اپنا ماضی ہی اپنا مستقبل نظر آتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

متحدہ عرب امارات نے آخر کار اسرائیل کو تسلیم کر لیا۔ اطلاعات کے مطابق آنے والے دنوں میں، عمان، مراکش، سعودی عرب اور کویت بھی تسلیم کر لیں گے۔ ایران میں چین کی ہونے والی بھاری سرمایہ کاری کا ان واقعات سے کیا تعلق ہے یا دنیا میں ہونے والی نئی صف بندیاں کس طرح ہو رہی ہیں، اس بحث کو چھوڑ کر میں ایک اور طرح کے ماتم ہوں۔ یہ 1990 کا سال تھا یعنی تیس سال قبل جب میرے والد محترم جناب نذیر ناجی نے اس وقت کے روایتی، دائیں بازو کے اخبار “نوائے وقت” میں اپنی کالم میں تجویز پیش کی تھی کہ پاکستان، اگر آج اسرائیل کو تسلیم کر لے تو وہ خود فلسطینیوں کی مدد بہتر انداز میں کر پائے گا اور یہ اس کے حق میں بھی بہتر ہو گا۔ اسرائیل کو تسلیم نہ کر کے ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑیں گے البتہ آنے والے کل میں بھارت اسرائیل کو تسلیم کر لے گا اور عرب دنیا بھی ایک دن کر لے گی البتہ ہم اس وقت تک کشمیر سمیت بہت کچھ کھو دیں گے اور بعد میں اسرائیل کو تسلیم کر بھی لیا تو اس کی وقعت نہیں ہو گی۔

اس کالم کے چھپنے میں رکاوٹ آئی تو والد صاحب نے استعفیٰ دینے کا پیغام پہنچا دیا جس کے بعد کالم تو چھپا مگر ادارے کی جانب سے ایک علیحدہ نوٹ چھاپا گیا کہ ادارہ اس تجویز کی سخت مخالفت کرتا ہے اور اس کا جواب جو لوگ دینا چاہیں ان کی تحریر کی اشاعت کے لئے ادارے کے صفحات حاضر ہیں جس کے بعد قریب ایک ماہ اس تجویز کی مخالفت میں مضامین کی قطار لگ گئی۔

یاد رہے کہ یہ وہ زمانہ تھا جب تحریک آزادی کشمیر نئی حدت سے ابھی شروع ہی ہوئی تھی اور نوائے وقت سمیت تمام مذہبی حلقے انقلابی خواب دیکھ رہے تھے کہ کشمیر کی آزادی چند ہفتوں کی بات ہے کیونکہ ہندو بزدل اپنی لاشیں اٹھا اٹھا کر بھاگ جائے گا جس کے بعد فاتح، مذہبی انقلابی، اسرائیل کا مزاج درست کریں گے اور کشمیری جہادی، افغانستانی جہادیوں کے ساتھ مل کر ایک دن فلسطین کو آزادی دلائیں گے۔

وقت کی گواہی موجود ہے کہ بعد میں بھارت نے اسرائیل کو تسلیم کیا۔ کشمیر کے معاملے میں بھارت کی بھرپور مدد کی جس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے اور اب عرب بھی ایک کے بعد ایک کر کے اسے تسلیم کرتے چلے جائیں گے۔ ہم تب بھی فلک شگاف نعرے لگا کر دشمن کو دندان شکن جواب دے رہے تھے اور آج بھی انہی فلک شگاف نعروں کو لئے کھڑے ہیں۔

یہاں وضاحت کرتا چلوں کہ اس واقعے کو یاد دلانے کا مقصد اور مطلب ہر گز اپنے والد محترم کی پیشہ ورانہ قابلیت کی تعریف کرنا نہیں کہ ان کا مقام، میری گواہی یا حمایت کا محتاج نہیں، محض اتنا ہے کہ تیس سال قبل بھی یہاں ایسے لوگ موجود تھے جو روایتی سوچ سے ہٹ کر حقیقت کی جانب توجہ دلا رہے تھے۔ مگر اس سے فائدہ کیا ہوا؟

میں اب یہ محنت کرنے کو تیار نہیں کہ آپ کو بتاؤں کہ تیس سال قبل، بھارت کی معیشت اور اسرائیل کی تکنیکی برتری آج سے کتنی کم تھی اور اس وقت پاکستان آج کے مقابلے میں کتنا مضبوط تھا یا یہ کہ آج اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فائدہ کتنا کم ہو گا کیونکہ دل جلانے کے علاوہ اور کیا حاصل ہو گا۔ یہ یاد بھی دلانے سے بھی کیا حاصل کہ آزادی کے پچاس سال مکمل ہونے تک ہمارے پاس بھارت کے خلاف کسی محاذ پر کوئی قابل ذکر کامیابی نہ تھی اور یہ ایٹمی دھماکے تھے جس کے بعد اس وقت پہلی بار خود بھارت کے قریب سو کروڑ لوگ کم از کم دفاعی میدان میں پاکستان کو برابری پر سمجھنے لگے تھے لیکن برابری کی یہ عزت بھی ہمیں چند ماہ ہی راس آئی اور کارگل کر بیٹھے۔ جس کے بعد بھارت نے اپنے باقاعدہ فوج کو متحرک کر دیا، ایٹمی دھماکے کا خوف یا اس کی عزت بھک سے اڑ گئی، ہم حسب روایت پھر دوڑ لگا کر بھاگ گئے اور چند ہی ماہ کے عرصے میں ہم پھر پچاس سال پرانی اسی حیثیت میں واپس آگئے کہ بھارت ہم سے پانچ گنا بڑا ہے جس سے ہم نہیں لڑ سکتے۔

ہمارے مزاج اور سیاسی، سماجی قابلیت کے جعلی پن کا ثبوت وقت کی دیوار پر اس طاقت سے ثبت ہے کہ مٹائے نہ بنے، حالت یہ کہ ایک مکھی بھی اپنی اڑان سے ہمارے قلعے کو ہلا ڈالتی ہے۔ یہاں اکثریت کو معمولی اقلیتوں سے ہمیشہ خطرہ ہی رہتا ہے اور افسوس سے میں لکھ رہا ہوں کہ ایسا ہی رہے گا۔

ہماری بنیادوں میں جھوٹ اور مکر وفریب اس حد تک بھر چکا ہے کہ اب یہاں سلامتی سے کوئی بہتر تبدیلی لانا ناممکن ہو چکا ہے۔ جمود ہمیشہ نہیں رہتا کہ یہ قدرت کا قانون ہے مگر تبدیلی کو روکنے کی کوشش یہاں بہت کامیاب رہی اور آج بھی ہے جو بتاتی ہے کہ مستقبل قریب میں اس کا کوئی امکان بھی نہیں۔ اس کا نتیجہ وہی ہوتا ہے جو آتش فشاں کے پھٹنے پر ہوا کرتا ہے جس میں خیر کسی کی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی فاتح ہوتا ہے۔ نہ حکمران اور نہ ہی عوام۔

میں آج آزادی کے دن، بہت چاہنے کے باوجود بھی خیر کی کوئی امید دیکھنے سے خود کو قاصر پاتا ہوں۔ خدا کرے میرے خدشات غلط ہوں، دعا ہے کہ وطن عزیز کو جلد ہی حقیقی آزادی ملے، جہاں سب مل کر ترقی کا سفر کریں، جہاں تعلیم ہو، صحت ہو، معاشی استحکام ہو، یہاں قانون کی حکمرانی ہو، عدل ملے اور انصاف کے ایوانوں کی عزت ہو۔ یہاں عوامی اسمبلیوں میں واقعی عوام کے نمائندے ہوں جہاں عوامی معاملات پر سنجیدہ قانون سازی ہوا کرے، یہاں مضبوط مقامی حکومتیں اپنے لوگوں کا ان کے والدین کی طرح خیال کریں، واقعی ریاست ماں کے جیسی ہو۔ لیکن افسوس کہ یہ سب دعائیں کرتے یا سنتے ہوئے عمر بیت چلی مگر عمل کا ایک قدم نہیں۔

جہاں ریاست ماں کے جیسی ہوتی ہے وہاں کی ایک مثال دیتا چلوں کہ برطانیہ میں لاک ڈاؤن کے بعد کھلنے والے ریسٹورنٹس کے کاروبار کی مدد کے لئے وہاں کی حکومت کی سکیم یہ ہے کہ آپ گھر سے باہر کھانا کھائیں، آدھا بل حکومت دے گی۔ یعنی آپ دوستوں یا خاندان کے ساتھ اگر سو پونڈ کا کھانا کسی ریسٹورنٹ میں کھائیں تو مالک آپ سے پچاس پونڈ وصول کر کے پورا بل، پچاس پونڈ وصولی کی رسید کے ساتھ حکومت کو بھجوا دے گا اور باقی پچاس پونڈ حکومت ادا کردے گی۔ یہ معمولی مثال واضح کرنے کو بہت ہے کہ اصل مدد کیا ہوتی ہے اگر یہ نہیں تو باقی سب رنگ بازی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •