عورتوں کے سروں کے بال دوردراز سے پانی کے گھڑے سر پر اٹھا کر لانے کی وجہ سے اڑ گئے ہیں۔

صنعتی طور پر ترقی یافتہ ممالک کے ارباب اقتدار کو ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کے لوگوں کے مسائل کا دکھ نہیں کھائے جا رہا جو وہ عالمی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے جتن کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے اپنے ملکوں کی ”عظمت“ اور ”بڑا پن“ ان لوگوں کی خریداری کی رہین منت ہے جو خود ذلتوں کے مارے ہوئے ہیں۔ سرمایہ داری کا ایک بنیادی قصد لوگوں کی جیب سے منافع کی مد میں ”زر“ نکلوا کر اسے سرمایہ دار کے لیے اکٹھا کرنا ہوتا ہے اسی لئے جدید سرمایہ داری نے صارفیں کے معاشرے پروان چڑھائے ہیں تاکہ لوگ چاہے نہ چاہے ہر وہ چیز خرید لیں جسے اشتہار بازی کے ذریعے ان کی ضرورت بنا دیا گیا ہے۔

زیادہ نہ سہی کم لے لیں، بڑی نہ سہی اسی طرح کی چھوٹی چیز لے لیں، آج نہ تو کل لے لیں، بس جان ماریں اور قیمت اکٹھی کریں۔ وہ لوگوں کو خواب دکھاتے ہیں اور خواب دیکھنا کسے اچھا نہیں لگتا اور بالخصوص ان لوگوں کو جن کے پاس خوابوں کے علاوہ اور کچھ ہوتا بھی نہیں، مثال کے طور پر ایک مغرب کی کمپنی نے جھریوں کو دور کرنے والی اپنی کریم کی زوردار اشتہار بازی کی تھی، اس کریم کی قیمت بہت زیادہ تھی لیکن اچھا دکھائی دینے کا خواب دیکھنے والی غریب ترین عورتوں نے سالہا سال بچت کرکے اس کریم کو دوسرے معاشی حلقوں کی عورتوں سے زیادہ خریدا تھا اور پھر یورپ، امریکہ اوردوسرے ممالک میں لاٹری ٹکٹ بیچے جانے کا ہدف وہی لوگ ہوتے ہیں جو لاکھوں کروڑوں اچانک پا لینے کی امید میں زیادہ سے زیادہ، کچھ نہ کچھ خرچ کر لیں، ٹکٹ خریدنے والوں کی انتہائی بڑی تعداد میں انعام پا لینے کا اتفاق آسمانی بجلی کا شکار ہو جانے سے بھی کم ہوتا ہے۔

خریداری میں جدت پسند متوسط طبقہ پیش پیش ہوتا ہے اگر عالمی بحراں اس طبقے کو ہی لے ڈوبا تو پھر بڑے صنعتی ممالک کی تیار کردہ اشیا کون لے گا۔ الیکٹرونک مصنوعات، گاڑیاں، سامان آرائش اور سامان زیب و زینت یا تو کارخانوں کے گوداموں میں پڑے پڑے اپنی قدر کھو دیں گے یا پھر دکانوں پہ دھرے دھرے کوڑیوں کے دام بیچنے پڑیں گے۔ روس، امریکہ، برطانیہ، فرانس، چین اور اسرائیل کا اسلحہ کون خریدے گا؟ جنگی بحری جہاز، لڑاکا اور بمبار طیارے، آبدوزیں، میزایل اور ضد میزائل تیار کیے جانے کی فرمائشیں کیونکر ہوں گی ؟

ان ممالک کو ان خدشات کے حقیقت میں ڈھل جانے کے خوف کے علاوہ ایک اور روگ بھی ہے کہ یہ ملک اور پوری دنیا ”ڈالر کی دہشت کردی“ کا شکار ہے۔ ہرملک کے خزانے اوردنیا بھر کی منڈیوں میں ڈالر کا سانپ کنڈلی مارے بیٹھا پھنکار رہا ہے جس سے بچ کر نکل جانے کی کوئی تدبیر تا حال کارگر نہیں ہو پا رہی۔ دنیا میں زر مبادل کی پانچ کرنسیاں یعنی ڈالر، یورو، سٹرلنگ پاؤنڈ، ین اور یوان اہم ترین ہیں لیکن ماہرین کے مطابق جس قدر ڈالر گردش میں ہیں کوئی اور کرنسی نہیں، اس وقت یہ مقدار ایک کواڈریلین دو سو ٹریلین ڈالر کے مساوی ہے جو 1200000 ارب ڈالر بنتے ہیں۔ امریکہ میں ڈالر چھاپنے کے کم از کم چار کارخانے سالہا سال سے چوبیس گھنٹے، بلاتوقف ڈالر نوٹ چھاپنے میں مصروف ہیں۔ امریکہ کے علاوہ ڈالروں کی سب سے زیادہ مقدار چین، جاپان اور روس کے پاس ہے۔

چین نے دو طرح سے، کسی حد تک ڈالر سے چھٹکارا پانے کی کوششیں شروع کی ہیں۔ ایک تو وہ اپنے خزانے سے عالمی مالیاتی فنڈ کو 5 ارب ڈالردے رہا ہے اور دوسرے اس نے ڈالر کے عوض دوسرے ممالک کی کرنسیاں خریدنا شروع کی ہیں۔ ساتھ ہی چین روس، پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں تجارتی لین دین کرنے لگا ہے۔ روس نے بھی اپنے خزانے کا ایک بڑا حصہ یورو سے بدل لیا ہے، مگر اس کے برعکس سرمایہ دار روبل اور ین کو ڈالروں میں بھنا کر سرمایہ باہر منتقل کر رہے ہیں، اور اگر کبھی یہ سرمایہ اپنے ملک لوٹا بھی تو اسی سانپ کی شکل میں لوٹے گا، جس کے ڈسوں کے پاس فی الحال اس کا تریاق نہیں ہے اور وہ اٹکل پچو سے علاج کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔

ایک پدم بیس سنکھ ڈالر کا یہ ”پدم ناگ“ اتنا عظیم الجثہ عفریت ہے جس کے انگ انگ پر بھی اگر تدابیر کے نیزوں کی انیاں چبھوئی جائیں تو ماسوائے اس کی پھنکار مزید مہیب ہونے کے اس کے وجود کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا بلکہ وہ جو کہتے ہیں کہ زخم خوردہ سانپ اور بھی خطرناک اور منتقم ہو جاتا ہے۔ دنیا کے ڈھائی سو سے زیادہ ممالک کی اکثریت اور دنیا کے بینکوں کا بیشتر اسی سانپ کو دودھ پلانے پر مجبور ہے، یہ بلا سمندر سمندر پار، بر اعظموں پر محیط تا حتٰی بین الاقوامی خلائی سٹیشن کے اخراجات اور خلائی سیاحوں سے ڈالر کی شکل میں معاوضہ کیے جانے کی شکل خلا تک پھیلی ہوئی ہے۔ جب تک امریکہ اپنی مالیاتی چابکدستیوں سے گریز نہیں کرے گا تب تک عالمی مالیاتی بحران انجام کو نہیں پہنچے گا۔

سبھی جانتے ہیں کہ مالیاتی بحران سے با لترتیب چین، ہندوستان اور روس نکلتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ چین بہت زیادہ آبادی اور منظم و مربوط سیاسی نظام کے طفیل اپنی پیداوار کی اندرون ملک مانگ میں اضافہ کر رہا ہے اور اپنے دولت کے ذخائر کے باعث اشیا کی قیمتیں گھٹا سکتا ہے۔ ہندوستان ملک ملک تجارتی روابط کی وجہ سے معیشت کی ترقی جاری رکھے ہوئے ہے اور روس کے پاس محفوظ سرمایہ ہے۔ ڈالر کی دہشت گردی سے یا تو انتہائی حد پر صارف معاشرے متاثر ہیں اور یا پھر امداد اور قرضوں پر تکیہ کرنے والے ممالک کے مجبور بے شعور عوام۔

کورونا کی عالمی وبا کے بعد چین کی معیشت پھر سے سنبھلنا شروع ہو چکی ہے۔ ہندوستان اور روس کی معیشت کو پھر سے کھڑا ہونے میں کچھ وقت لگے گا لیکن چونکہ اس وبا کے باعث دنیا کے تقریباً سبھی ملکوں کی معیشتیں متاثر ہوئی ہیں چنانچہ معیشتوں میں بہتری کی ترتیب بھی وہی رہے گی جو پہلے سے موجود ہیں چنانچہ وبا کے بعد کے عالمی معاشی منظر نامہ میں بھی ڈالر مستحکم ہی رہے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply