EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

بزدار کے بعد: پنجاب میں "تبدیلی” کے لئے مسلم لیگ (ن) کے ارکان سے رابطے کا فیصلہ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو "فارغ” کروانے کے منصوبے پر گزشتہ 6 ماہ سے "کام” ہو رہا تھا تاکہ ایسا "فول پروف” پلان مرتب دیا جا سکے کہ اگر انہیں وزارت اعلیٰ سے ہٹانے کی راہ میں "بنی گالہ اسٹیبلشمنٹ” یا پرائم منسٹر ہاؤس حسب سابق رکاوٹ بننا چاہے تو بھی مزید مزاحمت ترک کرنے پر مجبور ہو جائے۔ تاہم "نئے بزدار” کے سلسلے میں پی ٹی آئی حکومت کے ایک متبادل سیاسی پلان پر بھی غور کیا جا رہا ہے ۔

ذرائع کے مطابق مقتدر قوتیں گزشتہ ڈیڑھ سال سے” کپتان” کو قائل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ پنجاب کو چلانے کے لئے عثمان بزدار کو ہٹا کر کوئی باصلاحیت اور اہل شخص وزیر اعلیٰ کی کرسی پر بٹھایا جائے مگر "کپتان” کو اس پر آمادہ کرنے کے لئے مقتدر حلقوں کی کوئی "ایڈوائس” کام آئی نہ دباؤ۔ جس پر کم از کم 6 ماہ قبل مقتدر حلقوں میں طے کر لیا گیا کہ اب بزدار کو گھر بھیجنے کے لئے "ڈائریکٹ ایکشن” کا آپشن اختیار کیا جائے۔ اس لئے کہ وزیر اعظم عمران خان شدید دباؤ پر کئی مرتبہ عثمان بزدار کو فارغ کرنے پر متفق تو ہو چکے ہیں مگر اپنے وعدے کو عملی جامہ نہیں پہنا رہے ۔

ذرائع کے مطابق اس مقصد کے تحت پرائم منسٹر ہاؤس سے بالا بالا نیب کے ذریعے "آپریشن ایگزٹ بزدار” پر آج سے کم از کم 6 ماہ قبل اسی وقت کام شروع کردیا گیا تھا جب ڈائریکٹر جنرل ایکسائز، پنجاب اکرم اشرف گوندل اپنی سروس کی میعاد پوری ہو جانے پر سرکاری نوکری سے ریٹائر ہو کر عہدے سے الگ ہوئے۔ وہ ایک "رینکر” یا "پروموٹی” افسر تھے جو ترقی کرتے کرتے "ڈی جی ، ایکسائز” جیسی اہم پوسٹ تک پہنچے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ریٹائر ہونے کے بعد امریکہ شفٹ ہو گئے تھے لیکن اہم حلقوں کی خواہش پر دو ماہ پہلے خصوصی طور پر واپس پاکستان آئے اور وزیراعلی عثمان بزدار کے خلاف "زیر تعمیر” کیس میں اسی طرح اہم کردار ادا کرنے کی” تیاری” شروع کر دی جس طرح لاہور ایئر پورٹ کی حدود میں ایک ایسے ہوٹل کو پیشگی ہی فور یا فائیو سٹار ہوٹل مانتے ہوئے شراب کا لائسنس خلاف قواعد جاری کر دیا گیا جو ابھی زیر تعمیر تھا ۔

بتایا گیا ہے کہ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب کے سابق پرنسپل سیکرٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی بھی سروس سے ریٹائر ہوجانے کے بعد ہی سے اہم حلقوں کے رابطے میں تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں اہم سابق سرکاری افسران پہلے ہی وزیراعلیٰ بزدار کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر آمادہ ہوچکے تھے اور گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ذاتی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بزدار کے خلاف مالی کرپشن، دھونس دھاندلی اور دباؤ کے سنگین الزامات سے متعلق اہم دستاویزی ثبوت و شواہد جمع کرتے رہے ہیں۔ ذرائع نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مذکورہ دونوں سابق اعلیٰ سرکاری افسران کی "شراب لائسنس” کیس میں وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست فوری منظور کر لی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں نئے وزیراعلیٰ کے لئے حکمران جماعت پی ٹی آئی کے نامزد امیدوار کو پنجاب اسمبلی میں بطور قائد ایوان اعتماد کا ووٹ دلوانے کی غرض سے ایک متبادل سیاسی پلان بھی زیر غور ھے جس کے مطابق اس بار "چوہدریوں” کا تعاون حاصل کرنے کی بجائے "قاف لیگ” سے اتحاد کی قربانی دیتے ہوئے ایوان میں موجود اکثریتی جماعت مسلم لیگ (ن) کے ارکان کے ووٹ حاصل کرنے کو ترجیح دی جائے گی تاکہ "چوہدری برادران” کی مدد کی ضرورت ہی نہ پڑے اور "قاف لیگ” کی مبینہ سیاسی بلیک میلنگ سے بھی بچا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق پنجاب سے”نون” لیگی ایم پی ایز کو توڑنے پر "کام” کیا جا رہا ہے جن کی پی ٹی آئی کے اگلے نامزد وزیراعلیٰ کی حمایت یقینی بنانے کے بعد خفیہ رائے شماری میں اعتماد کا ووٹ حاصل کیا جائے گا ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •