بچوں میں کتابیں پڑھنے کے رجحان میں کمی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کرونا وائرس کی وجہ سے ہر چیز ڈیجیٹلائیز ہو گئی ہے حتٰی کہ اسکول کی پڑھائی بھی آن لائن ہونے لگی ہے۔ آن لائن تعلیم کے جہاں مثبت پہلو ہیں وہاں منفی پہلو بھی ہیں۔

سب سے بڑا نقصان جو اس وقت زیر بحث ہے وہ نوجوان نسل کی کتابوں سے دوری ہے۔ بچوں میں جو کتابیں پڑھنے کا شوق تھا وہ ختم ہوتا جا رہا ہے اس کے کئی محرکات ہیں سب سے اہم یہ کہ اب آن لائن تعلیم کی وجہ سے الیکڑانک آلات ان کے ہاتھ آگئے ہیں لیپ ٹاپ ’کمپیوٹرز‘ موبائل اور آئی پیڈ اب بچوں کو باآسانی میسر ہیں اور کام کے بہانے اب ان کا زیادہ تر وقت انٹرنیٹ سرفنگ کرتے گزرتا ہے۔

کچھ اسکولز کی پالیسی بھی غلط ہے وہ بچوں کو آن لائن گیمز کھیلنے کو دے دیتے ہیں جو آگے سے آگے چلتی جاتی ہیں یہ گیمز دینے کی بجائے وہ کسی کتاب کا آن لائن لنک بھی دے سکتے ہیں کہ اس کو پڑھ کر سمری یا خلاصہ بیان کیا جائے یا اس میں سے سوالات بھی پوچھے جا سکتے ہیں تاکہ بچے غور سے کتابیں پڑھیں اور ان کو اپنے لفظوں میں بیان کر سکیں۔

بچوں کی پرورش میں کوتاہی کی ذمہ داری بھی ماؤں پر آتی ہے کیونکہ بچہ سب سے زیادہ وقت اپنی ماں کے ساتھ گزارتا ہے لہٰذا وہ وہی کرتا ہے جو وہ اپنے اردگرد کے ماحول میں ہوتا دیکھتا ہے اگر ماں موبائل استعمال کر رہی ہو اور بچے کو کہے کہ کتاب پڑھو وہ ہرگز نہیں پڑھے گا اس کے برعکس اگر ماں کتاب پڑھ رہی ہے تو وہ بھی کتاب کو پڑھنا سیکھے گا اور اس کو کہنے کی یا سیکھانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

پرانے وقتوں میں ’جو زیادہ پرانا بھی نہیں بس انٹرنیٹ‘ موبائل اور سوشل میڈیا کے طوفان آنے سے پہلے کا وقت تھا جب فیملی ٹائم ہوا کرتا تھا ’بچے گھر کے بزرگوں کے پاس بیٹھا کرتے تھے ان کی زندگی کے تجربات و کہانیاں سنا کرتے تھے اور فارغ وقت میں مختلف کھیل کھیلتے تھے جیسا کہ لڈو‘ پٹھو گرم ’انتاکشری‘ بیڈمنٹن ’ٹیبل ٹینس‘ کرکٹ اور لڑکیاں بڑے شوق سے گڈے اور گڑیا کا کھیل کھیلتی تھیں۔ بچے نصابی کتب کے علاوہ مختلف اخبارات ’رسالے‘ بچوں کے میگزین کا مطالعہ کرتے تھے لیکن آج کل کے بچوں کے پاس کتب پڑھنے کا وقت نہیں کیونکہ وہ اپنا زیادہ تر وقت ٹک ٹاک دیکنے اور میمز پڑھ کر ہنسنے میں گزار دیتے ہیں اور گھنٹوں موبائل ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھ سکتے ہیں لیکن کسی اچھی کتاب کے دو صفحے ان کو پڑھنا بورنگ لگتا ہے۔

دوسرا اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ آج کل کے نوجوان بچوں کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کیا اور کون سی کتاب پڑھی جائے۔

میرے خیال میں گھر اور گھر کا ماحول بہت اہمیت رکھتا ہے بچے کیونکہ ماں سے زیادہ مانوس ہوتے ہے اس لئے زیادہ ذمہ داری بھی ماں پر آتی ہے آج کل کی مائیں اپنی جان چھڑاتی ہیں اور بچوں کے ہاتھ میں موبائل یا ٹیب پکڑا دیتی ہیں کہ جاؤ جا کر دیکھو میرا سر نہ کھاؤ اور خود بھی سارا فارغ وقت فیس بک ’یوٹیوب دیکھنے میں ضائع کر دیتی ہیں۔ ایک وہ پرانے وقت کی مائیں تھیں جو فارغ وقت میں اخبار سے بچوں کے صفحے سے کہانیاں سنایا کرتی تھیں اور تھوڑے بڑے بچوں کو کہتی تھیں کہ پڑھ کر سناؤ تاکہ نہ صرف پڑھنا آ جائے بلکہ تلفظ بھی ٹھیک ہو جائے۔

لیکن اب سوشل میڈیا اور کتابوں سے دوری کی وجہ سے بچوں کی معصومیت ختم ہو گئی ہے ادبی لگاؤ ختم ہو گیا ہے۔ پہلے نہ صرف یہ کہا جاتا تھا بلکہ سمجھا جاتا تھا کہ کتابیں بہترین دوست ہوتی ہیں لیکن آج کی نسل اس بہترین دوست سے محروم ہو گئی ہے۔

کچھ دن پہلے کتابوں کی دکان پر گئی جہاں ایک خاتون اپنے بچے کو ڈانٹ رہی تھی کہ اب کسی کتاب کو ہاتھ نہ لگانا گھر میں کہیں رکھنے کی جگہ نہیں ہے تھوڑی دور ایک کھلونوں کی دکان سے کھلونوں کا بیگ پکڑے باہر نکلیں یعنی کتابیں رکھنے کی جگہ نہیں ہے اور کھلونے رکھے جا سکتے ہیں۔ یہ تو آج کل کی ماؤں کی سوچ ہو گئی ہے کتابیں تو ہمیں پر لگا دیتے ہیں ہم کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں ملکوں ملکوں گھومتے ہیں ہر لکھنے والے کا انداز مختلف ’مشاہدات و تجربات مختلف ہوتے ہیں ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے کیونکہ لکھنے والا اپنا تمام علم اپنے قارئین تک پہنچاتا ہے ہمارا پڑھا ہوا کبھی ضائع نہیں ہوتا۔

اب ہمارا معیار زندگی بھی تو بدل گیا ہے اب زیادہ پڑھا لکھا اور سمجھدار و کامیاب شخص وہ ہے جو منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی اچھی بولتا ہے۔ تہذیب ’اخلاقیات‘ لحاظ و شرم سب پرانی اور دقیانوسی باتیں ہو گئیں ہیں۔

خیر بات کہاں سے کہاں چلی گئی ہمیں بچوں میں کتاب پڑھنے کے رجحان کو فروغ دینا ہو گا تاکہ ان کی شخصیت میں نکھار آئے ضروری نہیں کہ ہم مہنگی کتابیں خریدیں ہم آن لائن کتابیں بھی پڑھ سکتے ہیں مقصد پڑھنا ہے وقت کو صحیح جگہ پر لگانا ہے ہاتھ میں موبائل نہیں کتاب پکڑانی ہے تاکہ ہمارے بچوں میں مثبت تبدیلی آ سکے یہ جو آج کل کے بچوں میں ہیجان ’نفرت غصہ ہے یہ سب انٹرنیٹ اور فضول ایپس کی مرہون منت ہے لہذا اپنے بچوں کو اپنا وقت دیں ان میں کتاب سے محبت اور افادیت کو اجاگر کریں صرف باتوں سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے سکھائیں۔ اپنے بچوں کے لئے خود کو بدلیں وہ اقدامات کریں جو ان کی دماغی صحت کے لئے ضروری ہیں کیونکہ بچے ہی ہمارا اور اس ملک کا مستقبل ہیں۔ انڑنیٹ‘ سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنے کا فائدہ نہیں اپنی اولاد کی تربیت پر وقت لگانے کا پھل ہمیں ملے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •