حماد حسن: ثابت قدم صحافی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لکھنے والے تو بہت ہیں، مگر حق اور سچ کو بطور امانت آئندہ نسلوں تک پہنچانے کی نیت کتنوں کی ہوتی ہے؟ مسلمان بھائی کے لئیے درست مشورہ ایک امانت ہے جسکا لوٹانا لازم ہے- اگر ماضی میں بھی سچ کے امانت دار لکھاری ہوتے تو پاکستانی قوم آج ایک بار پھر دوراہے پر نہ ہوتی- طاقت ور سرکار، اسکے سرکاری میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے محدود سچ نے بنگلہ دیش کے قیام کے حقائق کے حوالے سے ہماری امانت میں جو خیانت کی اس کا نتیجہ بطور قوم ہم آج بھی بھگت رہے ہیں- صداقت اور امانت کا سبق پڑھ کر دنیا کی امامت کے خواب دیکھنے والی قوم اور اس کے لکھاری آج ایک بار پھر اپنی آئندہ نسلوں تک حقائق کی امانت میں خیانت پر تلے بیٹھے ہیں- مگر اس اندھیر نگری میں امید کی باریک کرن وہ صحافی اور لکھاری ہیں جو ان خائن عناصر اور اپنے اندر اور باہر کے دشمنوں کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہیں-

جابر حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنے اور لکھنے والوں میں یوں تو بہت سے امانت دار دوست شامل ہیں مگر فی الوقت میں اپنے کلاس فیلو اور سدا کے ڈیموکریٹ حماد حسن کا ذکر کرنا چاہوں گا- حماد حسن نے پختون ہوتے ہوئے بھی اپنی اردو کی تحریروں سے حق اور سچ کی جو امانت اس کے حقداروں تک پہنچائی ہے وہ انتہائی قابل تحسین ہے- انکے انداز بیان اور اسلوب سے محسوس ہی نہیں ہوتا کہ اردو زبان انکی مادری زبان نہیں- انکے الفاظ کی خوبصورتی جابرانہ اور آمرانہ نظام کے خلاف اپنے جذبات کو بامعنی انداز میں پیش کرتی ہے- انگریزی کا محاورہ ہے کہ “عظیم لوگ ایک جیسا سوچتے ہیں۔”

حقیقت میں عظیم لوگ ایک جیسا نہیں بلکہ سمجھدار لوگ درست سوچتے ہیں اور ان کی کسی بھی بحران کے دوران سمجھداری انہیں خطرے میں ڈال دیتی ہے یا پھر تاریخ میں عظیم بنا دیتی ہے- یوں ایسے لوگوں کا کسی ایک مگر درست نتیجے پر پہنچنا اچنبھے کی بات نہیں- حماد حسن اور میرے خیالات بھی تقریباً ایک سے ہیں- جمہوریت، آمریت، حالیہ انتخابی عمل، پس پردہ اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ کے کردار، میڈیا پر پابندیوں اور ووٹ کی حرمت سے متعلق جو احساسات اس کے ہیں وہ میرے اور معاشرے کے پڑھے لکھے جمہوریت پسند شہریوں کے بھی ہیں. اسی لئے اس نے اپنی تحریروں کے ذریعے اکثریت کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی- گھٹن اور تاریخ کے بدترین جبر والے اس دور میں حماد حسن کی تحریریں تازہ ہوا کا ایک جھونکا بن کر دلوں کو چھو لیتی ہیں- حماد حسن کی قومی معاملات میں ایسی حساسیت اور جرات قابل قدر بھی ھے اور قابل داد بھی کیونکہ سیاسی اور معاشی افراتفری اور نفسا نفسی کے اس دور میں کون جابر حکمران کے محل کے دروازے سے جا ٹکراتا ہے اور اسکے غلط کاموں پر صدائے احتجاج بلند کرتا ہے- لیکن اس لکھاری نے اس دلیری کے ساتھ یہ سب کچھ کیا جو دلیری اسے وراثت میں ملی تھی .

ایک ایسے وقت میں کہ جب بہت سے صحافی اور کالم نویس حضرات سچ بول کر بیروزگاری کی سولی چڑھ چکے ہیں اور بہت سے دوسرے سچ تول کر ترقی کے زینے. حماد حسن جیسے باشعور لکھاری یقینا امید کی ایک کرن بن کر سامنے ہیں-

بطور صحافی کچھ سیاستدانوں کے لیے برملا شخصیت پسندی کے اظہار میں شاید ہمارے پیشہ وارانہ تقاضے آڑے آتے ہیں مگر حماد حسن بطور ایک جیتے جاگتے اور باشعور شہری ایسی تحریروں کا بھرپور حق رکھتے ہیں اور اسے نبھا بھی رہے ہیں- اس کی پر اثر تحریر کے پیچھے اس کی تعلیم اور تربیت کا بھی بڑا ہاتھ ہے- وہ اپنے وقت کے عظیم حریت پسند اور پختونوں کے سب سے با اثر روحانی رھنما شیخ محمد طاہر پنج پیر مرحوم کے چھوٹے فرزند ہیں- حماد کے والد گرامی صوابی سے تعلق رکھنے والے ایک روشن فکر روحانی شخصیت اور حریت پسند راہنما تھے جنھوں نے آزادی کی جدو جہد میں انگریزوں کی طویل قید و بند بھی کاٹی اور ایک زمیندار کی حیثیت سے اپنی جائیداد سے بھی ھاتھ دھو بیٹھے لیکن پھر بھی اپنی تاریخ کو خوف اور پسپائی کی ھوا تک نہیں لگنے دی-

اسی کے عشرے کے اواخر میں اسی پس منظر کے ساتھ حماد حسن جب اسلام آباد کے ایک کالج میں پڑھ رہا تھا تو میں نے تازہ تازہ فوج سے فراغت ملنے پر یہیں داخلہ لیا- حماد حسن اس وقت بھی کالج کی ادبی و یونین سرگرمیوں میں ایک بلند اور متحرک نام تھا- اسی لئے جمہوریت کے حق میں اور آمریت کے خلاف حماد حسن کا سخت موقف پرانا بھی ھے اور موروثی بھی -حماد کے ساتھ پرانی قربت کی وجہ سے میں جانتا ھوں کہ اس کے خاندان میں بھی مکمل جمہوریت ھے کیونکہ اس کے بعض بزرگوں کا فکری اور سیاسی نقطہ نظر اس سے مختلف ھے مگر فکری آزادی پر کوئی قدغن نہیں بلکہ برداشت اور احترام کا سلیقہ ھے.

حماد حسن کے کالموں کا مجموعہ ایک ایسے دور کا احاطہ کر رہا ہے جو پاکستان کی تاریخ میں ایک حوالے سے ہمیشہ یادگار رہے گا- یہ دور ہے ایسی جمہوریت کا جس میں آصف زار داری اور نواز شریف کی حکومتیں اپنی مدت پوری کرنے کے چکر میں جمہوری اداروں کو کمزور کر بیٹھی- بہت سے مواقع آئے جب طاقتور طبقے سے جواب طلبی وقت کی ضرورت تھی مگر مدت پوری کرتے کرتے ایک ایسا سیاسی خلا پیدا ہو گیا کہ جسے “خلائی مخلوق” نے ہی پر کیا- امید ہے کہ حماد حسن کی یہ کاوش آنے والی نسلوں کو ہونے والے واقعات کی درست تصویر دکھائے گی- یہ بھی امید ہے کہ حماد حسن بہت سے دوسرے لکھاریوں کی طرح “دن دھاڑے رات کی تاریکی میں” شاہراہ جمہوریت سے راہ فرار اختیار نہیں کرینگے کیونکہ تحریریں آپ کا ضمیر ہوتیں ہیں جو آپ کا کبھی پیچھا نہیں چھوڑتی- حماد حسن کے لئیے بہت سے نیک خواہشات اور دعائیں کیونکہ ایسے ہی مضبوط اعصاب اور آزادیوں کے لئیے لڑنے والوں کی وجہ سے قومیں زندہ رہتی ہیں اور ہم جیسے حوصلہ نہیں ہارتے-

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •