سیاست کا جغرافیہ ( قسط سوم )


”سیاست کا جغرافیہ“ کی تیسری قسط میں ریاست کے باشندوں پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔
باشندے

دنیا کے دیگر خطوں کی مانند مذکورہ ریاست میں بھی ہر قسم کے لوگ آباد ہیں۔ سب سے پہلے اک سروے کے مطابق دیکھیں گے کہ یہاں کی آبادی کا سماجی، سیاسی اور مذہبی ڈھانچہ کیسے وجود پاتا ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق اس قوم کاسب سے ذہین و فطین طبقہ مشکل تر ین مراحل کے امتحا نات سے گزرنے کے بعد ڈاکٹر اور انجینئر بن جاتا ہے۔ ان سے کم نوعیت کے ذکی لوگ مقابلے کا امتحان پاس کرکے پہلے والوں پہ حکومت کرتے ہیں۔ سکول کالج تک رسائی حاصل کرنے والے سیاست میں آکر پہلے دونوں پر راج کرتے ہیں۔

پرائمری سے بھاگے لوگ مافیا بن کر پہلے تینوں دھڑوں کو بلیک میل کرکے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ جو یہ سب کچھ نہیں کرپاتے اور سب سے غبی ہونے کی وجہ پیچھے رہ جاتے ہیں وہ مذہب کا سہارا لے کر عامل، پیرفقیر، جوگی اور ملا بن کر پہلے تمام پر چھائے رہتے ہیں اور اوپر والے سب طبقات ان کے مرید اور عقیدت مند ہوتے ہیں۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ سیاست نگر میں بہت سے عفت مآب، عزت مآب، حماقت مآب، خفت مآب، تھپڑمآب، شرافت مآب، ظرافت مآب، شرارت مآب، کمیشن مآب، جلالت مآب، کرپشن مآب اور خجالت مآب احباب دھڑلے سے پائے جاتے ہیں۔ اس خطے میں بسنے والے باشندوں کی مندر جہ ذیل اقسام ہیں۔

ارباب سیاست

ریاست کی سیاسی سر گرمیوں میں ملوث طبقات ارباب سیاست کہلاتے ہیں۔ یہ اہل حل و عقد ہوتے ہیں اور اپنی اپنی باریوں پہ مسند اقتدار پہ براجمان ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کسی ان دیکھی طاقت کے د ست راست ہوتے ہیں، کچھ بیٹے، غلام تو کچھ لاڈلے بھی کہلاتے ہیں اور تا دم خوشنودی سکہ چلاتے ہیں۔ یہاں حکومت کا پہلا سال گزشتہ ادوار کی برائیاں بیان کرنے کا ہوتا ہے۔ دوسراسال عوام سے قربانی مانگنے، تیسرا صبر کی تلقین کرنے کا، چوتھا سازشی عناصر کو بے نقاب کرنے کا جبکہ پانچواں اور آخری سال ایک موقع اور دینے کی التجاؤں پر مشتمل ہوتا ہے۔

ان کے ہاں بہت سے رتن، ترجمان، مشیر اور وزیر پائے جاتے ہیں۔ وز راء بھی دو قسم کے ہیں۔ وزراء حق اور وزراء سو ء۔ وزراء حق تو ناحق زیر بحث آئے، حقیقی روح رواں تو وزراء سو ہی ہوتے ہیں۔ انہیں کو HAWK سمجھا جاتا ہے اور انہیں پہ سیاسی جماعتوں کی بقا کا انحصار ہوتا ہے۔ بھلے غریبوں اور فقیروں کے حالات نہ بدلیں، ان وزیروں کے دن ضرور بدل جاتے ہیں۔ بھلے ریاست کا ہر بلاول مقروض، بے نظیروں کے پاؤں ننگے سہی پر مشیران کے مشورے حسب حال ہی ہیں۔

ارباب سیاست میں اکثر باشندے صورت خورشید جینے کے عادی ہیں۔ ادھر ڈوب کر ادھر سے نکلنا ان کا شیوہ ہے۔ سب سے پر اسرار بندے ”آزاد“ ہیں۔ خلائی مخلوق کے ساتھ بیت الخلائی اور غریب ترین کے ساتھ امیر ”ترین“ لازم ہیں۔ اقلیم ریاست میں اقتدار اعلیٰ کی ملکیت کی تہمت عوام کے سر رہی ہے جبکہ یلغار اعلیٰ کا حق خلائی مخلوق کو حاصل رہا۔ ہر سیاسی راہ نما کا سیاسی ڈی این اے چند واسطوں سے کسی نہ کسی غیر سیاسی ادارے سے جا ملتا ہے۔

موروثی اور عروسی سیاست کا دور دور ہ ہے۔ یہاں بے شمار جیالے، متوالے، یوتھئیے، پٹواری اور مستری پائے جاتے ہیں۔ یہاں بے مہار صحافی، بے مہار ملا، بے مہار قوم پرست، بے مہار وکلاء، بے مہار لبرل اور بے مہار لیڈر دندناتے پھرتے ہیں۔ کچھ بے مہار شوہر بھی ہیں جو سابقہ بیویوں کے زعم میں اترا کر پھرا کرتے ہیں۔ سیاست دان یو ٹرن اور علماء کرائم نو ٹرن کے قائل ہیں۔ اس ریاست کے لوگ مقام بیچ کے مکان پیدا کرنے کے در پے رہتے ہیں۔

یہاں کے تھنک ”ٹینک“ میں علماء اور خواتین کا پلہ بقدر جثہ بھی خاصا بھاری ہے۔ شاید یہ واحد ریاست ہے جس میں ہر فرد آل راؤنڈر ہے اور اپنے شعبہ کے علاوہ جملہ سماجی، مذہنی و سیاسی اور انتطامی امور پہ دسترس رکھتا ہے۔ یہاں کے سیاستدان سیاست کے ہمراہ صنعتکاری کے فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ اس کے قاضی منصفی ساتھ سیاست کا شوق بھی چراتے ہیں۔ صنعت کار صحافت میں طبع آزمائی کے دلدادہ ہیں تو صحافیوں نے منصفی کا بیڑہ تک اٹھا رکھا ہے۔

آزاد

سیاست میں آزاد اراکین اسمبلی کی حیثیت مسلم ہے۔ کیونکہ یہ کسی بھی وقت اپنی جماعت کو داغ مفارقت دے کر دوسری جماعتوں کے سر کے ہما بنتے ہیں۔ عوامی سطح پہ انہیں ”لوٹے جبکہ مہذب طبقات میں الیکٹ ایبل جانے جاتے ہیں۔ تقدیر وجبر کے تناظر میں اقبال نے انسان کو آزاد بندے بطور شکوہ کہا کہ انسان ہر دو جہاں میں مجبور ہے۔ اپنی مرضی سے جی سکتا ہے اور نہ مر سکتا ہے۔ مگر مملکت سیاست میں لفظ آزاد کی چاندی ہو گئی ہے۔ اس وقت الیکشن میں جیتا“ آزاد ہی مرد کامل اور مقدر کا سکندر ہے۔

سیاسی جماعتوں کے اصول و ضوابط میں جکڑے غلام اراکین تو محض کٹھ پتلی ہیں۔ مگر آزاد اراکین ایسے شاہین ہیں جن کا ٹھکانہ قصر سلطانی کے گنبد سے بھی ماوراء ہے۔ سنتے تھے کہ اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہوتا ہے لیکن یہاں تو اقتدار اعلیٰ کے سرچشمے ”آزاد“ ٹھہرے ہیں۔ انہیں تو اف تک نہیں کہا جا سکتا ورنہ ادھر ڈوب کر ادھر نکلنا ان کی گھٹی میں شامل ہے۔ ناز نخروں کا یہ عالم کہ کھیلن کو چاند مانگیں تو روا ہے۔ آزادوں کی تاریخ چھانگا مانگا سے لے کر ”امیر ترین“ تک سنہری حروف میں لکھی ہے۔

قریہ بہ قریہ، کو بہ کو آزاد لوگوں کو چراغ اور جہاز لے کر ڈھونڈا جاتا ہے اور اس عمل میں ٹیلی سکوپ اور مائیکرو سکوپ کی مدد بھی میسر ہوتی ہے۔ کبھی کبھار تو سرچ لائیٹ لے کر انہیں ڈھونڈنا پڑتا ہے۔ اب معلوم ہوا کہ مشاہیر نے آزادی اور آزادوں کی شان میں قصیدے کیوں لکھے تھے۔ آزاد اراکین کے ساتھ ساتھ رکشہ پارٹیوں کو بھی چار چاند لگے ہیں اور وہ بھی زعم نشست میں عرش بریں تھامے کھڑے ہیں۔ یوں لگتا ہے یہ انسان نہیں ”ہما“ ہیں اور کئی سر کردہ سر ان کے منتظر ہیں۔

اس طوائف ا لملوکانہ جوڑتوڑ میں سیاسی جماعتوں کو اپنے اراکین پہ کڑی نظر رکھنی پڑ رہی ہے کیونکہ ذرا سی غفلت کسی مخلص ساتھی سے محروم کر سکتی ہے۔ آ ج کل سیاسی جماعتیں ”جل تو جلال تو آیا ترین ٹال تو“ کا ورد کیے جارہی ہیں۔ نوبت یہاں تک آچکی کہ عوام اب آزاد نامی بندوں اور اپنے اپنے بیت الخلاؤں کے لوازمات کی بابت سخت متفکر ہیں۔ اب آزاد مکان وزمان کی قیود سے آزاد ہوتے جا رہے ہیں اور خلائی حیثیت اختیا ر کرتے جا رہے ہیں۔

آزادوں والی جمہوریت ایسی جمہوریت ہے جس میں بندوں کو گن گن کر تولا اور تول تول کر گنا جاتا ہے۔ اب آزاد بندے اپنا مقام دے کر شان خدا وندی لینے سے بھی بے نیاز ہیں۔ زمین و آسماں کو بحر بیکراں سمجھتے ہیں اور ایک ہی جست سے کروڑوں کے فاصلے طے کر لیتے ہیں۔ آج سب سیاسی پارٹیوں کو اپنے بچے کچھے ممبران کے وجود کے لالے پڑے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس خوف کی گونج اب سر حد پار بھی سنائی دے رہی ہے اور سنا ہے کہ بھارت نے مولا نا عبدالکلام ”آزاد“ کے مزار کی سیکیورٹی بھی سخت کردی ہے۔ شاید اقبال نے اسی لئے ارباب سیاست کو ابلیس کے فرزند تک کہہ ڈالا۔ نہ جانے کیوں؟

ہر قوم کے راہبروں میں سے کسی کو ہیرو کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔ ان میں سے اکثر عوامی و قومی توقعات پر پورا نہ اترنے کے سبب زیرو ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ اپنی نا اہلیوں کی وجہ سے لٹیا ڈبونے کے ذمہ دار ٹھہر ا دیے جاتے ہیں اور انہیں ”نیرو“ کے نام سے تاریخ یاد رکھتی ہے۔ نیرو روم کا بادشاہ تھا جو روم جلتا دیکھ کر بھی اپنی بانسری بجاتا رہا۔ کچھ لوگ الزام لگاتے ہیں کہ اس نے لوگوں کی چیخیں سننے کے لئے آگ لگوائی۔

عوام

انسانوں کے اجتماع کو عوام کہتے ہیں اور ہر ریاست میں سب سے بڑی تعداد و مقدار میں عوام ہی ہوتی ہے۔ سب سے پہلے عمومی نقطۂ نظر سے عوام کی تعریفیں سمجھنے کی کوشش کر تے ہیں تا کہ عوام کے لغوی و اصطلاحی مفاہیم جان سکیں۔

۔ I انسانوں کا ایسا اجتماع عوام کہلاتا ہے جس میں ہر فرد اپنے آپ کو معاشرتی، اخلاقی، تہذیبی و مذہبی لحاظ سے دوسروں سے برتر سمجھتا ہو اور معاشرے کے دیگر افراد سے محض ڈنگ ٹپاؤ حکمت عملی کے تحت مصلحتاً برتاؤ کرتا ہو۔

۔ II اک دوسری رائے میں لوگوں کے ایسے بے مہار رش اور بد نظم ہجوم کو عوام کہا جاسکتا ہے جس میں ہر شخص کی نظر میں دوسرا شخص بے وقوف، کم عقل، بے غیرت، بے ایمان، بد اخلاق بد عنوان اور مذہبی گمراہ ہو۔ عوام کا ہر فرد اپنے تئیں عقل کل ہوتا ہے اور اسے اپنے حقوق اور دوسروں کے فرائض کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔

۔ III عوام سے مراد وہ پاکباز مجمع الخلائق ہے جس کا ہر رکن، ہر گروہ، ہر فرقہ اور ہر مذہب اپنے سوا تمام کو زبان سے کج رو، گمراہ اور کافر کہتے ہوں اور دل سے تصدیق بھی کرتے ہوں۔

۔ IV شماریاتی تناسب سے عوام اک ایسا قافلہ ہے جس میں 50 %راہ زن، 10 فیصد پاکھنڈ باز، 10 %منافق، 10 %غلط فہم 10 %مظلوم اور باقی 10 %خوش فہم حضرات شامل ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ عوام کبھی واقعی عوام ہوتی تھی۔ بادشاہ وقت کے سامنے بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکی جاتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ تعلیم اور دیگر معاشرتی تبدیلیوں کے باعث لوگوں میں اپنے حقوق کی آگہی بیدار ہونا شروع ہو گئی۔ آزاد میڈیا اور جمہوریت نے عوام کو ا ن کی ضرورت سے کچھ زیادہ ہی آگاہ کرنا شروع کیا۔

آج عوام محض منتظر فردا ہے کہ کوئی حکمران آئے جوان کی اور ان کے خاندان کی تمام ضرورتوں کو گھر بیٹھے پورا کرے۔ ان کے منہ میں توڑ توڑ کر نوالے ڈالے۔ غلام پانی تھامے حاضر ہوں اورپاؤں دبا کر سلائے جائیں۔ بجلی نہ صرف مفت اور بکثرت ہو بلکہ آلات بجلی بھی حکومت فراہم کرے۔ گیس کی فراوانی کا عالم یہ ہو کہ گیس ٹربل کا امکان پیدا ہو جائے۔ نظری حد تک سیاسی راہنماؤں نے یہ تمام سبز، کالے، نیلے پیلے باغات عوام کو اپنے منشور کے ذریعے دکھادیئے۔

چلو زبانی ہی سہی کچھ دن تو عوام نے خوش فہمی میں جی لیا۔ مثلاً غریب کوٹھیوں میں رہائش پذیر ہوں گے ۔ سرکاری ملازمین کو بغیر کام کیے بھی لاکھوں روپے تنخواہ اور الاؤنس ملیں گے۔ علاج معالجہ مفت ہو گا۔ پینے کا صاف پانی، پینے اور ڈوب مرنے کے علاوہ بھی وافر ہوگا۔ تمام بے روز گاروں کو گھر بیٹھے ہزاروں کے وظائف ملیں گے۔ جرائم کا جڑ سے قلع قمع کیا جائے گا۔ شہد اور دودھ کی نہریں جاری ہوں گی ۔ بہاریں پھول برسائیں گی اور عوام کو کھیلن کے واسطے چاند ملا کریں گے۔

عوام کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے لئے نہیں کہا جائے گا بلکہ ان کے سامنے ”اف“ تک بھی نہیں کی جا سکے گی۔ یہ سن کر لگتا ہے کہ اگلا فقرہ ”اور پھر آنکھ کھل گئی“ ہی ہوگا۔ ہمارے ہاں مذہبی و سیاسی احتجاج کی بہتات ہے۔ مذہبی جلوسوں اور تہواروں پر 60 %سیکورٹی پورا سال الرٹ رہتی ہے۔ حتیٰ کہ سخت سیکورٹی میں ادا کی گئیں نمازیں اور رسومات ہی مقبول سمجھی جاتی ہیں۔ جلوسوں میں بد نظمی کی صورت میں پولیس کے ہاتھوں پٹائی کی کئی روز بریکینگ نیوز چلائی جاتی ہے۔

پولیس گر خاموش رہے تو بے حسی اور غفلت کے الزامات کا شکار ہوتی ہے اور برطرفی کے مطالبات زور پکڑتے ہیں۔ میڈیا عوا م کو بہت زیادہ امیدیں لگانے کا عادی بناتا ہے بعض اوقات باغیانہ چنگاریا ں بھی پھیلائی جاتی ہیں۔ عوام کو بے عمل اور سست بنانے میں دانشور اور اینکر پرسن پیش پیش ہیں۔ وہ شہریوں کی تمام ذمہ داریاں محض ریاست کو سونپتے ہیں۔ زندگی کی بنیادی سہولتیں بلا شبہ ریاست کی ذمہ داری ہے مگر شہری اپنی ذمہ داریوں سے بھی بری الذمہ ہونے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

کسی چوراہے میں براجمان چار پانچ افراد یا گاڑیوں میں سفر کرتے احباب انتہائی دلچسپ گفتگو میں محو دکھائی دیتے ہیں۔ قومی اور عالمی سیاست اور حالات حاضرہ پر انتہائی بیش قیمت آراء کا تبادلہ سننے کو ملتا ہے۔ یعنی یہ کہ ایک میاں جب بھی حکومت بناتے ہیں شدید سیلاب آتے ہیں اور ان کے دور حکومت میں ہمیشہ سردی اور گرمی انتہا کو پہنچ جاتی ہے۔ پاکستان میں زلزلوں اور دہشت گردی کا موجب پرویز ی ادوار کو قرار دیا جاتا ہے۔ ایک بڑے صاحب ملک کو بیچ کر دم لیں گے وغیرہ۔ مگر یہ نہیں سوچتے کہ ان سب کو عوام ہی منتخب کرتی ہے۔ جیسی عوام ویسے ہی حکمران۔ پھر یہاں بہت سی صبائیں اور ان کو لوڈ کرانے والے رحم دل انسان بھی اس عوام میں موجود ہیں۔

اک پرانی کہانی جو ہمارے عوام کی صحیح عکاس ہے کہ باپ بیٹا گدھے پہ سفر کر رہے تھے۔ جہاں سے گزرتے لوگ کہتے ”دو ہٹے کٹے انسان ایک مسکین سے گدھے پہ چڑھے ہیں۔ ذرا رحم نہیں کتنے ظالم ہیں۔ یہ سن کر باپ گدھے سے اتر کر پیدل چلنے لگا۔ اب حضرات میں چہ میگوئیاں ہوئیں کہ بے شرم زمانہ آ گیا بوڑھا باپ پیدل چل رہا ہے اور بیٹا سواری پہ ہے۔ بیٹا اتر ا اور باپ کو گدھے پہ سوار کر لیا مگر عوام نے پھر کہا کہ خون سفید ہو گیا۔

باپ کو معصوم بیٹے کا ذرا احساس نہیں۔ یہ سب سن کر انہوں نے گدھے کو اٹھا کر چلنا شروع کیا تو لوگ خوب ہنسے اور انہیں پاگل قرار دیا۔ اب دونوں گدھے سے الگ ہو کر پیدل روانہ ہوئے تو یہ فقرے سنے کہ کتنے بے وقوف ہیں سواری کے ہوتے ہوئے پیدل چلے جا رہے ہیں۔ یعنی لوگ دوسروں پہ تنقید کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ہر شخص واعظ، ناصح اور دانشور کے زمرے میں آتا ہے مگر واعظ کی ساری باتیں ناتجربہ کاری کے باعث ہوتی ہیں۔ عوام مصلحت، حالات اور مجبوریوں کا اندازہ نہیں کر پاتے اور اپنی محدود استعداد اور جوشیلے جذبات میں ہی سرشار رہتے ہیں۔

منگو کوچوان: سلطنت سیاست کے عوام کا سب سے بڑا نمائندہ ”منگو کوچوان“ ہوتا ہے جو ہر طبقہ، ہرگروہ اور ہر جماعت کا جزو لا ینفک ہے۔ یہ ہر تیز رو کے ساتھ کچھ دور بڑے جوش کے ساتھ چلنے کا عادی ہے مگر راہبروں کو پہنچاننے سے ازل سے ہی قاصر ہے۔ ہر آنے والے کا بول بالا کرتا ہے اور ہر جانے والے کا منہ کالا کرنا بھی نہیں بھولتا۔ ہر نئے دن کو تبدیلی کا دن سمجھتا ہے اور ہر قانون کو ”نیا قانون“ سمجھ کر وقت ضائع کرتاہے۔

عوام غار کے قیدی : عوام کا بہت بڑا طبقہ ابھی بھی ”غار کا قیدی“ ہے۔ ارسطو کے مطابق کچھ لوگوں کو غار میں برسوں رکھا جاتا ہے۔ ان کے ہاتھ بندھے ہیں اور ان میں پیچھے یا دائیں بائیں دیکھنے کی سکت نہیں۔ ان لوگوں کے پیچھے آ گ کا الاؤ بھڑک رہا ہے اور وہ اپنے سامنے دیوار پہ بننے والے عکس کو دیکھتے رہتے ہیں۔ برس ہا بعد انہیں غار سے نکلنے کا موقع ملتا ہے۔ سورج کی روشنی، ہوا اور بارش کی بوندوں کو عجیب اور معیوب مظاہر سمجھتے ہیں اور اندر کی دنیا کو ہی حقیقی دنیا سمجھ بیٹھتے ہیں۔