ثمی نہیں اسمی اچھا لگے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فرق کیا پڑتا ہے، جو بھی نام ہو، نام کا کیا ہے، شناخت ہی ہے ناں۔ تو عزیز لڑکی بیدار ہوتے ہی دل کیا تجھے ایک خط لکھوں اور پوچھوں کہ ایک شخص جس کی شاید ہی کوئی بیوی اس سے راضی رہی ہو، مگر پیار سب کرتی ہیں، نے تجھے سب کچھ بتا بھی دیا پھر بھی تم اسے کہہ چکی ہو، ”آئی لو یو ٹو“ ۔ ۔ ۔ ارے ہاں تم نے پہل تھوڑا نہ کی، یہ ”بھی“ کی پخ ساتھ لگائی ہے۔

چار ہزار کلومیٹر کی دوری سے لاسلکی پر محبت بالکل بھی نئی بات نہیں اور نہ ہی عمروں کے بہت تفاوت والوں کے درمیان پیار کوئی نئی یا انہونی بات ہے، انہونی بات تو یہ ہے کہ تم جو ایک روز پہلے تک فون اینٹھ لینے والے سے محبت کا دم بھر رہی تھیں اگلے روز کیسے آئی لو یو کے جواب میں می ٹو لکھ بیٹھیں۔ کیا یہ محض لکھنا تھا، دل سے نہیں۔

پھر سوچتا ہوں کہ ہماری یہ ”محبت“ اس کا انجام کیا ہو سکتا ہے۔ یہی نہ کہ تمہاری شادی ہو جائے، تم آئی ڈی، ای میل وغیرہ تبدیل کر لو، اللہ اللہ خیر سلا۔ فرق کیا پڑتا ہے، کوئی مر بھی تو سکتا ہے، میں یا تو۔ ۔ ۔ اگر میں کل تمہیں ملنے آؤں تو کیسے ملیں گے۔ تمہارا باپ اور بھائی اس تعلق کو کیسے لیں گے۔ کیا ہم افلاطونی محبت کریں گے۔

ایسا کیسے ہوا کہ میں نے تمہاری بہن ہونے کی حامی بھری اور دو روز بعد پیار سا اور پھر پیار کی بات۔ ارے ہاں تمہاری تصویروں نے جادو جگایا تھا، سونے پر سہاگہ تم نے کھلے اور گیلے بالوں کے ساتھ وڈیو کال کر دی۔ میرے بال جھاڑ جھنکار تھے، شکل پر نیند کے بعد عمر کی اصلی تصویر تھی لیکن تمہارے دیکھنے میں ایک اپنائیت تھی۔ کیا یہ میرا گمان تو نہیں۔

میں تمہیں فی الواقعی بہت چاہنے لگا ہوں۔ چاہتا ہوں تمہیں بانہوں میں بھروں، تم مجھ سے اور میں تم سے ٹخ ٹلیاں کریں اور وہ سب کچھ بھی جو کرنا ہوتا ہے، بھرپور انداز میں، بہت دیر تک کئی بار۔ یہاں مجھے ایک آرٹ فلم یاد آ گئی ہے۔ ایک بڑی عمر کے وکیل کے گھر ایک عورت کام کرتی ہے۔ اس کی ایک جوان بیٹی ہے۔ ایک روز عورت مر جاتی ہے۔ وکیل جوان لڑکی کو ملازمہ رکھ نہیں سکتا۔ اس کی امداد بھی کرنا چاہتا ہے۔ وہ اس سے بیاہ کر لیتا ہے۔ وکیل کا رول اوم پوری کر رہا تھا۔

پھر ایک منظر ہے۔ کہ وہ دونوں لیٹے ہوئے ہیں۔ لڑکی ہاتھ پاؤں کھول کر سو رہی ہے۔ ایک ٹانگ شوہر کی ٹانگ پر چڑھائی ہوئی ہے۔ وکیل کھانستا ہوئے جاگتا ہے۔ اس کی ٹانگ اپنے اوپر سے اتارتا ہے، اور اسے کہتا ہے، ”جا چائے بنا کر لا“ ۔ ۔ ۔ وہ جب چائے کی پیالی لاتی ہے تو رات کی ”بھرپور“ مشقت سے وکیل صاحب سورگباش ہو چکے ہوتے ہیں۔ ہاہاہاہاہا۔ کسی کی موت پر ہنسی ایسے آتی ہے۔ اللہ میرے حال پر رحم کرے۔ تیرے لیکچرر بننے اور نصیب اچھے ہونے کی دعا تو میں مانگتا ہی ہوں۔
تیرا عاشق زار

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •