گھوڑا ہسپتال یونیورسٹی کی یاد میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں حال ہی میں جامعہ برائے علوم حیوانات و علاج مویشیاں المعروف گھوڑا ہسپتال سے فارغ التحصیل ہوا ہوں۔ جامعہ کی شہرت گھوڑا ہسپتال کے حوالے سے ہے کیونکہ برطانوی دور حکومت میں یہ ملٹری گھوڑوں کے علاج کے لئے ہسپتال بنایا گیا تھا اور 1882 میں لارڈ رپن نے اسے ایک سکول کا درجہ دیا اور برصغیر میں علوم حیوانات وعلاج مویشیاں کا پہلا ادارہ قائم ہوا۔ بعد میں اس کو کالج کا درجہ دیا گیا اور 2002 میں یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔

یہ وہ تاریخی یونیورسٹی ہے جو لارڈ ٹیپ اور لارڈ ریٹیگن کا دفتر بھی رہی ہے۔ یونیورسٹی کی تاریخی عمارت عہد گزشتہ کی کہانی سناتی ہے۔ یونیورسٹی نے پاکستان کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حال ہی میں یونیورسٹی نے COVID۔ 19 کی تشخیص کے لئے بائیوسیکیورٹی لیول۔ 3 کی لیبارٹری قائم کی جس نے کرونا ٹیسٹنگ میں اہم کردار ادا کیا۔

میں پتہ نہیں کس طرف چل پڑا۔ ہماری ڈگری جون 2020 میں مکمل ہونا تھی مگر عہد کرونا کی وجہ سے تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا تو ہمیں یونیورسٹی چھوڑ کر گھروں کو جانا پڑا۔ یہ بہت مشکل وقت تھا۔ حکومتی پالیسی کے تحت ہمیں آن لائن امتحان پاس کرنا پڑا اور ڈگری مکمل ہوئی۔ کل ڈگری سرٹیفکیٹ کے حصول کے لئے یونیورسٹی جانا ہوا۔ جاتے ہوئے راستے میں دل میں ایک خوشی تھی ک ایک لمبے عرصے بعد مادر علمی کا دیدار نصیب ہو گا اور دل میں خفگی بھی کہ اب تو یونیورسٹی میں نہ تو دوست ہوں گے اور نہ وہ چہل پہل ہو گی۔

میں صبح 10 بجے یونیورسٹی پہنچا تو ویرانی کا عالم تھا ہر طرف سناٹا تھا۔ آج سے پانچ چھ ماہ پہلے یونیورسٹی میں بہت رونق ہوتی تھی۔ تتلیاں چہچہا رہی ہوتی تھیں اور مور پر پھیلائے استقبال کیا کرتے تھے۔ ایڈمن بلاک کے سامنے باغ محبت میں ہر طرف ہیر رانجھا اور سوہنی مہیوال نظر آتے تھے اور یونیورسٹی عشق کے رنگ میں ڈوب جاتی تھی۔ اب تو ہر طرف ویرانی ہے۔ مین گراونڈ میں بینچ پر بیٹھا تھا تو یونیورسٹی میں گزرے دنوں کی یاد گردش کرنے لگی۔

2016 میں ہم نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ ہوسٹل میں پہلا دن تھا اور ہم سینئرز سے ڈرے ہوئے تھے۔ اس وقت فولنگ کا نام سن کر ڈر لگتا تھا تو اس سے بچنے کے لئے میں اور میرا روم میٹ بلوچ صاحب لاہور کی بارونق سڑکوں پر نکل پڑے۔ انجان شہر کے انجان راستوں پر چل پڑے اور مسلسل دو گھنٹے چلتے رہے اور تھکاوٹ محسوس نہ ہوئی کیونکہ فولنگ کا ڈر اتنا تھا کہ ہمیں پیدل چلنا زیادہ بہتر لگا تاکہ وقت گزر جائے اور پھر دیر سے جا کر سو جائیں گے مگر ہمیں جیسے معصوموں کو کیا پتا تھا کہ ہماری آمد کی خبر ہمارے عظیم سینئرز کو مل چکی تھی اور وہ ہماری راہ پر ہمارے استقبال میں نیٹھے تھے۔

بس پھر اس کے بعد جو ہوا وہ ایک صیغہ راز ہے۔ دو ہفتے ہماری جو خدمت داری کی گئی اسے میں الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔ بہت اچھے دن تھے اور آج بھی جب ان دنوں کو سوچتے ہیں تو بہت ہنسی آتی ہے۔ وہ ایسی یادیں تھیں جو عمر بھر ساتھ رہیں گی۔ ہاسٹل میں دوستوں کے ساتھ بہت اچھا وقت گزرا۔ ہم ایک کمرے میں 9 دوست رہتے تھے اور خوب موج مستی اور ہلہ گلہ ہوتا تھا۔ خاص طور پر کسی کی سالگرہ والے دن رات کو خوب مستی ہوتی تھی بس جس کی سالگرہ ہوتی تھی وہ چھپتا پھرتا تھا کیونکہ اور اس رات برتھہ ڈے بوائے کے ساتھ جو ہوتا تھا اسے بیان کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔

ہاسٹل میں گزرا ہر دن اور رات بہت یادگار ہے۔ یونیورسٹی میں میرا سب سے زیادہ وقت کوالٹی آپریشنز لیبارٹری میں گزرا ہے جہاں میں نے مختلف ڈیپارٹمٹ میں انٹرنشپ کی اور بہت کچھ سیکھا۔ اپنے ڈیپاٹمٹ میں زیادہ وقتDNA کے پاس بیٹھے گزرتا تھا اور اسی DNA کی بدولت زندگی رواں دواں تھی۔ صبح صبح پہلی کلاس لینا جان جوکھوں کا کام تھا۔ آٹھ بجے والی کلاس کے لئے ہم پونے آٹھ بجے اٹھتے تھے اور کلاس میں 8 : 15 میں پہنچتے تھے اور ہمیشہ بہانے سب ک ایک جیسے ہوتے تھے کہ سر پانی نہیں آ رہا تھا سر رش لگا ہوا تھا وغیرہ اور پھر ان بہانوں کی بدولت کلاس کے باہر چوکیدار کے فرائض سرانجام دینا پڑتے تھے۔

سٹیٹسٹکس کے لیکچر میں جانے میں موت آتی تھی کیونکہ باجوہ صاحب پچاس منٹ سے ایک سیکنڈ بھی پہلے نہیں چھوڑتے تھے۔ بہت اچھے اساتذہ ملے جنہوں نے علمی پیاس بجھانے میں اہم کردار ادا کیا۔ یونیورسٹی میں مزہ اس وقت آتا ہے جب دوست ساتھ ہوں۔ ہم نے یونیورسٹی میں ہونے والے ہر ایونٹ سے خوب لطف اندوز ہوئے۔ ان موج مستیوں میں چار سال کیسے گزرے پتا ہی نہیں چلا۔ چار سال گزرانے کے بعد بہت سی یادوں کے ساتھ یونیورسٹی کو الوداع کہنا چاہتے تھے مگر کرونا نے ہمیں الوداع کا موقع ہی نہیں دیا۔

گریجویشن کے بعد عملی زندگی شروع ہو جاتی ہے اور بہت سے مسائل گھیر لیتے ہیں مگر یہ یادیں زندگی بھر ساتھ رہیں گی اور ہنسنے کا موقع دیتی رہیں گی۔ ابھی لکھنے کا تو بہت جی چاہتا ہے کہ سارے قصے کہانیاں لکھوں ہر گزرے لمحے کو قلم بند کر دوں مگر بہت سی یادیں اداس کر دیتی ہیں اور دل بھر آتا ہے۔ بس انہی کچھ یادوں کے ساتھ مادر علمی کو الوداع کہا اور آنکھوں کی نمی پونچھ کے گھر کی طرف چل پڑا۔ خدا کرے یہ عظیم درسگاہ یونہی قائم و دائم رہے اور آنے والی نسلوں کو سیراب کرتی رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •