پاکستان میں جاگیرداری واقعی مسئلہ ہے یا خیالی کہانی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے یہاں اکثر پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر جاگیردارانہ نظام کی مخالفت میں تبصرے کیے جاتے ہیں اور جاگیردار کو ایک ظالم، جابر، شرابی، کبابی، زانی اور متکبر شخص کے طور پر پیش کیا جاتا ہے بلکہ جاگیردار اور ابلیس تقریباً ہم معنی الفاظ سمجھے جاتے ہیں اور دیہاتی علاقے کے ہر مسئلہ کا ذمہ دار اسے قرار دیا جاتا ہے اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ نظام ہے کیا؟ اورکیا اب بھی موجود ہے یا ختم ہوچکا ہے؟

اسے سمجھنے کے لیے ہمیں پرانے زمانہ کی بادشاہی نظام کو سمجھنے کی ضرورت ہے جہاں ایک فرد/خاندان پورے ملک پر حکومت کرتا تھا۔ اور اس وسیٔع علاقہ کو زیر نگیں رکھنے کے لیے اسے افرادی قوت درکار تھی۔ چنانچہ بادشاہ اپنے علاقہ میں اپنے وفادار لوگوں کو کسی علاقہ کے مالکانہ حقوق دے دیتے تھے۔ جسے جاگیر کہا جاتاتھا اور ان کاکام نہ صرف اس علاقہ یا عملداری کا نظم و نسق برقرار رکھنا ہوتاتھا بلکہ بادشاہ کے لیے فوج بھی تیار کرنا ہوتی تھی۔

کسی کو سہ ہزاری، کسی کو پنچ ہزاری اور کسی کو ہفت ہزاری منصب عطا کیا جاتا تھا۔ جس سے مراد یہ ہوتی تھی کہ یہ شخص بادشاہ کو ضرورت پڑنے پر اتنی تعداد میں فوجی مہیا کرے گا۔ ان تمام اخراجات کے حصول کے لیے وہ جاگیردار اپنے علاقہ کے لوگوں سے ٹیکس وصول کر سکتاتھا یا بٹائی پر زمین مزارعین یا ہاریوں کو دے دیتا تھا۔ اور حاصل ہونے والی آمدنی اسی جاگیر کے اخراجات جس میں فوجی مہیا کرنے، عوام کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبود کی کوشش اور ان کے تنازعات کے فیصلے وغیرہ پر خرچ کی جاتی تھیں۔

جاگیریں عموماً کم رقبے تک محدود ہوتی تھیں۔ زیادہ وسیٔع رقبوں کے مالک جن کو اپنے علاقوں میں مکمل اختیارات ہوتے تھے۔ راجہ یا نواب کہلاتے تھے۔ جن کے زیر ملکیت میں لاکھوں ایکٹر رقبہ ہوتا تھا۔ اس نظام کو سمجھنے کے لیے ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ مزارع یا ہاری کون تھے اور ان کے ساتھ کیا معاہدہ ہوتا تھا۔ ﴿آج کل بھی زراعت یا بٹائی کا یہ طریق کئی جگہ پر رائج ہے ﴾

ایک اور بات بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ اس وقت دنیا کی آبادی آج کی آبادی سے کئی گنا کم تھی اور بہت سی زمین بے کار پڑی ہوتی تھی۔ اس زمانہ میں آج کی طرح مشینی دور بھی نہیں تھا۔ زمین کاشت کرنے کے لیے بیلوں سے چلنے والا ہل استعمال ہوتا تھا جس سے ایک فیملی بمشکل بارہ ایکٹر زمین کاشت کر سکتی تھی۔ ایکٹر کی تعریف ہی یہ ہے کہ وہ رقبہ جس پر ایک شخص ایک دن میں ہل چلا سکے۔

چنانچہ نہ صرف کاشت کے لیے ہل چلانا ایک دقت طلب اور دقت طلب امر تھا بلکہ پانی کی فراہمی بھی آج کل کی طرح ٹیوب ویلز کی بجائے جانوروں سے چلنے والے رہٹ پر منحصر تھی۔ چنانچہ مثال کے طور پر ایک شخص جو ایک ہزار ایکٹر کا مالک ہو وہ خود تو تمام رقبہ کاشت نہیں کر سکتا تھا۔ اس لیے وہ بارہ ایکٹر کے یونٹ کے حساب سے کئی مزارعین کے ساتھ یہ معاہدہ کرتا تھا کہ زمین میری اورہل اور محنت تمہاری۔ اخراجات نصف نصف اور منافع بھی نصف نصف اس طرح ان خاندانوں کی روزی روٹی کا انتظام بھی ہوجاتا تھا اور مالک زمین بھی اپنی زمین کا زیادہ ترحصہ قابل کاشت بنا لیتا تھا۔ ہزاروں سالوں کے اس نظام میں ہر کسی کی ضرورت پوری ہوتی رہتی تھی۔

جہاں تک جاگیرداروں کے ظلم کا سوال ہے تو یہ ایک انفرادی رویہ تھا۔ بہت سے جاگیردار ظالم بھی تھے۔ جس طرح بہت سے بادشاہ نواب یا راجہ بھی ظالم تھے۔ مگر بہت سے اچھے لوگ تھے اور اپنی رعایا کا خیال رکھتے تھے۔ کیونکہ اس طرح تعاون کرنے والے افراد کو اپنے گرد اکٹھا کرنے سے ان کی طاقت مضبوط ہوتی تھی۔ اس لیے یہ خیال کہ جو جاگیردار ہے وہ یقیناً ابلیس ہے درست نہیں۔

آہستہ آہستہ شہنشاہیت کے خاتمے سے اور دنیا کے نئے دور میں داخل ہونے سے ایک تبدیلی تو یہ آئی کہ شخص واحد کی حکومت کی بجائے جمہور کی حکمرانی قائم ہوئی۔ اب ایسے جاگیرداروں کی ضرورت نہیں رہی۔ حکومتیں فوج کے اخراجات بھی خود اٹھاتی ہیں اور عوام کی سہولت کے لیے اقدامات کرنے کی بھی ذمہ دار ہیں۔ جن کے اخراجات وہ ٹیکس اور دیگر ذرائع آمد سے پورے کرتی ہیں۔ دوسری تبدیلی یہ آئی کہ مشینی دور آنے کے باعث ٹریکٹرز اور ٹیوب ویلز کے استعمال سے زمین کو بیلوں کی جوڑی کے ذریعہ ہل چلاکر کاشت کرنے کا دقت طلب کام بھی آسان ہوگیا اور اب ایک شخص جو ہزار ایکٹر کا مالک ہو۔ وہ 5 / 4 ٹریکٹرز سے وہ کام لے لیتا ہے جو پہلے ستر اسی مزارعین کے ذریعہ ہوتا تھا۔ تیسری تبدیلی یہ آئی کہ بادشاہی نظام جو گزشتہ ایک صدی سے متروک ہوچکا ہے کے ساتھ ساتھ جاگیردارانہ نظام بھی جو اس کی ایک شاخ تھاختم ہو گیا۔

آج کل ہم جنہیں جاگیردار سمجھتے ہیں وہ دراصل جاگیردار نہیں بلکہ بڑے زمیندار ہیں۔ اور ان میں بھی اچھے اور برے ہر طرح کے آدمی موجود ہیں۔ لیکن یہ بڑے زمیندار بھی اب وراثتی تقسیم کے ذریعہ درمیانے درجے کی زمیندار ہوتے جا رہے ہیں۔

آج کل ایک ایسا نیاطبقہ ابھر رہا ہے؟ جومنافع خوری کے لیے بڑے بڑے رقبے خرید کرتا ہے اور یہ طبقہ صنعتکاروں اور کاروباری حضرات کاہے۔ یہ وہ طبقہ ہے جو بنکوں سے قرض حاصل کرکے کارخانے لگاتا ہے یا کسی اور کاروبارمیں رقوم انویسٹ کرتاہے اور پھر اس کے منافع سے زمینیں خریدتاہے۔

چونکہ یہ فارم کاروباری حضرات کے ہوتے ہیں اس لیے وہ ان فارمز کو موجودہ سائنسی بنیادوں پر چلانے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔ یہ ایک طرح سے ملک کے لیے مفید بھی ہے کیونکہ اس طریق سے فصلوں کی اوسط بہتر ہوجاتی ہے۔ یہ روایتی زمیندار نہیں اور نہ ہی انہیں زمیندارانہ روایات سے سروکار ہے ان کاکام تو صرف منافع کمانا ہوتاہے۔ روایتی زمیندار کا رہن سہن اور بودوباش نسبتاً سادہ ہوتی ہے اور انہیں بہت زیادہ منافع سے اتنی غرض نہیں ہوتی جتنی کاروباری حضرات کو۔

چنانچہ کاروباری حضرات جہاں ملکی مفاد میں کام کرتے ہیں وہاں بعض اوقات زیادہ منافع خوری کی حرص میں ناجائز ذرائع بھی اختیار کرتے ہیں جس سے معاشرے کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ روس میں صدیوں سے شہنشاہت کے زیر انتظام جاگیردارانہ نظام رائج تھا جسے فیو ڈلزم کہتے ہیں۔ اشتراکیت جس نے استحصال کے نتیجے میں جنم لیا وہ فیوڈلزم سے زیادہ بورژوا نظام کا رد عمل تھا۔ بورژوا جاگیردار نہیں بلکہ کاروباری لوگ تھے۔ جن کی حرص کے نتیجہ میں مزدوروں میں بے چینی پھیلی اور اس کا نتیجہ اشتراکیت کی صورت میں نمودار ہوا۔

دراصل استحصال کسی بھی صورت میں ہوا سکا نتیجہ عوام میں بے چینی اور بعض اوقات بغاوت کی صورت میں نمودار ہوتا ہے جیساکہ انقلاب فرانس میں ہوا اوراسکے خلاف مہذب معاشرے کو آواز بلند کرنی چاہیے نہ کہ جاگیردارانہ نظام کوخواہ مخواہ نشانہ بنایا جائے اور کوسنے دیے جائیں۔ جو ڈیڑھ سوسال سے متروک ہوچکا ہے۔

استحصال کے لیے صرف دولت درکار نہیں بلکہ جب تک طاقت نہ ہو خالی دولت کچھ نہیں کر سکتی اور آج کل ہمارے ملک میں جو استحصال ہو رہا ہے اس میں بعض سیاستدان اور با اثر افراد خواہ شہروں کے ہوں یا دیہات کے افسر شاہی کی طاقت کے ساتھ مل کرنا انصافی کرتے ہیں۔ شہروں میں بھی قبضہ مافیا نہایت سرگرم ہے جس کو افسر شاہی کی تائید حاصل ہے۔ دیہاتوں میں بھی یہی کھیل کھیلا جا رہا ہے مگر شہروں میں یہ مسائل دیہات کی نسبت بہت زیادہ ہیں۔

جہاں تک جنسی استحصال کا تعلق ہے یہ بھی صرف دیہات سے خاص نہیں۔ آئے روز اس قسم کے واقعات اخباروں میں رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ یہ معاشرے کی عمومی خرابی ہے جس کا کسی خاص طبقے کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ استحصال مالی مفادات کے لیے ہو یا جنس کی بنیاد پر۔ مذہب کی بنیاد پر ہو یا برادری کی بنیاد پر, اسے حقائق کی روشنی میں پرکھنا چاہیے اور اسی حوالہ سے آواز اٹھانا ایک مہذب معاشرے کا فرض ہے۔ محض خیالات کی بنیاد پر ایک خیالی دشمن کے خلاف بلند کرنے سے احتجاج بے سود ہوجاتا ہے ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •