آزادی کے تہتر سال اور اقلیت کی بیٹیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دو چرچز میں جشن آزادی کی تقریبات میں حصہ لیکر، دو مسیحی محلوں میں یوم آ زادی کے کیک کاٹ کر فارغ ہوئے تو جلدی کرتے کرتے رات دس بجے چکے تھے۔ مگر خاندان کے ساتھ جشن منانا ابھی باقی تھا مگر وقت کی مناسبت سے صرف کھانے تک ہی محدود کرنا پڑا۔ خیال آیا کیوں نہ سونے سے پہلے دن بھر کی سرگرمیاں سوشل میڈیا پر ڈال کر فخر سے سویا جائے۔ صبح اٹھ کر حسب ضرورت ناشے تک کی سرگرمیاں ادا کیں اور دفتر کے لیے نکل گئے خیال تھا کہ دوست گزشتہ دن کی سرگرمیاں دیکھیں گے تو مبارکباد کی یا تعریفی کالیں کریں گے۔

مگر دفتر پہنچتے ہی پہلی کال نے ہی پریشان کر دیا۔ دوست نے کال کی اور بڑی پریشانی میں بتایا کہ ہماری بیٹی رات بھر سے گھر سے غائب ہے جس کے بارے میں تھانے درخواست دینی ہے۔ میں نے احتیاطاً سیشن کورٹ سے پتہ کرنے کی کوشش کی تو پتہ چلا رات بھر میں ہماری بیٹی راخل سے سویرا بن گئی ہے اور اب وہ ہماری بیٹی نہیں رہی۔

میں نے ساری صورتحال فون پر اپنے دوست کو بتائی اور وہ مجھے پوچھنے لگا اب کیا کریں، میں راخل کی ماں کو کیا بتاؤں، اس کی ماں نے رو رو کر دل ویران کر لیا ہے پتا نہیں اس کی ماں کو یہ خبر کیسے بتاؤں، اب ہم کریں بھی تو کریں ایک پل میں کیسے آپ کی بیٹی ہی آپ کی نہیں رہتی؟ میں اس کے سوال سن رہا تھا تو کورٹ کی دوسری جانب سے اونچی اونچی عورتوں کے رونے اور چیخنے کی آوازیں آ نا شروع ہو گئی۔ تھوڑی جان کاری لی تو پتا چلا کہ ان کی بارہ سالہ بیٹی کے ساتھ بھی کسی لڑکے نے شادی کر لی ہے۔

کورٹ نے لڑکی کو لڑکے کی حوالے کر دیا مگر اس کے خاندان کی عورتوں نے محترم نکاح خواں کو، کونسل کو، متعلقہ اے ایس آ ئی کو گالیاں دینا شروع کر دیں کہ یہ ظلم ان کے ساتھ ان کی مدد سے کیا گیاہے۔ پولیس نے انہیں عدالت کی حدود سے باہر نکالنے کی کوشش کی تو ان عورتوں نے اپنی بیٹی کے لئے پولیس کو مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ میڈیا کو سامنے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیسا قانون ہے جو ایک نابالغ کی وقتی نا سمجھی کو اس کے ولی کی مرضی پر فوقیت دے رہا ہے؟ مگر اس سب کے باوجود وہ کچھ نہیں کر سکیں۔

مذہبی اقلیتوں خصوصاً ہندوؤں اور مسیحیوں کے لئے تو حالات اس قدر تنگ ہیں کہ وہ ان سب زیادتیوں کے سامنے اپنا غم و غصہ بھی بیان نہیں کر سکتیں اس کرب کو لے کر قانونی لڑائی نہیں لڑ سکتیں، اپنا احتجاج نہیں ریکارڈ نہیں کروا سکتی کیونکہ معاشرتی آواز آئے گی اپنی بچیوں کو سنبھالو۔ اوہ میرے پیارو ہم کسی کی مرضی پر کوئی قید و بند نہیں لگانا چاہتے۔ بس اتنی سی توجہ چاہتے ہیں کہ اقلیتوں کے گھروں کی رحمتوں کو تبدیلی مذہب کاتحفظ دے کر چھیننا بند کیا جائے۔

جنت دوزخ کا تو اگلی دنیا میں جا کر پتا چلے گا مگر اس دنیا میں یہ تحفظ دینے والوں کو چند روپوں کے علاوہ کوئی فائدہ نہیں ہوتا او ر ان کے اس مالی فائدہ کو قانون کا تحفظ دے کر عدالتیں اور ریاست اپنے منہ پر کالک مل لیتی ہے۔ زیادہ تر کیسز میں لڑکیاں نابالغ ہوتیں یا ان کا شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ہوتا اور ہوتا کیا ہے کہ 12۔ 14 سال کی لڑکیاں اپنے آپ کو سنبھال نہیں پاتیں اور نتیجہ سال دو سال بعد زیادہ تو لڑکیاں اپنے والدین کے پاس واپس جانے کے لیے مدد مانگ رہی ہوتی ہیں یاکچھ کیسز میں جناب دلہا میاں ایک آدھ بچے کا تحفہ دے کر بیوی کو مار پیٹ کر الوداع کر دیتا ہے۔

راخل کا کیس ڈھونڈتے ہوئے صرف ایک دن کا ڈائری رجسٹر دیکھا تو غور کرنے پر پتہ چلا صرف سیشن کورٹ فیصل آباد میں فی یوم پچیس تا تیس کیس اسی نوعیت کے دائر ہوتے ہیں اور ان میں سے دو تا تین کیس صرف تبدیلی مذہب کے ہوتے ہیں۔ پوری کارروائی یا طریقہ واردات جس میں کسی بھی غیر مسلم کی بیٹی کو بھگانا ہو تو اس میں لڑکے کو یا اس کے ساتھیوں کو ڈرنے کی ضرورت نہیں کہ وہ کوئی قانون توڑ رہے ہیں کیونکہ آ تے ہی آپ کو چند ہزار روپوں میں تین ماہ پیچھے کی تاریخوں کا تبدیلی مذہب سرٹیفکیٹ مل جائے گا اور ساتھ چند سو روپوں میں نکاح کروائیں اور غیر مسلم بیٹی ہوئی آ پ کی۔

اور یہ بڑی عام پریکٹس ہے جس میں کسی قانون کا کوئی خوف نہیں ہے آیا بیٹی بالغ ہے کہ نہیں، شناختی کارڈ بنا ہے یا نہیں، لڑکا لڑکی میں سے کوئی پہلے سے شادی شدہ ہے کہ نہیں۔ یعنی کہ یہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ کسی بھی غیر مسلم کے گھر کی چیز چرانا مشکل ہے مگر اس کی بیٹی چرانے پر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ آپ کو اس کو اپنے مذہب میں لے کر آئیں پھر آپ کو عدالتیں بھی تحفظ دیں گئیں پولیس بھی اور ریاستی پالیسیاں نیز قوانین بھی۔

چھ ماہ پہلے جب چائنہ سے آئے ہوئے گینگز نے مسیحیوں کی بیٹیوں سے شادیاں کیں تو پندرہ سو شادیاں ہو گئیں مگر کسی ریاستی ادارے حتیٰ کہ میڈیا کے کان پر بھی جوں تک نہ رینگی۔ مگر جیسے ہی کچھ مسلمان لڑکیوں کی شادیاں ہوئیں سرعام ٹیم بھی جاگ گئی ایف آئی اے کو بھی خیال آ گیا۔ پکڑ دھکڑ بھی شروع ہو گئی اور وہ سلسلہ تھما۔ کچھ ماہ پہلے ہائی کورٹ لاہور نے پمی مسکان کیس میں بچی کو اپنے والدین کے حوالے کرتے ہوئے فیصلہ دیا تھا کہ پندرہ سال سے چھوٹے بچوں میں مذہب تبدیل کرنے کی سمجھ نہیں ہوتی اور بچی کا مذہب اس کے والد کے مذہب سے ہی جانا جائے گا۔ فیصلے کی روح سے تو لگ رہا تھا کہ اب یہ سلسلہ کچھ تھمے گا مگر صرف پانچ ماہ بعد ہی اسی ہائی کورٹ نے ماریہ شہباز نابالغ کو اس کے تبدیلی مذہب کو لیگل قرار دے دیا اور اسے اپنے خاوند کے ساتھ بھیج دیا۔

آئے روز کوئی نا کوئی میاں مٹھو پنجاب سے مسیحیوں اور سندھ سے ہندوؤں کی بیٹیوں کو تبدیلی مذہب کا تحفظ دے کر جنت اور کچھ روپے کما لیتا ہے جسے تحفظ دیتے ہیں ریاستی قوانیں اور عدالتی فیصلے۔ اور مسیحیوں اور ہندوؤں کے پاس ریاست پاکستان میں سوائے آہوؤں اور نالوں کے کرنے کو کچھ نہیں بچتا۔ جشن آ زادی پر سرسری سے جائزہ لیں تو پورے پاکستان میں کوئی ہی چرچ ہو گا، کوئی ہی محلہ ہو گا یا کوئی ہی بستی ہو گئی جہاں آزادی کا جشن نہ منایا گیا ہو مگر ریاست اقلیتوں کو کیا دے رہی ہے۔۔۔ آہیں۔ سسکیاں۔ نالے۔ ویرانیاں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •