کمرہ نمبر 101 میں کیا ہوا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج میں ایک صاحب کے بچپن کا وہ واقعہ جس نے انہیں ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ گو آج ان کی عمر چون سال کے لگ بھگ ہے اور اس واقعہ کے وقت ان کی عمر بارہ تیرہ سال کی رہی ہو گی۔ لیکن ان کاکہنا ہے کہ اس شدید جذباتی اور ذہنی تناؤ کا گہرا اثر عمر بھر کے لیے ان سے چمٹ گیا ہے۔ اور اکثر اوقات محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس تجربہ سے اسی طرح گزر رہے ہیں جس طرح بیالیس قبل وہ کراچی کی بستی شاہ فیصل کالونی میں واقع بارہ دری، مردانہ ہوسٹل کے کمرہ نمبر 101 میں گزرے تھے۔ اگرچہ اسے بیان کرتے ہوئے وہ شدید ذہنی کیفیت سے دو چار ہوتے ہیں لیکن ان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے اوپر بیتے اس ٹراما (صدمے) کو بیان کریں تاکہ اور بہت سے لوگوں کی مدد ہوسکے۔

 پروفیسر شفیع صدیقی صاحب نے انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کیا ہے اور آج وہ امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں پروفیسر کے باوقار عہدے پہ فائز ہیں مگر ان کا ماضی ان کے آج سے بہت مختلف تھا۔

 شفیع صاحب کا تعلق مشرقی پاکستان سے تھا جو سقوط ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش کہلایا۔ انہوں نے بتایا کہ‘‘ہم تو ٹراما کی پیداوار ہیں۔ ہم نے بچپن میں گن شوٹس، بموں اور مکتی باہنی کے’’امر بانگلا‘‘ کی آوازوں کا شور سنا۔ مشرقی پاکستان میں ہم بہاری کہلاتے تھے کیونکہ ہماری شناخت اردو زبان تھی۔ حالانکہ ہم جدّی پشتی وہیں رہے۔ پاکستان آنے سے پہلے ہمارے گھر میں گھس کر میرے ماموں کو مار دیا گیا، جن کی عمر سولہ سترہ سال کی تھی اور جنہیں میری ماں اپنی اولاد کی طرح پیار کرتی تھیں اور پیارسے بابو کہتی تھیں، اس سانحہ کے وقت میری عمر پانچ سال کی تھی اور میں اپنی امی کی گود میں تھا۔ جب یہ سانحہ ہوا تو میری ماں نے اپنی ساڑھی کے آنچل سے میرا چہرہ ڈھانپ دیا تھا۔ گو اس ٹراما کو میں نے دیکھا تو نہیں مگر شدت سے محسوس کیا۔ اسی قتل وخون کے دریا کو پار کرتے ہوئے اور بہت سے بہاری خاندانوں کی طرح ہمارا گھرانہ بھی پاکستان آیا تھا۔ تہی دامن مگر دل ودماغ بھیانک یادوں سے چور چور۔ اونچی آوازیں اور شور شرابا آج بھی میرے لیے اعصاب کے لیے ٹرامیٹک ہے۔

 ہم چار بہنیں اور ایک بھائی ہیں۔ میں سب سے چھوٹے بھائی سے بڑا ہوں۔ مشرقی پاکستان میں ہم خوشحال تھے۔ ابا ایک شپنگ کمپنی میں جنرل مینیجر تھے۔ اور اچھی کمائی کے باعث انہوں نے وہاں جائیداد بنا لی تھی لہٰذا باوجود بگڑتے حالات کے ابا کو وہاں سے نکلنے میں تامل تھا۔ میری امی نے کہا۔ ’’بھاڑ میں جائے تمھاری جائیداد میں یہاں اب نہیں رہوں گی۔ ہم پاکستان جا رہے ہیں‘‘۔ جب ہم پاکستان آئے تو ابا ساتھ نہ تھے اور بعد میں وہ وہیں پھنس بھی گئے تھے۔ ہم صفر آمدنی کے ساتھ آئے تھے۔ اور شاہ فیصل کالونی میں بسے۔ گزارے کا واحد ذریعہ تایا کے ماہانہ باندھے ہوئے پانچ سو روپے تھے۔ جس سے گھر نہیں چلتا تھا۔ لہٰذا امی چاول کے بورے سینے کا کام لے آتی تھیں اور ہم سب امی کی مدد کرتے تھے۔ مگر غربت بہت زیادہ تھی۔ اس وجہ سے ہم محلہ والوں کے لیے ہزیمت کا آسان شکار تھے۔ ہمارے بہاری لہجہ کا خوب مذاق اڑتا۔ جو کچی عمر میں، جبکہ ابا بھی ہمارے ساتھ نہ تھے، ایک ٹراما سے کم نہ تھا۔ گو غربت بہت زیادہ تھی مگر اس پر بھی امی کو مجھے اچھے اسکول میں پڑھوانے کی خواہش تھی۔ وہ اردو ادب کے مشہور نقاد کی بیٹی تھیں۔ علم شناسا اور زمانے کے تیور سے واقف۔ اُس اچھے اسکول میں پڑھنے کا تجربہ بھی کسی ٹراما سے کم نہ تھا، جہاں بچے بہترین لنچ لاتے اور ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہ ہوتا۔

شاہ فیصل کالونی میں جہاں ہم رہتے تھے وہاں شبنم سینما کے ساتھ ایک مردانہ ہوسٹل تھا جسکو’’بارہ دری‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس میں زیادہ تر پنجاب سے آئے ہوئے غیر شادی شدہ مرد تھے۔ وہیں ایک لمبا سا کمرہ تھا جسکا نمبر ایک سو ایک تھا۔ اس کمرے میں چار بیچلرز رہتے تھے اور غالبا اپنی عمر کی تیسری دھائی میں تھے۔ ان میں ایک پی آئی اے، ایک سول ایسی ایشن اور دو ائرپورٹ سیکیورٹی فورس میں کام کرتے تھے جن میں ایک کا نام احسن تھا۔ ہمارے محلے کے ہم سے بڑی عمر کے لڑکوں کو اس کمرے میں جا کرآزادی مل جاتی تھی کہ وہ فلمیں دیکھتے اور سگریٹ پیتے۔ کبھی ہم بھی ان کے ساتھ چلے جاتے۔

ایک دن چھٹی کا دن تھا۔ بارہ ایک بجے دن کا وقت۔ میں یہ سوچتے ہوئے وہاں گیا۔ دوست بھی وہیں ہوں گے۔ جب میں نے دروازہ کھٹکھٹایا تو احسن کی آواز آئی’’اندر آ جاؤ‘‘۔ میں نے دوستوں کا پوچھا تو اس نے کہا کہ’’وہ سب بھی بس آ رہے ہیں‘‘۔ میں اندر گیا تو اس نے مجھے اپنے بہت قریب کیا۔ اتنا کہ مجھے گھبراہٹ ہونے لگی۔ میری پہلی کوشش بھاگ جانے کی تھی۔ تو اس نے کہا ’’دروازہ لاک ہے‘‘۔ میں حیران و پریشان ہو گیا۔ پھر اس نے مجھ پہ جنسی حملہ کر دیا۔ وہ پنجابی بولنے والا لمبا اور متناسب مگر مضبوط جسم کا مالک تھا۔ میری عمر بارہ، تیرہ سال کی تھی۔ میں بہت چھوٹا تھا اور وہ بہت بڑا اور طاقتور۔ اس نے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔ وہ عمل بہت تکلیف دہ تھا۔ جب میں درد سے چلایا تو وہ بڑا سا چاقو لے آیا۔ میں زار و قطار رو رہا تھا۔ خوف اور تکلیف کی شدت سے۔ اس کا یہ عمل پچیس تیس منٹ جاری رہا ہوگا۔ پھر اس نے کہا میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گا۔

اس کے پاس ایک موٹر سائیکل تھی۔ اس نے کہا۔ ’’چلو تم کو موٹر سائیکل چلانا سکھاتا ہوں‘‘۔ پھر گھر چھوڑتے وقت اس نے دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو وہ مجھ سمیت سارے گھر والوں کو قتل کردے گا۔ بڑے سے چاقو سے ہونے والی موت کا خوف عرصے تک میرا منھ بند کرنے کے لیے کافی تھا۔ یہ واقعہ محض ایک بار ہوا مگر اس میں اتنی شدت تھی کہ کہہ نہیں سکتا۔ میں محسوس کرتا ہوں کہ موت آتی ہوگی تو ایسی ہی ہوگی۔ میں بارہ دری کے نام سے ڈرتا اور خواب میں خوف سے اُٹھ جاتا اور میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے۔ اس جنسی استحصال کے واقعہ نے مجھے ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ اس نے شفیع صدیقی کو مار دیا۔ اب ایک نیا شفیع صدیقی پیدا ہوگیا۔ اب میرا ہر ایک پہ اعتماد اٹھ گیا ہے۔ میرے بہن بھائی اور حتیٰ کہ ابا تک پہ۔

اس جنسی استحصال کا ذمہ دار میں صرف احسن کی بد فعلی کو ہی نہیں بلکہ پورے معاشرہ کو قرار دیتا ہوں۔ پاکستان اور اس معاشرہ کی مصنوعی قدروں کو جو دو مخالف جنسوں کو الگ رکھتے ہیں۔ آزادانہ ملنے ہی نہیں دیتے۔ احسن اکیلا تھا۔ اس کی خواہشیں تھیں۔ اگر آپ دونوں جنسوں کے لیے رسائی کے دروازے کھول دیں تو یہ حشر نہ ہو۔ کیوں عورت اور مرد کو اس سختی سے الگ کر دیا گیا ہے؟

میں ان تعلیمی اداروں کے اس نظام کے خلاف ہوں جہاں ہماری آگہی کے لیے جنسی تعلیم نہیں دی جاتی۔ میں مذہبی اداروں کے خلاف ہوں جہاں ملا کے خطبے اس قسم کی معلومات سے عاری ہیں۔ غرض میں پاکستان اور اس کے معاشرے کو جی بھر کے برا بھلا کہتا ہوں۔ صرف ایک دفعہ ہونے والے اس واقعہ نے میری زندگی کو عمر بھر کے درد میں مبتلا کردیا ہے۔

ڈاکٹر پروفیسر شفیع صدیقی صاحب ایک کامیاب پروفیشنل ہیں۔ ان کے پی ایچ ڈی کے تحقیقی کام کو سراہتے ہوئے ان کو امریکی تعلیمی ادارے نے تدریس کی ذمہ داری دی۔ اور یہاں بھی بحثیت محقق اور انگریزی ادب کے استاد کے آپ کے کام کی بہت قدر کی جاتی ہے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ ’’بچپن میں جنسی استحصال کے ٹراما سے کس طرح نبرد آزما ہو کر اس مقام تک پہنچے؟‘‘

 ’’میں نے اپنی پوری توجہ اسپورٹس میں لگا دی جو میری نظر میں دنیا کا سب سے بڑا انسٹی ٹیویشن ہے۔ جس کا اصول ہے اچھا کھیلو گے تو ساری دنیا مانے گی۔ دو جمع دو، چار ہی ہوں گے۔ بہت سائنسی اور منطقی۔ میں کرکٹ کھیلتا تھا۔ جنون کی حد تک شوق تھا اور میچ والے دن تو گویا اپنی ٹیم کو چھ بجے صبح سے اٹھانے نکل جاتا۔ میں نے اسپورٹس کے اصولوں کو اپنی زندگی کے ہر پہلومیں منتقل کیا۔ کہ اچھا کام کرو تو تشریح کرنے کی ضرورت نہیں۔ دنیا خود ہی مانے اور جانے گی۔ میں نے ان اصولوں کو اکیڈیمی اور موسیقی سے شناوری کے ہنر میں بھی برتا۔

’’اچھا تو موسیقی سے بھی دلچسپی ہے؟‘‘ ہم نے پوچھا۔

‘‘اسکا سہرا ہمارے پڑوسی اختر علی صاحب کے سر ہے جن کو ہم ماموں کہتے تھے۔ جن کی دوستی اعزاز نذیر اور ڈاکٹر منظور حسین جیسے نامی گرامی انقلابی کمیونسٹوں سے تھی۔ وہ خود بھی دہریے تھے۔ وہی پہلی بار ہم کو نند لال اور پردیپ کمار کے کنسرٹ میں لے گئے اور اس کے بعد میں نے ان فنکاروں سے طبلہ بجانے اور گانے کی تربیت حاصل کی۔ اوراب اپنا کرکٹ کا جنون یہاں منتقل کیا۔ ابا آزاد خیال کن رسیا تھے۔ انہیں موسیقی اور اردو زبان سے پیار تھا۔

امی کے والد بھی اردو کے مشہور نقاد تھے- ادب اور فن کی شوقین۔ غرض کسی کو بھی اعتراض نہ تھا۔ ادب میں بھی ماموں اختر علی ہی لے گئے جنہوں نے ادبی گروپ ’’انجمن مفاد عامہ‘‘سے متعارف کروایا۔ جس کی روح رواں مزدوروں کے لیڈر طفیل عباس کی بہن بیگم باجی تھیں۔ جو سماجی کاموں میں پیش پیش تھیں۔ اس انجمن کی ادبی نشستوں’’سلسلہ‘‘میں حمایت علی شاعر، جون ایلیا اور خالد علیگ جیسے نامی گرامی لوگ آتے تھے۔ ان محافل میں عورتیں اور مرد ساتھ بیٹھتے اور ادب پہ برابری سے گفتگو کرتے۔

یہاں کی محفلوں سے میں نے بہت سیکھا مثلا افسانہ کیا ہے۔ زبان کی تخیل کاری کیا ہے اور خاموشی کی کیا موسیقی ہوتی ہے۔ وہ سب جو ہمیں اسکول کالجوں سے نہیں ملا۔ وہاں سے تو یہ ملا کہ بس پڑھو، امتحان لو، پاس ہو جاؤ۔ ایک اور بات جو ان نشستوں سے سیکھی وہ یہ کہ مذہبی راستہ جو معاشرہ میں ہے اس میں بڑا تضاد اور تناؤ ہے۔ جبکہ ان کے برخلاف ان محفلوں میں عورتیں بھی برابری کا درجہ رکھتی تھیں۔ گویا ان محفلوں کا پاکستان کچھ اور ہی تھا۔

میں نے انگریزی ادب اور پھر لسانیت میں امتیاز کے ساتھ ایم اے کیا۔ پھر انگلینڈ سے ماسٹرز کے کورسسز لیے۔ وہاں مجھے لین کاسٹر یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کا موقع ملا۔

اس تمام عرصہ میرے ذہن کے نہاں خانے میں میرے بچپن کا ٹراما بھی میرے ساتھ محو سفر تھا۔ لہٰذا میری پی ایچ ڈی کی تحقیق میں بچپن کے وہ تجربات شامل ہوئے جب مجھے اسکول میں ناکافی ذرائع کا سامنا تھا۔ مثلاَ دوسرے بچوں کے مقابلے میں مجھے جیب خرچ، اچھے کپڑے اور گھر میسر نہ تھا۔ میں نے اپنا فیلڈ ورک پاکستان کے طبقاتی نظام کی بنیاد پہ چلنے والے اسکولز پہ کیا گیا۔ ایلیٹ کلاس، پرائیوٹ اسکول، معمولی پرائیوٹ اسکول، گورنمنٹ اسکول، اور مدرسہ اسکول۔ میں نے اس سوال کا گہرائی میں جائزہ لیا کہ پاکستان میں کیوں اس قدر سماجی تفاوت اور تفریق ہے اور اس پاکستانی معاشرہ میں پھیلی طبقاتی ناہمواری میں ان اداروں کا کیا کردار ہے؟

ہمیں یقین ہے کمرہ نمبر ایک سو ایک سے شروع ہو کر پی ایچ ڈی پہ ختم ہونے والی یہ گفتگو آپ کو بھی بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کرے گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •