دلیپ کمار نے انکل سرگم کو پٹائی سے بچا لیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سفارت خانے کی تقریب جاری ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے یا تو تعارف حاصل کر رہے ہیں یا اپنی گفت و شنید میں مصروف ہیں۔ ہر کسی کی توجہ دلیپ صاحب پر ہے۔ وہ اس وقت مرکز نگاہ ہیں۔ اب سفیر، دلیپ کمار صاحب کا تعارف فاروق قیصر سے کرا رہے ہیں۔ دلیپ صاحب، انکل سرگم کے سراپے سے تو بہ خوبی متعارف ہیں، مگر منظر پر دکھائی نہ دینے والے، فاروق قیصر سے تعارف تو بنتا ہے۔

وہ فاروق قیصر کا ہاتھ تھامتے ہوئے، ان سے مصحافہ کرتے ہیں۔ فاروق قیصر اپنے پسندیدہ ہیرو کے سحر میں ہیں اور دلیپ صاحب انکل سرگم کے ہنر کو داد دینے کے خواہاں ”یہ وہ ہاتھ ہیں جو انکل سرگم کے ساتھ مل کر کمال دکھاتے ہیں۔“

بلاشبہ، انکل سرگم ہماری تاریخ کا وہ کردار ہے، جسے ہم، صحیح معنوں میں عوام کا حقیقی نمائندہ قرار دے سکتے ہیں۔ عوام کے جذبات، خواہشات اور ”مطالبات“ کو جس خوش اسلوبی، باریک بینی اور ہنرمندی کے ساتھ، انکل سرگم نے وہاں تک پہنچایا، جہاں عام طور پر (اور شاید، خاص طور پر) پہنچانا مشکل ترین تصور ہوتا ہے۔ ان کی یہ رسائی عوام کی بے بسی کی زبان بنی اور دلوں کی گھٹن، انکل سرگم کی طنز و مزاح میں لپٹی ترجمانی سے، مزید گہری ہونے سے بچتی رہی۔

بچوں کے کاندھوں پر رکھ کر، انھوں نے ”بڑوں“ کو جس کمال مہارت سے نشانہ اور ہدف بنایا، اس کا ایک زمانہ قائل بھی ہے اور گھائل بھی! ۔ ان کی چنیدہ ”کلیاں“ دراصل، سچ اور شعور کی راہوں میں، بچھے وہ خار ہیں جن کی چبھن تب تک باقی رہے گی جب تک ہمارے معاشرے میں، خواہشوں اور خوشیوں کے پھول ہر جگہ، اپنی جگہ نہیں بنا لیتے۔

انکل سرگم کے دائرہ اثر سے کسی کا بھی بچنا، عام طور پر، مشکل ہی ہوتا ہے، سو جب دلیپ کمار اپنے دوسرے دورے پر، پاکستان آئے تو ایک ایسی تقریب میں شریک ہوئے، جہاں انکل سرگم اپنی ٹیم اور اپنے طنزومزاح کے ساتھ بھرپور طریقے سے موجود تھے۔ وہاں انکل سرگم نے روایت کے مطابق حاضرین سے خوب داد سمیٹی بشمول دلیپ صاحب۔ اس محفل کا ایک جملہ، خاص طور پر، سوچنے سمجھنے والوں میں، خوب زبان زد عام ہوا۔

انکل سرگم اپنی ٹیم کے شرکا سے مخاطب تھے ”انگریزوں کے دور سے، ایک زمانے تک، ہم اپنی درخواستوں کی ابتدا میں ایک جملہ ضرور لکھتے تھے“ I BEG TO STATE ”مگر اب یہ جملہ کچھ تبدیل ہو گیا ہے، اب ہم لکھتے ہیں“ I BEG TO UNITED STATE ”۔ محفل میں تالیوں اور قہقہوں کا شور جو ہوا سو ہوا، دلیپ صاحب کی خواہش پر، انکل سرگم کو سفارتخانے میں ہونے والی تقریب میں شمولیت کی دعوت بھی دی گئی۔

دعوت ابھی جاری ہے اور دلیپ صاحب اور فاروق قیصر کی گفتگو بھی۔ فاروق صاحب نے دلیپ صاحب کو بتایا کہ ان ہاتھوں پر دلیپ صاحب کا بھی ایک احسان ہے۔ دلیپ صاحب کے استہفامیہ تاثر پر فاروق قیصر نے بتایا کہ ”اسکول کی تعلیم کے دوران، میں ایک دن اسکول سے غیر حاضر تھا۔ اگلے روز جب اسکول پہنچا تو کلاس ٹیچر جو ڈسپلن کے بہت قائل تھے، میری کلاس سے غیر حاضری پہ نہایت غصہ ہوئے۔ مجھے، دوسرے طلبہ کی عبرت کے لئے، بلیک بورڈ کے پاس آنے کو کہا۔ جب میں ان کے پاس جا کے کھڑا ہوا تو وہ نہایت طیش میں بولے“ کل اسکول کیوں نہیں آئے تھے ”

میں نے ڈرتے ڈرتے جب بتایا کہ میں فلم دیکھنے گیا تھا تو ان کا پارہ اور چڑھ گیا ”نکالو ہاتھ“ میں نے جوں ہی دایاں ہاتھ بڑھایا، انھوں نے پوری قوت سے اپنی آزمودہ سوٹی میرے ہاتھ پے دے ماری اور زور سے بولے ”دوسرا ہاتھ دکھاؤ“ میں نے بایاں ہاتھ آگے بڑھایا تو وہ بولے ”کون سی فلم دیکھی ہے“ میں نے ہچکچاتے ہوئے، ہمت کرکے جواب دیا ”دلیپ کمار کی فلم دیکھی ہے“ انھوں نے اپنے غصے کو ویسا ہی جتاتے ہوئے زور سے کہا ”جاؤ، آئندہ فلم نہ دیکھنا“ یوں آپ کی وجہ سے، میرا دوسرا ہاتھ، ماسٹر صاحب کی سوٹی کھانے سے محفوظ رہا۔ ”

آج، فاروق قیصر اور انکل سرگم کی دوستی جتنی پرانی ہے، اس سے اس کی گہرائی اور پختگی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، مگر مجھے لگتا ہے کہ فاروق قیصر کو انکل سرگم سے یہ گلہ ہمیشہ رہے گا کہ اس نے ایک خوبصورت شاعر فاروق قیصر کو اپنے سے آگے نکلنے نہیں دیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •