ذہنی مریض کی ذہنی مریضوں کے ہاتھوں سنگساری
افغانستان کا کوئی علاقہ ہے اور ایک پتھروں سے بھرا میدان، جس کے درمیان ایک شخص کو گھٹنوں کے بل بٹھایا گیا ہے، ایک بڑے دائرے کی شکل میں سینکڑوں کا ہجوم ہے اور اس بیٹھے ہوئے شخص پر پتھر پھینکے جا رہے ہیں، بہت سے پتھر لگتے ہوئے وہ شخص اسی طرح بیٹھا رہتا ہے، اور پھر کچھ دیر کے بعد پتھروں کی بارش میں آگے کو گر جاتا ہے، ہجوم بدستور اس پر پتھراؤ کرتا رہتا ہے، اس سے آگے دیکھنا میرے لیے مشکل ہو گیا اور میں نے سکرول کر کے اس وڈیو کلپ کے اوپر لکھی عبارت پڑھی کہ اس شخص نے ”دعوے نبوت“ کیا جس پر ”سرکاری حکام نے عوام کے ساتھ مل کر اس بدبخت کو سرسری کارروائی کے بعد اس طرح“ عوام ”سے مل کر سنگسار کر دیا۔
مجھے پینتیس سال قبل کا ایک واقعہ یاد آ گیا، میں گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی رسول میں زیر تعلیم تھا، گرمیوں کی طویل چھٹیوں میں ساتھ زیر تعلیم چند دوست میرے پاس آئے اور ہم سب یعنی تین دوست، ایک اور پٹھان دوست علی قلی خان جو بفہ ہزارہ کا رہنے والا تھا، سے ملنے کے لیے بفہ ہزارہ جا پہنچے، اس کے والد تاج محمد خان علاقے کے نامور وکیل اور سیاسی جماعت اے این پی کے علاقائی عہدیدار تھے، ہم علی قلی کے گھر پہنچے تو انہوں نے اپنی روایات کے مطابق ہماری انتہائی مہمان نوازی کی، بفہ کے بازار اور اس کے قریب سے گزرتی ایک خوبصورت ندی کی سیر کروائی، اگلے روز علی قلی ایک سوزوکی پک اپ لے آیا، ۔
اور ہمیں چند میل کے فاصلے پر شنکیاری لے گیا، اور وہاں جاتے ہی کہنے لگا کہ آؤ آپ کو پاگل خانہ دکھاتا ہوں، اور ہمیں ایک بڑی سی زرد رنگ کی عمارت میں لے گیا، جو علاقے کا“ مشہور ”مینٹل ہاسپیٹل تھا۔ اندر کچھ بے ضرر پاگل بڑے سے لان میں کھلے پھر رہے تھے اور کچھ ذرا خطرناک قسم کے، پاگل، ہسپتال کے جالی دار بند دروازوں کے پیچھے گھومتے پھرتے دکھائی دے رہے تھے، ان ذہنی مریضوں کی حالت دیکھ کر خوف سا آتا تھا کہ ذہنی امراض کا شکار ہو کر انسان کس طرح خود اور دنیا سے بے گانہ ہو جاتا ہے۔
ہمارے آس پاس بہت سے پاگل اور ذہنی مریض، ہم سے بلکہ خود سے اور دنیا سے بھی لاتعلق، دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ مختلف قسم کی، بے معنی سی حرکات میں مصروف تھے۔ ہمارے دوست کا ایک کزن یہاں ملازم تھا، اس نے ایک نوجوان سے پاگل کو بلایا، اور اس کو بڑی نرمی سے کہا کہ سلطان، مہمان آئے ہیں ان کو گانا تو سنا دو، وہ پاگل گھاس پر ہمارے قریب ہی بیٹھ گیا اور محمد رفیع کا گانا“ اگر بے وفا تجھ کو پہچان جاتے، خدا کی قسم ہم محبت نہ کرتے ”تھوڑی دیر اچھا خاصہ گانا گاتے گاتے، نہ جانے کیا ہوا کہ وہ باقاعدہ ہچکیوں اور آنسوؤں کے ساتھ رونے لگا، ہمارے دوست کا وہاں ملازم کزن اٹھا اور اس کو کسی بچے کی طرح ساتھ لپٹا کر تھپکنے اور چپ کروانے لگا۔
وہ پاگل اسی طرح ہچکیاں لیتا ہوا ایک طرف کو چلا گیا، ہمارے دوست کے کزن نے معنی خیز نظروں سے ہماری طرف دیکھا اور بولا بے چارہ ناکام عاشق ہے، ہم یہ ماحول اور اس پاگل کی حالت دیکھ کر کافی دل گرفتہ سے ہو گئے تھے اور شکایتی نظروں سے علی قلی کی طرف دیکھتے تھے کہ وہ ہمیں کہاں لے آیا، ہماری نظروں کو بھانپتے ہوئے اس کا کزن ہمیں مینٹل ہاسپیٹل کی کینٹین پر لے گیا اور ہماری خدمت میں چاے اور کیک رس پیش کئیے۔
دوران گفتگو ہم نے اس سے کہا کہ آپ کی نوکری تو بہت مشکل ہے ہم تو تھوڑی ہی دیر میں یہاں شدید دل گرفتہ ہو گئے ہیں، وہ کہنے لگا کہ یہاں عجیب عجیب کردار ہیں، کوئی اپنے آپ کو صدر سمجھتا ہے اور کوئی گورنر، تین چار مریض خود کو پروفیسر سمجھتے ہیں اور پاگلوں کو جمع کر کے پرانا اخبار ہاتھ میں لے کر ان کی حاضری لگاتے ہیں اور ان کو بے سروپا لیکچر دیتے ہیں تو ان کو طریقے سے ہٹا کر وارڈ میں بند کرنا پڑتا ہے، کہ وہ تشدد پر نہ اتر آئیں یا خود کو کوئی جسمانی نقصان نہ پہنچا لیں۔
اس نے یہ بھی بتایا کہ یہاں دو مریض خود کو پیر صاحب سمجھتے ہیں اور ایک مریض تو خود کو پیغمبر سمجھتا ہے، وہ زیادہ تر دیوار سے پیٹھ لگاے خاموش بیٹھا رہتا ہے، اور کبھی جوش میں آ کر لمبی لمبی تقریریں کرنے لگتا ہے تب ہم اس کو پکڑ کر انجیکشن لگا کر سلا دیتے ہیں اور وارڈ کے بیڈ پر لٹا کر باندھ دیتے ہیں کہ جذباتی ہو کر خود کو یا کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچا بیٹھے، یہ تو میرا ایک دردناک سا مشاہدہ تھا لیکن ہر بڑے مینٹل ہاسپیٹل میں ایسے مریض پاے جاتے ہیں جو خود کو کچھ بھی سمجھ بیٹھتے ہیں، طویل علاج سے ان میں سے چند ٹھیک بھی ہو جاتے ہیں۔
مشہور افسانہ نگار سعادت حسین منٹو کو بھی ذہنی خلفشار کی بنیاد پر کچھ عرصہ مینٹل ہاسپیٹل یا ”پاگل خانے“ میں زیر علاج رہنا پڑا اور اس کے وہاں کے مشاہدات پر مبنی افسانہ ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ تقسیم اور اس کے ذہنی اثرات کے موضوع پر ایک کلاسیکی درجے کی دل کو چھو لینے والی تحریر ہے، اس افسانے میں بھی پاگل خانے میں بند کچھ پاگل خود کو ذہنی توازن خراب ہونے کی وجہ سے کچھ اور سمجھ بیٹھتے ہیں بلکہ ایک پاگل تو خدائی کا دعوی تک کر بیٹھتا ہے۔
بات افغانستان والے سنگساری کے واقعے کی ہو رہی تھی، آپ خود ہی سوچئیے کہ آج کے دور میں کوئی صحیح دماغ شخص کس طرح یہ دعوی کر سکتا ہے؟ میرے ذاتی خیال کے مطابق ایسا دعوی کرنے والے کی ذہنی حالت اس یا ایسے ہی کسی دعوے سے ہی ظاہر ہو جاتی ہے، بجائے اس کے کہ ان پاگلوں کا ذہنی معائنہ کیا جائے اور ان کو علاج کے لیے ذہنی امراض کے شفا خانے بھیجا جائے، ہجوم بھی ایک دوسری طرح کی ایسی ہی کیفیت کا شکار ہو کر ایسے قابل علاج مریضوں کو بے دردی سے ہلاک کر دیتا ہے، اور اس بہیمانہ حرکت کو نیکی اور نجات کا ذریعہ سمجھ بیٹھتا ہے۔
کچھ ماہرین نفسیات ہماری سوسائٹی میں افراد کی بہت بڑی تعداد کو مختلف اقسام کے ذہنی امراض، اوہام اور فوبیاز کا شکار بتاتے ہیں لیکن غلط اور بے بنیاد دعوے کرنے والوں پر، یا صرف قیاس اور الزام کے نتیجے میں ہجوم کی طرف سے کیا گیا تشدد زیادہ خطرناک ذہنی مرض اور روئیے کی نشاندھی کرتا ہے، دو سال قبل چارسدہ یونیورسٹی میں رونما ہونے والے مشال خان کے اس کے ساتھی طالب علموں کی طرف سے سرعام بہیمانہ تشدد اور ہلاکت کا واقعہ اس ذہنی کیفیت کی ایک دردناک مثال ہے لیکن لگتا ہے کہ انصاف کرنے والے بھی اور معاشرے کے وہ جید افراد بھی کسی خطرناک ذہنی مرض کا شکار تھے، جنہوں نے یہ کہا کہ ”گو کہ مشال خان بے گناہ ثابت ہوا، لیکن اس کو ہلاک کرنے والوں کی نیت تو درست تھی۔
اب اس دلیل کو آپ کیا کہیں گے؟ حال ہی میں پشاور کی عدالت میں ایسے ہی الزام کی بنیاد پر ایک زیر سماعت مقدمے میں ایک نوجوان نے اس ملزم کو بھری عدالت میں فائر کر کے قتل کر دیا، اور یہ بیان دیا کہ اس کو یہ قتل کرنے کا خواب میں آنحضور حضرت محمد صلے علی و الیہ آلہی وسلم نے خود حکم دیا تھا، اور ساتھ پستول بھی دیا تھا، یہاں پر ہر باشعور مسلمان کا کیا یہ فرض نہیں بنتا کہ وہ کم از کم اس پستول کا“ میک ”ہی چیک کر لے، جو اس کے دعوے کے مطابق آنحضور حضرت محمد صلے علی و آلہی وسلم نے خود دیا تھا، امید ہے کہ تفتیش کے دوران اس قاتل کے اس دعوے کی سچائی تو سامنے آ ہی چکی ہو گی۔
اب اس دوطرفہ ذہنی کیفیت اور دلیل کو آپ کیا کہیں گے۔ جید علماء ریکارڈ پر ہیں کہ اس طرح قیاس کی بنیاد پر کسی کا، کسی کو ازخود سزا دینا بالکل غیر شرعی اور صریحا، مجرمانہ فعل ہے، اس طرح تو معاشرہ جہنم بن جائے گا، جہاں کوئی بھی، کسی کو بھی اپنے ذاتی قیاس کے باعث بغیر تصدیق کئیے ہلاک کر دے گا، اس طرح معاشرہ ایک تاریک جنگل بن جائے گا، جہاں اللہ کے دیے ہوئے علم، عقل، فراست کے بجائے بربریت اور جاہلیت کا دور دورہ ہو گا۔
اس ضمن میں انصاف کا یہ عالم ہے کہ منصف تک ہجوم کے خوف سے ایسے مقدمات کے انصاف کی بنا پر فیصلے کرنے سے خوفزدہ ہو جاتے ہیں، اور ہجوم اس ضمن میں دستیاب شواہد اور انصاف کے تقاضوں کے بجائے اپنی مرضی کے فیصلے چاہتا ہے، اور قیاس کی بناء پر قتل کی طرح اپنے قیاس اور الزام کی ہی بناء پر فیصلے چاہتا ہے، صحیح یا غلط کچھ عرصہ قبل ہی آسیہ مسیح کو سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق رہا کیا گیا لیکن عوام کی اکثریت نے اس فیصلے پر شکوک کا اظہار کیا اور اسے ماننے سے انکار کر دیا، اسی طرح اسلام آباد میں عیسائی بچی رمشاء مسیح کا کیس سب کے سامنے ہے جہاں تفتیش کے دوران الزام کنندہ شخص نے عدالت کے سامنے یہ تسلیم کیا کہ اس نے ذاتی عناد کی وجہ سے خود مقدس اوراق نزر آتش کئیے اور الزام اس مسیحی بچی پر لگا دیا، تو ایک ایسا الزام جس کی سزا قانون میں بھی اور عوام کی نظر میں بھی موت ہے، کا الزام اگر جھوٹا ثابت ہو جائے تو اس جھوٹا الزام لگانے والے کو کیا سزا ملی، اور کیا سزا ملنی چاہیے اس بارے میں زبانیں خاموش ہیں۔ دین کا ہماری ذات سے پہلا تقاضا انسانیت کا ہے، حضرت محمد صلے علی و آلہی وسلم کو دونوں جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا تھا، اور آپ کے اسوہ حسنہ، ہمارے لیے مشعل راہ ہونے چاہئیں۔ حضرت علی، کا قول ہے کہ“ معاشرہ کفر کے ساتھ تو باقی رہ سکتا ہے لیکن ظلم کے ساتھ نہیں ”


