اگر صبا قمر اور بلال سعید بھی کسی کے خواب میں آ گئے تو؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ اس دنیا میں پچاس سے زائد نازک اسلامی ممالک پائے جاتے ہیں مگر پاکستان دنیا کا واحد مضبوط اسلامی ملک ہے جہاں سب سے زیادہ عاشقان اسلام پائے جاتے ہیں اور یہ تمام عاشق اسلام اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اپنا فرض بخوبی نبھاتے ہیں۔ ہر عاشق اسلام کے مختلف دائرہ کار ہوتے ہیں جیسا کہ کچھ اپنے گھر میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کی مدد سے واجب القتل قرار دینے کا کام کرتے ہیں، کچھ عملی طور پر پستول لے کر واجب القتل کو مارنے کا کام کرتے ہیں، کچھ سڑکوں پر نکل کر حلال قاتل کے حق میں ریلی نکالتے ہیں اور ان کی مزید حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان عاشقان مذہب میں تمام شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد پائے جاتے ہیں، جیسا کہ سیاست دان، علماء کرام، پولیس اہلکار، وکلاء برادران، میڈیا، اور طلبہ وغیرہ شامل ہیں۔

گزشتہ دنوں ایک کم عمر عاشق رسول نے بھری عدالت میں ایک امریکی شہریت یافتہ پاکستانی شخص کو گولیوں سے اڑا دیا اور وہ حلال قاتل آج غازی کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ اس حلال قاتل سے جب پوچھا گیا کہ آخر تم نے اس شخص کو کیوں مارا تو اس کا کہنا تھا کہ، میرے خواب میں خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور انہوں نے مجھے حکم دیا تھا کہ اس بندے کو قتل کر دو، لہذا میں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ وزیر خارجہ جناب شاہ محمود قریشی صاحب نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے اور بے شک یہ نوٹس خدا کے خوف سے نہیں مگر امریکہ اور امریکی امداد کے خوف سے لیا گیا ہے۔

اس واقعہ کے بعد حالیہ واقعے کے مطابق ایک اور نیا کیس سامنے آیا ہے جس میں بلال سعید اور صبا قمر نے مسجد کی حدود میں رقص کیا ہے۔ جس کے بعد تمام عاشقان اسلام ہمیشہ کی طرح ایک بار پھر جاگ گئے ہیں اور اپنی حدود کے مطابق بلال سعید اور صبا قمر کو سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، کچھ کا کہنا تھا کہ اگر قاضی فیصلہ نہیں کریں گے تو غازیوں کو فیصلہ کرنا پڑے گا۔ وزیر اعلی پنجاب نے بھی اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے۔

اب بلال سعید اور صبا قمر کو اس بات کا خطرہ ہے کہ ہمارا نام بھی کسی عاشق اسلام کے خواب میں نا آ جائے اس ڈر سے بلال سعید نے ایک وڈیو کے ذریعے تمام عاشقان اسلام سے معافی کی بھیک مانگ لی ہے۔ اب دیکھنا یہ کہ خدا سے پہلے یہ عاشقان اسلام بلال سعید اور صبا قمر کو معاف کرتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ یہ تمام عاشق اسلام اپنے آپ کو خدا سے بڑھ کر مانتے ہیں۔ دعا ہے کہ یہ تمام عاشقان اسلام اس وقت بھی جاگ جایا کریں جب آئے دن مولوی حضرات مساجد اور مدارس کی حدود میں کم عمر بچے اور بچیوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں۔ مگر افسوس کہ اس وقت کسی عاشق اسلام کے خواب میں ایسے مولویوں کو گولی مارنے کا حکم نہیں آتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •