”نئے نقشے“ میں جوناگڑھ کی موجودگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوان نسل کے لوگ میرے کالم کے بارے میں جو فیڈ بیک دیتے ہیں میں اسے بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں۔ جمعرات کی صبح چھپے کالم کو پڑھنے کے بعد ان کی کافی تعداد نے اس امر کو سراہا کہ میں نے سرکریک کی سٹریٹیجک اہمیت کو اجاگر کیا۔ اردو میں اسے ”تزویراتی“ پکارتے ہیں۔ ایمانداری کی بات ہے کہ فقط ”تزویراتی“ کسی سیاق وسباق کے بغیر لکھا ہو تو میں ذاتی طور پر اسے سمجھ نہیں پاؤں گا۔ اسی باعث اردو کالم لکھتے ہوئے بھی انگریزی میں سٹریٹیجک لکھنے کی عادت اپنائی ہوئی ہے۔ شدھ زبان کے متوالوں کے لئے یہ قابل اعتراض بات ہو گی۔ ان کی سوچ کا دل سے احترام۔ اردو مگر میری مادری زبان نہیں ہے۔ اسے سیکھنے کی کوشش کی ہے اور داغؔ دہلوی نے فرمایا تھا کہ ”آتی ہے اردو زبان آتے آتے“ ۔ عمر گزاردی گئی لیکن یہ زبان گرفت میں نہ آسکی۔

اقبالؔ یقیناً بہت عظیم شاعر تھے۔ بیشتر کلام ان کا اگرچہ فارسی میں ہے۔ 1997 میں پہلی بار دس روز کے لئے ایران گیا تو دریافت ہوا کہ ”اقبال لہوری“ کاوہاں بہت چرچا ہے۔ ایرانی اپنی زبان پر بہت فخر محسوس کرتے ہیں۔ دوسروں ”کی لکھی فارسی کو کم تر گردانتے ہیں۔ اس ضمن میں مولانا روم کو بھی خاطر میں نہیں لاتے۔ مولانا کی فارسی ایرانیوں کی نظر میں شدھ/خالص یا مستند شمار نہیں ہوتی۔ صحافیانہ تجسس سے میں لہٰذا کئی ایرانی دانشوروں سے ملاقاتوں میں“ اقبال لہوری ”کی زبان کی بابت رائے کا طلب گار رہا۔

ایک شخص نے بھی اعتراض نہ اٹھایا۔ تعریف ہی کی۔ وہ اقبالؔ جن کی فارسی پر میں نے ایران میں کوئی اعتراض نہیں سنا تھا مگر جب اپنی زندگی میں یوپی سے آئے ایک مداح سے ملے تو عجب واقعہ ہو گیا۔ قرۃ العین حیدر نے“ کارجہاں دراز ہے ”میں اس واقعہ کا تذکرہ کر رکھا ہے۔ بقول ان کے اقبالؔ سے ملنے کے بعد ان کے مداح یوپی لوٹے تو لوگ ان سے مذکورہ ملاقات کی تفصیلات جاننے کی کوشش کرتے رہے۔ مداح مگر کافی مایوس تھے۔ انہیں دکھ تھا کہ گفتگو کے دوران اقبالؔ“ ہاں جی۔

ہاں جی ”کہتے رہے جبکہ کئی بار انہوں نے نسبتاً بلند آواز میں“ جی ہاں۔ جی ہاں ”کہتے ہوئے“ تصحیح ”کی کوشش بھی کی۔ میری اردو پر اگر کوئی اعتراض اٹھائے تو یہ واقعہ یاد کرتے ہوئے خود کو اطمینان دلانے کی کوشش کرتاہوں۔ اگرچہ یہ لکھنے کے بعد یاد یہ بھی آیا ہے کہ غالب“ میرا اردو ”لکھا کرتے تھے۔“ میری اردو ”نہیں۔ حسب عادت بھٹک گیا ہوں۔ سرکریک کی اہمیت بیان کرنے والے کالم کے ذکر سے آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد اطلاع آپ کو یہ دینا تھی کہ فیڈ بیک بھیجنے والوں کی فرمائش یہ بھی تھی کہ سرکریک کے بعد جونا گڑھ کی بات بھی ہو جائے۔

اسے پاکستان کے“ نئے نقشے ”میں کیوں شامل کیا گیا ہے؟ مجھے ہرگز خبر نہیں کہ“ نیا نقشہ ”مرتب کرنے والوں کے ذہن میں کیا ہے۔ ڈاکٹر معید یوسف جو غالباً وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی ہیں فقط یہ وضاحتیں دیتے پائے گئے ہیں کہ“ نیا نقشہ ”اس حقیقت کو فراموش نہیں کرتا کہ پاکستان کے اصولی موقف کے مطابق کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے احترام میں حق رائے دہی فراہم کرنا ہوگا۔ وہ فیصلہ کریں کہ پاکستان کے ساتھ رہنا ہے یا بھارت میں ضم ہونا ہے۔

سرکریک کی اہمیت کا ڈاکٹرصاحب کو یقیناً مجھ سے کہیں زیادہ علم ہوگا۔ سٹریٹیجک موضوعات پر انگریزی زبان کے ڈان میں وہ ہر ہفتے کالم لکھتے رہے ہیں۔ اب مگر شنید ہے کہ وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ دور حاضر کا موثر ترین ابلاغ فقط یوٹیوب کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ عمران خان صاحب کے“ نور بصیرت کو عام ”کرنے کی فکر میں مبتلا یوٹیوب پر چھائے نوجوانوں سے رابطے میں رہتے ہیں۔ شاید حکومتی عہدے سے فارغ ہونے کے بعد اپنا یوٹیوب چینل چلاتے ہوئے مجھ جیسے کم علم افراد کو سٹریٹیجک امور کی گہرائیاں سمجھایا کریں گے۔

ڈاکٹر معید یوسف کی رہ نمائی سے محروم میرا کند ذہن جونا گڑھ کے بارے میں“ ٹامک ٹوئیاں ”ہی مارسکتا ہے۔ 4 اگست 2020 کو جونا گڑھ پاکستان کے“ نئے نقشے ”میں نمودار ہوا تو اگرچہ یاد آ گیا کہ سومناتھ کا مندر بھی جس پر محمود غزنوی نے 17 حملے کیے تھے اسی علاقے میں موجود ہے جو کبھی ریاست جونا گڑھ کی ملکیت تصور ہوتا تھا۔ اس حقیقت کو نگاہ میں رکھیں تو جی خوش ہوجاتا ہے۔“ تاریخ ”دہرائے جانے کے امکانات نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

تاریخ یاد کرنے کی ضرورت اس لئے بھی محسوس ہوئی کیونکہ“ نئے نقشے ”کے اجراء کے عین ایک دن بعد یعنی 5 اگست 2020 کے روز بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی“ بھومی پوجا ”کے لئے یوپی کے ایودھیا شہر گیا۔ یہ پوجا اس کے مندر کی تعمیر کی افتتاحی تقریب تھی جسے بابری مسجد کی جگہ بنایا جائے گا۔ ہندو انتہاپسندوں کا دعویٰ ہے کہ اس مقام پر ان کے بھگوان۔ رام۔ نے جنم لیا تھا۔ 300 برس قبل مگر“ غاصب مسلمانوں ”نے وہاں مسجد بنادی۔

“ غیروں کی غلامی سے آزاد ”ہوئے بھارت میں اب اس کی موجودگی کا جواز نہیں رہا۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مودی کے لگائے ججوں کے ذریعے اس سوچ کو قانونی جواز فراہم کر دیا ہے۔ یوں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد مودی نے رام مندر کی تعمیر کے ذریعے اپنا ایک اور“ وعدہ ”پورا کر دیا۔“ ہندوتوا ”والوں کی بلے بلے ہو گئی۔ کاش عمران خان صاحب کے“ نور بصیرت کو عام ”کرتے ترجمانوں کی فوج ظفر موج میں سے کوئی ایک ترجمان پاکستانیوں کو سینہ پھلا کر یاد دلاتا کہ مودی کی“ بھومی پوجا ”سے ایک روز قبل ہم نے سومناتھ مندر والے جوناگڑھ پر اپنے حق دعویٰ کا احیاء کر دیا ہے۔

سومناتھ مندر کی داستان بہت طویل ہے۔ اس کی تفصیلات میں جانے کا وقت نہیں۔ فلم کی زبان میں فاسٹ کٹ کے بعد نسبتاً حالیہ تاریخ کا ذکر کرنا مگر لازمی ہے۔ قیام پاکستان سے قبل ”برطانوی ہند“ کی سرپرستی میں موجود ”خودمختار“ ریاستوں کے راجوں مہاراجوں کو اختیار دیا گیا تھا کہ وہ ازخود یہ فیصلہ کریں کہ پاکستان میں شامل ہونا ہے یا بھارت میں ضم ہونا ہے۔ انہیں یہ فیصلہ کرنے کے لئے ایک سال کی مہلت دی گئی۔ راجوں مہاراجوں کو حتمی فیصلہ لینے سے قبل مگر اس امر پر غور کرنا بھی لازمی تھا کہ ان کے زیر نگین علاقے جغرافیائی حقائق کے تناظر میں کس ملک میں شامل ہوسکتے ہیں۔

اس کے علاوہ سوال یہ بھی تھا کہ ان کی ”رعایا“ کی اکثریت مذہبی حوالوں سے خود کو پاکستان یا ہندوستان میں سے کس کے قریب سمجھتی ہے۔ کشمیر کا مسئلہ سنگین تر ہوا تو بنیادی سبب اس کا یہ تھا کہ جغرافیائی اعتبار سے یہ وادی ہر اعتبار سے پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ سری نگر راولپنڈی ہی سے مری اور مظفر آباد سے گزرتے ہوئے بآسانی پہنچا جاسکتا تھا۔ کشمیریوں کی بے پناہ اکثریت بھی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ کشمیر کے برعکس جونا گڑھ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کی سرحد کے ساتھ منسلک نہیں تھا۔

وہاں کی 80 سے زیادہ فی صد آبادی بھی ہندو تھی جبکہ نواب مسلمان تھا۔ اس نواب کا نام مہابت خان تھا۔ اس نے قیام پاکستان سے قبل ذوالفقار علی بھٹو کے والد سرشاہنواز کو اپنا دیوان یعنی وزیر اعظم مقرر کیا۔ سرشاہنواز بھٹو دل سے کٹر مسلم لیگی تھے۔ انہوں نے سندھ کو بمبئی سے جدا کرنے والی تحریک میں اہم ترین کردار بھی ادا کیا تھا۔ فطری بات تھی کہ سرشاہنواز بھٹو نے نواب کو پاکستان سے الحاق کے اعلان پر مائل کیا۔

وہ اعلان ہوا تو نہرو اور خاص طور پر سردار پٹیل جو گجرات سے ابھرا ایک انتہاپسند ہندو تھا تلملا اٹھے۔ نواب کو دھمکیاں ملیں۔ وہ گھبرا کراپنے ذاتی جہاز میں ریاستی خزانے، اہل وعیال اور چہیتے کتوں کے غول سمیت پاکستان آ گیا۔ اس کی عدم موجودگی نے جونا گڑھ پر بھارتی فوجی قبضے کو آسان تربنا دیا۔ لطیفہ یہ بھی ہے کو جوناگڑھ پر قبضے کے بعد وہاں ”استصواب رائے“ کا ڈرامہ بھی رچایا گیا۔ آبادی کی اکثریت کو نگاہ میں رکھتے ہوئے کسی اور نتیجے کی گنجائش ہی نہیں تھی۔ مذکورہ ”ریفرنڈم“ 20 فروری 1948 کے روز ہوا تھا۔

جونا گڑھ پر اپنا حق دعویٰ برقرار رکھتے ہوئے پاکستان بھارت کو یاددلاسکتا ہے کہ اگر اس ریاست پر اس نے فوجی قبضے کے بعد بھی ”رائے شماری“ کا اہتمام کیا تو کشمیر کے بارے میں 73 برس گزرجانے کے باوجود ”استصواب رائے“ سے گریز کیوں؟ جوناگڑھ کی ”نئے نقشے“ میں موجودگی کو اس پہلو سے بھی دیکھنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply