ٹرتھ سیرم پینے کے بعد سچ کیسے بولا جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائنس نے آج اتنی ترقی کر لی ہے کہ اس کے ذریعے انسانی رویوں تک کو ناپا جاسکتا ہے۔ اس کی ایک مثال ٹرتھ سیرم نامی ایک کیمیکل ہے۔ ٹرتھ سیرم ایک دماغی دوائی ہے، جو کہ انسان سے وہ معلومات حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے جو وہ نہیں دینا چاہتا۔

ٹرتھ سیرم کیسے کام کرتا ہے؟

جب ٹرتھ سیرم کسی انسان پر استعمال کیا جاتا ہے۔ تو وہ انسانی دماغ کے نیورانز پر اثر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی دماغ کی سوچنے سمجھنے کی قابلیت دھیمی ہو جاتی ہے۔ اس حالت میں وہ فرد جس پر ٹرتھ سیرم کا استعمال کیا جا رہا ہوتا ہے۔ وہ ایسا برتاؤ کرتا ہے جیسے وہ نشے میں ہو۔ اور پھر وہ سارا سچ بغیر ہچکچاہٹ کے بول دیتا ہے۔ سچ بولنے کے بعد اسے کچھ بھی یاد نہیں رہتا۔ نہ ہی اسے یہ پتہ ہوتا ہے کہ اس سے کیا معلومات حاصل کی گئی ہیں۔ یہ تمام عمل ٹرتھ سیرم کے کام کرنے والا نظام کہلاتا ہے۔

ایسی بہت سی دوائیاں ہیں جو ٹرتھ سیرم کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں، جیسے کہ Scopolamine, Ethanol, Midazolam, 3. quinuclidinyl benzilate, Flunitrazepam, Sodium thiopental, Amobarbital وغیرہ۔ ان کیمیکلز میں Ethanol, scopolamine اور sodium thiopental بہت مشہور ٹرتھ سیرم ہیں۔ ” Ethanol“ ایک مشہور ٹرتھ سیرم ہے۔ جو کہ عام طور پر شراب کے نام سے جانا جاتا ہے۔ لوگ اسے پیتے ہیں اور سچ بولتے ہیں۔

”Scopolamine“ پہلا کیمیکل تھا، جس کی صلاح ڈاکٹر رابرٹ ہاؤس نے دی تھی۔ یہ 1920 اور 1930 میں جرم کی تحقیقات کے لیے U۔ S پولیس کے ذریعے بہت استعمال ہوا۔ یہ فالج کی بیماری میں دوائی کے طور پر بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ Scopolamine ایسی دوائی ہے جو آپ میں خوداعتمادی بڑھاتی ہے۔ آپ اسے منہ کے ذریعے یا اسے اپنے جسم پر مل کر بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

”Sodium thiopental“ ایک طرح کی (barbiturate) دوائی جو ہماری دماغی حالت کو بہتر کرتی ہے۔ یہ اعضاء کے نظام کو دھیما کرتی ہے، جیسے کہ دوران خون، اس کو ہم downers بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ یہ دماغ کی طرف پہنچائے جانے والے پیغام کے نظام کو دھیما کرتی ہے۔

ہم جھوٹ کیوں بولتے ہیں اور کیسے بولتے ہیں۔

انسان جھوٹ تب بولتا ہے جب وہ ڈر کا شکار ہو یا کسے بھی قسم کے نقصان میں مبتلا ہو۔ اس کے علاوہ مختلف وجوہات ہو سکتی ہیں جو وقت اور حالات ہی طے کر سکتے ہیں۔

ریسرچ کے مطابق ہمارے دماغ کا سامنے والا حصہ جس میں electric stimulation کی مدد سے ہم سچ یا جھوٹ بول سکتے ہیں۔

”Electric stimulation“ ایک ایسا عمل جس میں Electrons کی منتقلی ہوتی ہے۔ اور دماغ جسم کے اعضاء سے کام کرواتا ہے۔

جب ہم جھوٹ بولتے ہیں تو اس کے بعد ہمارا limbic system اپائین فرائین ہارمون خارج کرتا ہے جو کہ ہمارے دل کی دھڑکن، خون کا دوران، پٹھوں میں کھچاؤ، سانس لینے والا نظام اور خون کی نالیوں میں بندش بڑھاتا ہے۔ یہ سب ذہنی دباؤ ظاہر کرتے ہیں جس کی وجہ سے ماہرین جھوٹ پکڑ لیتے ہیں۔

جھوٹ پکڑنے کے لیے polygraph test بھی کیے جاتے ہیں۔ polygraph جھوٹ پکڑنے والی مشین ہے، جو کہ دوران خون، سانس لینے کی تبدیلی یا جلد کا ٹھنڈا پڑ جانا وغیرہ سے جھوٹ پکڑ لیتی ہے۔

ٹرتھ سیرم کے استعمال کی ضرورت پیش آنے کی بڑی وجہ ایسے کیس تھے۔ جن کا حل آسان نہ تھا عام لوگوں کواس وجہ سے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ ٹرتھ سیرم مختلف دواؤں کا عام نام ہے۔ جو کہ کسی بھی استعمال کرنے والے فرد میں خود اعتمادی بڑھاتی ہے۔ دوران خون اور دماغی سختی کو دھیما کرتی ہے۔ نفسیات کے ماہرین ٹرتھ سیرم کا استعمال اپنے مریضوں کے علاج کے لیے کرتے ہیں۔ اور پولیس تفتیشی ادارے اسے سچ جاننے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ٹرتھ سیرم کے علاوہ polygraph technique بھی سچ جاننے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ پر ماہر مجرم خود کو متوازن بھی رکھ سکتے ہیں اسی لیے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اب تک ایسی کوئی بھی مشین نہیں ہے جو کہ جھوٹ کو مکمل پکڑ سکے۔

یہاں کچھ ایسے ممالک کا ذکر کرتے چلتے ہیں جنہوں نے ٹرتھ سیرم کا استعمال تفتیش کے لیے کیا۔
”انڈیا“
1۔ اجمل کسب کے کیس میں ”ممبئی پر حملہ 2008 میں۔
2۔ آروشی ہیمراج کے کیس میں۔
3 گجرات میں شیرنی کو مارنے کے لیے۔

2004 میں روس کے صدارتی ممبر ”Ivan Rybkin“ کے اغوا کیس SP۔ 117 میں ٹرتھ سیرم کا استعمال کیا گیا۔

امریکا نے 2004 میں مختلف کیسوں میں ٹرتھ سیرم کا استعمال کیا۔ ”دالاس کاؤنٹی جیل“ میں بھی ٹرتھ سیرم کا استعمال کیا گیا۔

(ان ممالک کی معلومات “www.wikipedia.org” سے لی گئی ہیں۔ )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
سحرش سندھو کی دیگر تحریریں