ظفر عمران کی افسانوی دنیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسکرپٹ رائٹر، ایکٹر، ڈائریکٹر، پروڈیوسر۔ ۔ ۔ اتنے بھاری بھرکم سابقے لاحقے سن کر آدمی ویسے ہی تعارف سے متاثرہو جاتا ہے۔ ہم جیسا مگر سہما سہما فاصلے پر رہتا ہے۔ اس لیے ظفرعمران سے فیس بک کی سلام دعا کے باوجود ہم ایک محتاط فاصلے پر ہی تھے، تاوقتیکہ ان کی افسانوی دنیا سے آشنائی نہ ہوئی۔ گلزار صاحب شاید پہلے فلم ڈائریکٹر تھے جنھوں نے اپنے افسانوں کی کتاب ’دستخط‘ کے نام سے چھاپی۔ ایک انٹرویو میں کسی نے پوچھا، فلم اور ڈرامہ لکھنے کے باوجود افسانے کا وقت کیسے مل گیا؟ فرمایا، کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں جو فلموں اور ڈراموں میں نہیں سما سکتیں، ان کہانیوں کو میں افسانے میں ڈھال لیتا، یہ کچھ کہانیاں ایسے ہی جمع ہوگئیں۔

ظفر عمران کی کہانیوں سے متعلق بھی پہلا تاثر یہی بنتا ہے کہ یہ ایک ڈرامہ نگار کے ذہن رسا میں آئے ایسے خیال ہیں جنھیں ڈرامے میں نہیں سمویا نہیں جا سکتا تھا، اس لیے انھوں نے اسے کہانیوں میں سمو دیا۔

’آئنہ نما‘ ان کا افسانوی مجموعہ ہے۔ چودہ کہانیوں پر مشتمل اس مجموعے میں چار صفحات کی کہانیاں بھی ہیں اور چودہ صفحات کی بھی۔ اور ان کہانیوں کا حاوی موضوع ہے ؛ سیکس۔ جنس اور اس سے متعلقہ موضوعات ظفر عمران کے پسندیدہ ہیں۔ اسی لیے ان کے وہی افسانے زیادہ مضبوط، کامیاب اور اچھے ہیں جو انھی موضوعات سے متعلق ہیں۔ جیسے، ”گھنٹی والی ڈاچی اور فریب کار بانسری“ ، ایک پاکیزہ سی گنہ گار لڑکی ”،“ ایک کال گرل کی کہانی ”،“ اپسرا ”،“ من کا پاپی اور عشق ممنوع ”وغیرہ۔ اور شاید اسی لیے ان کی کمزور ترین کہانی جنگ کے موضوع پر ہے ؛“ فرقہ امید پرستوں کا ”۔ جس میں شمالی علاقہ جات میں طالبانائزیشن کو موضوع بنایا گیا ہے، مگر کہانی کا بیانیہ اور اختتامیہ نہایت کمزورہیں۔

ظفر عمران چونکہ بنیادی طور پر ڈرامے کے آدمی ہیں، اس لیے کہانی کہنا انھیں خوب آتا ہے۔ البتہ ڈرامے میں جس طرح اس کا نقطہ عروج (ٹرننگ پوائنٹ) اہم ہوتا ہے، افسانے میں یہی اہمیت اس کے کلائمیکس کی ہے۔ ظفر عمران اس معاملے میں زیادہ محنت نہیں کرتے۔ اس کے برعکس انھوں نے افسانوں کے عنوان پر زیادہ توجہ دی ہے۔ اکثر افسانوں کے عنوان ہی انھیں پڑھنے پر مائل کرنے کو کافی ہیں۔ جیسے، ”کرشن چندر سے بڑا ادیب۔“ اچھی خاصی کہانی ہے۔

مگر آخری غیرضروری فقرہ سارے تاثر کو زائل کر دیتا ہے۔ جب کہ کہانی اس کے بغیر بھی مکمل ہے۔ البتہ اس سے قبل آنے والاسیکنڈلاسٹ فقرہ کچھ زیادہ ہی مبالغہ آمیز ہو گیا ہے۔ جہاں معروف مصنف ’نئے لکھاری سے کہتا ہے، ”۔ ۔ ۔ نئے ادیبوں کی کتابوں پر فلیپ لکھ کر اتنا کما لیتا ہوں، جتنا تمام عمر ادب پارے لکھ کر نہیں کمایا۔“ کہانی چونکہ پاکستان کی ہے، سو پاکستان میں ایسا شاید ہی کوئی ادیب ہو جو فلیپ نگاری سے اتنا کمالیتا ہو۔ پیسے کی جگہ شہرت کا تذکرہ ہو تو اور بات ہے۔ ملک بھر میں دو چار ہی ادیب ہیں جنھیں قابل ذکر رائلٹی ملتی ہے۔

اس طرح کی معمولی لغزشیں کچھ اور افسانوں میں بھی ہیں۔ مثلاً مجموعے کے شاندارافسانہ ”ایک پاکیزہ سی، گنہ گار لڑکی“ میں ایک کال گرل کو، اس کے امیر کبیر خریدار کی نسبت زیادہ رحم دل دکھایا گیا ہے، جب وہ اپنے نوجوان خریدار کی طرف سے ملنے والی اضافی رقم اسی کے ڈرائیورکو دے دیتی ہے، جس کی بہن کی شادی ہے اور وہ امداد کے لیے مالک سے بار ہا التجا کر چکا ہے مگر مالک اس کی امداد کی بجائے یہ رقم طوائف پر لٹا دیتا ہے۔

یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈرائیور کی مالک سے اس مطالبے پر مبنی گفتگو جہاں جہاں ہوئی ہے، وہاں کہانی میں طوائف موجود نہیں۔ طوائف ساری کہانی میں کمرے کے اندر جنسی عمل میں محو دکھائی گئی ہے۔ اس لیے جب آخری سین میں وہ اچانک رقم یہ کہہ کر ڈرائیور کے حوالے کرتی ہے کہ ”یہ لے یہ رکھ لے، تیری بہن کی شادی ہے ناں! میری طرف سے اسے کچھ لے دینا“ تو حیرت ہوتی ہے کہ اسے کیسے پتہ چلا کہ اس کے خریدار کے ڈرائیور کی بہن کی شادی ہے اور وہ اس کے لیے مالی طور پر پریشان ہے؟ حالاںکہ کہانی کے درمیان میں کہیں ایک آدھ فقرے میں اس کا سرسری ٹچ دیا جا سکتا تھا، مگر شاید تجسس برقرار رکھنے کو مصنف نے یہ تکلف نہیں کیا۔

اسی طرح کہانی ”گزیدہ“ میں مصنف اپنی بیگم سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں، ”سنو! یہ منہگائی کو اکثر لوگ مہنگائی کہہ دیتے ہیں، اور لکھتے ہیں، یہ غلط ہے۔“ یہ بالکل عجب بات ہے۔ کیوں کہ منہگائی اور مہنگائی کا تلفظ یکساں ہے، املامختلف ہے۔ املا لکھ کر تو سمجھایا جا سکتا ہے، اسے بول کر کیسے واضح کیا جا سکتا ہے؟ یہ مکالمہ کچھ غیرفطری، کچھ غیرضروری سا لگتا ہے۔

املا تو خیر ظفر عمران کی دلچسپی کا محور ہے۔ کتاب کا املا پڑھ کر اندازہ ہوا کہ عدنان کاکڑ انھیں کیوں کر لسانی شدت پسند قرار دیتے ہیں، اور درست ہی قرار دیتے ہیں۔ اردو کے مروجہ املا کے ساتھ جو چھیڑچھاڑ کی گئی ہے، مولوی عبدالحق زندہ ہوتے تو اپنی دستار ظفر عمران کے سر رکھ دیتے یا انھیں اردو قواعد کا نیا جدید ایڈیشن لکھنا پڑھتا۔

یہ ٹھیک ہے کہ زبان کوئی ٹھوس یا جامد شے نہیں، اس میں ارتقا اور تبدیلی لازم ہے۔ مگر لسانی قواعد اور لسانی تشکیل کسی اصول کے ماتحت تو ہو گی۔ اب لہٰذا کو لہاذا لکھنا تو چلیے سمجھ آتا ہے، ذرا کو ’ز‘ سے لکھنے کی کیا تک بنتی ہے؟ رموزاوقات خصوصاً زیرزبر پیش کا بے محابا استعمال تو مطالعے میں سخت رخنے ڈالتا ہے۔ مثلاً کہ کے نیچے زیر لگانے کا کیا جواز ہے؟ اردو کا کون سا قاری بھلا اسے کہ یا کہ پڑھے گا؟ اگر یہ اتنا ہی ضروری ہے پھر تو قرآن مجید کی طرح ہر حرف پر اس کا استعمال ہونا چاہیے، وگرنہ سوائے ان الفاظ جن کا املا یکساں مگر مفہوم جدا ہو (جیسے میں، میں وغیرہ) ، عام الفاظ پر ان کا استعمال بلاجواز ہی نہیں، مطالعے کے دوران سخت کوفت میں بھی مبتلا کرتا ہے۔

اس لیے اس کتاب کی قرأت کے دوران املا سے درگرز انتہائی ضروری ہے۔

دوسری بات یہ کہ املا کی تبدیلی اور لسانی تشکیل ’ماہرین لسانیات کا کام ہونا چاہیے یا کسی افسانہ نگار کا؟ جو زبان سے متعلق ایسی لاپرواہی بھی دکھاتے ہیں ؛جیسے، ”حدیں کراس ہونا“ (ص 15) ۔ بھئی حدیں پار ہونا بھی تو ہو سکتا ہے۔ یہاں کراس ہونا نہایت بے محل ہے۔ اسی طرح ایک جگہ ”کمپنی دی“ (ص 19) استعمال کیا ہے۔ یہ وقت دینے یا صحبت دینے کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یہ عمومی بولی کے الفاظ ہیں، ادبی زبان میں شاید ہی کہیں استعمال ہوتے ہوں۔ افسانے کی زبان میں‘ کمپنی دینا ’تو نہایت محمل سا لگتا ہے۔

اس کے علاوہ موضوعاتی سطح پر جو چیز میرے لیے حیران کن ہے، وہ ظفر عمران کا عورت مخالف رویہ ہے۔ یہ وہ رویہ ہے جو اردو لکھاریوں کے ہاں مجموعی طور پر ہمیشہ حاوی رہا ہے۔ حتیٰ کہ بعض نہایت پروگریسو لکھاری بھی بعض اوقات اپنی تحریروں میں بے ساختہ ایسے فقرے لکھ جاتے ہیں، جن سے عورت کی تذلیل کا پہلو نکلتا ہو۔ محترمہ فہمیدہ ریاض اور فاطمہ حسن نے ایک زمانے میں ایک سیمینار اس موضوع پہ کیا تھا، جس کے مقالے پھر ’ادب کی نسائی رد تشکیل‘ (غلطی ہائے مضامین) کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوئے۔ اس میں منٹو، بیدی اور کرشن چند ر جیسے پروگریسو ادیبوں کے ہاں بھی لاشعوری طور پر در آنے والے عورت دشمن رویوں کی نشان دہی ان کے متن کے تناظر میں کی گئی تھی۔

اپنے ظفرعمران مگراس معاملے میں کوئی لگی لپٹی نہیں رکھتے۔ ان کی تحریرمیں مردانہ تحکمانہ رویہ غالب ہے۔ دو افسانے تو ایسے ہیں جو خالصتاً عورت کی جانب تحقیر آمیز رویے پر مبنی ہیں۔ ”جھیل بنجوسہ کی تتلیاں“ میں وہ اپنی نصف بہتر کی آڑ میں بیویوں کو ایک باتونی اور احمق مخلوق ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ ایک مختصر افسانہ ”اک حسینہ تھی، ایک گدھا تھا اور رومان تھا“ میں بین السطور انھوں نے محبوبہ کو گدھی، عقل سے پیدل، کج بحث اور احمق ثابت کرنی کی ہر ممکن سعی کی ہے۔ اس کے علاوہ ’گزیدہ‘ کی کہانی بھی کچھ ایسی ہے کہ جسے کوئی ’بیگم گزیدہ‘ سنا رہا ہے۔

یہ تاثر مجموعی طور پر تمام کہانیوں میں موجود ہے۔ نیچے بطور مثال چند فقرے دیکھیے ؛
”ہر منکوحہ کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ خاوند کو خوش نہیں دیکھ سکتی۔“ (ص 25)
”کیسے کیسے جھوٹ بولتی ہیں، یہ بیویاں۔“ (ص 26)
”عورت کا بدن کتنا بدہیت ہوتا ہے۔“ (ص39)
”بے فکرے دوستوں کی محفل اور بیویوں کے لطیفے ہوں تو کون سا نظارہ دل کش نہ ہوتا ہو گا۔“ (ص 58)
”عورت تعریف کے جال سے بچ ہی نہیں سکتی۔“ (ص89)
”مہ جبینوں سے مناظرہ کرنے والے مجھے زہر لگتے ہیں۔“ (ص107)
”عورت کو بے وقوف بنانے کا الزام مردوں پر تو مت لگاؤ۔“ (ص107)
”ہر حسین عورت، غصے میں اور بھی حسین لگتی ہے۔“ (ص107)
”کاش، عورتیں بھی گدھیاں ہوتیں، جو نر کے زمین پر لوٹیاں لگانے ہی پر راضی ہو جاتیں۔“ (ص 109)

”منیرہ ان عورتوں میں سے تھی جنھیں جتنی توجہ دو، وہ اپنے آپ کو اتنا ہی خاص سمجھنے لگتی ہیں۔ وہ ان میں سے تھی، جو جیون ساتھی سے جنسی ربط کو سودے بازی کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ بستر کے تعلق کو اپنی کوئی ضد منوانے سے مشروط کرتی ہیں۔“ (130)

حیرت ہے اردو کے افسانہ نگاروں کو کبھی کسی عالم عورت سے پالانہیں پڑا۔ آپ کو شاذ ہی کسی افسانے میں عورت کسی عالم فاضل انسان کے کردار میں ملے گی۔ عورت سے بڑی سے بڑی ہمدردی بطور طوائف ہی دکھائی جاتی ہے۔ ظفر عمران کے افسانوں میں بھی ’بہتر عورت‘ ایک طوائف ہی دکھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے تمام افسانوں میں عورت کا کردار تذلیل آمیز ہی ہے۔ کہیں وہ باتونی ہے، کہیں کج بحث ہے، کہیں بے عقل ہے، کہیں احمق ’گھامڑ ہے، کہیں پیسے پہ ریجھ جانے والی ہے، کہیں جنسی ترغیب میں پھسل جانے والی ہے۔ ۔ ۔ غرض کہیں کسی افسانے میں عورت بطور ایک پڑھے لکھے انسان کے پیش نہیں ہوئی۔ اس لحاظ سے ظفر عمران کے افسانے اردو کی مجموعی روایت سے جڑے ہوئے ہیں۔

ویسے دلچسپ بات ہے کہ اس افسانوی رویے کے باوجود، فیس بک پر ظفرعمران خواتین کے پسندیدہ ہیں۔ عملی زندگی میں بھی انھیں ’عورت دوست انسان‘ سمجھا جاتا ہے۔ ان کا افسانہ البتہ کچھ اور ہی کہانی سنا رہا ہے۔ پس ’ثابت ہوا، آدمی دلچسپ مخلوق ہے!

مجموعی طور پر ظفر عمران کی افسانوی دنیا دلچسپ ہے۔ یہ کہانیاں پڑھے جانے جیسی ہیں۔ سنائے جانے جیسی ہیں۔ کچھ افسانے تو مجھے ازبر ہو گئے جنھیں بطور حوالہ کہیں بھی دہرایا جا سکتا ہے۔ اور کامیاب افسانے کو شاید یہی دلیل کافی ہے۔

کتاب صرف آن لائن آرڈر پر دستیاب ہے
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply