مسخری باز حکمران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس دور حکومت میں ایک تبدیلی یہ ضرور آئی ہے کہ کچھ سال پہلے لوگ قربانی سے پہلے حکومت کی قربانی کی باتیں کرتے تھے لیکن اب قربانی کے بعد حکومت قربان ہونے کی نوید سنا رہے ہیں. قربانی ہو گی یا نہیں اس پر بعد میں بات کریں گے لیکن اس سے پہلے اس حکومت کے کچھ اقدامات کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے جو تفنن طبع کا باعث بن رہے ہیں. گزشتہ ادوار میں حکومتیں عوام کو اپنی کارکردگی سے مطمئن کرنے کی کوشش کرتی تھیں لیکن موجودہ حکومت انتہائی ڈھٹائی سے اپنی ہر نااہلی کا الزام گزشتہ حکومتوں پر دھرنے میں یدِ طُولٰی رکھتی ہے. کارکردگی اور اہلیت میں فقدان کے سبب جو کام سیدھے انداز میں ہو سکتے ہیں یہ حکومت انھیں اس قدر پیچیدہ انداز میں کرتی ہے کہ وہ جگ ہنسائی کا سبب بن جاتے ہیں.

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزا کے خلاف اپیل کا حق دینے کیلئے صدارتی آرڈیننس جاری کرنے کا معاملہ ہو یا فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) کی بلیک لسٹ سے بچنے کیلئے ترامیم کرنی ہوں، حکومت اپوزیشن پر الزام دھرنا فرض اولین سمجھتی ہے. ماہر قانون محترم اکرم شیخ صاحب کہتے ہیں کہ کلبھوشن یادیو کو پہلے ہی اپیل کا حق حاصل ہے اس لئے بھارتی جاسوس کیلئے کسی نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں تھی. سابق اٹارنی انور منصور نے بھی عالمی عدالت انصاف کو یہی بتایا کہ ہمارے نظام انصاف میں فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف پہلے ہی اپیل کا حق موجود ہے. انہوں نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ کے فوجی عدالت کا فیصلہ معطل کرنے کو بطور نظیر پیش کیا.

اس کام کیلئے ایک نئے آرڈیننس کی ضرورت نہیں تھی مگر وزیراعظم عمران خان اور ان کے ہمنواؤں نے کسی انجانے دباؤ کے تحت پہلے راتوں رات ایک آرڈیننس جاری کیا اور پھر اپوزیشن پر سیاست کرنے کا الزام دھر دیا. کلبھوشن یادیو کے معاملہ پر ائیر فورس کے ایک ریٹائرڈ گروپ کیپٹن سلطان حالی کا مضمون نظروں سے گزرا جس میں انہوں نے بھونڈے انداز میں حکومت کا دفاع کرتے ہوئے اسے اپوزیشن جماعتوں کا چائے کی پیالی میں طوفان قرار دیا. دفاعی تجزیہ نگار اپوزیشن پر تبرا بھیجنے کے باوجود یہ بتانے سے قاصر رہے کہ جب اپیل کا حق پہلے سے ہی حاصل تھا تو پھر اس خفیہ آرڈیننس کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی، اگر عالمی عدالت انصاف کے فیصلہ کی وجہ سے نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں تھی تو آخر کس کی ایما پر یہ آرڈیننس جاری ہوا. دفاعی تجزیہ نگاروں کا اپنے سیاسی عزائم کی خاطر حقائق سے روگردانی کرنا افسوسناک ہوتا ہے.

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (FATF) نے گزشتہ دو سال سے پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کیا ہوا ہے. عمران خان کے وزیراعظم بننے سے پہلے دئیے گئے بیانات اگر بھول بھی جائیں تو وزیراعظم بننے کے بعد عالمی میڈیا کے سامنے کئے گئے اعتراف بھلائے نہیں بھولے جا سکتے جب وہ دنیا کے سامنے یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری صف اول کی ایجنسی القائدہ اور طالبان کے دہشت گردوں کی تربیت کرتی رہی ہے. کل تک جن باتوں میں ابہام تھا مسخری باز حاکم نے اسے اقوام عالم کے سامنے مستند حقیقت بنا دیا. انہی بیانات سے بھارت کو پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کا نیا موقع مل گیا. اسی لئے پاکستان کو مزید پابندیوں میں دھکیلنے کیلئے بھارت کی جانب سے دہشت گردوں کی سرپرستی کے پرانے الزامات بڑھ چڑھ کر دہرائے جانے لگے.

ٹاسک فورس کی بلیک لسٹ میں شامل ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان کچھ قوانین کا نفاذ اگست سے قبل کرتا. بھارتی پروپیگنڈا کا توڑ کرنے کیلئے بھی ضروری تھا کہ اپوزیشن سے مل کر جامع حکمت عملی ترتیب دی جاتی تاکہ پاکستان کو بلیک لسٹ کروانے کا بھارتی خواب چکنا چور ہو سکے مگر منقسم مزاج حاکم نے مسخری کرتے ہوئے اس اہم قانون سازی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی بجائے اپوزیشن کو رگیدنا ضروری سمجھا کہ وہ سزاؤں میں ریلیف حاصل کرنے کیلئے نیب قوانین میں ترامیم چاہتے ہیں. حکومت نیب کو استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن کو ڈرانے کیلئے سی پیک منصوبوں پر بےسروپا الزامات لگاتی ہے اور انہی الزمات کو استعمال کرتے ہوئے امریکا سی پیک کی شفافیت پر سوال اٹھا رہا ہے. ان الزمات سے جہاں پاکستان کو معاشی نقصان ہو رہا ہے وہیں چین پر بھی انگلیاں اٹھ رہی ہیں. بقول مرزا غالب
ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو

ابھی یہ سب تھما نہیں تھا کہ حکومتی عالی دماغوں کو نقشہ پر کشمیر فتح کرنے کا اچھوتا آئیڈیا سوجھ گیا. بھارت نے یکطرفہ طور پر آرٹیکل 370 کی تنسیخ سے مقبوضہ کشمیر کی جو خصوصی حیثیت ختم تھی اسے ایک برس بیت چکا ہے. سات لاکھ فوج کے محاصرے میں کشمیری عوام جو آج بھی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں وہ انکے آہنی جذبہ کی عکاس ہے. انکی امیدوں کا محور آج بھی پاکستان ہے. کشمیری عوام کے ساتھ اس سے بڑی مسخری اور کوئی نہیں ہو سکتی کہ جب بھارت نے ان پر کرفیو مسلط کیا ہوا تھا اور وہ پاکستان کی جانب امید بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے تو پاکستانی حاکم بھارت کو سلامتی کونسل کا غیر مستقل ممبر بنوانے میں مددگار بنے ہوئے تھے. ’یوم استحصال‘ پر نقشے جیسا سنگین مذاق مشکلات کا شکار کشمیری عوام کے کے زخموں پر نمک پاشی بھی ہے اور یہ حکومت کی جانب سے ان کا استحصال بھی ہے جو آج بھی پاکستان کے ساتھ جڑنے کا خواب دیکھ رہے ہیں.

جس وقت بھارت کو لداخ میں چین کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانی پڑی عین اسی وقت مسخری باز حاکموں کا جگ ہنسائی جیسے اقدامات سے بھارت کیلئے سہولت کاری کرنا بہت سوں کیلئے حیرانی کا سبب ہے. بہتر ہوتا کہ آج کے دن ساری اپوزیشن قیادت کے ساتھ آزاد کشمیر جا کر مقبوضہ کشمیر کے باسیوں کو اپنائیت کا پیغام دیا جاتا مگر وزیراعظم اور انکی کابینہ نے روایتی بےحسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسخریاں کرنا مناسب سمجھا.

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply