اس کا ریپ امر ہو گیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

راولپنڈی میں، ایک چودہ سالہ یتیم مزدور بچی کو گلی میں کھڑے آوارہ لونڈوں نے اچھا خاصا چھیڑا، خوب ہاتھ صاف کیا، ہوس کی گھٹی کو لڑکی کی آہوں کا زہر چٹایا، قسمت کی پھوٹی کو کھڑے کھڑے برہنہ کیا، ویڈیو بنائی، ٹھٹھہ لگائے، باچھیں کھلائی اور ویڈیو پوسٹ کر دی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا کے ذریعے عورتوں کے خلاف پائے جانے والی نفرت اور تشدد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ نہ تو وہ لڑکی ان اوباش لڑکوں کی کوئی ”سہیلی“ تھی نہ ہی سابقہ آشنا۔ سابقہ آشنا اور سہیلی بھی ہو، تب بھی رہتی دنیا تک کسی کو جرآت نہیں ہونی چاہیے کہ کسی عورت کو چھوئیں بھی۔ یتیم بچی محنت مزدوری کر کے لوٹ رہی تھی، ان اوباش نکھٹو لڑکوں سے کروڑوں درجے بہتر جو باپ کی کمائی پر ضرر رساں گوشت کے پارچے سینچتے ہیں۔

گلی میں چلتی بچی کو فیس بک پر عورتوں کے خلاف تشدد پر مبنی پیجز/ گروپس میں ارسال کرنے کے لئے مواد بنانا مطلوب تھا سو کھڑے کھڑے کسی کو بھی چھری کی نوک پر مل کر ریپ بھی کیا جاسکتا ہے اور برہنہ بھی۔ ویڈیو کی دید کے بعد بھی لڑکوں کے گھر والوں نے اپنے جگر کے بوسیدہ ٹکروں کو عبوری ضمانت دلوائی اور نظام نے عبوری ضمانت دے بھی دی۔ مجسٹریٹ صاحب نے اپنی بیٹی کی عمر کی بیٹی کی برہنہ بے بسی کی عکاس ویڈیو دیکھی ہوگی اور ساتھ میں ضمانت کے مچلکوں پر دستخط کیے ہوں گے۔

لڑکوں کی نفرت بھری کھلکاریوں کے مابین چھری کے زور پر لڑکی منتیں کرتے ہوئے بے لباس کی گئی۔ یہی ویڈیو دیکھنے کے بعد لڑکوں کے معزز خاندانوں نے رقوم کا انتظام کر کے بیٹوں کی راتیں جیل میں نہ گزریں جلد ہی ضمانت کا بندوست کیا ہوگا۔

ایک لڑکی کو اجتماعی ریپ، زبردستی بے لباس کر کے منظر کشی کو قیامت تک محفوظ کرنے والے بیٹوں کو جیل سے گھر لوٹ کر دیکھ کر ماؤں کے سینوں میں ٹھنڈک پڑی ہوگی۔ ان ماؤں اور ضمانت کا جنگی بنیادوں پر انتظام کرنے والے باپ کی اپنی کم سن اور جواں سال بیٹیاں بھی ہوں گی۔ مائیں جن بیٹوں کو پیدا کرنے کے مطالبے پر دس میل ننگے پیر مزاروں ہر جا کر دھاگے باندھتی ہیں، ان بیٹوں نے برہنہ لڑکی کی بے بسی سے خوب لطف اٹھایا ہوگا۔

اس ویڈیو نے ملک بھر کے ساتھ پورن ویب سائٹس پر خوب سرایت بھی کی ہوگی۔ اس لڑکی کا ریپ بھی آن لائن آنے کے بعد امر ہوگیا ہے۔ ہزاروں لوگوں نے اس کے دکھنے والے بدن کے ایک ایک جزو کو دیکھ کر حسرت کی آہیں بھی بھری ہوں گی۔ وہ مر بھی جائے گی مگر اس کی پدر شاہی نظام کے ہاتھوں عصمت دری سدا سلامت رہے گی۔ یہی ہیں وہ لوگ جو عورت کو برقعہ پہنانے میں کوئی دین دنیا کی دلیل خود سے تخلیق کرتے باز نہیں آتے مگر یہی لوگ برقعے والی کو ننگا کرتے بھی دیر نہیں لگاتے۔

اب کل کی بات ہے، ایک جج غیر مذہب مغویہ نابالغ لڑکی کو اس کے اغواء کار کے حوالے کرتا ہے کہ اغواء کار اور قاضی کا مذہب ایک تھا۔ مغویہ بچی روتے ہوئے عدالت سے اغواء کار کے ہمراہ بھیج دی جاتی ہے۔ یہی نہیں، اس ملک کے ایک گوشے میں ایک ایسی درگاہ بھی قائم ہے جہاں صوبے بھر سے مغوی اور نا بالغ غیر مسلم لڑکیوں کو لا کر اپنے عقیدے کا جام پلایا جاتا ہے۔ سب کو علم ہے کہ کہاں کیا ہوتا ہے مگر سب کے پر جلتے ہیں یا سب اسی نظام کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔

آپ خاتون نہیں تو رہتی دنیا تک عورتوں کے خلاف تشدد کی شدت جانچ ہی نہیں سکتے مگر اپنا کردار ضرور نبھا سکتے ہیں۔ بیٹیاں پیدا سب کے گھروں میں ہوتی ہیں، ان کا ہونا آپ کو اور بولنے والیوں کے ساتھ ایک کرتا ہے۔ اپنے بگڑے بھائیوں اور اوباش بیٹوں کی جیل سے واپسی کی منتیں ماننا چھوڑئیے اور اس قطار کو توڑیں جو ظالموں سے بھری پڑی ہے۔ کوئی آپ پر آواز بلند کرے تو کتنا ناگوار گزرتا ہے، تو ان کا سوچیں جن کو کھڑے کھڑے بے لباس اور ان کے دین سے بے دین کر دیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •