ٹیپو سلطان – جنگ آزادی کا اولین ہیرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی جس کا آغاز ایسٹ انڈیا کمپنی کے مسلمان اور ہندو سپاہیوں کی بغاوت سے ہوا۔ اس کو غیر متنازعہ طور پر ہندوستان کی آزادی کی پہلی جنگ قرار دیا جاتا ہے۔ بھارت کی بنیاد پرست بھارتیہ جنتا پارٹی نے برصغیر کی تاریخ کو اپنی خواہشات اور اپنے ہندو توا نظریہ سے زبردستی ہم آہنگ کرنے کے لئے دوبارہ سے لکھنا شروع کر دیا ہوا ہے۔ حال ہی میں وہاں سے ایک خبر آئی ہے کہ کمپنی کے ٹیکس حکام کے خلاف 1781 میں صوبہ بہار میں ہونے والی ہندو زمینداروں کی ایک معمولی بغاوت کو جنگ آزادی کی اولین جنگ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

جب ہم ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کی تاریخ پڑھتے ہیں تو بنگال میں جنگ پلاسی سے شروع ہو کر پنجاب میں سکھوں کی شکست تک تقریباً سو سال کا عرصہ بنتا ہے۔ اس عرصہ کے دوران انگریزوں کے خلاف مختلف طاقتوں کی طرف سے مزاحمت ہوئی جن میں قابل ذکر بنگال کے سراج الدولہ اور میر قاسم، اودھ کے شجاع الملک، مغل بادشاہ شاہ عالم ثانی، مرہٹے اور میسور کے حکمران شامل ہیں۔ لیکن ان سب طاقتوں میں میسور کے حیدر علی اور ان کے ہونہار فرزند ٹیپو سلطان نمایاں نظر آتے ہیں۔ ٹیپو سلطان پہلے ہندوستانی حکمران تھے جنہوں نے انگریزوں کو ہندوستان سے مکمل طور پر بے دخل کرنے کی ایک منظم کوشش کی۔

ٹیپو نے اپنے باپ حیدر علی کی افواج کی قیادت کرتے ہوئے پولیلر کی جنگ میں انگریزوں کو شکست فاش دی۔ 1782 میں وہ میسور کا حکمران بنا۔ وہ پہلا ہندوستانی حکمران تھا جس نے انگریزوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کو بھانپ لیا تھا۔ ٹیپو کے بالغ نظر باپ حیدر علی نے بستر مرگ پر ٹیپو کو ایک تو ایسٹ انڈیا کمپنی کے خطرے سے آگاہ کیا تھا اور ان سے نمٹنے کے لئے ان کے یورپین مخالفین جیسے فرانسیسیوں کی مدد لینے اور اپنی رعایا کو ہر حالت خوش رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔

اگرچہ حیدر علی انگریزوں کے خلاف نظام حیدرآباد اور مرہٹوں کو اپنے ساتھ ملانے میں کامیاب ہوا تھا۔ جس سے انگریزوں کو شکست اٹھانا پڑی تھی۔ تاہم ٹیپو سلطان اس حوالے سے خوش قسمت ثابت نہ ہوا۔ مرہٹوں اور نظام نے کوتاہ نظری کا ثبوت دیتے ہوئے ٹیپو کے خلاف انگریزوں سے اتحاد بنا لیا۔ ٹیپو نے اپنے باپ کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے اپنی رعایا کے ساتھ انتہائی رواداری کا سلوک کیا وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں یکساں طور پر مقبول تھا۔

اس نے تجارت کو فروغ دے کر میسور کو ایک خوشحال ریاست بنا دیا اس کی تجارتی چوکیاں مسقط تک قائم تھیں۔ اس نے چین سے ریشم پیدا کرنے کی تکنیک حاصل کی اور فرانس کی ملٹری ٹیکنالوجی اپنائی۔ ریاست میں ڈیم اور نہریں بنائیں اور ایک بہت بڑی لائیبریری قائم کی جس میں جدید تین علوم کی کتابیں جمع کی گئیں۔ نظام اور مرہٹوں کے انگریزوں کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے ٹیپو کو میسور کی تیسری جنگ میں شکست ہوئی اور اس کو اپنی آدھی سلطنت سے محروم ہونا پڑا۔

اس موقع پر اس نے مرہٹوں اور نظام کو متنبہ کیا کہ وہ انگریزوں کا ساتھ دینے سے باز آ جائیں ورنہ کمپنی آخر میں ان کو بھی تباہ کر دے گی۔ تاہم مرہٹوں اور نظام نے بالغ نظری کا ثبوت نہیں دیا۔ ٹیپو مایوس نہیں تھا۔ ٹیپو نے عثمانی خلیفہ سے تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ شاہ عالم ثانی جو مرہٹوں کا کٹھ پتلی بن کر دلی کے تخت پر براجمان تھا۔ ٹیپو نے اس کی برائے نام اطاعت ترک کر کے عثمانی خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھایا۔

انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے لئے اس کی اصل امیدوں کا مرکز فرانس تھا۔ انقلاب فرانس کے بعد نپولین نے 1793 میں اقتدار سنبھال کر انگریزوں کے خلاف اعلان جنگ کر دیا تھا۔ چار سال بعد 1797 میں ٹیپو نے سفارت بھیج کر نپولین سے انگریزوں کے خلاف مدد طلب کی۔ نپولین پہلے سے فوجیں تیار کر چکا تھا۔ اس نے مصر کے رستے ہندوستان پر حملہ کا پلان تیار کیا ہوا تھا۔ وہ یورپ اور ہندوستان کے مابین پرانا تجارتی راستہ انگریزوں سے چھیننے کا پختہ عزم کر چکا تھا اور اس کے لئے ٹیپو سے بہترین اتحادی کوئی نہیں ہو سکتا تھا۔ 1798 میں قاہرہ پہنچتے ہی نپولین نے ٹیپو کو درج ذیل خط لکھا :

آپ کو بحیرہ احمر کی سرحدوں پر میری آمد کی اطلاع مل چکی ہو گی۔ آپ کو انگلینڈ کے آہنی جوئے سے آزاد کروانے کی خواہش اور عزم کے ساتھ میں ایک ناقابل تسخیر فوج لے کر آیا ہوں۔ اس موقع پر میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی اپنے پلان اور تیاریوں کے متعلق مجھے آگاہ کریں اور اپنے اعتماد کا کوئی قابل شخص قاہرہ یا سوئز بھیج دیں۔ خدا آپ کی طاقت میں اضافہ کرے اور آپ کے دشمنوں کو تباہ کرے۔

آپ کا
بوناپارٹ
حوالہ خط۔ Anarchy by William Dalrymple

مگر وائے افسوس نپولین جس مہم کو خاصا آسان سمجھ رہا تھا۔ وہ ایڈمرل نیلسن کے ہاتھوں جنگ نیل میں اس کی اس ناقابل تسخیر فوج کی تباہی کی شکل میں ختم ہوئی اور ٹیپو کی ہندوستان کو آزاد کروانے کی یہ کوشش بھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکی۔ نئے تعینات ہونے والے گورنر جنرل لارڈ ویلزلی نے جو ٹیپو اور نپولین کے درمیان رابطوں سے آگاہ تھا طنزیہ انداز میں ٹیپو کو ان کے دوست نپولین کی شکست سے آگاہ کیا۔ اور میسور کی آخری جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ ٹیپو سلطان نے آخری کوشش کے طور پر شاہ زمان والی افغانستان اور نظام حیدر آباد کے ساتھ ایک مسلم اتحاد بنانے کی کوشش کی لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ یہ دونوں انگریزوں کے ہی پر وردہ تھے۔

اگلے سال ہی ٹیپو مردانہ وار لڑتا ہوا شہید ہوا اور انگریزوں کو تب جا کر یقین ہوا کہ اب پورے ہندوستان پر حکومت سے انہیں کوئی نہیں روک پائے گا۔ گورنر جنرل ویلزلی کو ٹیپو کی شہادت کی خبر ملی تو وہ شراب پی رہا تھا اس نے جھومتے ہوئے کہا
”خواتین و حضرات! یہ جام انڈیا کی موت کے نام“

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply