حکومت کی ناکامی یا نظام کی ناکامی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت پاکستان میں ایک اور حکومت اپنی ناکامی کا کلنک ماتھے پر سجا کر اپنے منطقی انجام کی طرف بڑی تیزی سے گامزن ہے۔ پاکستان میں کچھ حکومتوں کو فوجی ادوار میں شمار کیا جاتا ہے جبکہ کچھ کے لئے ہم سول حکومتوں کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور مارشل لاز کے لئے جو جواز فراہم کیا جاتا ہے اس میں سیاستدانوں کی کرپشن، بیڈ گورننس اور باہمی چپقلش کو قصوروار ٹھہرایا جاتا ہے۔ پاکستان میں حکومتوں کی ناکامی کوئی نئی خبر نہیں ہے یہاں یہی ہوتا آیا ہے اگر اب اس کو غور سے دیکھیں تو ناکامی کی رفتار بہت تیز ہو چکی ہے بلکہ جو ایک ہنی مون کا وقت حکومتوں کو میسر آتا تھا اب وہ ختم ہو چکا ہے اورکیا وجہ ہے کہ پاکستان میں فوجی سے لے کر نام نہاد سول اور جمہوری حکومتیں عوام کو بنیادی سہولیات دینے میں بری طرح ناکام ثابت ہوئی ہیں تو کیا یہ حکومتوں کا قصور ہے یا نظام کی خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ ناکامی دیکھنی پڑتی ہے۔

پہلے تو ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ نظام کیا ہو تا ہے ہمارے ہاں اکثر صدارتی، پارلیمانی، متناسب نمائندگی یا پھر جمہوری اور ڈکٹیڑشپ کو نظام کہا جاتا ہے جبکہ یہ تمام نظام کے اندر سیاسی طرزحکومت کا نام ہیں جیسا کہ اگر ہم دنیا بھر میں دیکھیں تو ہمیں امریکہ کا صدارتی طرز حکومت فرانس کے صدارتی طرز حکومت سے مختلف نظر آتا ہے اور برطانیہ کا پارلیمانی طرز حکومت دیگر یورپی ممالک سے قطعی مختلف ہے اور جرمنی کا آسٹریا اور بلجیم سے بالکل مختلف ہے۔

یہ طرز حکومت وہاں پر موجود نظام کے اندر حکمران طبقے اور وہاں کے محنت کش طبقے کی باہمی چپقلش کے نتیجہ میں تشکیل دیے گئے ہیں جبکہ نظام مجموعی طور پر وہاں ایک ہی ہے جو کہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جس نے اپنے سابقہ زرعی نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ جس کے بعد وہاں جمہوری ادارے قائم ہوئے اور تمام تر استحصال کے باوجود ابتدائی عہد میں سرمایہ دارانہ نظام نے ترقی پسند کردار ادا کیا۔ اس نظام کی بنیاد منڈی اورمنافع پر ہے یعنی اس میں اشیاء انسانی ضرورت کی بجائے بیچنے اور منافع کے لیے پیدا کی جاتی ہیں۔

اس نظام میں شخصیات کی بجائے اداروں کی تشکیل ہوئی اور نجی شعبے پر انحصار بڑھا اور یہ تاثر پیدا کیا گیا کہ چونکہ نجی شعبہ میں ذاتی فائدہ ہوتا ہے اس لیے اس کو اچھے طریقہ سے چلایا جاتا ہے اور یہ بہت ترقی کرتا ہے جبکہ اس کی ترقی زیادہ سے زیادہ منافع کے لالچ میں پنہاں ہوتی ہے جو کہ محنت کشوں یا کام کرنے والوں کے استحصال پر مبنی ہے اور منافع کی ہوس ایک حد کے بعد کام کرنے والوں کی اجرتوں میں کمی اور بہت صورتوں میں کوالٹی میں کمی اور ٹیکس کی چوری میں چھپی ہوتی ہے۔

اس نظام میں ملک کی ترقی مجموعی طور پر دیکھی جاتی ہے مثلاً چند بڑے منافع حاصل کرنے والوں کی پیداوار اور کمائی کو مجموعی طور پر ملک کی جی ڈی پی اور فی کس آمدنی ظاہر کی جاتی ہے جس کو پورے ملک کی خوشحالی سے تعبیر کیا جاتا ہے جبکہ حقیقت میں یہ بہت ممکن ہے کہ ملک کی زیادہ ترعوام برے حالات میں زندگی گزار رہے ہوں اور کام کرنے والے محنت کشوں کو جو منافع دینے کا باعث بن رہے ہوتے ہیں ان بیچاروں کو بنیادی سہولیات بھی میسر نہ ہوں اور یہ لوگ ڈیلی ویجز پر اور برے حالات میں اپنا وقت گزار رہے ہوں اور زیادہ تر دنیا بھر میں ایسا ہی ہوتا ہے۔

بنگلہ دیش سے چین اور کوریا سے لے کر یورپ و امریکہ میں اب ایسا ہی ہے اس لیے ہمیں دنیا بھر میں محنت کشوں کے احتجاجات نظر آتے ہیں چاہے وہ بھارت ہوفرانس ہو یا چین ہی کیوں نہ ہواور صاف ظاہر ہے کہ یہ نظام اب اپنے تمام تر عروج کے بعد اب اپنے زوال کی طرف گامزن ہے جس کی طرف اب تو بہت سارے سرمایہ دار معیشت دان بھی کھل کر کہنا شروع ہو گئے ہیں۔ کووڈ 19 نے اس سرمایہ داری نظام کے بحران کو اور بھی شدید تر کر دیا ہے جس کے باعث مڈل کلاس لڑھک کر بہت تیزی کے ساتھ غربت کی سطح سے نیچے گر رہی ہے اس لیے یورپ اور امریکہ میں اب کاروبار کو کھولا جا رہا ہے جبکہ اس کی وجہ سے بیماری میں اضافہ کا شدید امکان ہے۔ لیکن اس نظام میں رہتے ہوئے ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

پاکستان نے بھی یہی نظام اپنایا ہوا ہے خصوصاً 1980 ء کی دہائی کے بعد سے لیکن 1990 ءمیں سوویت یونین کی نام نہاد کمیونزم کے انہدام سے تو کھلی منڈی کے حامیوں نے تاریخ کے خاتمے کا ہی اعلان کر دیا تھا کہ اب صرف دنیا میں سرمایہ داری ہی کا راج رہے گا اور یہ حرف آخر ہے۔ اس کے ساتھ ہی اب منڈی کو چلانے کے لیے لبرل کرنے کے بجائے اب نیو لبرل پالیسیوں کا ا علان کر دیا گیا جو بڑے تاجروں، بڑے صنعت کاروں اور بڑے کاروباری حضرات کے مفادات کو مد نظر رکھ کر تشکیل دی جاتیں ہیں۔

آپ نے اکثر سنا اور پڑھا ہو گا کہ بجٹ کی تیاریوں کے لئے چیمبر آف کامرس کے وفود اور بڑے صنعتکاروں سے ملاقات کی جاتی ہے لیکن آپ نے کبھی نہیں سنا ہو گا کہ اپکا یا کسی ٹریڈ یونین کے وفد سے ملاقات ہوئی ہواور ان کی بھی کسی ضرورت کو مدنظر رکھا گیا ہو۔ اسی طرح نجکاری کے نام پر منافع بخش سرکاری اداروں کی بولیاں لگوا کرمنظور نظر صنعت کاروں کے ہاتھ اونے پونے بیچا گیا۔ رائٹ سائزنگ کے نام پر ملازمین کو نکالا گیا اور باقی ماندہ کو کانٹریکٹ پر بغیر کسی مراعات کے رکھا گیا اور ان سے دو، دو اور تین، تین ملازمین جتنا کام لیا جاتا ہے اور کام کرنے کے اوقات بھی اب بغیر چھٹی کے تقرباً بارہ گھنٹے ہو چکے ہیں۔

یہ ہے وہ نظام اوروہ معاشی پالیسیاں جو تقریباً ساری دنیا میں رائج ہیں اور جس کی بناء پر اکسفیم کی رپورٹ جو ہر سال چھپتی ہے اور جی ایٹ وغیرہ کی میٹینگز میں تقسیم بھی ہوتی ہے اس کے مطابق دنیا بھر میں امیر اور غریب کا فرق ناقابل یقین حد تک بڑھ چکا ہے اور دنیا بھر کی دولت سمٹ کر محض چند ہاتھوں میں سمٹ چکی ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کی عوام میں غربت کی وجہ سے بہت بے چینی پھیل رہی ہے اور یہ بھی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں انتہا پسندی میں اضافہ ہوا ہے اور جس کی وجہ سے نہ صرف نریندر مودی اور ٹرمپ بلکہ یورپ میں بہت حد تک دائیں بازو کی نسل پرست جماعتوں نے اس کو استعمال کیا اور اپنی مقبولیت میں اضافہ کیا ہے اور اقتدار میں بھی آئیں ہیں جبکہ عوام کو دینے کے لیے ان کے پاس کچھ نہیں ہے اور یہ نسل پرستی میں اضافہ کرکے اور اپنی سیاسی اپوزیشن جماعتوں کو موردالزام ٹھہرا کر اپنی نا اہلی پر پردہ ڈالتے ہیں گو کہ اپوزیشن کے پاس بھی کوئی متبادل پالیسی نہیں ہے اور وہ بھی اس نظام کو قائم رکھتے ہوئے انہی نیو لبرل پالیسیوں کو چلا نے کے متمنی ہیں۔ ائی ایم ایف، ورلڈ بینک، سنٹرل یورو بینک وغیرہ اسی نیو لبرل پالیسی کے سرخیل ہیں۔

اب ہم اس پس منظر میں پاکستان کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پاکستان ایک نیم نوآبادیاتی ملک ہے جو یورپ کی طرح سرمایہ داری میں اپنا ارتقائی سفر طے کیے بغیر محض اپنے سامراجی ملک برطانیہ کی بدولت اس نے اس نظام کو اپنایا اور اب تک اس نے اپنے ہاں بڑی زمینداری کو بھی برقرار رکھا ہوا ہے اور اب وہی زمیندار آٹے، چینی اور ٹیکسٹائل کی ملیں لگا کر صنعت کار بھی بن چکے ہیں اور ان فیکٹریوں کا انتظامی امور انہوں نے بالکل اپنی جاگیروں والا رکھا ہوا ہے اور کام کرنے والے ملازمین کو اپنے مزارعوں کی طرح ہی رکھا ہے اور اپنی فیکٹریوں کو کبھی بھی ادارہ بنانے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں جبکہ ان کا مطمح نظر صرف منافع ہی نہیں بلکہ دیہاڑیاں لگانا تھا اور اب بھی ہے۔

یاد رہے یہی وہ پرائیویٹ سیکٹر ہے جو اب آٹا، چینی اور پٹرول، نجی ہسپتال اور نجی تعلیمی اداروں کے مافیاکے طور پر سامنے آیا ہوا ہے۔ ریسرچ اور ٹیکنالوجی، جدید سائنس اور اپنی صنعت میں نئی جدت سے دوری کی وجہ سے یہ محض ملٹی نیشنل کمپنیوں کا ایجنٹ یا گماشتہ ہی بن سکا ہے۔ پاکستان میں 1947ء کے بعد سرمایہ داری نظام میں سرکاری اور نجی سیکٹر ساتھ ساتھ چلتے رہے بلکہ ایک سرکاری ادارہ پاکستان انڈسڑیل ڈیویلپمینٹ کارپورریشن نام کا ادارہ تشکیل دیا گیا جس نے بہت سے کارخانے خود لگوا کر نجی شعبے کے حوالے کیے جبکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ نجی شعبہ خود یہ سب کچھ اپنے زور بازو پر کرتا تاکہ وہ خود مضبوط ہو تا بلکہ اس طرح وہ تن آسان ہوا اور اب تک محض ٹیکسوں، قرضوں کی معافی اور دیگر سبسڈیوں کا عادی ہی ہوا ہے۔

گو کہ بھٹو دور حکومت میں بہت سے نجی اداروں کو سوشلزم کے نام پر قومیایا گیا لیکن وہ سوشلزم کے مطابق وہاں کے کام کرنے والوں کے جمہوری کنٹرول میں دینے کے بجائے بیوروکریسی کے کنٹرول میں دے دیے گئے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں پر تو بالکل ہی ہاتھ نہیں ڈالا گیا۔ ضیا الحق کے گیارہ سالہ دور حکومت میں جو ہر طرح سے بھٹو دور حکومت کی ضد تھا اس میں بھٹو دور میں کی گئی زرعی اصلاحات کو بھی بہت حد تک واپس کیا گیا اور اس کے ساتھ ٹریڈرز ایسوسی ایشنوں کو بے لگام کیا گیا۔

مجھے یاد ہے اس زمانے میں یہ اتنی منہ زور تھیں کہ ٹیکس اکٹھا کرنے والوں کو مار کر مارکیٹوں سے نکال دیتے تھے اور ان پر کوئی کارروائی نہیں ہوتی تھی اور میاں نواز شریف کو ان کے نمائندے کے طور پر پیش کیا گیا۔ 1990 ء کے بعد جب دنیا بھر میں نیو لبرل پالیسیوں کا اطلاق ہو تو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں پہلی دفعہ نجکاری اور ڈس انویسٹمینٹ کی اصطلاح سننے میں آئی اور پی آئی اے اور مسلم کمرشل بینک کی ڈس انویسٹمینٹ اور نجکاری اسی دور میں شروع ہوئی۔

اس کے بعد مسلم لیگ نے تو اپنے دور حکومت میں نہ صرف اس کو جاری رکھا بلکہ دھڑا دھڑ سرکاری سرپرستی کے اداروں کو فروخت کیا اور ہزاروں مزدوروں کو بیروزگار کیا گیا اور مستقل نوکریوں کا خاتمہ کر کے کنٹریکٹ ملازمین رکھنے کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ اپنی تمامتر محبتوں کے باوجودپیپلز پارٹی اور مسلم لیگ اپنی مقبولیت بتدریج کھوتی ہی رہیں جس کی وجہ سرمایہ داری نظام اور اس میں تو اب لبرل کے بجائے خوفناک نیو لبرل پالیسیوں کا اجراء تھا۔ ائی ایم ایف اور دیگر قرض دینے والے بین الاقوامی اداروں نے نہ صرف ممالک کو ان پالیسیوں کا پابند بنایا بلکہ اپنے تنخواہ دار ملازمین کے ذریعے باقاعدہ ان کو مانیٹر بھی کیا گیا۔

اسی نظام اور انہی پالیسیوں کو پرویز مشرف کے دور حکومت میں بھی قائم رکھا گیا بلکہ اس کے بعد پیپلز پارٹی، مسلم لیگ اور اب پی ٹی آئی نے بھی اس کو جاری رکھا ہوا ہے۔ ہم اگر آج کل دیکھیں تو موجودہ حکومت نے جو تبدیلی کے نام پر آئی تھی اس نے نہ صرف سابقہ پالیسیوں کو جاری رکھا بلکہ ان کرونا کے دنوں میں اندازہً دو ہزار ارب روپے مختلف مدوں میں کاروباری حضرات میں بانٹیں ہیں مگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک پیسہ کا بھی اضافہ نہیں کیا گیابلکہ نجکاری کے نام پر الٹا ان کو نوکریوں سے نکالا جا رہا ہے۔

تمام حکومتوں کے غیر مقبول ہونے کی اگر ہم ایک وجہ ڈھونڈیں تو ہمیں یہ سننے کو ملتا ہے کہ بیڈ گورننس ہے تو سیدھی سی بات ہے کہ گڈ گورننس ہو بھی کیسے سکتی ہے کیونکہ نہ تو حکومت عوام میں سے ہے اور نہ ہی وہ عوام کی فلاح کے لیے کام کرتی ہیں۔ یہاں مقتدرہ سیاسی جماعتیں بناتی ہے، پھر مقتدرہ ان کو جمہوریت کی آڑ میں اقتدار دلاتی ہے اور پھر ان کو اپنی انگلیوں پر نچاتی ہے۔ اچھے طریقہ سے ناچتی رہیں تو ٹھیک نہیں تو میڈیا کے ذریعہ کبھی مائنس ون تو کبھی مائنس ٹو سے بلیک میل کرتی ہیں اورنہیں تو اپنی کسی سپانسرڈ جماعت کے طفیل دھرنا وغیرہ دلا کر ان کو اپنے تابع رکھتی ہیں۔

نجی شعبہ تمام تر من مانیوں کے ساتھ قومی وسائل پر قابض ہے یا غیر ملکی کمپنیوں کو اس کے ٹھیکے دے رکھے ہیں اور اس میں امور ریاست صرف اشرافیہ کے لیے ہو تو عوام کی جان تو شکنجہ میں ہی ہو گی۔ اس لیے یہ نظام جو کہ صف اول کے ممالک میں بری طرح ناکام ہو رہا ہے اس سے یہ توقع کہ یہ تیسری دنیا کے ایک نیم نو آبادیاتی ملک میں کامیاب ہو، قطعی ناممکن ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •