جنگ آزادی 1857ء اور پنجاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تاریخ میں 1857 ء کو ایک غیر معمولی حیثیت حاصل ہے۔ اس حوالے سے پنجاب کے کردار پر بہت کچھ لکھا گیا اور مختلف نقطہ ہائے نظر سامنے آچکے ہیں اور مزید بھی آتے رہتے ہیں۔ ایک سوچ وہ ہے جسے عبداللہ ملک مرحوم نے پاکستان ٹائمز میں ”پنجاب نے برطانیہ کا ساتھ کیوں دیا؟ کے عنوان سے مضامین لکھ کر پیش کیا۔ جس کا بنیادی استدلال پنجابیوں کی فوج میں بھرتیوں کو بنایا جو 1857 ء سے دوسری جنگ عظیم تک ہوئیں۔ اسی حوالے سے ایک فرقہ وارانہ نقطء نظر بھی ہے، جس میں بتایا جاتا ہے کہ سکھ حکمرانوں نے پنجاب کے مسلمانوں کا جینا دوبھر کررکھاتھا اور انگریز کی آمد کے بعد ان کے حالات میں مثبت تبدیلی آئی، انھیں مذہبی آزادی بھی میسر آئی اور تعلیم ترقی کے در بھی وا ہوئے، اسی لیے پنجابی مسلمانوں نے فوج میں شمولیت اخیتار کی۔ اس نقطہ نظر ایک بڑے شارح جنرل عمر حیات ٹوانہ بھی تھے جن کی سوانح حیات مولانا غلام رسول مہر صاحب نے لکھی تھی۔

لیکن یہ صرف ایک پہلو تھا۔ درحقیقت ہندوستان پر برطانیہ کے ابتدائی قبضے کا مقصد دولت ہندوستان کو برطانیہ منتقل کرنا تھا، اور اسی دولت کی بدولت انگریزوں کے لئے صنعتی انقلاب برپا کرنا ممکن ہوا۔ خام مال کی فراہمی ہو یا ہندوستان کی وسیع مارکیٹ اور جفاکش عوام، انگریز کے لئے کسی نعمت سے کم نہیں تھے۔ جن کی بدولت انگریز نے اپنی صنعت کو فروغ دیا اور نسبتاً ایک چھوٹا ملک ہونے کے باوجود ہندوستان سے بھرتی کی جانے والی فوج کے بل بوتے پر یورپ کی نوآبادیاتی طاقتوں سے مقابلہ کیا اور چین کے خلاف جنگ افیون سے لے کر جنوبی افریقہ کی بوئز وار، جنگ عظیم اول اور دوئم میں اپنا کردار ادا کیا۔

ابتداء میں بیان کیے گئے نقطہ نظر میں پنجاب کی فوج میں بھرتیوں کو تو ہدف تنقید بنایا گیا لیکن اس حقیقت سے دانستہ چشم پوشی کی گئی کہ یہ تمام بھرتیاں جاگیرداروں کے اس طبقے سے عمل میں آئیں جسے برطانوی حکمرانوں نے جنم دیا۔ یہ ہی جاگیر دار طبقہ یونینسٹ پارٹی میں شامل ہوکر آزادی ہند کی تحریک کا سخت مخالف رہا۔ جس کی بنیاد پر حکومت برطانیہ کا سرکار نواز طبقہ وجود میں آیا۔ اس طبقے کو خطابات سے نوازا گیا اور حکومت میں بھی نمائندگی دی گئی۔ مسلمانوں میں خان بہادر، ہندؤں میں رائے بہادر اور سکھوں میں سردار بہادر کے خطابات حاصل کرنے والوں نے جنگ عظیم میں وار فنڈ اکٹھا کرنے، فوج میں بھرتیاں کرنے اور تحریک آزادی کو سبوتاژ کرنے کا خوب کام کیا۔

اس حوالے سے تازہ تحقیق بہاء الدین زکریا یونیورسٹی۔ ملتان میں شعبہ تاریخ کے پروفیسر ڈاکٹرتراب الحسن سرگانہ صاحب کی کتاب، Punjab And The War of Independence 1857۔ 1858 From Collaboration To Resistance آکسفورڈ یونیورسٹی پریس پاکستان نے شائع کی ہے۔ ڈاکٹر سرگانہ کی تحقیق بتا تی ہے کہ ہمارے زیادہ تر تاریخ نویسوں نے خصوصی سے عمومیTop۔ Downکی تحت لکھا ہے۔ بنیادی طور پر کتاب اس عام تاثر کی نفی کرتی ہے کہ جس میں بتایا جاتا ہے کہ راجے، جاگیرداراور نواب سمیت تمام پنجاب نے انگریزوں کا ساتھ دیا اور آزادی کی تحریک میں خاطر خواہ حصہ نہیں لیا۔

ڈاکٹر تراب الحسن سرگانہ بتاتے ہیں کہ کے اس نقطہ نظر کے حامل مصنفین نے عوام کی انگریز مخالفت کی تحریکوں کو اجاگر نہیں کیا۔ ان کی کتاب کا بنیادی مقدمہ بھی یہی ہے کہ تحریک آزادی میں پنجاب کے کردار کو مکمل طور پر پیش نہیں کیا گیا ہے اور پنجاب کے عام باسیوں کے انگریز راج مخالف کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ کتاب میں جہاں عام پنجابی کے کردار کو اجاگر کیا گیا ہے وہاں پنجاب اورسرحد (موجودہ کے پی کے ) کے اشرافیہ کے انگریز مخالف کردار اور آج بھی اس طبقے کے اقتدار، اختیار اور وسائل پر قائم اجارہ داری کو بیان کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر سرگانہ کا کہنا یہ ہے کہ یہ مکمل تحقیق کا فقدان ہے کہ 1857ء میں لڑی جانے والی جنگ اور اس میں پیش آنے والے واقعات کو فقط دہلی اور میرٹھ تک محدود رکھا گیا ہے اور پنجاب کے کردار کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ جس کی بنیادی وجہ ان کے نزدیک بادشاہوں، شہزادوں، راجوں اور وڈیروں جاگیر داروں کی لکھوائی گئی تاریخ اور واقعات ہیں جسے بعد میں آنے والے تاریخ نویسوں اور مؤرخین نے بھی مزید تحقیق اور جستجو کے بغیر من و عن نقل کیا ہے۔

تاریخ کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ 1857 ء ہو یا کوئی اور دور، سرکاری اور غیرسرکاری نقطہ نظر، ریکارڈ اوراس وقت کی خفیہ رپورٹس کو پڑھا اور دیکھا جائے اور لوک داستانوں اور لوک گیتوں جن میں استعمار کے کردار اور احمد خان کھرل ایسے مجاہدین کے کارناموں کو بیان کیا گیا ہے، کی مدد ہی سے پنجاب کے حقیقی کردار کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ”پنجاب بغاوت رپورٹ“ جسے انگریز نے 1857 ء کے کچھ عرصے بعد مرتب کیا اور ساتھ ہی اپنے ایجنٹوں کے کارنامے اور شجرے ”پنجاب چیفس“ میں لکھے اور محفوظ کیے۔

پنجاب کے عوام نے انگریزوں کو نکالنے کے لیے شہروں، قصبوں اور دیہات میں بغاوتیں برپا کیں جسے انگریز کے ان غلاموں نے جو آج بھی پنجاب کی سیاست پر قابض ہیں، تاریخ کے صفحات سے مٹانے کی کوششیں کیں اور یہ تاثر پھیلایا کہ انگریز کی وفاداری میں پنجاب کے عوام بھی ان کے ساتھ شامل تھے۔ مشہور مفکر کارل مارکس نے 1857 ء کی جنگ آزادی پر جو دوسو صفحات لکھے تھے ان میں کئی جگہ اہل پنجاب کے کارناموں کا ذکر کیا ہے۔

کتاب میں تحریک آزادی کی ناکامی کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر صاحب بتاتے ہیں کہ سرفروش اور جانثار مجاہدین کی ایک بڑی تعداد کے باوجود دہلی اور پنجاب میں تحریک آزادی کی ناکامی کی بنیادی وجہ مجاہدین کا متحد نہ ہونا تھا۔ تنظیم کے فقدان اور قبائلی رقابتیں کامیابی کی راہ میں سب سے بڑی روکاوٹ ثابت ہوئیں جس کا انگریز نے اپنے وفادراوں اور جاسوسوں کی مدد سے اپنے مفادات کے لیے خوب استعمال کیا۔ جیسے کمالیہ میں کھرل سردار سرفراز خان نے حریت جنگجو احمد خان کھرل کے خلاف انگریز کی مدد کی۔

1857 ء کی جنگ آزادی میں پنجاب کے کردار پر ایک نئی تحقیقی کتاب Punjab And The War of Independence 1857۔ 1858 From Collaboration To Resistance کا شائع ہونا خوش آئند ہے۔ اس حوالے سے مزید مطالعے کے لیے پروفیسر عزیزالدین احمد صاحب کی ”پنجاب اور بیرونی حملہ آور“ بھی چشم کشا تحقیق پر مشتمل ہے اور راقم نے بھی کالم کی تحریر میں ان دونوں کتابوں سے استفادہ کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •