’کشمیر بنا ہے فلسطین‘، کٹی ہوئی شہ رگ کا گیت

محمد حنیف - صحافی و تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گذشتہ سال کشمیر پر مودی کے ’شب خون‘ کے کچھ ہفتے بعد ایک کشمیری دوست سے فون پر بات ہوئی۔ وہ سرینگر کی جم پل ہے، انڈیا کی بڑی یونیورسٹیوں میں پڑھ کر اور انڈیا کی کرکٹ ٹیم کو سپورٹ کر کے بڑا ہوا ہے۔ لیکن ساتھ ہی بچپن سے ہی اپنے وطن میں ہونے والے ظلم کا چشم دید گواہ بھی ہے۔

ٹارچر سیل، کرفیو، جبری گمشدگیاں، اجتماعی قبروں کا وہ ذکر ایسے ہی کرتا ہے جیسے ڈل جھیل کا یا اپنے آنگن میں لگے درختوں کے پتوں کے بدلتے رنگ کا۔

فون پر اس نے وہی کہانی سنائی جو میں اخباروں میں پڑھ چکا تھا (ہم جو بھی کہیں، بین الاقوامی میڈیا نے شروع کے چند مہینے کشمیر کو کافی تفصیلی کوریج دی۔ اس کی وجہ کوئی عالمی ضمیر نامی چیز نہیں تھی بلکہ کشمیر کے نوجوان صحافیوں اور فوٹوگرافروں کی تخلیقی کاوشیں تھی کہ عالمی میڈیا ان کی کہانی سننے پر مجبور ہوا اور پھر اچھے بچوں کی طرح کہانی سن کر سو گیا۔)!

میرے دوست کا کئی مہینوں سے اپنے بزرگ والدین سے ٹیلی فون پر رابطہ نہیں ہوا تھا۔ باپ کی صحت بھی ٹھیک نہیں رہتی تھی۔ سرینگر میں لوگ ڈی سی کے دفتر جا کر اپنے بچوں کو فون کرنے کے لیے گھنٹوں انتظار کرتے اور جو خوش قسمت تھے جو وہ دو منٹ بات کر پاتے۔

میں یہ کہانی اخباروں میں بھی پڑھ چکا تھا، لیکن اخبار کی سرخی اور دیرینہ دوست کی درد آمیز گفتگو میں تھوڑا فرق ہوتا ہے۔ میرے پاس تسلی دینے کے لیے مناسب الفاظ نہیں تھے تو میں نے بات کا رخ مستقبل کے امکانات، ممکنہ عالمی ردعمل کی طرف موڑ دیا۔

تو پاکستان کیا کرے گا؟

کچھ تو کرے گا۔

میرا جواب کہیں میرے گلے میں پھنس کر رہ گیا عمران خان پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کر کہہ چکے تھے کہ ’ہم اب کیا کریں، جنگ چھیڑ دیں؟‘

میں نے اپنے کشمیری بھائیوں کو پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ وغیرہ جیسی باتیں کہیں اور فون بند کر دیا۔

میرے ذہن میں فلسطین کا نقشہ آیا جہاں میں کبھی صحافتی اور کبھی تدریسی سلسلے میں جانا ہوا۔ وہاں بھی اسرائیل نے پوری دنیا سے آبادکاروں کو اکٹھا کرکے فلسطینی پہاڑوں اور کھیتوں پر قبضہ کروایا۔ جو فلسطینی باغوں کے مالک تھے وہ اب انہی باغوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔

فلسطینیوں کی آبادی کے بیچ ایسی بلند اور بدصورت دیوار کھڑی کی گئی کہ اگر آپ کا گھر ایک طرف ہے تو کھیت دوسری طرف۔ جو فاصلہ چار قدم کا تھا وہ اب 15 میل کا ہو گیا تھا۔ اسرائیلی نوجوان جب بور ہوتے ہیں تو کسی فلسطینی کسان کے کھیت میں گھس کر زیتون کے درختوں پر تیزاب کا سپرے کر دیتے ہیں۔

میں جو بات اپنے دوست سے کہہ نہ سکا وہ یہ تھی کہ ہم 70 سال سے ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ کا نعرہ لگا رہے تھے۔ ہم پاکستان تو نہ بنا سکے کشمیر کو فلسطین ضرور بنا دیا گیا اور فلسطین کو فلسطین کیسے بنایا تھا وہاں تک ہماری اب یاداشت بھی نہیں جاتی۔

کشمیر کی آزادی کا ہمیں بس اتنا شوق تھا کہ کچھ دکانداروں نے تختی لگا رکھی تھی کہ کشمیر کی آزادی تک ادھار بند ہے ہے۔

یوم کشمیر سے پہلے جب آئی ایس پی آر نے نیا گانا ’چھوڑ دے میری وادی‘ ریلیز کیا تو حکومت اور عسکری اداروں کے چاہنے والے بھی بلبلا اٹھے کہ گانا گانے سے تو معشوق بھی نہیں ملتی آپ کشمیر آزاد کرانے چلے ہیں۔ اگر گانوں اور جگتوں سے کشمیر آزاد ہو سکتا تو کب کا ہو چکا ہوتا ہم نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، لیکن ’حکومت نے کشمیر پر کچھ نہیں کیا‘ کا راگ الاپنے والوں سے عرض ہے کہ شاید ہم نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کردیا۔

کیا حافظ سعید گھوڑے پر سوار ہو کر کشمیر آزاد کرانے نہیں گئے تھے۔ کیا مولانا مسعود اظہر نے لشکر کشی نہیں کی تھی اور ان کی واپسی اغوا کیے گئے طیارے میں نہیں ہوئی تھی اور خادم حسین رضوی اپنے منبر سے نہیں للکارتے کہ ’ہمیں اگلے محاذ پر بھیجو اور پیچھے سے چلا دو غوری۔ ‘

اگر ہم کچھ اور نہیں کر سکتے تو اتنا تو کر سکتے ہیں کہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہو جائیں۔ میرا مطلب ہے ایک منٹ کی خاموشی نہیں بلکہ وہ خاموشی ہے جس میں آپ کشمیریوں کی آواز سن سکیں۔ کچھ دیر کے لیے کشمیر بنے گا پاکستان بھول کر کشمیری بھائیوں سے پوچھ لیں کے وہ کیا چاہتے ہیں؟ اور ہم کیسے ان کی مدد کر سکتے ہیں؟

ویسے کسی کشمیری دوست نے کافی عرصے سے نہیں پوچھا کہ پاکستان کیا کرے گا؟ اگر کوئی پوچھے گا تو کہہ دوں گا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور شہ رگ کٹ گئی لیکن ہماری ہمت دیکھو کہ ہم کٹی ہوئی شہ رگ کے ساتھ بھی گانے گا رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •