بے جی کا صندوق اور تقسیم کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”بے جی آخر آپ کے اس صندوق میں کیا پڑا رہتا ہے جسے آپ ہر ساتویں دن کھول کر کبھی مسکراتی اور کبھی ڈبڈباتی آنکھوں سے دیکھتی چلی جاتی ہیں؟“ وہ اکثر بے جی سے پوچھا کرتی وہ کہتیں : ”یادوں کی اوڑھنی اوڑھ لینے سے میں بچپن کی گلیوں میں پہنچ جاتی ہوں۔ یادیں ایک ایسا اندھا آئینہ ہے جس میں اپنا آپ تو نظر آتا ہے لیکن آر پار دکھائی نہیں دیتا۔ وہ پرانے عکس، وہ پرانے رشتے، وہ پرانی سکھیاں سب وقت کی گرد سے اٹے دھندلے دھندلے دکھائی دیتے ہیں۔

“ تقسیم ہند کی سبھی کہانیاں کسی نہ کسی طرح ریل کی پٹڑی سے بہرطور جڑی ہوئی ہیں۔ لاہور ان دنوں امور سلطنت کے لیے مختص تھا۔ رنجیت سنگھ کی بادشاہت کا سابق دارالحکومت بٹوارے کے بعد خالصتاً مسلمانوں کا شہر بن گیا۔ سرحد کے اس پار کی دلی جو یکے بعد دیگرے مغل سلطنتوں کی وجہ سے مسلمانوں کا مرکز رہا وہاں سے اکثر مسلمان پاکستان سدھار گئے۔ بٹوارے کا یہ سانحہ اتنا بڑا تھا کہ اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ دونوں طرف کے پنجاب میں بڑے ہی وسیع پیمانے پہ قتل وغارت اور آبادیوں کا تبادلہ ہوا۔

جب مسلمانوں کے قافلوں پہ بلوائیوں کے حملے ہوئے تھے تو مسلمان بھی بدلے میں حملہ کرنے سے چوکتے نہیں تھے۔ یوں خط تقسیم قائم ہونے تک بہت سے ناحق معصوم لوگوں کا خون ان دونوں ملکوں کی بنیادوں میں جم گیا۔ بے لگام وحشت کا ناچ دونوں زمینوں پر جاری تھا۔ ہندوستان کے ایک ممتاز دانش ور اشیش نندی نے بہت سے واقعات کا تجزیہ اپنی رپورٹ میں یوں لکھا ہے : ”ان مسلمانوں کی تعدا د جن کی جان ہندوستان میں ہندوؤں نے بچائی اور ہندوؤں کی تعداد جن کی جانوں کو پاکستان میں مسلمانوں نے تحفظ فراہم کیا اوسطاً 50 فی صد ہیں اور دونوں طرف تقریباً برابر ہیں۔

قتل و غارت اور نقل مکانی (ہجرت) کے پیمانے مختلف رہے ہیں۔ لیکن ایک تسلیم شدہ اعداد و شمار کے مطابق ایک ملین قتل ہوئے اور 20 ملین بے گھر ہوئے۔“ بے جی! کیا بٹوارے میں اتنا نقصان ہوا تھا؟ وہ پوچھتی تو بے جی کہتیں : ”ہاں! شاید اس سے بھی زیادہ میرے ابا بتاتے تھے کہ نہ تو مسلمان دلی کی گلیوں میں محفوظ تھے اور نہ ہی پنجاب کے لہلہاتے کھیتوں میں۔ وہی لوگ جو دوستوں اور رشتہ داروں کی طرح اکٹھے رہتے تھے گروہی تعصب کا وائرس ان لوگوں کے دلوں میں سرایت کرچکا تھا۔

“ زندگی کی چادر کو اوڑھنے کی کوشش کریں تو وہ طول و عرض میں نہیں ماپی جاتی بلکہ ہمیشہ ٹکڑوں میں ملتی ہے۔ وہ سب ٹکڑے یادوں کے ہوتے ہیں جو کہانیاں بن جاتی ہیں۔ میرے پاس بھی بے جی کی سنائی ہوئی بہت سی کہانیاں ہیں۔ میں ٹکڑوں میں سنانے کی کوشش کروں گی۔ ان کی یادوں کی چادر میں ایک ٹکڑا لاجو یعنی لاجونتی کا تھا۔ لاجو بے جی کے بچپن کی سہیلی تھی جو تقسیم کے وقت سب کچھ چھوڑ چھاڑ کراپنے خاندان والوں کے ساتھ انڈیا جارہی تھی لیکن ان کی ٹرین پہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے حملہ کر دیا۔

ڈبے میں گھس کے وہ پہلے مردوں کو مارتے پھر عورتوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر باہر پھینکتے رہے۔ سب مردوں کے ختم ہوجانے کے بعد عورتوں کو علیحدہ کھڑا کر کے ان کے زیور گہنے اتار لیے گئے پھر سب نے اپنی اپنی پسند کی عورتوں کو آپس میں تقسیم کر لیا۔ لاجو بھی یہیں کہیں پاکستان کے پنجاب کے کسی حصے میں رہ گئی۔ یہ سناتے سناتے بے جی کی آنکھیں برستیں اور گلا رندھ جاتا کہ پاکستان میں ہوتے ہوئے بھی وہ کبھی دوبارہ لاجو سے نہ مل سکیں۔

بین الاقوامی اخبارات کے مطابق ریل کی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام امرتسر ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوا جس میں لگ بھگ تین ہزار مسلمان مارے گئے۔ عورتوں کو بانٹا گیا اور مردوں کو قتل کر دیا گیا۔ ایک طرف تو مسلمان زمینداروں اور سکھ جاٹوں کی دوستیوں کے قصے مشہور تھے تو دوسری طرف ظلم و بربریت سے بھری دشمنیاں تھیں۔ بے جی کے پاس ہندوستان سے پاکستان آنے اور جانے والوں کی روح فرسا کہانیاں تھیں۔ بے جی کی خالہ زاد بہن اس طرف کے پنجاب ہشیار پور سے ہجرت کی صعوبتیں اٹھا کرپاکستان پہنچیں وہ چھ بہنیں تھیں۔

جس دن انھوں نے واہگہ کی ریل پکڑنی تھی اس سے ایک رات پہلے ہی ان کے والد کو قتل کر دیا گیا تو لاش انھوں نے بھینسوں کے طبیلے میں ہی چھوڑ دی کہ بھائی تو کوئی تھا نہیں۔ اپنی عزت بچانے کو وہ ساری بہنیں کوئی پیٹیوں کے نیچے تو کوئی کونوں کھدروں میں چھپ گئیں۔ اگلے دن والد کو دفنا کر رشتہ داروں کے ساتھ ریل گاڑی کے ذریعے جان ہتھیلی پہ رکھ کے وہ لوگ چار روز کے بعد واہگہ پہنچے۔ پھر کیمپوں میں دنوں رہے۔ تب کہیں جا کر لاہور اپنے گھرپہنچے۔

لیکن وہ زندگی بھر اس قتل و غارت گری اور جگہ جگہ بکھری لاشوں کو اپنے پیروں سے بچاتے ہوئے گزرنے کے مناظر کبھی بھلا نہ سکیں۔ حتیٰ کہ مرنے سے پہلے بھی جب سٹروک کی وجہ سے ان کی یاداشت ختم ہوگئی تھی تو وہ بس اتنا ہی کہتی تھیں : ”لک جاؤ سکھ آگئے نیں۔“ خط تقسیم کے اس خون آلودہ سفر میں دونوں طرف کے مہاجر قافلوں کی بیٹیوں نے خود کو بچانے کے لیے کنوؤں اور نہروں میں چھلانگیں لگادیں اور جو بچ گئیں وہ انسانیت کی حیوانیت کے سبب زندہ لاشیں بن گئیں۔

ظلم کاعجب سماں تھا اور اس سے بھی عجب کہانیاں۔ کہیں تو ہندو اور سکھ مسلمانوں کو بچاتے پھر رہے تھے اور کہیں مسلمان ہندوؤں اور سکھوں کی مدد کر رہے تھے۔ وہیں پہ لوٹ کا بازار اور قتل کے سلسلے بھی چل رہے تھے۔ بے جی کا تعلق لائل پور سے تھا۔ وہ گجرات سے شادی ہوکر لائل پور میں آ گئی تھیں۔ اس زمانے میں لائل پور میں سکھ جاٹ، مسلمان شیخ، ہندو تاجر (بنیا) اور کچھ اینگلو انڈین انسانیت کی مالا میں موتیوں کی طرح پروئے ہوئے تھے۔

جاٹ سکھ زمینداری کیا کرتے تھے۔ ہندو اور شیخ برادری آڑھتی تھے اور اینگلو انڈین سکول، کلب اور دفتروں کو چلاتے تھے۔ دن میں مزدور گنیش مل میں کام کرتے تھے۔ لا ل مل بھی تھی جہاں سب بلاتفریق روزی کماتے تھے۔ خالصہ کالج تھا، کمپنی باغ تھا، گھنٹہ گھر تھالیکن مزے کی بات تھی ہر طرف محبت کا راج تھا۔ پھر سن سنتالیس آیا اور بٹوارہ شروع ہوگیا۔ تقسیم کے بعد پہلے تو لائل پور کے شعرو سخن کی محفلیں اجڑیں اور پھرمذہب کے ٹھیکے دار شہرکے بازاروں میں گھس کر شریعت کے نفاذ پر رقمیں لینے لگے۔

بے جی بات کرتے کرتے واقعات کا ربط قائم نہ رکھ پاتیں۔ کبھی اپنی ماں کے گاؤں اسلام گڑھ کی گلیوں کی کہانیاں سنانے لگتیں۔ بے جی اس ماں کی دکھ بھری کہانی بھی سناتی تھیں جس نے ہجرت سے چند دن پہلے ہی دو جڑواں بیٹوں کو جنم دیا تھا۔ ہشیار پور سے وہ ان کی خالہ زاد بہن کے قافلے میں شامل تھی۔ ریل میں وہ باری باری دونوں کو دودھ پلاتی۔ اچانک اس کے باپ کو لگا ایک بچہ کچھ ساکن سا ہوگیا ہے اس نے ہاتھ لگایا تو بالکل ٹھنڈا تھا۔

وہ خود پہ قابو نہ رکھ سکا اورپھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ لوگوں نے چپ کروایا اور چاہا کہ ماں سے اس کامردہ بچہ لے لیں لیکن وہ بولی ”نہیں ایک کے بغیر دوسرا دودھ نہیں پیتا۔“ وہ خود بھی مردہ سی بنی دونوں بچوں کو سینے سے لپٹائے بیٹھی رہی۔ اتنے میں رات ہوگئی اور ایک دریا آ گیا شاید راوی تھا۔ کسی نے باپ کے کان میں سرگوشی کی کہ مردہ بچے کو یہاں چپکے سے پھینک دو ساتھ لے جا کر کیا کرو گے۔ اس نے خاموشی سے سوتی ہوئی ماں کی گود سے بچہ لے کر راوی میں پھینک دیا۔

تقریباً آدھ گھنٹہ بعد ریل رینگتی رینگتی جب لاہور اسٹیشن پہ پہنچی تو ماں کی آنکھ کھلی تو وہ بچے کو دودھ پلانے لگی تو مردہ بچے میں کوئی حرکت نہ ہوئی۔ اندھیرے میں شاید باپ نے زندہ بچے کو راوی کے پانیوں کی نذر کر دیا۔ باہر سے آوازیں آ رہی تھیں۔ پاکستان آ گیا۔ ۔ ۔ پاکستان زندہ باد۔ ۔ ۔ اس طرح کی اور بہت سی دل خراش کہانیوں سے بے جی کا وہ صندوق بھرا پڑ ا تھا جس کی وہ مرتے دم تک حفاظت کرتی رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •